بنیادی صفحہ / مضامین / ایڈوکیٹ شاہد اعظمی اور نوشاد قاسمجی کی شہادت رنگ لارہی ہے ! (تیسری قسط (از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

ایڈوکیٹ شاہد اعظمی اور نوشاد قاسمجی کی شہادت رنگ لارہی ہے ! (تیسری قسط (از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. 

[email protected]

یہ توایک کھلی ہوئی سچائی ہے کہ مسلم نوجوانوں کے لئے انصاف کی جنگ لڑنے والے وکلاء کو انڈر ورلڈ کے سہارے جان سے مارڈالنے کا سلسلہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے تحت اسرار کے پردوں میں چھپے ان دیکھے ہاتھوں نے دو نوجوان وکیلوں کا کام تمام کیا اور تیسرامعاملہ جو کہ ممبئی کے معروف کریمنل
اور سینئر وکیل مجید میمن پرناکام قاتلانہ حملے کاتھا۔جو کہ ایڈوکیٹ نوشاد اور شاہد کے قتل سے پہلے ہی ہواتھا۔پوٹا قانون کے تحت گرفتار مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے خلاف ایڈوکیٹ مجید میمن اور ان کے بیٹے پر سال2005میں باندرہ میں ان کے گھر کے باہر دو موٹر بائک سواروں نے ان پر گولیاں داغیں جو کہ خوش قسمتی سے کار کا پچھلا شیشہ چور چورکرنے تک محدود رہیں اورمجید میمن کی سیکیوریٹی پر مامور پولیس والے نے جوابی فائرنگ کی تو حملہ آور موقع پرسے فرار ہوگئے تھے۔یعنی کہا جاسکتا ہے کہ : ؂

اگرچہ گھات لگائے کوئی مچان میں تھا
میں بچ گیا کہ میں اللہ کی امان میں تھا

یہاں بھی انڈر ورلڈ کا ہاتھ؟!: دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں ٹھونسے گئے مسلم نوجوانوں کو رہائی دلانے والوں کے خلاف جو قاتلانہ حملے ہوئے ہیں اس میں قدرِمشترک ’انڈر ورلڈکا ہاتھ‘ ہے۔قاتلانہ حملے کا پہلا واقعہ ہندوستان کے معروف کریمنل وکیل ایڈوکیٹ مجید میمن کا ہے جو دہشت گردی کے الزام میں پھنسے کچھ ہائی پروفائل مقدمات میں پیروی کررہے تھے۔خوش قسمتی سے یہ قاتلانہ حملہ ناکام ہوا۔مگر اس حملے سے پہلے انڈر ورلڈڈان چھوٹا راجن کا ساتھ چھوڑ کر خود ڈان بنے روی پجاری نے (جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ آسٹریلیا سے آپریٹ کرتا ہے) ایڈوکیٹ مجید میمن کو بم دھماکوں کے کیس نہ لینے کی تنبیہ کرتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ اسی دھمکی اور انٹلی جنس رپورٹ کے پس منظر میں پولیس نے ایڈوکیٹ مجید میمن کو سیکیوریٹی فراہم کی تھی، اورممبئی پولیس کاکہنا ہے سیکیوریٹی گارڈ کی جوابی فائرنگ سے ہی یہ حملہ ناکام ہواا ورقاتل بھاگ کھڑے ہوئے،ورنہ وہ مزید گولیاں چلاکروہ اپنا مشن پورا کرسکتے تھے۔ ناکام قاتلانہ حملے کے چند ہی منٹوں بعد مبینہ طورپر روی پجاری نے ایک ٹی وی صحافی کو فون کرکے اس حملے کی ذمہ داری اپنے سرلی تھی۔

