بنیادی صفحہ / مضامین / مجلس اصلاح و تنظیم کے لئے ایوارڈمبارک ہو۔۔مگر ان ریمارکس کا کیا؟!۔۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

مجلس اصلاح و تنظیم کے لئے ایوارڈمبارک ہو۔۔مگر ان ریمارکس کا کیا؟!۔۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. 

بھٹکل کے مسلمانوں کے لئے اس ہفتے یقیناًدل خوش کردینے والی خبر یہ رہی کہ ٹائمز گروپ کے تحت چلنے والے کنڑا روزنامے وجئے کرناٹکا نے شمالی کرناٹکا کے جن 39اداروں کو ایوارڈ سے نوازا اس میں مسلمانوں کے باوقار اور معروف مرکزی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کا نام بھی شامل رہا۔حالانکہ ایک صدی سے قائم مجلس اصلاح و تنظیم کے ذریعے کی جارہی مخلصانہ خدمات اب کسی ایوارڈ اور اعزاز کی محتاج نہیں ہیں۔ کیونکہ ایک زمانہ اس کے بے لوث کارناموں پر گواہ ہے اور اہلِ نظر و اہلِ دل نے اس کے اعتراف و تحسین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔لہٰذا اب تنظیم کا مقام و مرتبہ ایوارڈس اور اعزازات سے بلند و بالا ہوگیا ہے۔ پھربھی ایسے موقع پر خوشی کا اظہار ہونا اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا بشری تقاضاہے۔لیکن ………. !

کیا یہ سرکاری اعزاز ہے!: اس ایوارڈ کے پس منظر میں میرے ایک خاص قدردان اور شہر کے معروف و فاضل مضمون نگار جناب پٹیل فاروق شاہ بندری یا نقاش نائطی نے جو مضمون مختلف ویب سائٹس اور گروپس میں پوسٹ کیا ہے اس سے ایک غلط فہمی پیدا ہورہی ہے کہ یہ ایک سرکاری ایوارڈ ہے۔ ہمارے مذکورہ معروف مضمون نگاراور انشا پرداز چونکہ مجلس اصلاح و تنظیم کے نائب صدر جیسے کلیدی عہدے پر بھی فائز ہیں اس لئے ان کی بات کو حقائق کی روشنی میں صداقت پر مبنی ہونا چاہیے۔ کیونکہ آنے والی نسلوں میں سے کوئی مورخ جب ہماری تاریخ مرتب کرنے بیٹھے گا تو ظاہر ہے کہ ایسے بلند پایہ ادیبوں اور قلمکاروں کی تحریروں سے نہ صرف استفادہ کرے گا بلکہ اسے بطور حوالہ بھی استعمال کرے گا۔اس لئے احتیاط لازمی ہے۔موصوف نے اپنے مضمون کی سرخی ہی یہ لگائی ہے : ’’حکومتِ وقت کو اعتراف خدمات، مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کرنے، 103سال کا لمبا عرصہ لگا۔‘‘لاکھ سوچنے پر بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس میں’ حکومتِ وقت کی طرف سے اعتراف خدمات‘ کا شوشہ کہاں سے گھس آیا۔

