بنیادی صفحہ / مضامین / ایڈوکیٹ شاہد اعظمی اور نوشاد قاسمجی کی شہادت رنگ لارہی ہے ! (پہلی قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

ایڈوکیٹ شاہد اعظمی اور نوشاد قاسمجی کی شہادت رنگ لارہی ہے ! (پہلی قسط)۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. 

[email protected]

11فروری کوایڈوکیٹ شاہد اعظمی شہید کی آٹھویں برسی تھی۔ اس موقع پر ’دی وائر ‘ میں شاہد پرایک خصوصی تحریرپڑھنے کے بعد تحریک ملی کہ ملک کی جیلوں میں اپنی جوانی کے سنہرے دور کو ضائع کرنے پر مجبور مسلم نوجوانوں پر لاگو کیے گئے قوانین اور ا ن ملزموں کو پنجۂ ستم سے آزاد کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے والوں کے تعلق سے کچھ تفصیلی بات کی جائے۔ فسطائی ایجنڈے کے مطابق مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت قید وبند کی صعوبتوں سے گزارنے کا سلسلہ شروع ہوئے تقریباً تین دہائیاں بیت گئی ہیں۔ حالانکہ یہ سلسلہ ملکی سلامتی کے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے نام پر کانگریسی دورحکومت میں شروع کیا گیا تھا،لیکن چونکہ یہ فسطائیت کے مقاصد پورے کرنے میں ایک وسیلہ ثابت ہورہاتھا اس لئے بھاجپائی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دور میں بھی جاری و ساری رہا۔ بس دہشت گردی مخالف قوانین کے نام بدلتے رہے اورقانون کی چکّی میں پیسنے کے لئے بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کو استعمال کرنے کا دائرہ وسیع ترہوگیا جوآج تک جاری ہے۔

جان کی قربانی دینے والے : الحمدللہ آج ملک کے مختلف جیلوں میں بند بے قصورمسلم نوجوانوں کو قانونی عتاب سے بچانے کے لئے قانون ہی کا سہارا لینے کی کوشش کرنے والی جمیعت العلمائے ہند، اے پی سی آر اور کئی دوسری تنظیمیں میدان عمل میں دکھائی دے رہی ہیں۔ قانونی جبر کے خلاف آواز اٹھانے والی حقوق انسانی کی مختلف تنظیمیں ’رہائی منچ‘، ’آل انڈیا پیوپلس فورم‘ وغیرہ بھی سرگرم ہیں۔ مگر بے قصورمسلم ملزموں کو امداد پہنچانے کے جرم میں جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کردیں ان میں ممبئی کے ایڈوکیٹ شاہد اعظمی اور بھٹکل کے ایڈوکیٹ نوشاد قاسمجی کا نام اس لئے بھلایا نہیں جاسکتا، کیونکہ انہوں نے اس راہ کو اس وقت اپنایا تھا جب ملک کے مختلف علاقوں میں وکلاء کی تنظیموں اور بار ایسوایسی ایشنز کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم نہ کرنے تجاویز پاس کی جارہی تھیں۔ ان تجاویز کی خلاف ورزی کرنے والے وکیلوں پر عدالتی احاطے میں اور ان کی رہائش گاہوں پر حملے کیے جارہے تھے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ ان کی جرأت مندی اور شہادت نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا ہے۔ کیونکہ ان کے اس مشن کوآگے بڑھانے کے لئے مسلم نوجوان نہ صرف وکالت کے پیشے کو اپنا رہے ہیں بلکہ بہت سارے پرانے وکلاء بھی اپنی زندگی کی پروا کیے بغیر برسہابرس سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے صعوبتیں برداشت کرنے والے بے قصور نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔اور ان شہیدان ملت کالہو بول رہا ہے کہ ؂

ایک کہانی ختم ہوئی ہے ، ایک کہانی باقی ہے
میں بے شک مسمار ہوا ہوں ، میرا ثانی باقی ہے