دھمکیوں سے حوصلے پست نہیں ہوئے : انڈر ورلڈ کی دھمکیاں توایڈوکیٹ شاہداور نوشاد کو بھی ملی تھیں۔اور یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ شاہد اعظمی نے اپنی وکالت کے ابتدائی دور میں کچھ عر صہ تک جمعیت العلماء کے لئے ایڈوکیٹ مجید میمن کے ساتھ مل کرکام بھی کیا تھا۔فطری بات تھی کہ اپنے ایک سینئر پر انڈر ورلڈ کی طرف سے دن دہاڑے قاتلانہ حملے کے بعد شاہدجیسے نوجوان پر دہشت طاری ہونی چاہیے تھی اوراسے اپنی مہم سے باز آنا چاہیے تھا جو کہ ’پردے کے پیچھے ‘ رہنے والے سازشی دماغوں کا اصل مقصد اورمنصوبہ تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔نہ مجید میمن جیسے سینئر وکیل نے اپنے قدم پیچھے ہٹائے اور نہ نوجوان نوشاد اور شاہد نے آگے بڑھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس کی۔ نوشاد قاسمجی کے بھائی ایڈوکیٹ سمیر قاسمجی نے(جس نے نوشاد کے قتل کے بعد لاء کی پڑھائی کی اور وکالت کا پیشہ اختیار کیا) بتایا کہ نوشادنے اپنے قتل سے چند دن پہلے اس بات کا تذکرہ اپنے قریبی احباب سے کیا تھا کہ روی پجاری کی طرف سے دھمکی آمیز فون کالس آرہے ہیں۔ (جبکہ نوشاد نے بعض پولیس افسران کی طرف سے اپنی جان کو خطرہ محسوس ہونے کی بات بھی خود مجھ سے کہی تھی!)مگر نوشاداس سے بے پروا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس کی تھیوری کے مطابق روی پجاری کے گُرگوں نے اسے شہید کرڈالا۔ اسی طرح شاہد اعظمی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شاہد کو بھی’ پوٹا ‘اور’ مکوکا‘ جیسے قوانین کے تحت گرفتاربم دھماکوں کے ملزمین کی پیروی نہ کرنے کی تنبیہ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں (اُس وقت بنکاک سے آپریٹ کرنے والے ) ’ڈی کمپنی‘ کے جانی دشمن’ چھوٹا راجن ‘ گینگ کی طرف سے مل رہی تھیں۔شاہد بھی اس سے بے پروا تھا۔اور نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس کے مطابق ’بھرت نیپالی گینگ ‘ نے شاہداعظمی کا کام تمام کرڈالا۔ شاہد اعظمی کے بھائی راشد اعظمی کا کہنا ہے :’’جن لوگوں نے شاہد کی جان لی ہے ، انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ شاہد نے ایک شہید کی موت پائی ہے۔‘‘

تخریب جنوں کے پردے میں: ایڈوکیٹ شاہد اعظمی اور نوشادقاسمجی جیسے جانباز وکیلوں کی شہادت نے یقینی طور پر مہمیز کا کام کیا اور اس میدان میں کام کرنے کے لئے دوسروں کے دلوں میں ولولہ اور حوصلہ بھردیا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاہد کے قتل کا سانحہ پیش آنے پر ایک ویب سائٹ پر میں نے تعزیتی تبصرہ کے ساتھ سوال کیا تھا کہ شاہد اعظمی بے قصور نوجوانوں کو قانون کے غیر قانونی شکنجے سے آزاد کروانے کی جوتحریک لے کر اٹھا تھا اسے اب کون آگے بڑھائے گا، تو اس وقت شاہد کے مشن میں ساتھ دینے والی ایک غیر مسلم ایڈوکیٹ نے جواباً کہا تھا کہ :’’ہم اس موومنٹ کو آگے بڑھائیں گے! ‘‘اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کے طول و عرض میں جمعیت العلمائے ہند ، اے پی سی آر، رہائی منچ، موومنٹ فار جسٹس اوردیگر تنظیموں کے زیر سایہ مسلم وغیر مسلم وکلاء کی ٹیمیں بے قصور مسلم نوجوانوں کوعدالتوں سے باعزت بری کروانے کے لئے نہ صرف آگے بڑھ رہی ہیں بلکہ(برسہا برس کی تاخیر سے ہی سہی) اس میں کامیاب بھی ہورہی ہیں۔ بقول جگر مرادآبادی :

یہ صحن و روش ، یہ لالہ و گل ، ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں
تخریب جنوں کے پردے میں تعمیر کے ساماں ہوتے ہیں
منڈلاتے ہوئے جب ہر جانب طوفان ہی طوفاں ہوتے ہیں
دیوانے کچھ آگے بڑھتے ہیں اور دست و گریباں ہوتے ہیں