سرکاری سطح پر سراہا گیا ہے؟!: یوں تو مضمون کے پہلے پیراگراف میں 1013میں عالمی منظر نامہ بدلنے اور سقوط غرناطہ اسپین کی بات کہی گئی ہے مگر حقیقتاً سقوط غرناطہ اور اسپین میں اسلامی حکومت کا خاتمہ 1482-1492تک چلنے والی جنگوں کے ساتھ ہواتھا۔جہاں تک تنظیم کے قیام کی بات ہے اس کا تعلق جنگ بلقان سے ہے جوبیسویں صدی کا قصہ ہے(سقوط خلافت عثمانیہ کا سانحہ بھی 1918-1920کے درمیان پیش آیا تھا) جنگ بلقان کے ایک مرحلے پربھٹکل سے ریلیف فنڈبھیجنے کے بعد بچی ہوئی تھوڑی رقم سے کتب خانے کا قیام ہوتا ہے اور بتدریج سماجی، ثقافتی اور سیاسی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کی تشکیل کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ فاضل مضمون نگار اپنے مضمون کے ساتویں پیراگراف میں رقمطراز ہیں کہ:’’ ….. 103سالہ بلقان جنگ ریلیف فنڈ کے بچت حصہ سے شروع کئے گئے، جنوبی ہندوستانی مسلمانوں کے اس عظیم سیاسی سماجی معاشرتی ادارے کی خدمات کو سرکاری سطح پر سراہا گیا ہے۔ ‘‘
نائب وزیراعلیٰ کی وجہ سے غلط فہمی: مذکورہ مضمون پڑھنے سے گمان یہ ہوتا ہے کہ شائدہمارے دوست مضمون نگار اورتنظیم کے نائب صدر دوم کو اس بات سے مغالطہ ہوگیا کہ ایوارڈ تفویض کرنے کی اس تقریب میں نائب وزیر اعلیٰ کرناٹکا ڈاکٹر جی پرمیشور مہمان خصوصی تھے اور اسی وجہ سے ان کے ہاتھوں سے تفویض اعزازات کی رسم انجام دی گئی تھی۔ورنہ یہ تو ایک خالص نجی ادارے کا فنکشن تھا۔ ایک معمولی سوجھ بوجھ والا انسان بھی سمجھ سکتاہے کہ کسی وزیراعلیٰ، وزیر یا سرکاری اعلیٰ افسر کی حاضری سے وہ تقریب اور اس کی کارروائی سرکاری نہیں ہو جاتی۔
بے شک اللہ کرے کہ سرکاری طور پر بھی ہمارے ادارے کی ستائش و اعتراف خدمات کے لمحات بھی ہمیں دیکھنے کو ملیں۔ مگر ایک بالکل نجی ادارے کی طرف سے درجنوں دوسرے اداروں(جس میں بھٹکل اربن بینک بھی شامل ہے)اور شخصیات کی قطار میں تنظیم کو بھی شامل کیے جانے پر اسے’ سرکاری سراہنا ‘ اور ستائش قرار دینا ایک خلاف واقعہ بات ہے۔

جنہیں یہ فکر نہیں سر رہے ، رہے نہ رہے
وہ سچ ہی کہتے ہیں جب بولنے پہ آتے ہیں

ایوارڈس دینا بھی ایک کاروبار بن گیا ہے: پچھلے کچھ عرصے سے ملک گیر سطح پر ایوارڈس دینے کابھی ایک کاروبار چل پڑا ہے۔ گوگل کرنے پر ایسے کئی ایوارڈس کا تذکرہ مل سکتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی قبل’’ اندرا گاندھی پریا درشنی ایوارڈ‘‘کے نام سے ایک لہر چل پڑی تھی۔کسی فرد یا ادارے کو اچانک یہ مراسلہ ملتا تھا کہ آپ کو’ پریادرشنی ایوارڈ ‘کے لئے چن لیا گیا ہے۔اندرا گاندھی کانام دیکھ کر گمان ہوتاتھا کہ یہ مرکزی سرکار یا کانگریس پارٹی کا ایوارڈ ہے ۔ اس وجہ سے جس شخص کو مراسلہ ملتا وہ پھولے نہیں سماتاتھا۔لیکن حقیقت میں اس کا اہتمام بھی ایک نجی تنظیم کی طرف سے ہوا کرتاتھا۔ اس ایوارڈ تفویض کے فنکشن میں ملک کی نامور شخصیات اور خاص کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کو مدعو کیا جاتاتھااورانہیں کے ہاتھوں سے ایوارڈ دیا جاتا تھا۔اس کے لئے بڑی شاندار تقاریب منعقد ہوتی تھیں۔بھٹکل کے بھی ایک ادارے اور ایک شخص کو یہ ایوارڈ دیا گیاتھا۔ لیکن بعد میں تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ یہ بھی عطیہ کے نام پر روپیہ بٹورنے ، چندہ اورفنڈز اکٹھا کرنے کا ایک گورکھ دھندہ ہے۔

