بنیادی صفحہ / مضامین / قوم مسلم کا خونِ شہیداں آخرکب رنگ لائے گا ؟)!دوسری قسط( ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

قوم مسلم کا خونِ شہیداں آخرکب رنگ لائے گا ؟)!دوسری قسط( ۔۔۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. 

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف جو فسادات کا سلسلہ چل پڑا ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت اس وجہ سے بھی آن پڑی ہے کہ اس کے پیچھے فسطائی ایجنڈا ہے اور ایک منظم پالیسی کے تحت اسے آگے بڑھا یا گیا ہے۔ اور آج ا س کا گراف عروج پر پہنچ چکا ہے تو فسادات کی تاریخ کے مطالعے سے حقیقی ایجنڈے کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ مضمون کی سابقہ قسط پرجہاں بہت سے احباب نے ستائشی کلمات کہے وہیں،ہمارے ممبئی کے گروپ میں ایک ساتھی کچھ برہم سے نظر آئے۔ ان کا ردعمل یہ تھا کہ سب سے زیادہ فسادات تو کانگریس پارٹی کے دور اقتدار میں ہی ہوئے ہیں۔ بابری مسجد میں مورتیاں رکھنا، تالالگوانا،تالا کھلوانا، شیلاناس کروانا اور پھرمسجد کو ڈھادینا یہ سب بھی کانگریس کے دور میں ہوا ہے، تو میں پھر کس خوش فہمی رہتے ہوئے زعفرانی ذہنیت ،فسطائیت اور بی جے پی کو اس کا ذمہ دار قراردے رہا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی’ کھلا ہوا دشمن ‘ہے جبکہ کانگریس ’چھپا ہوا دشمن ‘ہے جو زیاد ہ خطرناک ہوتا ہے۔

سوچنے کا یہ بھی ڈھنگ ہے: میر اخیال ہے کہ قوم مسلم کا ایک بڑا طبقہ اس طرح بھی سوچتا ہے یا اسے کچھ اسی سوچ سے الجھایاجاتا ہے ۔ بظاہر یہ احساس غلط بھی نہیں ہے۔ لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے اپنے مضمون میں کہیں بھی کانگریس پارٹی کو کلین چٹ دینے کی کوشش نہیں کی تھی اور نہ میری ایسی کوئی نیت ہے۔مجھے اپنی قوم کو عموماً اور نوجوان نسل کو خصوصاً یہ بتانا مقصود ہے کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کو مسلم کُش فسادات میں بدلنے اور اسے سنگین روپ دینے کی پالیسی سنگھ پریوار کے اعلان شدہ بلیو پرنٹ کا حصہ ہے۔ اور وہی ذہنیت اس کے لئے پوری طرح ذمہ دار ہے۔ اب اس مہم میں چاہے کوئی بھی تعاون کرے، وہ فسطائی ایجنڈے کا شریک ہی سمجھا جائے گا۔میں ا ن مضامین کے وسیلے سے تاریخ کے اوراق الٹ کران شاء اللہ یہ دکھا نے کی کوشش کروں گا کہ فسطائی پالیسی کس طرح درجہ بدرجہ عملی شکل اختیار کرتی رہی ہے اور آج وہ کیسے اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گئی ہے۔

آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں اس سے دھوکا کھائیں کیا
دل تو عاجزؔ دیکھ رہا ہے حدِّ نظر سے آگے بھی

