بنیادی صفحہ / مضامین / اب یہ ہانڈی بھی منکال کے سر پر نہ پھوڑیں تو پھرکیاکریں؟!۔۔۔ از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

اب یہ ہانڈی بھی منکال کے سر پر نہ پھوڑیں تو پھرکیاکریں؟!۔۔۔ از:ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. 

آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ جاگتے ذہن اور کھلی آنکھوں سے جائزہ لینے والے ظاہر کررہے تھے کہ اس مرتبہ اسمبلی الیکشن میں ہمارے مرکزی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کی قیادت کو بھاری چیلنج کا سامنا ہے اور پورے اسمبلی حلقے کی مسلم جماعتوں کو متحد رکھتے ہوئے ملّی مفاد کو سامنے رکھ کر کوئی اجتماعی فیصلہ کرنا اور پھر اس کو نافذکروانا آسان بات نہیں ہوگی۔ اس کے لئے جماعتی سطح پر باہمی رابطے اور مشوروں کا سلسلہ جلد سے جلد شروع کرنا چاہیے ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ فیصلہ کن ادارے کی باگ ڈور سنبھالنے والوں میں ہی اپنے لئے سیٹ حاصل کرنے کے لئے جد وجہدجنگی پیمانے پر چل پڑی تھی اور اپنے لئے ماحول سازگار کرنے کی دھن میں وہ ایسے مست تھے کہ شاید اسمبلی حلقے کی دیگر جماعتوں سے ربط وضبط اس پیمانے او راس نہج پر نہیں ہوسکا جس کا تقاضا موجودہ حالات کررہے تھے۔ او ر اب ہمارے متحدہ پلیٹ فارم کو ایک بڑااورپہلا دھچکا مرڈیشور کی مرکزی اجتماعیت سے ملا کہ انہوں نے تنظیم کے ٹیبل سے کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی اپنے طور پر موجودہ ایم ایل اے منکال وئیدیا کے ساتھ ملاقات اور معاملہ فہمی کرتے ہوئے اگلے انتخاب میں اس کے لئے راہ ہموار ہونے کا اشارہ دے دیا۔یعنی میرا یہ شعر حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے: ؂

اندر پانی پت کی جنگ
باہر سے ہے ویسے گھر!

ہم نے تو پہلے ہی کہا تھاکہ یہ غلط ہے!: میں نے دو تین مہینے قبل ہی اپنے سابقہ مضمون’’ بھٹکل میں سیاسی گرگٹ کے بدلتے رنگ۔۔جاری ہے اندرونی جنگ!‘‘کی دوسری قسط میں اس طرف اشارہ کیا تھا۔ شخصی طور پرتنظیم میں سیاسی معاملات کا ادراک رکھنے والے کچھ ذمہ داران سے گفتگو کے دوران بھی اس طرف اشارہ کیا تھا کہ صورتحال وہ نہیں ہے جو بعض’ سیاسی لیڈران‘ یا’ دانشور‘ دکھا رہے ہیں۔یہ جوہر طرف ایم ایل اے کے خلاف ماحول ہونے کا ہوّا کھڑا کیاجارہا ہے وہ سب مبالغہ ہے اور کچھ شخصیات کی طرف سے خود اپنے لئے یا اپنے پسندیدہ امیدوار کے لئے راہ ہموار کرنے کی خاطر عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔بطور یاددہانی اس مضمون کا اقتباس پیش ہے:
’’جب جنتا دل سے ہم نے اپنا امیدوار میدان میں اتارا تھاتو وہ اس کا حریف ہی ٹھہرا۔اور وہی حریف جب متحدہ سیاسی موقف اختیار کرنے والے مرکزی ادارے کے دائرے میں خودایک مرکزی کردار ہواور وہ اپنی پارٹی کے تئیں فطری وفاداری دکھارہا ہو، جبکہ اسی مرکزی ادارے کادوسرا کلیدی عہدیدار اسی سیاسی پارٹی کے ساتھ نہ صرف وابستہ ہوجس سے کہ ایم ایل اے کو ٹکٹ ملنے والی ہو، بلکہ اپنے ذاتی سیاسی عزائم رکھتا ہواور الیکشن میں ایم ایل اے کا پتہ کٹواکر خود اپنے لئے ٹکٹ حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوتو، کوئی بھی ہوشمند انسان ایم ایل اے سے کس بنیاد پر ہمارے ساتھ یا ہمارے ادارے کے ساتھ مخلصانہ لگاؤ اور وفاداری کی توقع کرسکتا ہے؟جبکہ اس نے سابقہ الیکشن ہماری حمایت کے بغیر ہی جیتا ہو!