کون تھا یہ شاہد اعظمی: حقوق انسانی کی لڑائی لڑنے اور حکومت کے بے جاجبر وستم کا مقابلہ کرنے والی تحریکوں اور تنظیموں سے جڑے افراد کے لئے شاہد اعظمی کوئی انجانی شخصیت نہیں بلکہ ہمت و جوانمردی کے ساتھ حق وانصاف کی لڑائی بے باکانہ انداز میں لڑنے کی ایک موومنٹ کا نام شاہد ہے۔کیونکہ14 سال کی کم عمری میں پولیس کے ہتھے چڑھنے والا ایک معصوم سا بچہ شاہد اعظمی ’ ٹاڈا‘ جیسے خونخوار(ڈریکیولائی) قانون کے تحت ممبئی کی آرتھر روڈ اور دہلی کی تہاڑ جیل میں سسکنے اور تڑپنے کے بجائے سلاخوں کے پیچھے رہ کربھی اپنی تعلیم جاری رکھتا ہے اورگریجویشن کی ڈگری لے کر باہر نکلتا ہے۔ باہر آنے کے بعد خوف وہراس کے ساتھ جینے کے بجائے وکالت کی ڈگری حاصل کرتا ہے اور اپنے جیسے سینکڑوں نوجوانوں کو قانون کے بے جا ستم سے آزاد کروانے کی مہم میں جُٹ جاتا ہے۔ اس طرح وہ ایک طرف ہزاروں نوجوانوں کے لئے امید کی کرن اور مشعل راہ بن کر سامنے آتا ہے تودوسری طرف اس کی جرأت و بے باکی اور ذہانت و ہوشیاری کی دھاک پولیس اور فسطائی بریگیڈ پر ایسی بیٹھتی ہے کہ وہ اسے صفحۂ ہستی سے مٹاکر دم لیتے ہیں اور مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے شاہد کو بھری جوانی میں اس طرح بے خوف ہوکرقتل ڈالا ہے تو پھر اب’ دہشت گردی مخالف قوانین ‘کے مارے مسلم نوجوانوں کی حمایت کے لئے اٹھنے کی ہمت کون کرسکتا ہے ۔ ۔۔ مگروقت نے ثابت کردیا ہے کہ یہ ان کی غلط فہمی تھی!
شاہدکاسفر۔ملزم سے وکیل بننے تک:  ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے ایک اہم اور بے باک لیڈر ابو عاصم اعظمی کے بھانجے شاہد اعظمی کی پیدائش ممبئی کے مضافاتی علاقے گوونڈی میں سن 1977میں ہوئی تھی۔بابری مسجد کی شہادت کے ساتھ1992میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے پس منظر میں14سالہ کمسن بچہ شاہد اعظمی پولیس کے ہتھے چڑھ گیاتھا۔ اس وقت اس کی کم عمری کی وجہ سے تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا لیکن چونکہ وہ پولیس کی نظر میں آچکا تھا اس لئے جب وہ 17سال کی عمر میں اپنی جوانی کی دہلیز پر کھڑا تھاتو دسمبر 1994میں شیوسینا چیف بال اصاحب ٹھاکرے اور دیگر سیاسی شخصیات کے قتل کی سازش رچنے کے الزام میں خونخوار قانون TADAّکے تحت (’ٹاڈا‘،’پوٹا‘اور دیگر قوانین کی اجمالی باتیں آگے آئیں گی) شاہد کو گرفتار کیاگیا اورممبئی کی آرتھر روڈ اوردہلی کی تہاڑ جیل میں قید رکھا گیا۔ اس نے جیل میں وقت گزاری کے بجائے اپنی تعلیم جاری رکھی اوروہاں 7 سال گزارنے کے دوران اس نے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی تعلیم مکمل کی اور پھر جب سپریم کورٹ سے 1999میں اسے تمام الزامات سے باعزت بری کردیا گیاتواس نے ممبئی سے وکالت میں ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی اور ایکHuman Rights Activist کے طور پر سرگرم عمل ہوگیا۔اس نے دہشت گردی کے دوسرے بے قصورملزموں کوقانونی امداد فراہم کرتے ہوئے انہیں قیدسے رہائی دلانے کو اپنی زندگی کامشن اپنا لیا ۔

کیا شاہد کا ’دہشت گردوں‘سے تعلق تھا؟:  پولیس کی بات اگر مانیں تو شاہد کا تعلق ایسے افراد اور تنظیموں سے پیداہوگیا تھا جو ملک میں ’ دہشت گردی‘ پھیلانے میں مصروف تھیں۔ بالخصوص طلباء تنظیم’ سیمی‘کا(جس پر اب امتناع ہے) رکن ہونے کی وجہ سے اس کو قانون کے شکنجے میں کسا گیاتھا ۔ کہاجاتا ہے کہ اس نے 1992میں ’سیمی ‘ میں شمولیت اختیار کی تھی اور پھر 1999میں وہ اس تنظیم سے الگ ہوگیاتھا۔ چونکہ شاہد اعظمی بطور وکیل مخالف دہشت گردی قوانین کے تحت گرفتار ملزموں کے مقدمات ہی سنبھال رہاتھا اوراس میں استغاثہ (prosecution)کے مطابق ’سیمی‘کے اراکین ہی زیادہ تھے تو خفیہ ایجنسیوں، پولیس اور زعفرانی دہشت گردوں کے مستقل نشانے پر رہناشاہد کا مقدر بن چکا تھا۔ خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کی رپورٹ میں وہ کشمیر اور پاک مقبوضہ کشمیر میں واقع کیمپوں میں تربیت یافتہ ’دہشت گرد‘تھا۔ لیکن عدالت میں استغاثہ اس بات کو ثابت نہ کرسکااورسپریم کورٹ نے اسے تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔اس کے باوجود عدالت کے احاطے میں اس پر’ terrotist lawyer‘کے فقرے کسے جاتے تھے۔ مگر وہ اس طوفان بلاخیز کا مقابلہ سینہ تان کر کیا کرتاتھا۔ اس کا ماننا تھا کہ ؂