خود مجھے آفر مل چکا ہے: دہلی کے ایک ادارے کی طرف سے ایک مرتبہ نہیں بلکہ وقفے وقفے سے دو بار مجھے مراسلہ مل چکا ہے کہ میں اپنا بایو ڈاٹا بھیجوں کیونکہ مجھے میڈیکل فیلڈ میں نمایاں خدمات انجام دینے کی وجہ سے ایوارڈ کے لئے چن لیا گیا ہے۔مگر خدا گواہ ہے کہ میں نے پلٹ کر انہیں اس مراسلے کی رسید تک بھی نہیں بھیجی۔ کیونکہ پہلی بات تو یہی تھی کہ مجھے خود پتہ ہے کہ میں نے میڈیکل فیلڈ میں ایسی کوئی نمایاں خدمات اور کارہائے نمایاں انجام دئے ہی نہیں جس کی وجہ سے مجھے ایوارڈ دیا جائے ۔دوسری بات یہ بھی معلوم تھی کہ اگر میں یہ آفر قبول کرلوں گا توپھر اس کے بعد عطیہ کے نام پر رقم ادا کرنا میرے لئے ضروری ہو جائے گا۔اور پیسہ دے کر ایوارڈ لینے کے بعد ضمیر پر جو بوجھ ہوگا اسے اٹھانے کی سکت میرے اندر نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔

اس تشنہ لبی پر مجھے اعزاز تو بخشو
اے بادہ کشو جام اٹھاؤ کہ چلا میں

لو ! اب یہ خبر بھی اُڑ گئی: تنظیم کو کنڑا اخبار کی طرف سے دئے گئے ایوارڈ پر خوشی مناتے اور سر دھنتے ہوئے دو ایک دن بھی نہیں گزرے تھے کہ یہ خبر بھی عام ہوگئی کہ اس ایوارڈ کے لئے مذکورہ اخبار کو بڑی خطیر رقم (۲لاکھ روپے) دی گئی ہے۔ اس کے استدلال کے طور ایک او رمرکزی تعلیمی ادارے کا نام پیش کیا جارہا ہے جن کے پاس مذکورہ اخبار کی ٹیم پہنچی تھی اور ۲ لاکھ روپے کے عوض ایوارڈ دینے کی پیش کش کی تھی۔مگر اخلاقی اصول پر قائم رہتے ہوئے مذکورہ مرکزی تعلیمی ادارے نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا اور صرف اور صرف خدمات کی بنیاد پر ایوارڈ قبول کرنے کی بات کہی۔ فضا میں گشت کررہی خبروں کے مطابق اس کے بعد اس اخبار کی ٹیم نے تنظیم کے ذمہ داران سے رابطہ کیااور معاملہ طے ہوگیا۔ تنظیم کے بعض ذمہ دار وں کی طرف سے یہ وضاحتیں سننے میں آرہی ہیں کہ۲ لاکھ روپے تو نہیں دئے، مگر تنظیم کے تعلق سے ایک مثبت رپورٹ شائع کرنے کے لئے’ ’کچھ رقم‘‘ دی گئی ہے اور اسے میڈیا میں تنظیم کے امیج کو سدھارنے کے لئے کیے جانے والے اقدام کے طورپر دیکھا جانا چاہیے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ: ؂