تمام گاؤں ترے بھولپن پہ ہنستا ہے
دھوئیں کے ابر سے برسات مانگنے والے

صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ ایک شخص کو ہم سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کی مہم بھی چلارہے ہیں اور یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ اپنی دفاعی چالیں بھی نہیں چلے گا، ہمیں نقصان بھی نہیں پہنچائے گا ، بلکہ ہماری خیرخواہی اور جی حضوری کرے گا! گستاخی معاف،یہ تو تجاہل عارفانہ کی حد دہوگئی !‘‘

کیا ہم خوش فہمی یا خود فریبی کا شکار ہوگئے؟: جب سیاسی منظر نامہ اس طرح واضح او ر صاف تھا اورعوامی رجحان ہماری مرکزی قیادت کے سوچ کے برخلاف دکھائی دے رہا تھا تب بھی پتہ نہیں ہماری قیادت کس خوش فہمی یا خود فریبی کا شکار ہوگئی اورنہ جانے ان کی طرف سے کیا اسٹریٹیجی اپنائی جارہی تھی کہ پورے اسمبلی حلقے سے متحدہ آواز اٹھانے کے بجائے صرف تنظیم سے’ پھر ایک بار مسلم امیدوار‘کا پرچم لہرایا جارہا تھا۔جبکہ سچائی یہ ہے کہ ہر مقام پر کسی پارٹی سے وابستہ چند لیڈروں کے بھروسے پر پورے شہر یا بستی کو بس یوں ہی بھیڑ بکریوں کی طرح لینے کے زمانے کب کے لَد گئے۔اب تومحلہ وارجماعت کی کمیٹیوں، اسپورٹس کلبوں، یوتھ ونگس اور ویلفیئر ایسوسی ایشنز کے ذریعے سیاسی کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ گرام پنچایت سے لیڈر شپ ابھرتی ہے اور میونسپالٹی سے ہوتی ہوئی ضلع پنچایت رسائی حاصل کرتی ہے۔ پھر بورڈز اور کارپوریشنز سے ہوتے ہوئے اسمبلی اور پارلیمان کے ایوانوں تک پہنچتی ہے۔

ہمارے اتحادمیں شگاف اور ایم ایل اے کاکردار: مسلم امیدوار کو میدان میں اتارنے کے لئے جو لوگ جی جان سے مہم چلارہے تھے ان کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ موجودہ ایم ایل اے منکال وئیدیا نے ہمارے اتحاد میں شگاف ڈالنے کی مہم چلارکھی ہے۔ وہ اسمبلی حلقے کی بعض بستیوں میں مسلمانوں کو ہمارے مرکزی ادارے کے شکنجے سے نکلنے اور خود اپنے علاقے میں اپنے طور پر فیصلہ لینے پر اکسارہا ہے۔اس زاویے سے بھی میں نے اسی سابقہ مضمون میں اپنی بات یوں رکھی تھی:’’گزشتہ چند مہینوں سے موجودہ ایم ایل اے کے خلاف زوردارمنفی پروپگنڈہ شروع کیاگیا ہے اور اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ وہ تنظیم اور مسلمانوں کے اتحاد کو انتشار میں بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں ہونے والے بعض واقعات اور سیاسی اقدامات کے پس منظرمیں جائزہ لیں تویقیناًاس الزام میں کچھ وزن ضرور نظر آتا ہے۔ مگر……….. اس کے لئے کیا تنہا ایم ایل اے ہی ذمہ دار ہے، یا پھر ایم ایل اے کے ساتھ ہمار ے مرکزی ادرے کے ذمہ داران کےrapport کی کمی اور ہمارے اپروچ نے بھی اس میں کوئی کردار ادا کیا ہے ؟ اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے ، جوکہ صحیح معنوں میں نہیں ہورہا ہے۔ایک بات تو طے ہے کہ مرکزی ادارے کے کلیدی عہدوں پر فائز ذمہ داران کی اپنی سیاسی صف بندی alignmentاور سیاسی عزائم ambitionsجدا جدا ہونے کی وجہ سے یہاں موجودہ ایم ایل اے کے ساتھ مفادات کا تضادconflict of interest ہونابالکل ایک فطری عمل ہے۔اور اس کو چاہے کتنا ہی چھپانے کی کوشش کی جائے مگر دیکھنے والی آنکھوں اور جاگتے ہوئے ذہنوں پر یہ پہلو بالکل عیاں ہے۔‘‘
لہٰذا قیادت کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کو سوچنا چاہیے تھا اور ان سرگوشیوں کو سننا چاہیے تھا جو ان کے اطراف ہورہی تھیں:

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے
اس میری تباہی میں ترا نام نہ آئے

اب یہ ہانڈی بھی ایم ایل اے کے سرپر پھوڑو: مرڈیشور کے مسلمانوں کا اجتماعی رجحان سامنے آنے پر عین توقع کے مطابق اب ہمارے حلقۂ قیادت میں پوری طاقت کے ساتھ یہ ہانڈی بھی ایم ایل اے کے سر پر پھوڑی جارہی ہے اور بتایا جارہا ہے کہ ایم ایل اے کی جن حرکتوں کا اشارہ کیا جارہا تھا اس کی عملی شکل سامنے آگئی ہے اور اب عوام کو سوچنا چاہیے کہ منکال وئیدیا ہمارے لئے کس قدر خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔لیکن میراموقف یہ ہے کہ یہ خود احتسابی سے بچنے اور جوابدہی سے خود کو بچانے کا سب سے آسان نسخہ ہے۔ سیدھی سادی عوام جو ہوگی وہ اس پر پوری طرح یقین کرلے گی اور قیادت کی کوتاہیوں سے صَرفِ نظر کرجائے گی۔ اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ ایم ایل اے نے منصوبہ بند طریقے سے ہمارے اتحاد کو توڑا ہے تو اس تعلق سے بھی میں نے سابقہ مضمون میں اپنی جو بات رکھی تھی کیا اس سے انکار کیا جاسکتاہے؟:’’جب مفادات کے تضادات روز روشن کی طرح موجود ہوں تو پھر ایم ایل اے کا ردعمل (چاہے اس مقام پر کوئی بھی ہو) یہی ہوگا۔ وہ اپنے سیاسی کیریئرکی قبر پر کسی اور کوتاج محل تعمیر کرنے کی اجازت تو نہیں دے گا۔( اور اگر کوئی اس قسم کی امید رکھتا ہے تو پھر اس کی بے وقوفی پر سر پیٹنے کے سوا کیا کیاجاسکتا ہے؟)ہمیں یہ حقائق نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ ایم ایل اے نے گزشتہ الیکشن سے بہت پہلے ایک عرصے تک فیلڈ ورک کیا تھا اور وہ عوامی زندگی میں کسی نہ کسی حوالے سے اپنی موجودگی ثابت کرچکا تھا۔سابقہ الیکشن کے موسم میں ایک مرحلے پرجنتا دل سے اس کی امیدواری کے امکانات بھی معتبر ذرائع سے سامنے آرہے تھے۔ مگر ہم نے مسلم نمائندگی کا اپنا کارڈ کھیلاتو ایک طرف کانگریس سے پنگا لیا تو دوسری طرف منکال کے لئے جنتا دل کے راستے بند کردئے۔ اس کے بعد بھی اس نے آزاد امیدوار کے طور پر سیاسی شطرنج کی چالیں جو چلیں تو سب کو دھول چٹاکر ہی دم لیا۔اور تازہ الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے کے لئے وہ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی ہر جائز اور ناجائز حرکت کرے گاہی۔ آج کے دور میں اسی کا نام تو سیاست ہے! ‘‘

 

