بنیادی صفحہ / مضامین / کیا کرناٹک سے لگے گی مودی کے زعفرانی سیاسی گھوڑے کو لگام ؟!۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

کیا کرناٹک سے لگے گی مودی کے زعفرانی سیاسی گھوڑے کو لگام ؟!۔۔۔از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے………..

خدا خدا کرکے کرناٹک کا سیاسی ناٹک اپنے اختتام کو پہنچا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ناٹک کے کلائمیکس میں پردہ گرنے کے بجائے ڈراپ سین آگیا ۔ پہلی بار گورنر واجو بھائی والا کی مہربانی سے پردہ نیچے کی طرف اترنے ہی لگا تھا اور زعفرانی بریگیڈ لڈو پیڑے بانٹنے کی تیاریاں کرہی رہا تھا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت نے بی جے پی کے لئے اس ناٹک کے اختتام کو طربیہ سے المیہ کی طرف موڑ دیا۔اس کے بعد اس ہائی اولٹیج ڈرامے کا کلائمیکس ہوااور پردہ گرا تو پھر کانگریس اور جے ڈی ایس کے لئے شادیانے بجانے کاموقع ہاتھ آیا جس کے جواب میں زعفرانی کنول والے ’سیاہ دن ‘مناتے رہے۔ مگر اس موقع پر سب سے اہم نظارہ ’غیر بی جے پی گٹھ بندھن‘ کے لئے تیار سیاسی لیڈروں کا ایک ہی اسٹیج پر جمع ہوناتھا۔یہ شاندارمنظر دیکھ کر فطری طور پر سیکیولر عوام کے دل و دماغ میں یہ سوال پید اہوا ہے کہ کیا کرناٹک سے مودی کے زعفرانی سیاسی گھوڑے کو لگام لگ جائے گی؟!

ساحلی علاقے سے کانگریس کا صفایا: اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کرناٹکا میں بی جے پی نے جو جارحانہ واپسی come backکی ہے وہ 1994 ؁ء کے اسمبلی الیکشن کے یاد دلاتی ہے جب بھٹکل کے فسادات کے کو بنیاد بناکر ووٹوں کو یکطرفہpolarizedکیاگیاتھا اور پورے ساحلی علاقے میں بی جے پی کاجھنڈا لہرایا تھا۔حالانکہ اس وقت دیوے گوڈا کی جنتا دل پارٹی 115سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی، لیکن کانگریس کا تقریباً صفایا ہوگیاتھا اور وہ 34سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی تھی۔ جبکہ بی جے پی نے جنوب کے اس قلعے کو پہلی مرتبہ 40سیٹوں کے ساتھ فتح کر لیا تھا۔اب کی بار بھی پورے سنگھ پریوار کی محنت سے ضلع جنوبی کینرا، ضلع اڈپی اور ضلع شمالی کینرا کے ساحلی علاقے میں بی جے پی نے کانگریس کا بالکل صفایا کردیا ہے۔ یہاں19میں سے صرف 3سیٹیں کانگریس کے پاس اور 16سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں چلی گئی ہیں۔اس طرح پوری اسمبلی میں بی جے پی نے اپنی طاقت 40سے بڑھاکر 104کردی ہے اور کانگریس کو 122سے 78پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔

مذہبی منافرت کا کارڈ: حالانکہ بہت سے سیاسی پنڈت بی جے پی کی پیش رفت کے قائل ہونے کے باوجود کانگریس کی اس بری حالت کی توقع نہیں کررہے تھے، لیکن بی جے پی کی اسٹریٹیجی اور مذہبی منافرت کا کارڈ کھیلنے میں اس کی مہارت کے پیش نظر بعض تجزیہ کاراس سے بھی برے نتائج اور زعفرانی
ٹولے کے لئے مکمل اکثریت ملنے کو خارج از امکان نہیں سمجھ رہے تھے۔نتائج سامنے آنے کے بعد یہ بات صاف ہوگئی کہ جھوٹ اور اینٹی پروپگنڈہ نے سچائی اور ترقیاتی کام پر فتح حاصل کی ہے۔ورنہ کانگریسی حکومت کی کارکردگی صرف اطمینان بخش نہیں بلکہ شاندار تھی۔اس کے مقابلے میں سنگھ پریوار کے پاس ساحلی علاقے میں پی ایف آئی، بھٹکل کی دہشت گردی، شرتھ مڈیوال ، پریش میستا،دیپک راؤ جیسے 20-22بے گناہ ہندوتووادی نوجوانوں کے قتل جیسی سنسنی اور لرزہ طاری کرنے والی اور انتقام پر ابھارنے والی کہانیاں تھیں، جسے ہندونوجوان نسل نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