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جو کیا

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

شرط بہر حال شرط ہے: ایک بات تو صاف ہوگئی ہے کہ مذکورہ اخبار کی طرف سے ایوارڈ دینے کا سلسلہ مالی منفعت حاصل کرنے کا یہ ایک ہتھکنڈہ ہے۔ ایوارڈ تقریب میں شامل ایک معتبر ذریعے نے مجھے بتایا کہ زیادہ تر ادارے جن کو ایوارڈ دیا گیا ہے وہ کسی ایک شخصیت کے گرد پھیلے ہوئے یعنی کہ One Man Showوالے تھے۔ اوراکثر فلاحی سے زیادہ کاروباری ادارے تھے۔ جیسے سرسی کا اسپتال، بھٹکل کا اربن بینک وغیرہ۔ ایک مجلس اصلاح و تنظیم ہی ایسا ادارہ تھا جو اجتماعی قیادت کا مظہر تھا۔ بہرحال جیسا کہ میں نے پہلے کہا ایسے ایوارڈس دینے والوں کا اپنا ایجنڈہ ہوتا ہے اور سب سے بڑا ایجنڈہ مالی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔اخباری دنیا میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو کسی زندہ شخصیت کی ستائش کرکے ، سپاس نامے دے کریا کسی مشہورشخصیت کی تعزیت اور یادگار مجلہ کے نام پر رقم بٹورنے کافن خوب جانتے ہیں۔ اب رقم ایوارڈ دینے کے نام پر لی جائے یا ایوارڈ دینے کے لئے مضمون لکھنے کے نام پروصولی جائے، بات ایک ہی ہے۔ گھی کدھر گیا ؟کھچڑی میں!
یعنی شرط چاہے جس شکل میں بھی ہو شرط ہی کہلائے گی اور ایوارڈ کو مشروط ہی سمجھا جائے گا۔اس پس منظر میں ذرا غور کریں کہ اپنی شہرت اور نام ونمود چاہنے والی بڑی بڑی شخصیات نے اگر ایک ایک لاکھ روپے بھی اس ایوارڈ کے لئے دئے ہونگے تو39لاکھ روپے تو یونہی بن گئے اخبار والوں کے!
خیر یہ تو چلتا رہتا ہے: اخباری دنیا میں توخیر یہ سب چلتا رہتا ہے۔ اب تو ویسے بھی paid news اور paid feature articles کا زمانہ ہے ۔ paidسپاس ناموں کا دور ہے۔ یہاں تک کہ ڈاکٹریٹ کی(Phd) ڈگریاں بھی paymentپر عطا کی جارہی ہیں، وہ بھی بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے!
مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ خاص کرخلیجی ممالک میں کچھ نامور رسائل کی جانب سے وہاں کے رئیسوں سے موٹی موٹی رقمیں لے کرانہیں ’سال کی چنندہ شخصیتPersonality of the Year‘کا خطاب دیتے ہوئے ٹائٹل پیج پر تصویر شائع کرنا اور کور اسٹوری بنانا بھی عام بات ہوگئی ہے۔ سیاسی پارٹیاں اور نظریاتی تنظیمیں میڈیا کے اس نئے رجحان کا خوب فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اس کے لئے ’بکاؤ میڈیا‘ اور ’گودی میڈیا‘ جیسی اصطلاحات بھی عام ہوگئی ہیں۔
بہرحال تنظیم کی طرف سے کسی بھی عنوان سے رقم اداکرکے ایوارڈ لینا صحیح تھا یا غلط اس پر رائے زنی اور بحث سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔البتہ ذاتی طور پر میرا احساس ہے کہ ایوارڈ ملنے کا وہ جو لطف تھا، وہ اس خبر کے ساتھ غائب ہوگیا اور مزہ کرکرا ہوگیا۔اور دل نے کہا: ؂