سیاسی شعور اور بیدار مغزی کا ثبوت: ایسا نہیں ہے کہ مرڈیشور والوں کوایم ایل سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ بلکہ ہم سے کچھ زیادہ ہی تھی کہ ان کے یہاں ترقی کے نام پر ایم ایل اے نے گزشتہ تین چار برسوں میں کوئی کام کیا ہی نہیں تھا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ مرڈیشور کی اجتماعیت نے زیادہ بیدار مغزی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے علاقے میں چل رہی سیاسی ہوا کے رخ کو صحیح طور پر پہچان لیا۔ وقت کی دیوار پر لکھی ہوئی تحریر کو بروقت پڑھنے اور سمجھنے میں وہ کامیاب رہے ۔ اور بالکل صحیح موقع پر اپنے طور پر ایک قد م آگے بڑھتے ہوئے ایم ایل اے کے ساتھ معاملہ فہمی کا رویہ اپنایا اور سیاسی زاویے سے لگام اپنے ہاتھ میں لینے میں وہ لوگ کامیاب ہوگئے۔اب چاہے انتخابات کے نتائج جو بھی نکلیں، لیکن مرڈیشور والوں نے ایک زاویے سے اپنے آپ کو محفوظ کرلیا۔یہی وہ پہل تھی جو تنظیم کے ٹیبل سے کرنے میں ہماری قیادت ناکام رہی یا جان بوجھ کرکرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہاں مجھے لگتا ہے کہ سیاسی مفادات کا ٹکراؤ سب سے بڑا عنصرتھاجو سد راہ بن کر سامنے آیا۔ایک سچائی یہ بھی ہے کہ گرام پنچایت اور ضلع پنچایت سطح کے انتخابات کوبھی ہینڈل کرنے کا تجربہ نہ رکھنے والے یا اپنے تجربوں میں ناکام رہنے والے تجزیہ نگاربن کر اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کو چٹکیوں میں جیتنے کے بلند بانگ دعوے کرنے لگیں اورسیاسی شعور رکھنے والے قائدین حقیقت اور فسانے میں فرق نہ کرنے پر تُل جائیں تو پھرایسا المیہ ہونا فطری بات ہے، جس سے سیاسی ہی نہیں بلکہ سماجی مفادات پر بھی دور رس اثرات ہونا یقینی ہے۔پھر اس کے بعد ہمارے پاس کہنے کے لئے یہی رہ جاتاہے کہ: ؂

وہ وقت کا جہاز تھا ، کرتا لحاظ کیا

میں دوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا

مرڈیشور کے ذمہ دار کیا کہتے ہیں؟: ہمارے متحدہ موقف میں شگاف کا یہ جو موڑ آیا ہے ، یہ بڑے دکھ کا مرحلہ ہے، کیونکہ اس سے ہمارے اتحاد پر جلنے والوں کے کلیجوں کو ٹھنڈک ملنے کا سامان ہوگیا۔ آج مرڈیشور تو کل کسی اور بستی سے بھی یہ پیغام اور خبرکسی بھی وقت عام ہوسکتی ہے۔ میں نے اس نئے موڑ کے پس منظر میں مرڈیشور سے ہمارے قریبی تعلقات والی ایک معتبرشخصیت اور باہمی اتحاد کے ایک ستون سمجھے جانے مولانا محمد حسین گیما جامعی سے براہ راست گفتگوکی توان کی باتوں سے بھی میں نے یہ اندازہ لگایا کہ تنظیم کی طرف سے الیکشن کو جس رخ پر لے جانے کی باتیں مختلف مرحلو ں پر سامنے آرہی تھیں وہ حقیقت کے برخلاف تھیں۔ موجووہ ایم ایل اے کی پوزیشن اسمبلی حلقے کے دیگر مقامات پر کافی مضبوط تھی۔ مولانا نے بتایا کہ : ’’ہم نے گزشتہ الیکشن میں تنظیم کے موقف کا ساتھ دیتے ہوئے منکال سے جو دوری اپنائی تھی وہ اب تک چلی آرہی تھی۔ اس نے ہمارے یہاں کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں کیا تھا۔ لیکن ہمارے یہاں عوام کے ایک بڑے طبقے میں اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ چونکہ وہ ایم ایل اے ہے اور اطراف کے علاقے میں بہت زیادہ ترقیاتی کام انجام دیتے ہوئے اپنی ساکھ بناچکا ہے اس لئے اس کے ساتھ ہماری ایک نشست بہت ضروری ہے۔ لہٰذا ہم نے اس کے ساتھ براہ راست بات چیت کا انتظام کیا۔ اس نے ہمارے شہر کے اندر خود ہماری طرف سے اپنے بل بوتے پر جن علاقوں میں پانی کی فراہمی اور کچرے کی نکاسی وغیرہ کے جوکام انجام دئے جارہے ہیں، ان علاقوں کو چھوڑ کر باقی ماندہ غریب اور پسماندہ علاقوں میں فوری طور پر ترقیاتی کام انجام دینے کا وعدہ کیا اوراس صورت میں ہم نے بھی آئندہ الیکشن میں اس کا ساتھ دینے کی بات کہہ دی۔‘‘