بات سچ تو ہے ۔۔مگر۔۔۔!: یہ بات صد فی صد صحیح ہے کہ مسلمانوں پر فسادات اورظلم و ستم کے پہاڑزیادہ ترکانگریسی دورِ اقتدارمیں توڑے گئے۔ مگر ناگپور میں موجود فسطائی یونیورسٹی میں اینٹی مسلم انجینئرنگ کا شعبہ توہندو مہاسبھا، آر ایس ایس، جن سنگھ، بی جے پی ، وی ایچ پی، بجرنگ دل، شیو سینا، سری رام سینا، جن جاگرن سمیتی، درگا واہنی، ہندو جاگرن ویدیکے ، ابھینؤ بھارت، سناتن سنستھاجیسی درجنوں سنگھی تنظیموں نے سنبھال رکھا ہے۔ایسی صورت میں چاہے وہ کانگریس ہو یا پھرکوئی اور نام نہاد سیکیولر پارٹی کیوں نہ ہو اس کے اندر پائے جانے والے تمام لیڈران اور کارکنان مذہبی شدت پسندی اور مسلم مخالف جذبات کے حامل نہیں ہونگے ، اور وہ اپنی مذہبی ترجیحات کے پس منظر میں فسطائی ایجنڈے کو فروغ دینے میں معاون نہیں بنیں گے ، ایسا کہنا یامان لیناایک ایسی دانشمندی ہے جسے دوسرے الفاظ میں حماقت کہا جاتا ہے۔
سیاست کے حمام میں سب ننگے: اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی کیوں نہ ہو اسے صرف اپنی کرسی اور اقتدار کی فکر لاحق رہتی ہے۔اور ہوسِ اقتدار کے اسی وسیع منظر نامے میں مسلم مفادات کی اہمیت کچھ اتنی زیادہ بھی نہیں ہوسکتی کہ ’چھپا ہوا دشمن‘اپنے پاس موجود زمامِ حکومت ’کھلے دشمن‘ کوطشتری میں سجاکر پیش کردے۔مفاد پرستانہ سیاست تو ایسا حمام ہے جہاں اصول وضوابط اور اخلاق و اقدار سب کے سب ننگے ہو جاتے ہیں۔حالات جب اس ڈگرپر چل پڑے ہوں جہاں ’کھلے دشمن‘ سے مقابلہ کی طاقت اور موقع نہ ہونے کی صورت میں ’چھپے دشمن‘ پر ہی کچھ دیر کے لئے بھروسہ کرنے کے سوا مسلمانوں کے پاس کوئی چارہ نہ ہوتو پھر کیا کیا جاسکتا ہے!

متاعِ غم کہاں اہلِ ہوس کے سینوں میں
یہ شئے ملے گی تو ہم بوریا نشینوں میں

شروعات اورنگ زیب ؒ کے زمانے سے : اگر ہم ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات کی شروعات کا جائزہ لیتے ہیں تو ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ ہندو مسلم فسادات کے سلسلے کی ابتدا اورنگ زیب عالمگیرؒ کے زمانے میں ہوئی۔تاریخ داں اورنگ زیب کی مذہبی پالیسی کو ان فسادات کا سبب بتاتے ہیں۔ اوران کے مطابق اس پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے 1671-81تک بنارس، نرنول اور گجرات میں فسادات ہوئے۔اس میں کتنے لوگ مارے گئے، کتنے زخمی ہوئے اس کے اعداد وشمار نہیں ہیں۔ منادر اور مساجد میں توڑ پھوڑ ہونے کی بات موجود ہے۔اس کے بعدجیسے جیسے دن گزرتے گئے اور انگریزوں کا زمانہ آیا تو ہندوؤں اور مسلمانو ں کے درمیان فسادات کا سلسلہ تیز ہوتا گیا۔
پارسی مسلم فسادات: اکتوبر 1851میں ایک پارسی مجلہ Chitra Dynan Darpan میں حضور اکرم ﷺ کی شبیہdepiction شائع ہونے پر ممبئی میں پارسی اور مسلمانوں کے درمیان فساد پھوٹ پڑا ۔ اس میں بھی ہلاکتوں، زخمیوں اور نقصانات کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ مئی1857 میں بھڑوچ (گجرات)میں پارسیوں اور مسلمانوں کے درمیان فساد پھوٹ پڑا جو ممبئی تک پھیل گیا اس میں 2 پارسی ہلاک ہوئے تھے۔ زخمیوں اور نقصانات کا کو ئی ریکارڈ نہیں ہے۔پارسیوں اور مسلمانوں کے بیچ تیسر ا فساد 13فروری 1874میں اس وقت پھوٹ پڑا جب رستم جی ہورمزجی جالبھوئی نے Famous Prophets and Communities نامی کتاب شائع کی جس میں حضور اکرم ﷺ کے تعلق سے نازیبا تفصیلات درج تھیں۔ اس فساد میں بھی ہلاکتوں ، زخمیوں اور مالی نقصانات کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔
ہندو مہاسبھا کا قیام : یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ 1914میں پنڈت مدن موہن مالویا نے ’ہندومہاسبھا‘ قائم کی اور اس کی پہلی آل انڈیا کانفرنس ہری دوارمیں 1915کو منعقد ہوئی ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ہی علاقائی سطح پر ہندو شدت پسندی کے بیج بوئے جاچکے تھے اور چھوٹی بڑی ہندوتواوادی تنظیمیں وجود میں آچکی تھیں۔ ہندو مہاسبھا کا قیام ایسی تنظیموں کے وفاق یاconfiderationکے روپ میں سامنے آیا۔پھراس کے بعد1925میں کیشو بلی رام ہیڈگیوار نے ناگپور میں راشٹریہ سویم سنگھ (آر ایس ایس ) قائم کیا۔ اورصاف دیکھا جاسکتا ہے کہ 1920کے بعد فسادات کا گراف بڑھتا ہی چلاجا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتاہے کہ زعفرانی فسطائی ذہنیت والے ’ہندوتوواد‘نے کانگریس کے دورِ اقتدار میں نہیں بلکہ انگریزوں کے زمانے سے ہی اپنے پالیسی پروگرام اور ایجنڈے کے مطابق مسلمانوں کے خلاف فسادات کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا تھا۔