دہشت گردی مخالف قوانین پر ایک نظر: بے قصور مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد پہنچانے کے اس مشن کی رفتار اور پیش رفت کا جائزہ لینے سے پہلے اجمالی طور پر مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے جاری کیے گئے ان قوانین پر ایک نظر ڈالی جائے جس کا سب سے زیادہ غلط استعمال پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے بے قصور مسلم نوجوانوں کے خلاف کیااور انہیں حقوق انسانی کے خلاف سیاہ اور استبدادی قوانین کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ اس میں سر فہرست Terrorist and Disruptive (Prevention) Act’ٹاڈا‘ہے جو پنچاب کی خالصتان تحریک کے خلاف مرکزی حکومت کی طرف سے ملک میں پہلی بار1985میں لایا گیااور 1995 تک لاگو رہا ۔جس کے دوران کشمیری عسکریت پسندی یا دہشت گردی کے حوالے سے اس کا بہت ہی بے جا استعمال کیا گیااور خاص کر بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں اس قانون کے تحت مسلم نوجوانوں کو پابند سلاسل کردیا گیا۔(جیساکہ اس سے پہلے میں نے بتایاتھاکہ شاہداعظمی کو بھی اسی قانون کے تحت انتہائی کم عمری میں ملزم بنایا گیاتھا)یہ قانون اتنا سخت تھا اور پولیس کو اس قدر استبدادی اختیارات دئے گئے تھے کہ گرفتاری کے بعد ملزم کو عام تعزیری قانون کی طرح24گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا لازمی نہیں تھا۔ ایک سال تک بغیر کوئی چارج لگائے صرف الزام یا شک کی بنیاد پر کسی کو بھی قید رکھا جا سکتا تھا ۔ پولیس اسٹیشن میں دئے گئے بیان کو(جو کہ پولیس کی طرف سے جبراً لیے جاتے تھے) عدالت میں ملزم کے خلاف ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔اس قانون کے تحت عام عدالت کے بجائے خصوصی عدالتوں designated courts میں مقدمات کی سماعت کی جاتی تھی۔گواہوں کی شناخت کو خفیہ رکھنے اور بند کمروں in cameraکیس کی سماعت کرنے کے بھی اختیارات دئے گئے تھے۔ پولیس افسران کو ملزم کی جائداد ضبط(attach) کرنے کا بھی اختیار حاصل تھا۔

ٹاڈا کا غلط استعمال اور اختتام: اس قانون کے بے جا استعمال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جون1994تک ٹاڈا کے تحت گرفتار شدگان کی تعداد 76ہزارملزمین سے تجاوزکرگئی تھی۔ ان میں سے 25فیصد معاملات میں پولیس نے ایک مدت تک قید رکھنے کے بعد ملزمین کو بغیر کسی مقدمے کے یونہی رہا کردیا کیونکہ اس کے پاس ملزم کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا ۔صرف35فیصد معاملات کو عدالتوں میں پیش کیا گیا جس میں سے 95فیصد مقدمات میں ملزمین باعزت بری کردئے گئے۔ اس طرح جرم ثابت ہونے کے معاملات 2فیصد سے بھی کم تھے۔ پھر حقوق انسانی کی پامالی اور عدالتوں میں کیس ثابت نہ کرپانے کے بڑھتے ہوئے اعدادوشمار کے پس منظر میں جب ہر طرف سے واویلا مچا تو1995میں اس قانون کومنسوخ (repeal)کردیا گیا۔

ڈریکیولائی قانون’ پوٹا‘: ’ٹاڈا ‘کو ختم کرنے کے بعدمرکزی حکومت کی طرف سے دوسرا دہشت گردی مخالف قانون جو سال 2001میں پاس کیا گیا وہ ’پوٹو‘Prevention of Terrorism Ordinance تھا جسے بعدمیں سال2002ء میں’ پوٹا‘Prevention of Terrorism Act, 2002 کی شکل میں پارلیمان میں منظور کیا گیاتھا۔اس قانون کو لاگو کرنے کے پیچھے بڑا محرک 13دسمبر2001کوپارلیمنٹ پر کیا گیا دہشت گردانہ حملہ تھا۔اس قانون کے تحت بھی تحقیقاتی ایجنسیوں اور پولیس کو ٹاڈا کی طرح بہت زیادہ اختیارات دئے گئے تھے جس کا سہارالے کر جبر واستبداداوراستحصال کا بازار گرم کیا گیا ۔ ٹاڈا کے برخلاف پوٹا کے تحت کسی ملزم کو 6مہینے تک چارج شیٹ داخل کیے بغیر حراست میں رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ٹاڈا کے مقابلے میں پوٹا کے تحت حقوق انسانی کی پامالی کے واقعات بہت زیادہ ہوگئے۔سیاسی بدلہ چکانے کے لئے بھی اس قانون کے استعمال ہونے کی مثالیں سامنے آئیں۔
پوٹا کے ضمن میں ملزم کے لئے بس ایک گنجائش یہ تھی کہ خصوصی عدالت میں اس کی ضمانت منظور نہ ہونے یا اس کے خلاف فیصلہ آنے پر وہ ہائی کورٹ کی ڈیویژن بینچ کے سامنے اپیل کرسکتاتھا۔اور اسی کا سہارا لے کر شاہد اعظمی جیسے وکیلوں نے اپنے مؤکلوں کے حق میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے تھے ، اور اس کے مثبت نتائج سامنے آنے شروع ہوگئے جو یقیناًتحقیقاتی ایجنسی، پولیس اور حکومت کے لئے ہزیمت کا سبب بننے لگے۔ بالآخر مرکزی حکومت کو اپنے قدم پیچھے ہٹانے پڑے اور یو پی اے سرکارکی کابینہ نے 7اکتوبر 2004کو اس بدنام زمانہ قانون کوکالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیااور پارلیمنٹ میں اسے منظور کروالیا۔ حالانکہ این ڈی اے والوں نے اسے دوبارہ نافذ کرنے پر اصرار کیا تھا، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