منکال وئیدیا کو ہچکچاہٹ تھی: یہاں اس بات کا ذکر بہت ضروری ہے کہ میں نے مولانا سے صاف لفظوں میں پوچھا کہ منکال وئیدیا پر ہمار ے اتحاد میں شگاف ڈالنے کی سازشیں رچنے کا الزام ہے ۔کہیں ایساتو نہیں ہے کہ مرڈیشور کے مسلمانوں کوبھٹکل تنظیم کے متحدہ موقف سے الگ کرنے میں بھی منکال کامیاب ہوا ہو۔ اس کے جواب میں مولانا نے کہا کہ منکال سے رابطہ اور ملاقات کرکے کسی نتیجے پر پہنچنے کا منصوبہ ہم نے سوچ سمجھ کر اورمقامی اجتماعیت کے تحت اتفاق رائے سے بنایا تھا۔ اور جب ہم نے اسے اپنے یہاں بلانے اور گفتگوکرنے کی خواہش ظاہر کی تو خود منکال نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ کہیں بھٹکل تنظیم والے اس سے ناراض نہ ہوجائیں اور اس کا الزام میرے سر نہ آجائے۔مولانا نے واضح انداز میں کہا کہ یہ منکال وئیدیا کی کوشش نہیں تھی بلکہ’’ بالکل خود ہماری طرف سے ہمارے سیاسی و سماجی مفاد میں کیا گیا اجتماعی اقدام ہے۔ ‘‘

منکال کو ناخدا برادری کی بھی تائید: اس موضوع پربیرون ملک مقیم مرڈیشور ہی کی ایک او رمعتبر شخصیت سے گفتگو کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسمبلی حلقے میں مسلمانوں کی ناخدابرادری کی حمایت بھی منکال وئیدیا کو حاصل ہے۔ بلکہ پہلے ہی سے وہ لوگ اجتماعی طور پر منکال کے حامی رہے ہیں ، کیونکہ گزشتہ الیکشن میں اترنے سے بہت پہلے سے اس برادری کے ساتھ منکال کے خوشگوار تعلقات رہے ہیں۔ اور اس نے ان کے مسائل حل کرنے میں پوری دلچسپی پہلے بھی لی تھی اور اب بھی لے رہا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اگر ایک ایم ایل اے مسائل حل کرنے میں تعاون کرتا ہے اور کسی برادری یا طبقے کی پشت پناہی کرتا ہے تو پھر میرے یا آپ کے کہنے پراس طبقے سے کوئی اس کی مخالفت کیوں کرے گا!مولانا محمد حسین گیما صاحب نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ منکال وئیدیا ناخدا برادری میں مقبول سیاسی لیڈر ہے اور ان کی حمایت اسی کو حاصل ہوناقدرتی بات ہے۔