بے ساختہ کہے ہے جو دیکھے ہے زخمِ دل
یہ چوٹ تو انہیں کی لگائی ہوئی سی ہے

ہندو مسلم فسادات کا نیا سلسلہ: 1882میں تملناڈو کے سیلم میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فساد ہوا۔ اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوؤں کا مذہبی جلوس جس راستے سے گزرتا تھا اس راستے پر مسلمانوں نے مسجد تعمیر کرنا شروع کی اور ہندوؤں نے اس پر اعتراض جتایا۔اس فساد میں بھی ہلاک یا زخمی ہونے یا پھر مالی نقصان کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔پھر تقریباً چالیس سال بعد یعنی1920-21میں مالابار (موجودہ کیرالہ) میں شورش ہوئی جس میں ہندو، مسلم اور انگریز فریق تھے اسے ’ماپلا فساد؍بغاوت‘ کا نام دیا جاتا ہے۔(ماپلایا موپلا کیرالہ کے مسلمانوں کی ایک برادری کا نام ہے)
اس فساد کا سبب یہ بتایاجاتا ہے کہ ہندوستان میں برٹش راج ختم ہوجانے کی افواہ کی بنیاد پر خلافت قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی کوئی تفصیلات تو نہیں ملتیں، البتہ یہ الزام عام ہے کہ تقریباً ایک لاکھ ہندوؤں کو مالابار سے نکال باہر کیا گیا جبکہ اس بات کی تصدیق کا کوئی قابل اعتماد ذریعہ نہیں ہے ۔جبکہ درحقیقت فسادکا سبب یہ تھا کہ تحریک خلافت کو انگریزوں نے بزور طاقت دبانے کی کوشش کی تھی، اور اس کے خلاف’ خلافت موومنٹ‘ کے رضاکار ڈٹ کر مقابلے پر آگئے تھے ۔ ماپلا رضاکار وں نے پولیس اسٹیشنوں اور سرکاری دفاتر پر قبضہ کرلیا تھا۔انگریزوں نے اسے بڑی چالاکی سے ہندو مسلم فساد میں تبدیل کردیا کیونکہ وہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بہت ہی مضبوط سماجی اتحاد پایا جاتا تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ انگریزوں کے خلاف شروع کی گئی یہ بغاوت 6مہینوں تک چلی تھی۔

بنگال ، پنجاب اور ملتان میں فسادات: اپریل 1921سے مارچ1922تک ایک سال کے عرصے میں پنجاب، بنگال اور ملتان کے مختلف علاقوں میں مختلف اسباب اور وجوہات سے ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں محرم کے جلوس اوردیگر تقریبات بھی ایک بڑا سبب تھا۔ان فسادات میں مارے جانے یا زخمی ہونے والوں کے اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں اور مالی نقصانات کی بھی کوئی تفصیل نہیں ہے۔فسادات میں جانی و مالی نقصانات ریکارڈ پر نہ ہونے کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ اور ہمیںیہ بھی جان لینا چاہیے کہ جو نقصان درج کیا جاتا ہے وہ سرکاری اعداد وشمار کے حساب سے ہوتا ہے، جبکہ حقیقی معاملہ اس سے کئی درجہ بڑا اور سنگین ہوتا ہے۔