ریاستی استبدادی قوانین: منظم جرائم کی روک تھام کے ساتھ دہشت گردی کے معاملات سے نمٹنے کے لئے ریاستی حکومتوں نے جوسخت اور خطرناک قوانین وضع کیے ہیں اس میں سب سے زیادہ سرخیوں میں رہنے والا قانون مہاراشٹراکا ’مکوکا‘Maharashtra Control of Organised Crime Act, 1999 (MCOCA)ہے جس کی تشریح میں یہ کہا گیا ہے کہ موجودہ قانونی ڈھانچہ(framework) اور تعزیرات ہند کے تحت جو قوانین ہیں وہ اس قسم کی سرگرمیوں کا سدباب کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔پوٹا کے بعد مہاراشٹرا میں بے قصور مسلم نوجوانوں کے خلاف اس قانون کا بھی بے دریغ استعمال ہوا
ہے۔اس قانون کے تحت کسی ملزم کو 6مہینے تک پیشگی ضمانت نہیں مل سکتی ہے۔سینئر پولیس افیسر کے سامنے ملزم کی طرف سے کیا گیا(اکثر معاملات میں’کروایا‘ گیا ) اقبال جرم خود اس کے خلاف اور دیگر ملزمین کے خلاف بطور ثبوت عدالت میں قابل قبول ہو گا۔سال 2002میں مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ کی طرف سے اس قانون کا دائرہ مرکزی علاقے Nationa Capital Territoryدہلی تک وسیع کردیاگیاتھا۔ اسی طرز پرکرناٹکا میں بھیKarnataka
Control of Organised Crime Act (KCOCA)قانون سن2000 سے رائج ہے اور اس میں پچھلی ترمیم 2009میں کی گئی ہے۔اس قانون میں بھی دہشت گردی کے مشتبہ ملزم Terror Suspectکو بغیر فردِجرم داخل کیے ایک سال تک حراست میں رکھنے، عدالت کے ذریعے ملزم کی جائداد ضبط کرنے، 10لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے اور عمر قید یا سزائے موت تک دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔گجرات میں جو اس انداز کا ریاستی قانون ہے وہ GCOCAکہلاتاہے جبکہ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ نے اتر پردیش میں بھی ایسے ہی ایک قانون (UPCOCA)کودسمبر 2017میں منظوری دی ہے ۔

غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون: مرکزی سطح پر’ٹاڈا ‘اور’ پوٹا ‘کو ختم کردینے کے بعد خلاف قانون سرگرمیوں سے نپٹنے کے لئے جو پرانا قانون رائج ہے وہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون Unlawful Activities (Prevention) Actہے ،یہ قانون 1963میں دستور ہند کی سولھویں ترمیم (Amendment)کے ذریعے رائج کیا گیا تھا اور اب تک اس میں 6مرتبہ ترمیمات کی گئی ہیں۔ سال 2004میں ’پوٹا‘ کو کالعدم قرار دینے کے بعدUnlawful Activities (Prevention) Actمیں ترمیم کرتے ہوئے پوٹا کی کئی دفعات اس قانون میں ضم کرلی گئی ہیں۔اس کے بعد 2008میں بھی ترمیم کی گئی۔ اس قانون میں پچھلی آخری ترمیم 2012میں کی گئی تھی۔ان ترمیمات کے تعلق سے حکومت کا کہنا ہے کہ اس کامنشاء غیر قانونی سرگرمیوں پر لگام لگانے کے لئے قانون کے شکنجے کو مضبوط کرنا ہے۔اب اسی قانون کے تحت مرکزی سطح پر دہشت گردی کے معاملات نپٹانے اور دہشت گردی میں ملوث اداروں اور تنظیموں پر پابندیاں لگانے کا کام کیا جاتا ہے۔جبکہ بے قصور ملزموں کے لئے پیروی کرنے والے اور حقوق انسانی کی لڑائی لڑنے کا موقف یہ ہے کہ: ؂

ستم پر شرطِ خاموشی بھی اس نے ناگہاں رکھ دی

کہ اک تلوار اپنے اور میرے درمیاں رکھ دی

(….حصول انصاف کی جد وجہد میں سرگرم وکلاء اور ادارے…….ہندوستان میں ممنوعہ تنظیمیں…..اگلی قسط ملاحظہ کریں)

 

(نوٹ: اس مضمون میں درج تمام مواد مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے۔ اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

x

Check Also

نوٹ بندی سے ہر سطح پر نقصان۔۔۔۔از:حسام صدیقی

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ بغیر سوچے سمجھے ایک تغلقی فیصلے ...