سریرِ سلطنت سے آستانِ یار بہتر تھا

ہمیں ظلِّ ہُما سے سایۂ دیوار بہتر تھا

ایک تشویشناک بات: لیکن میری تشویش اس بات پر ہے کہ ہمارے معروف مضمون نگار نائب صدر تنظیم اس ایوارڈ کوجانے انجانے میں سرکار کی طرف سے سراہنا قرار دے رہے ہیں دوسری طرف صدر تنظیم جناب مزمل قاضیا صاحب نے نوجوانوں کے حالیہ تنازعے کے تعلق سے بھٹکلیس ڈاٹ کام کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سنگین پہلو کی طرف اشارہ کیا تھا اور کورٹ کے دستاویز ریفر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنظیم کا عہدیدار ہونے اور فسادات کے الزام میں پھنسے نوجوانوں کو قانونی راحت دلانے کی وجہ سے پولیس کی طرف سے ’ کمیونل غنڈہ ‘کی فہرست میں ان کا نام شامل کیا گیا تھا۔ اس انٹرویو کے کچھ دنوں بعد ہی عدالت کے وہ دستاویزات وہاٹس ایپ گروپ پر دیکھنے کا موقع ملاتومجھے حیرت کا ایک جھٹکا لگا کہ مجلس اصلاح و تنظیم کے تعلق سے بظاہر بڑا کشادہ دل اور cooperative نظر آنے والا محکمہ پولیس خفیہ طور پر اسی تنظیم کے تعلق سے عدالت میں کیسے سنگین ریمارکس داخل کررہاہے۔

۹۳ ؁ء فسادات سے پہلے ہی: ان دستاویزات کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوگیا کہ جناب مزمل قاضیاصاحب کا نام 1993کے فسادات سے پہلے ہی ’کمیونل غنڈہ‘ کی فہرست میں شامل کرلیا گیا تھا۔صفحہ نمبر ۶ پر درج ہے کہ’’عرضی گزار( جناب مزمل صاحب) کی ماضی کی سرگرمیوں antecedents کو دیکھتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے ان کانام ’کمیونل غنڈہ‘ کی فہرست میں8جنوری 1993کو شامل کیاگیا ۔‘‘
جبکہ فسادات مئی 1993کو شروع ہوئے تھے اور دسمبر1993تک چلتے رہے تھے ۔ محترم مزمل قاضیا صاحب نے ۹۳ ؁کے فسادات میں بھی تنظیم کے لئے اپنی قانونی خدمات پوری طرح انجام دی تھیں، لیکن پولیس کی خفیہ فہرست میں اس سے پہلے ہی ان کا نام شامل ہوچکا تھا ۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ۹۳ ؁ فسادات کے وقت محترم مزمل صاحب تنظیم کے کلیدی عہدے پر بھی فائز نہیں تھے، بلکہ اس سے قبل والی میعاد میں وہ جنرل سکریٹری رہے تھے۔
غنڈہ فہرست سے ناموں کا اخراج: ظاہر ہے کہ ۹۳ ؁ سے پہلے بھی دو ایک مرتبہ فسادات ہوچکے تھے اور پولیس نے ان پراس وقت سے نظر بنائے رکھی تھی۔ مذکورہ بالا انٹرویو کے دوران محترم صدر صاحب نے یہ بات بھی بتائی ہے کہ انہوں نے ا س فہرست سے اپنا اور کچھ لوگو ں کا نام بعد میں نکلوا یا بھی ہے۔ الحمد للہ۔ مگر جملۂ معترضہ کے طور پرافسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم پر ان کی نظر کرم نہیں ہوئی اور ہم اس عنایت سے محروم رہ گئے۔ ہمارا تو خیرکیا ہے ،دکھ اور افسوس تو مجھے اس وقت ہواتھا جب جناب ڈاکٹر بدرالحسن معلم صاحب کے انتقال کے سات آٹھ مہینوں بعد پولیس انٹلی جنس کا ایک نیا اہلکار میری سرگرمیوں کی تفتیش اورupdateکے لئے جب مجھے تلاش کرتاہوا میرے مکان پر پہنچا تھا تو اس وقت بھی اس کی فہرست میں مرحوم بدرالحسن صاحب کا نام کمیونل غنڈہ کے طور پر موجودتھا اور وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ اس شخص سے کہاں ملاقات ہوگی؟ اس وقت میں نے جھلاکر اسے قبرستان جانے کا پتہ بتا دیا تھا۔
خیال رہے کہ جناب بدرالحسن معلم مرحوم پولیس کے اعلیٰ افسران کے ساتھ دوستانہ تعلقات اوراچھے اثر ورسوخ کے لئے جانے جاتے تھے۔ ان کے انتقال پر پولیس کے اعلیٰ افسر نے ان کی میت پر پھولوں کا ہار(wreath)چڑھاکر خراج عقیدت بھی پیش کیا تھا۔اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ پولیس کے دوغلے پن کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔ اسی لئے عام زبان میں مشہور ہے کہ طوائف کسی کی بیوی نہیں ہوسکتی اور پولیس والا کسی کا یار نہیں ہوسکتا۔
ان ریمارکس کا کیا کریں!: خیرپولیس کی فہرست میں ہمارے ناموں کی موجودگی کورہنے دیں۔ لیکن مزمل صاحب کے خلاف بیان میں پولیس نے جو ریمارکس تنظیم کے تعلق سے دئے ہیں وہ چونکانے والے ہیں۔اس میں صاف لکھا ہوا ہے:’’عرضی گزار (مزمل صاحب)کا نام پولیس کے فارم نمبر 100 میں شامل کرنے کے پیچھے حکومت کا موقف یہ تھا کہ عرضی گزارمجلس اصلاح و تنظیم نامی ادارے کا جنرل سکریٹری تھا، اوران مجرموں کو پناہ دینے(harbouring) کا کام کررہا تھا جو قتل اور فرقہ وارانہ فسادات جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔عرضی گزار کے خلاف ۹۳ ؁فسادات کے دوران بھی اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور فرقہ وارانہ بدامنی میں اضافہ کرنے کے واضح الزامات تھے۔جس کی وجہ سے 19 افراد کی جان چلی گئی اور بہت سے لوگ زخمی ہوگئے تھے۔‘‘