30ہزار کارکن میدان میں! : خیال رہے کہ اس مرتبہ جو نوجوان نسل ووٹرلسٹ میں شامل ہوئی تھی وہ 93 ؁ء کے بھٹکل فسادات کے بعد والی نسل تھی۔ اسے بھڑکانا اور سوشیل میڈیا پرپرانی خوفناک اورجھوٹی کہانیاں سناکران کے ذہنوں کو مسموم اور مسحورmismerizeکرنا بی جے پی کے لئے بہت آسان تھا۔ ایک اندازے کے مطابق آرایس ایس اور دیگر ہندوتووادی تنظیموں کے 30ہزار سے زیادہ کارکن بی جے پی کے لئے میدان میں عملی کام کررہے تھے ۔ بی جے پی کے ایم پی نلین کمارکٹیل کے مطابق ووٹر لسٹ کے ہر صفحہ کے لئے ایک ذمہ دار’پیچ پرمکھ‘ تھا جس کا کام یہ تھاکہ اس صفحے پر جتنے ووٹرس ہیں انہیں بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالنے پر ابھارے۔ بوتھ لیول پر کام کرنے والے الگ تھے۔ آئی ٹی سیل کا بریگیڈ اپنا کام کررہاتھا۔ افسران کے ساتھ ملی بھگت اور مشینوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے ذمہ داران کی ٹیم الگ تھی۔

ڈمی امیدواروں کا کھیل: الیکشن جیتنے کے لئے بی جے پی نے جو حکمت عملی تیار کی تھی اس میں ایک زاویہ نقلی dummyامیدوار کھڑے کرنے کا تھا۔ یہ ایک کھلا ہوا رازopen secretہے کہ آزاد امیدواروں کے علاوہ ایم ای پی کے امیدواروں کو اس کام کے لئے استعمال کیا گیا۔ سیکیولرامیدواروں کی جیت اور بھگوا امیدواروں کی شکست کے لئے عملی میدان میں کام کرنے والی ایک ٹیم کے سربراہ اور ہمارے دوست نے ہبلی سے مجھے بتایا کہ وہاں پر جب وہ ایم ای پی کے امیدوارایک رکشہ ڈرائیور کے گھر پر رات کے وقت پہنچے اور اسے الیکشن سے باز آجانے کے لئے کہا تو اس نے اعتراف کیا کہ اسے الیکشن کی نہ معلومات ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی ہے۔ بس ایک موٹی رقم اسے دے کر بی جے پی والوں نے نامزدگی فار م پر اس کے دستخط لیے اور باقی تمام کام خود ہی انجام دینے کی بات کہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ڈمی امیدوار وں کے ایجنٹ کے طور پربھی بی جے پی کے ہی لوگ پولنگ بوتھ میں موجود رہیں۔ اندران کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی تو خفیہ کھیل کھیلنے میں انہیں اتنی آسانی ہوگی۔

زیادہ خوش فہمی بھی ٹھیک نہیں: بہرحال سپریم کورٹ کی بروقت مداخلت کی وجہ سے کرناٹکا کے سیاسی آسمان سے زعفرانی باد ل ٹل تو گئے ہیں، لیکن سیکیولرازم پر یقین رکھنے والوں کے لئے زیادہ خوش فہمی بھی ٹھیک نہیں ہے۔کیونکہ ملی جلی سرکاروں کا انجام عام طور پر اچھا نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی الیکشن سے چند دن پہلے تک بھی یہاں کانگریس او ر جے ڈی ایس آپسی منافرت اور دشمنی کے ریکارڈ بناچکے ہیں۔ ان کو آپس میں یکجا رکھنے کے لئے بظاہر زعفرانی پارٹی کو اقتدارسے دور رکھنے کااصول او رقاعدہ کام کررہا ہے، مگر سچائی یہ ہے کہ اس کے پیچھے کماراسوامی او رجنتادل کی اقتدار پسندی کا سب سے بڑاہاتھ ہے۔ اور ماضی میں کمارا سوامی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ لائق اعتبار شخصیت نہیں ہے۔ یہ کانگریس کی مجبوری تھی کہ اس نے دوگنی نشستیں اپنے پاس ہونے کے باوجود ’بلاشرط‘ جنتا دل کو حمایت دینے کا اعلان کیا۔ اور جو بھی معاہدہ مجبوری میں کیا جاتا ہے و ہ زیادہ دن تک چلتانہیں ہے۔اب یہ سارامعاملہ خدانخواستہ اس ’بلاشرط‘ میں سے ’بلا‘ نکل جانے تک کا ہے۔اس کے باوجود اب اس مشورے پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں کہ:

موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ
گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے

بی جے پی خاموش نہیں رہے گی: سال 2019کے عام پارلیمانی انتخابات کے پس منظرمیں بی جے پی کو کرناٹکا کا قلعہ فتح کرناانتہائی ضروری تھا۔ او ر اگر حقیقت پسندی سے بات کہی جائے تو اس نے یہ قلعہ تقریباً جیت لیا ہے۔ 40سیٹوں سے 104سیٹوں پر پہنچنا کوئی معمولی قدم تھوڑی ہے۔ مگرجمہوریت پسند عوام کی خوش قسمتی کہیں یا بی جے پی کی بدقسمتی کہ شیر کے منھ سے نوالہ چھین لینے جیسی بات یہاں ہوگئی ہے۔ یقینی طور پراس کے بعد بی جے پی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ نہیں جائے گی۔ امیت شا ہ اپنی چانکیہ نیتی سے نیا منصوبہ بنائیں گے۔مودی اور جیٹلی کے اپنے تنتر منتر ہونگے۔ یوگی آدتیہ ناتھ ذہنیت کی نمائندگی کرنے والے اننت کمار ہیگڈے، شوبھاکرندلاجے، نلین کمارکٹیل،پرتاپ سنہا،کلاڈکا پربھاکر بھٹ جیسا ٹولہ اس منصوبے کو عملی رنگ دینے میں اپنا کردار اداکرے گا اور ماحول کو از سرنو فرقہ وارانہ بنیادوں پر گرم کرنے کے لئے جو کچھ بھی درکار ہوگااسے کرگزرے گا۔اگر 2019کے انتخابات تک یہ ملی جلی سرکار کسی بھی فسا د کا شکار ہوئے بغیر خوش اسلوبی سے چل پڑی تو یہ گویا کرشمہ ہوجائے گا۔ ویسے ہارے ہوئے جواری ایڈی یورپا نے اس کی مدت 3مہینوں تک کے لئے محدود کردی ہے۔خداکرے کہ یہ ہزار جھوٹ میں سے ایک جھوٹ ثابت ہو۔

غیر بی جے پی نوازلیڈروں کا جمگھٹ: کمارا سوامی کی تقریب حلف برداری کے وقت ایک خوش آئند منظر یہ دیکھنے کوملا کہ اسٹیج پر غیر بی جے پی نوازلیڈروں کا ایک جمگھٹا بڑے زمانے کے بعد دیکھنے کو ملا۔ سچی با ت تو یہی ہے کہ ان میں سے اکثراپنے اپنے سیاسی مفاد کے لئے کانگریس سے بچھڑنے اور علاقائی پارٹیاں تشکیل دینے والی وراثت اپنے پاس رکھتے ہیں۔2019میں جمہوریت او رسیکیولرازم کے تحفظ کے لئے مودی کے زعفرانی گھوڑے کو لگام دینے کی منصوبہ بندی میں امیدکی جانی چاہیے کہ کرناٹکا میں ہونے والا یہ جمگھٹا ان شاء اللہ ضرورایک اہم کردار ادا کرے گا۔ضرورت بس اس بات کی ہے کہ ان سیاسی قائدین کو اپنے ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر عوام، سیکیولرازم ، جمہوریت اور دستور ہند کے تحفظ کو فوقیت دینے کے تعلق سے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرنے کا حقیقی احساس ہو۔کیونکہ صرف یہی وہ عناصر ہیں جو انہیں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک رکھ سکتے ہیں۔ ورنہ بی جے پی کا ’ویژن ‘اور ’مشن‘دونوں صاف ہے۔ جبکہ دوسری طرف ماضی قریب و بعید میں حزب اختلاف کے اس طرح کے گٹھ بندھن اور مہا گٹھ بندھن کا جو انجام ہوتارہا ہے ، اس سے دل کے کسی گوشے سے یہ آواز بھی ابھرتی ہے کہ :

نئی صبح پر نظر ہے ، مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
یہ سحر بھی رفتہ رفتہ ، کہیں شام تک نہ پہنچے

[email protected]
******

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج مواد مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے ۔اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*