بنیادی صفحہ / مضامین / بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (پہلی قسط ) ۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

بھٹکل فسادات اور جگن ناتھ شیٹی کمیشن میں دلچسپ معرکہ! (پہلی قسط ) ۔۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. 

سماجی زندگی کے سفر میں کچھ واقعات اورحادثات ایسے ہوتے ہیں کہ قصۂ پارینہ ہونے کے باوجود گاہے بگاہے انہیں یاد کرنا اور نئی نسلوں کے سامنے انہیں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ آنے والے زمانے کے لئے وہ اس سے سبق حاصل کریں اور ایسی تدابیر اختیار کریں کہ اگر خدانخواستہ تاریخ پھر سے اپنے آپ کو دہرانے پر آجائے تو وہ اس کا سامنا کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار ہوں۔فارسی کا بہت ہی مشہور شعر ہے:

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را
گاہے گاہے باز خواں ایں دفترِ پارینہ را

یعنی اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے دل کے داغ تازہ رہیں، تو کبھی کبھی پرانے قصے کو پھر سے پڑھ لیاکر۔لہٰذا چلئے بھٹکل کے خونریزمسلم کش فسادات کے 25سال پورے ہونے پر ماضی کے کچھ اوراق الٹ کر دیکھتے ہیں۔خاص کرکے جگن ناتھ شیٹی انکوائری کمیشن میں سنگھ پریوار کے وکلاء کے ساتھ میرا جودلچسپ معرکہ ہواتھا اس کو سلسلہ وار ملاحظہ کرتے ہیں۔

آگ و خون کی ہولی: 1993 ؁ء کا سال عام اہلیان بھٹکل کے لیے جہاں آگ اور خون کی ہولی والا سال تھا وہیں پربالخصوص بھٹکلی مسلمانوں کے لیے یہ سال ابتلاء و آزمائش سے بڑھ کر نسل کشیGenocide کا ابتدائی مرحلہ ثابت ہو رہا تھا۔فسطائی سنگھ پریوار کی بنیادی پالیسی کے تحت آزادی کے بعد سے آج تک سارے ہندوستان میں جس طرح خوشحالی اور صنعت و حرفت کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہtarget پررکھنے ا ور انہیں سماجی و معاشی سطح پربرباد کرنے کی جو روایت چلی آ رہی ہے اس کی زد میں بھٹکلی مسلمان بھی نہ آتے ،ایسا کہاں ممکن تھا؟!
الحمدللہ بھٹکلی مسلمان ایک طرف اپنی معاشی خوشحالی کے لئے خاص اہمیت رکھتے ہیں تو دوسری طرف دینی تشخص کے ساتھ جینے اور ملّی وابستگی کوفو قیت دینے میں بھی وہ اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کی یہ مہتمم با لشان صفات کا فسطائیت کی آنکھوں میں کھٹکنا اور منصوبہ بندی کے ساتھ انہیں نشانہ بنانا فطری عمل تھا۔

کرفیو اور امتناعی احکامات : ماضی میں دو ایک چھوٹے بڑے فسادات کے بعد اپریل1993 سے دسمبر 1993 تک تقریباً نو مہینے وقفہ وقفہ سے بھٹکل لہو لہان ہوتا رہا۔مکانات اور دکانیں جلتی رہیں۔ نوجوان، عورتیں، بوڑھے کٹتے اور زخمی ہوتے رہے۔ اپاہج ہوتے رہے۔ شہید ہوتے رہے۔ ہر مہینے میں دو تین بار فساد کے شعلے بھڑکتے رہے۔ اور ہفتوں ہفتوں تک کرفیو Curfewاور مسلسل امتناعی احکامات Prohibitory orders کی سختیوں اور پابندیوں سے عوام الجھتے رہے۔ پولیس کی بے جا زیادتیوں اور اپنی بے چارگی پر خون کے آنسو بہاتے رہے۔