تقدیر کے قدموں میں سر رکھ کے پڑے رہنا

تائیدِ ستم گر ہے چپ رہ کے ستم سہنا

شاہد کاکہنا کیا تھا؟!: قانون کے بے جا استعمال کے خلاف اپنے مشن کے بارے شاہد نے مبینہ طور پر اپنے ایک انٹرویو میں ٹائمزف انڈیا کو بتایاتھا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاتھاکہ پولیس والے میری قوم کے لوگوں کو بے دردی سے قتل کررہے ہیں۔میں نے لوگوں کو وحشتناک طریقے سے قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔اس سے میرے جذبات مجروح اور مشتعل ہوگئے اس لئے میں نے اس ظلم کے خلاف احتجاج کی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ 1993 میں وکالت کا پیشہ اختیار کرتے ہوئے ابتدائی چند مہینے شاہد نے ممبئی کے معروف اور سینئر وکیل مجید میمن کے ساتھ پریکٹس کی اور پھر اس کے بعد مضافاتی علاقے کُرلا میں خود اپنا دفتر قائم کرتے ہوئے اس نے دہشت گردی اور بم بلاسٹ کے معاملات میں پھنسائے گئے ملزم مسلم نوجوانوں کے مقدمات لڑنے کا سلسلہ شروع کیا ۔شاہداعظمی نے سوچ سمجھ کر یہ راہ اپنائی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ’’یہ جان کر کہ انہوں (ملزموں)نے کیا کیا جبر سہا ہے ،مجھے دکھ ہوتا ہے ۔میرادل خون کے آنسو روتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی بے قصور انسان جیل کی سلاخوں کے پیچھے یا پھر پھانسی کے پھندے تک صرف اس لئے چلا جائے کہ ا س پر بم بلاسٹ کا الزام لگایا گیا ہے۔‘‘

اور وہ کامیاب ہورہاتھا:  تمام خدشات، رکاوٹوں اور مسائل کے باوجود شاہد اعظمی اپنے مقصد اور مشن میں بڑی تیز رفتاری سے کامیاب ہوتا جارہا تھا۔ ملزمین کی قانونی پیروی کے سلسلے میں اسے برتری حاصل ہوتی جارہی تھی۔اس کے پاس سب سے زیادہ ’ٹاڈا‘ کی جگہ پر لائے گئے ’پوٹا‘ قانون کے تحت درج مقدمات تھے ۔اس میں سیمی کے کارکنان پر داخل کیے کیسس ،ممبئی ٹرین سیریئل بم بلاسٹ ((7/11کے مقدمات(جس میں ریاض بھٹکل بھی ملزم ہے) کے علاوہ مالیگاؤں بم بلاسٹ، گھاٹ کوپر بس بم بلاسٹ،اورنگ آباد میں ہتھیار ضبطی کے معاملہ اور ممبئی پر دہشت گردانہ حملے (9/11)کے ہائی پروفائیل والے مقدمات وغیرہ شامل تھے ۔ بحیثیت دفاعی وکیل شاہد اعظمی کو سب سے بڑی او رپہلی کامیابی اس وقت ملی تھی جب2002کے گھاٹ کوپر بم بلاسٹ میں مخالف دہشت گردی قانون ’پوٹا‘ کے تحت ملزم بنائے گئے عارف پان والا اور دیگر 8ملزمین کوناکافی شہادتوں کی بنیاد پر سپریم کورٹ سے باعزت بری کردیا گیا اور اس کے نتیجے میں ’پوٹا‘ قانون کے بے جا استعمال پر حقوق انسانی کی تنظیموں اورحزب اختلاف کی طرف سے ایسے سوالات اٹھے کہ بالآخر اس قانون کو ہی منسوخ کردیا گیا۔دوسرے الفاظ میں متعصب ذہنیت والی حکومت ، خفیہ ایجنسیوں ،پولیس اورATSکے لئے شاہد اعظمی ایک کھلا چیلنج بن کر سامنے آگیاتھا اور اسے اپنے راستے سے ہٹانا ان سب کے لئے ضروری ہوگیا تھا۔اورسچائی یہ بھی ہے خود شاہد اعظمی کو اس بات کا احساس تھاجس کا اظہار ایک ملاقات کے دوران شاہد نے اشارتاً مجھ سے کیا تھا۔لیکن وہ خوفزدہ نہیں تھا بلکہ وقت کے اس مطالبے کو پورا کرنے کے لئے شعوری طور پرتیارتھاکہ:

ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

(……….ریاض بھٹکل کے بارے میں شاہد نے مجھ سے کیا کہاتھا……… جاری ہے………. اگلی قسط ملاحظہ کیجیے)

(نوٹ: اس مضمون کی کسی بات سے ادرہ بھٹکلیس کا متفق ہونا ضروری نہیں)

x

Check Also

آب بیتی الحاج محی الدین منیری ۔ 18 ۔ نہ کچھ کام آئے جناب منیری ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری

 M:00971555636151             شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا جب بھی ...