پہلا فساد جس میں نقصان کا ریکارڈ ہے: ہندومسلم فسادات کی تاریخ میں’کوہاٹ ‘ کا فساد ایسا ہے جس میں جانی ومالی نقصان کا ریکارڈ دستیاب ہے۔ کوہاٹ شہر اس وقت پاکستان کے خیبر پختون وا علاقے میں ہے۔ 1924میں یہاں پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز پمفلیٹ شائع کیا گیا تھا جس کے بعد فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا ۔اس میں زخمیوں کی تعداد نامعلوم ہے ، مگر پہلی بار بڑے پیمانے پر اموات ریکارڈ کی گئی ہیں اور یہ تعداد 155بتائی جاتی ہے ۔اور جو مالی نقصانات ہوئے تھے ، اس کا تحمینہ 9لاکھ روپوں سے زیادہ لگایا گیاہے جو تقریباً ایک صدی پہلے ایک بہت بڑی اور خطیر رقم تھی ۔ اسی طرح اپریل 1924سے مارچ 1925تک ایک سال کے عرصے میں ہندوستان کے مختلف شہروں جیسے دہلی، لاہور، لکھنؤ، مرادآباد، بھاگلپور، گلبرگہ، شاہجہانپور، کاکی ناڈا، کوہاٹ اور الہ آبادوغیرہ میں الگ الگ اسباب سے ہندوؤں اور مسلمانو ں کے بیچ فسادات ہوئے جس میں ہلاکتوں، زخمیوں اور نقصانات کی کوئی باقاعدہ تفصیل دستیاب نہیں ہے۔
1925سے1926فسادات میں اضافہ: اپریل 1925سے مارچ1926تک ایک سال کے عرصے میں ملک بھر میں مختلف مقامات پر ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ جن میں کلکتہ، یونائٹیڈ پراونسس(یوپی )،سنٹرل پراونسس(مدھیہ پردیش)،بامبے پرسیڈینسی، بیرار، گجرات، شولاپوروغیرہ شامل ہیں ۔ان فسادات کے لئے ایک مسجد کے باہر ہندوؤں اور مسلمانوں میں جھڑپ کے علاوہ دیگر اسباب بتائے جاتے ہیں۔اس میں ہلاکتوں کی تعداد 44سے زیادہ اور زخمیوں کی تعداد 584سے زیادہ درج کی گئی ہے۔مساجد اور منادر کو جو نقصان پہنچایا گیا وہ الگ ہے۔یہاں یہ بات نوٹ کرنے لائق ہے کہ اسی سال ناگپور میں فسطائیت کا زہر پھیلانے والی فیکٹری قائم ہوگئی تھی۔
آنے والے سال بھی اچھے نہیں رہے: اس کے بعدآنے والے سال مسلمانوں کے حق میں اچھے نہیں رہے۔فسادات کی رفتار، شدت اور وسعت میں اضافہ ہوتا گیا۔ اپریل 1926سے مارچ1927تک جن علاقوں میں فسادات ہوئے ان میں بامبے پرسیڈینسی، سندھ،دہلی، کلکتہ، پنجاب، یونائٹیڈ پراونسس وغیرہ شامل ہیں۔ ایک مسجد کے سامنے موسیقی بجانے سے شروع ہونے والے فسادات مختلف علاقوں میں مختلف اسباب سے پھیلتے گئے ۔اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد28سے زیادہ اور زخمیوں کی تعداد226سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ جبکہ مالی نقصانات کا کوئی تخمینہ ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔

 ’رنگیلا رسول ‘ کی اشاعت اور فسادات: اپریل 1927سے مارچ1928تک پورا سال ملک میں فرقہ وارانہ امن و امان کی صورت حال انتہائی ابتر رہی اور سنگین قسم کے فسادات ہوئے۔ اس سال ہونے والے فسادات کی تعداد دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی شہروں میں ایک سے زائد بار مرتبہ فساد مچائے گئے ۔جیسے لاہورمیں1 ، بہارمیں2، اڑیسہ میں2 ، پنجاب میں2، بیٹیہا(بہار)میں1،یونائٹیڈ پراونسس(یوپی) میں 10 ، بامبے پرسیڈینسی میں 6 ، سنٹرل پراونسس میں2 ،بنگال میں2 اور دہلی1 ایک فساد رونما ہونے کا ریکارڈ موجود ہے۔ یعنی سب سے زیادہ فساد یوپی اور بامبے میں ہوئے ۔ان فسادات کی ایک بڑی وجہ تو آریہ سماج کے پنڈت چاموپتی عرف کرشنا پرساد کی’رنگیلا رسول‘ نامی حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخانہ تصنیف تھی۔جس کے خلاف مسلمانوں کے اندر شدید اشتعال پیدا ہوگیا تھا۔اس کے علاوہ مسجدوں کے قریب یا سامنے موسیقی اور باجا بجانا بھی دوسرے اسباب میں شامل ہے۔ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس سال پہلی مرتبہ گؤ کشی بھی فسادات کے اسباب میں شامل رہی۔ان فسادات میں مہلوکین کی تعداد 103سے زیادہ بتائی گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1084درج ہے۔ مالی نقصانات کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

یوں ہی نہیں مشہورِ زمانہ مرا قاتل
اُس شخص کو اِس فن میں مہارت بھی بہت تھی

)فسادات اور غارت گری کا ۔۔۔۔سلسلہ جاری ہے۔۔۔۔ اگلی قسط ملاحظہ کریں(

[email protected]

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج کسی بھی بات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*