رتھ پر پتھر پھینکنے کا الزام: جیسا کہ سارے ہندوستان میں فسادات شروع کرنے سے قبل اکثر ایک ان دیکھا ہاتھ ابھرتا ہے جس میں وہ مبینہ پتھر ہوتا ہے جو کسی مذہبی جلوس یا رتھ پر پھینکا جاتا ہے، بالکل اسی طرح یہاں بھی رام نومی (تیر ہبّا ؍رتھ یاترا)کے موقع پر ایک پتھر پھینکے جانے کا بہانہ فسادات کا نہ تھمنے والا سلسلہ لے آیا۔جس میں ایک اندازہ کے مطابق مسلمانوں کا تقریباً تیرہ (۱۳) کروڑ روپوں کا نقصان ہو ا۔ اور ۱۲ مسلمان شہید ہو گئے۔ جبکہ کئی زخمی اور اپاہج ہو گئے۔ فرقہ پرستوں کے بڑھتے حوصلے، پولیس کی جانب داریاں اور مسلم قیادت کے غیر مؤثر رول نے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کردی۔ اور جب دن دھاڑے ایک طرف پولیس نے محلوں میں گھس کر مسلم نوجوانوں پر حملے کئے اور ان کی موٹر گاڑیوں کی توڑ پھوڑشروع کر دی اور دوسری طرف سنگھ پریوار کے نقاب پوش غنڈوں نے۱۱ ستمبر ۱۹۹۳ ؁ء کو دوپہر کے وقت بھرے بازار میں مسلمانوں پر تلواروں سے حملہ کردیا جس میں کئی مسلمان زخمی بھی ہوئے اورشہید بھی ۔اورکچھ اپاہج بھی ہوگئے۔تو اس موڑ پر نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور انہوں نے اپنی موجودہ سماجی قیادت کی مرضی کے خلاف کھل کر میدان میں اترنے اور جمہوری اور قانونی دائرے میں اس فاشسزم fascism کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔

سنگ بدستِ شر۔ ایک نظم: فساد کی اس صورتحال کی عکاسی کرنے والی میری ایک آزاد نظم جو میرے اولین مجموعۂ کلام ’سلگتے خواب ‘ میں شامل ہے ، کچھ یوں ہے: وہ ایک پھر ؍ جو دستِ انساں میں آگیا ہے ؍ اس کو گر تم تراش لوتو ؍ صنم بنے گا ؍ مندروں میں سجا رہے گا ؍ وہ ایک پتھر ہی تو ہے جو ؍ کسی عمارت کی تہہ میں رہ کر ؍ ہزار پتھر سنبھالتا ہے ؍ اپنے سر پر! ؍ وہ ایک پتھر ہی تو ہے جو ؍ خدا کے گھر کی بنا ہے زینت ؍ وہ ایک پتھر ہی تو ہے جو ؍ چرچ بن کر کھڑا ہوا ہے ؍ مگر وہ پتھر ؍ جو دستِ شر میں مچل رہاتھا ؍ اچھل پڑا تو ؍ ہزار فتنے جگا گیا ہے ؍ کبھی یہ مسجد کے گنبدوں پر گرا ہے آکر ؍ کبھی یہ مندر یا رتھ پہ گر کر ؍ سکون شہروں کا لوٹتا ہے ؍ لہو کے دریا اچھالتا ہے ؍ مسرتوں کے گلاب سارے جھلس گئے ہیں ؍ محبتوں کے سہانے سپنے اجڑ گئے ہیں ؍ نہ جانے کیسی وحشیانہ ہوا چلی ہے ؍ کہ جنگلوں کے درندے سارے ؍ عجیب حیرت میں پڑ گئے ہیں ؍ دبائے دانتوں میں انگلیاں یہ سوچتے ہیں ؍ کہ شہر ویران کیوں پڑے ہیں؟ ؍ کہ جنگلوں میں سکون کیوں ہے؟!!