کیا ازالہ ہوسکتا ہے ؟: اس کا مطلب یہ ہوا کہ پولیس کے خفیہ کھاتے میں93 ؁ء سے پہلے ہی تنظیم کو مجرموں کو پناہ دینے والے ادارے کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اب مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کس کا نام غنڈہ فہرست میں باقی ہے اور کس کا نکل گیا ہے۔ میری نظر میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پورے ادارے کی نیک نامی پر پولیس نے اپنے طور پر ایک سوالیہ نشان لگارکھا ہے۔ اب جو بھی اس کا کلیدی عہدیدارہوگااس کے تعلق سے پولیس کی خفیہ رپورٹ اسی نہج پر رہے گی اور خدشہ یہ ہے کہ کسی بھی موقع پر عدالتی کارروائیوں میں یہ ایک نقصان دہ پہلو ہوسکتا ہے۔جیسا کہ محترم مزمل صاحب کے ساتھ ہوا۔
اس مسئلے پر بہتر اور درست رائے تو ماہر قانون محترم جناب قاضیا مزمل صاحب کی ہی ہوسکتی ہے۔اس لئے اگر پولیس کے اس بیان سے فی الواقع ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے تو اس کے ازالے کی تدابیراگر پہلے نہیں کی گئی ہیں تو کم از کم اب تو کوشش کی جانی چاہیے اور اس کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ،تاکہ آنے والے دنوں میں پولیس ڈپارٹمنٹ یا شر پسند عناصر اس کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

صدیوں کا فرق پڑتا ہے لمحوں کے پھیر میں
جو غم ہے آج کا ، اسے کل پر نہ ٹالئے

 

[email protected]

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج مواد مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے۔اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*