اسمبلی حلقے میں مسلم امیدوار کی مخالفت: مولانا موصوف کے ساتھ گفتگو سے یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ اسمبلی حلقے میں مجموعی طور پر ووٹروں کا رجحان زیادہ تر کانگریس کی طرف ہے اور مسلم امیدوار کو میدان میں اتارنے کے خلاف ماحول ہے۔یہ بات تنظیم کے اربابِ حل و عقد پر حالیہ اجلاس کے دوران دیگر علاقوں کے نمائندوں کی جانب سے جتا دی گئی ہے۔اور واضح کردیا گیا ہے کہ اس بارمسلم طبقے میں عام جھکاؤ کانگریس پارٹی کی طرف ہے چاہے وہ موجودہ ایم ایل اے ہو یا کوئی اور امیدوار بنے ،لیکن’ ووٹ فور کانگریس‘ کا معاملہ ہے۔اس کے علاوہ مولانا سے گفتگو کے دوران ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ہمارے اسمبلی حلقے کی جماعتوں اور اداروں کے ذمہ داران کے اندر اس بات کو شدت سے محسوس کیاجارہا ہے کہ تنظیم کو اپنی مرکزیت بنائے رکھنے کے لئے ہر مرتبہ بھٹکل ہی میں مشترکہ جلسے منعقد کرنے اور بھٹکل ہی سے فیصلے صادر کرنے کے بجائے حلقے کے دوسرے مقامات(جیسے مرڈیشور، منکی، روشن محلہ، اوپنی، سمسی، ولکی وغیرہ) پر بھی مشاورتی اجلاس منعقد کرکے تنظیم کو وہاں تک پہنچنا چاہیے۔یعنی مطلب صاف ہے کہ اب ہمیں سب کو متحد رکھنا ہوتو مرکزیت Centarlization کے بجائے وفاقیت Federalization کی روش اپنانی ہوگی۔اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ہم کیوں تنظیم کے تحت فیصلے کریں؟: موجودہ سیاسی پس منظر میں جائزہ لیتے ہوئے اسمبلی حلقے کی دیگر جماعتوں اور اداروں میں ابھرنے والی ایک چونکانے والی سوچ بھی ہمارے سامنے آئی۔ جس پر اگر ہماری قیادت نے توجہ نہیں دی تو پھر ہماری ناکامی کی چاہے کتنی ہی ہانڈیاں غیروں اور دشمنوں کے سر پر پھوڑتے رہیں، لیکن ہم اپنی جوابدہی سے کسی بھی صورت میں نہ دامن بچاسکیں گے اور نہ اپنی کوتاہ بینی اور خوش فہمی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرسکیں گے۔ میں جس خطرے کی گھنٹی طرف اشارہ کررہاہوں وہ یہ ہے کہ آج سے دو تین مہینے پہلے ہی ہمارے اسمبلی حلقے کی ایک معتبر اور مستحکم جماعت کے ایک کلیدی عہدیدار نے غیر رسمی گفتگو کے دوران بالکل واجبی سا ایک سوال پوچھا تھا کہ:’’ ہر پانچ سال میں ایک مرتبہ صرف الیکشن کے موضوع پر فیصلے کے لئے ہم کیوں بھٹکل تنظیم میں جائیں؟جبکہ ہمارے شہر کے اہم ترین یا سنگین مسائل حل کرنے کے سلسلے میں تنظیم کے ذمہ داران کبھی دلچسپی نہیں لیا کرتے۔ آخرتھک ہار کر جب ہم نے اپنے بوتے پرایم ایل اے کے تعاون سے مسائل حل کرلیے ہیں اور آئندہ مسائل حل کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں تو پھرہمیں تنظیم کی حمایت یا مخالفت کے جھمیلے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے!‘‘

میرا اپنا احساس یہ ہے کہ آج کے زمانے میں مذکورہ بالا سوچ یا رجحان صرف کسی ایک جماعت یا ادرے تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر جماعتوں کے اندر بھی یہی احساس پنپ رہا ہوگا۔ کیا ہماری تنظیم کی قیادت اور اسمبلی حلقے میں گھومنے پھرنے اور باہمی روابط رکھنے والے ہمارے سماجی و سیاسی قائدین اور خادمین قوم کے کانوں تک یہ سرگوشیاں نہیں پہنچی ہونگی اور کیا وہ سب اس سے اب تک بے خبر رہے ہونگے ؟!۔۔۔یقین نہیں آتاکہ صورتحال یہی ہوگی!

خبر تحیر عشق سن ، نہ جنوں رہا نہ پری رہی

نہ تو تُو رہا نہ تو مَیں رہا ، جو رہی سو بے خبری رہی

 

[email protected]

 

(نوٹ: اس مضمون میں درج تمام مواد مصنف کی ذاتی رائے اور ان کے اپنے خیالات پر مشتمل ہے۔ اس سے ادارہ کا متفق ہونا یا نہ ہوںا ضروری نہیں۔)

 

x

Check Also

جانشین حضرت حکیم الاسلام جنہوں نے ستر سال تک علوم نبوت کی مسند سجائی ۔01،

جانشین حکیم الاسلام جنہوں نے ستر سال علوم نبوت کی مسند سجائی۔  ...