پہلی مرتبہ زبردست احتجاج : اس طرح بھٹکل مسلم ویاپاری منڈل (مسلم مرچنٹس ایسوسی ایشن) کے نئے بینر تلے نوجونواں کی نئی قیادت ابھری اور انھوں نے سنگھ پریوار کی اس جارحیت کے خلاف اپنے احساسات اعلیٰ افسران تک پہنچانے کے لیے پہلی مرتبہ زبردست احتجاجی مظاہرہ کرنے کے لئے’ بھٹکل بند‘ کی آواز دی ، جسے عوام اور نوجوانوں کی طرف سے انتہائی غیر معمولی response ملا۔ یہ بند بھٹکل کے مسلمانوں کی سماجی زندگی اور قیادت میں ایک نئے باب کے کھلنے کا سبب بنا، جس نے فرقہ پرستوں کے ساتھ ساتھ سرکاری افسران اور ایجنسیوں کو جتلا دیا کہ بس اب بہت ہو چکا، اس کے بعد مسلمان خاموش تماشائی بن کرنہیں بیٹھیں گے۔اس کے کچھ ہی عرصہ بعد سنگھ پریوار کے اعلیٰ لیڈروں بشمول ڈاکٹر چترنجن، سریندرا شانبھاگ،کولّے، گجا وغیرہ کل ۸۰ سے زائد افرادکو فساد بھڑکانے کے الزام میں جب گرفتار کرکے کاروار، بلاری اوربیلگام کی سنٹرل جیلوں میں بھیجا گیا تو ایک طرح سے اس فساد پر لگام لگ گئی۔اس موقع پربعد میں معاملہ برابر کرنے کے لیے پولیس نے تقریباً ۲۲ مسلم نوجوانوں کو بھی گرفتار کرکے بیلگام سنٹرل جیل بھیج دیا تھا ، جس میں جناب ایس ایم سید عبد القادر،رکن الدین نثار احمد، ذی شان خطیب اور دیگر نوجوانوں کے علاوہ میں خود اور میرے دو بھائی بھی شامل تھے۔اس جیل یاترا کی تفصیلات اس سے قبل شائع شدہ مضامین میں بیان ہوچکی ہے۔

تحقیقاتی کمیشن کا قیام : فسادات کاسلسلہ جب رک گیا تو حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ جسٹس جگن ناتھ شیٹی کی سربراہی میں یک رکنی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا۔جس کے ذمہ فسادات کے اسباب و عوامل جاننا اور آئندہ کے لیے ایسے حالات پر روک لگانے کے لیے تجاویز پیش کرنا تھا۔اس کمیشن میں پیشی کے لیے مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف سے کرناٹکا مسلم ایڈوکیٹس فورم سے وابستہ مسلم وکلاء کی ایک ٹیم کو ذمہ داری دی گئی، جس میں جناب ایڈوکیٹ مشتاق احمد، ایڈوکیٹ سی آر عبد الرشید، ایڈوکیٹ منظور، ایڈوکیٹ اعظم، ایڈوکیٹ قریشی وغیرہ شامل تھے۔ ان وکلاء کی رہنمائی میں فساد سے متاثرہ افراد اور سماجی ذمہ داران کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن میں حلف نامے داخل کیے گئے ۔

بطور گواہ میرا حلف نامہ : جگن ناتھ شیٹّی کمیشن میں بطور گواہ میں نے بھی اپنا حلف نامہ داخل کیاتھا۔ اپنے حلف نامہ پر جرح کا جواب دینے کے لئے بنگلورو طلب کیے جانے پرمجھے بغیر کسی تیاری کے اچانک پیش ہونا پڑا۔ واضح رہے کہ فسادات کے بعد دیگر کچھ لوگوں کے ساتھ میں نے جو حلف نامہ داخل کیا تھا ، اس میں بی جے پی، آر ایس ایس ، وشو اہندو پریشد اور ہندو جاگرن ویدیکے کو اس فساد کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس کے بعض مقامی لیڈروں مثلاً اے این پائی، وسنت کھاروی، گووند کھاروی، اننت کمار ہیگڈے (جو بعد میں ممبر پارلیمنٹ اور اب مرکزی حکومت میں وزیر بن گیاہے)اور ڈاکٹر چترنجن (جو ایم ایل اے بننے کے بعد نا معلوم حملہ آور کی گولی کا شکار ہو گئے) وغیرہ کو اس فسادمیں پوری طرح ملوث بتایا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس کی جانبداری اور تساہلی کو بھی اس فساد کے جاری رہنے کا اہم سبب بتایا تھا۔ہمارے وکیل نے حلف نامہ تیار کرتے وقت ہی تنظیم کے دفتر میں مجھ سے کہا تھا کہ تمہیں ایک مضبوط گواہ کے طور پر پیش ہونا ہے ۔مجھے تم سے بڑی توقع ہے کہ تم ثابت قدم رہوگے۔

کچھ قائدین نے دامن بچالیا: یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سوائے جناب عبدالغنی محتشم مرحوم اورڈاکٹر بدرالحسن مرحوم کے ، قوم کے کسی سینئر قائد اوراس وقت کے کسی قابل ذکر لیڈر یا ذمہ دارنے اس کمیشن میں اپنا بیان دیناضروری نہیں سمجھا تھا۔ قوم و ملّت پر آئی ہوئی اس مصیبت کے حوالے سے کمیشن میں حقائق پر مبنی بیان دینے اور اپنی ملّت کا دفاع کرنے سے بعض شخصیات کو کس خوف اور مصلحت نے روکا تھا یہ تووہی جانیں اور ان کا رب جانے۔ لیکن اسی جگن ناتھ شیٹّی کمیشن میں جب قوم کے ابھرتے لیڈر اور اس وقت کے صدر بلدیہ ڈاکٹرسید سلیم صاحب نے قوم و ملّت کے مفاد کے بر خلاف بڑا ہی متنازعہ بیان دیا تھا تواس سے ہنگامے اوراشتعال کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، اور اس وقت ان کے خلاف پوری قوم میں مخالفانہ ہوا گرم ہوئی تھی۔اس پس منظر میں ان کے خلاف کارروائی بھی ہوئی تھی ۔ستم ظریفی یہ تھی کہ اس وقت بھی ہمارے بعض سماجی ذمہ داران در پردہ ان کی پشت پناہی کرتے پائے گئے تھے۔ جن میں ایک اہم قائدکانام بھی شامل تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ نہ صرف اجتماعی موقف کے خلاف رویہ اپنائے ہوئے ہیں، بلکہ ڈاکٹر موصوف کی حمایت پر آمادہ ہیں ۔ لہٰذا حقائق جاننے کے لئے مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف سے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے روبرو قائد موصوف نے بیان دیتے ہوئے خود کے کمیشن میں حاضرنہ ہونے اور بیان درج نہ کروانے کا جو سبب بتایا تھا وہ یہ تھاکہ’’ اگر میں کمیشن میں بیان دینے جاتا توحقیقت بیانی سے کام لیتا اور اس سے قوم میں اشتعال پیدا ہوتا!‘‘( حوالے کے لئے روئداد تنظیم، مجلس انتظامیہ مورخہ14 نومبر 1995 ملاحظہ کی جاسکتی ہے)

نیرنگئ سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے

افسران کی نظروں میں نیک نامی کا شوق : اس کا مطلب بہر حال یہی تھا کہ موصوف بھی اگر تحقیقاتی کمیشن میں حاضر ہوتے تو ان فسادات کے لئے ڈاکٹر صاحب کی طرح بی جے پی اور سنگھ پریوار کو بر ی الذمہ قرار دیتے ہوئے ہم مسلمانوں اور خاص کر مسلم نوجوانوں ہی کو اس کاذمہ دار ٹھہراتے !اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمارے بعض قائدین کس معاملہ میں کیا اندازفکر رکھتے ہیں۔ اسی طرز فکر کا مظاہرہ تو افسوسناک طور پر فسادات کے دوران بھی ہماری ’’تجربہ کار او ر با اقتدار‘‘قیادت نے بارہا کیا تھا۔پولیس ، ایڈمنسٹریشن اورغیر مسلم ذمہ داروں کے سامنے اپنی امیج صاف ستھری رکھنے(اورایک تجربہ قائد کے بقول حکام اور افسرن کے good bookمیں رہنے) کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی (اورنہ ہے!)۔ یہاں تک کہ فسادات کے دوران بعض دفعہ نیشنل لیول تک کے اخباروں میں ایسے بیانات ہمارے بعض ذمہ داران کی جانب سے شائع ہو چکے تھے، جو ہمارے نوجوانوں کے مفادات کے منافی ہوا کرتے تھے۔

جرح کے لیے پیشی کا پہلا دن: بہر حال پہلے دن کمرۂ عدالت میں جب کارروائی شروع ہوئی تو ہال میں آر ایس ایس ، ہندومہاسبھا، ہندوجاگرن ویدیکے ، وشواہندو پریشد یعنی پورے سنگھ پریوار کی طرف سے پانچ چھ ماہر وکیلوں کی ایک ٹیم پوری تیاری کے ساتھ موجود تھی۔ جبکہ ہماری طرف سے متعینہ وکیلوں میں سے دو تین وکیل ہی حاضر تھے ۔ مجھے جب پکارا گیا اور میں گواہوں کے کٹہرے witness boxمیں پہنچ گیا تو کمیشن کے اہل کار نے بیان درج کرانے سے پہلے مجھے حلف دلاتے ہوئے کہا:
’’ ان دی نیم آف گاڈ آئی سُو ئیر‘‘In the name of God I swear))
میں نے کہا:’’ ان دی نیم آف اللہ آئی سُوئیر‘‘ (In the name of Allah I swear)
اہل کار نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ اور نہ جانے کیوں اس نے دوبارہ اپنا وہی جملہ مجھے دہرانے کے لئے کہا۔میں نے پھر ایک بار اپناو ہی جملہ یعنے اللہ کے نام پر حلف لیتا ہوں دہرایا۔تو سنگھ پریوار کے وکیلوں کے کان کھڑے ہو گئے۔اوروہ سب پوری طرح میری طرف متوجہ ہوگئے۔ ان کی پیشانی پر بل صاف نظر آرہے تھے۔تیسری بار پھر اس اہلکار نے اپنا جملہ دہرانے کے لئے کہا تو مجھے بھی چڑ سی آ گئی اس لئے میں نے تیسری بار بھی گاڈ کے بجائے لفظ اللہ ہی استعمال کرتے ہوئے حلفیہ جملہ ادا کیاتو اہلکار خاموش ہوگیا اور کارروائی آگے بڑھی۔مگرسنگھ پریوار کے وکیلوں کے کیمپ میں چہ میگوئیاں اور تناؤ کی سی کیفیت میں صاف محسوس کر رہا تھا۔ آگے چل کر مجھے لگا کہ بالکل اسی مرحلے پر انہوں نے مجھے ایک عام گواہ کے بجائے خاص نشانہ بنا کر جرح کرنے کا تہیہ کیا ہوگا۔

ابتدا ہمارے وکیل نے کی : ضابطے کے مطابق سب سے پہلے ہمارے وکیلوں کی ٹیم سے جناب مشتاق احمد ایڈوکیٹ نے میر ی ابتدائی جرح Examination -in- chief کرتے ہوئے میرے حلف نامہ پر سوالات کیے اور وضاحتیں پوچھیں۔ اس کے بعدپولیس کے وکیل نے نہایت تیز اور سخت انداز میں جرح شروع کی۔ پیچیدہ اور ٹیکنیکل قسم کے سوالات کئے اور مجھے گھیرنے اورپوری طرح جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس نے مجھ پر الزام لگایا کہ عام بھٹکلی مسلمانوں کی طرح میں بذات خود پولیس سے بغض رکھتا ہوں اس لئے پولیس کو نا اہل اور جانبدارbiasedکہہ رہا ہوں۔ اس پر میں نے کہا کہ اس بات میں ذرا بھی شک نہیں کہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسٹر آلوک موہن کے ٹرانسفر ہونے تک پولیس جانبدار بھی رہی اور نا اہلی کا ثبوت بھی دیتی رہی۔ اس کے لئے میں نے کچھ حوالے بھی دئے اور کہا کہ اوم پرکاش کے ایس پی بن کر آنے کے بعد ہی سخت اقدامات کیے گئے جس سے فسادات پر روک لگائی جاسکی۔

پھر اس کے بعد سنگھ پریوار کے وکیلوں نے مورچہ سنبھالااور جرح شروع کی تو سوال و جواب کا ایک دلچسپ سلسلہ چل پڑا۔
(۔۔۔۔۔جاری ہے…… اگلی قسط ملاحظہ کریں)

[email protected]

x

Check Also

غیرتمند کو اُنگلی اُٹھنے سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

ہم صحافی تو نہ پہلے تھے نہ آج ہیں لیکن اس خاندان ...