بنیادی صفحہ / مضامین / کرناٹکا میں سیاسی ناٹک کابدلتا منظر نامہ اور خطرے کی گھنٹیاں !۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

کرناٹکا میں سیاسی ناٹک کابدلتا منظر نامہ اور خطرے کی گھنٹیاں !۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ 

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے……….. 

کرناٹکا اسمبلی الیکشن کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں سیاسی اونٹ بھی اپنی کروٹیں بدلنے لگے ہیں۔سیاسی ناٹک کا اسٹیج پوری طرح سج چکا ہے اور تشدد، سنسنی ، ہنگامہ آرائی، الزامات وبہتان تراشی اور ہیجانی مناظر پر مشتمل ڈرامے کا اوپننگ سین شروع ہو گیا ہے۔ناگپور کی ڈورسے بندھی کٹھ پتلیاں اپنے کرتب اور فنکاری کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں۔جبکہ تماشائی سارے کے سارے ابھی سے اس ناٹک کا ڈراپ سین دیکھنے کے لئے بے چین ہورہے ہیں۔جو یقیناًتذبذب اور بے یقینی (suspense) کے عناصرپر مشتمل ہے ۔لہٰذااس ڈرامے کے انجام کے تعلق سے تجزیہ ، بحث ومباحثہ اور اندازے لگانے کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا ہے۔

زعفرانی سیاست کی جڑیں: ملک میں چاروں طرف زعفرانی سیاست کے جھنڈے لہرانے کا منصوبہ جو فسطائیوں نے بنایا ہوا ہے اور اس راستے پر جس تیزی کے ساتھ وہ آگے بڑھ رہے ہیں ،یہ کوئی نئی اور اچانک سامنے آنے والی بات نہیں ہے۔ 1915میں اکھل بھارتیہ ہندو سبھا کے قیام سے شروع ہونے والے ہندوستانی سیاست میں ہندتوا کے رنگ کو مزید گہر اکرنے کے لئے 1925میں ناگپور میں راشٹریہ سویم سنگھ(RSS) کا جھنڈا لہرایا گیا۔ حالانکہ اس وقت تک ان ہندتوا وادی تنظیموں کے قیام کا مقصدغیر سیاسی بتاتے ہوئے اسے ہندو سماج اور ثقافت کی بقا اور حفاظت تک محدود رکھنے کی بات ہورہی تھی۔ مگر تجزیہ کار اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ آر ایس ایس کے بانی ہیڈگیوارنے یہ موقف صرف برٹش حکومت کے عتاب سے بچنے اور انگریز سرکار کا منظور نظربنے رہنے کے لئے اختیار کیا تھا۔ورنہ ہندومہاسبھا اور آر ایس ایس کا بنیادی مقصد ہندو راشٹر واد(ہندو قوم پرستی)تھا جس کے سہارے ہندوستانی سیاست پر قبضہ کرنے کے منصوبے وضع گئے تھے۔

بلّی تھیلے سے باہرآگئی: اورپھر جیسے ہی موقع ملا ان ہندو مہاسبھائی اور سنگھی فرقہ پرستوں نے بنگال کے سیاستدان شیاما پرساد مکھرجی کی قیادت میں 1951 ء خاکی چڈی کے اندربھارتیہ جن سنگھ(BJS) یا عرف عام میں جن سنگھ برانڈکی زعفرانی لنگوٹ باندھی اور سیاسی اکھاڑے میں اتر پڑے۔یعنی اب آر ایس ایس پردے کے پیچھے سے نکل کر باضابطہ طور پرجن سنگھ کے نام سے عملی سیاست میں داخل ہوگئی ۔اس کا نشان جلتا ہوا ” مٹی کادیا” (oil lamp)تھا۔بھارتیہ جن سنگھ کے قیام کا بنیادی ایجنڈاہی انڈین نیشنل کانگریس کے مقابلے میں متبادل سیاسی محاذ فراہم کرنا تھا۔ یعنی آج کل سنگھ پریوار کا یہ جو "کانگریس مُکت بھارت!”کانعرہ عام ہوگیا ہے، اس کا سکہّ تو 1951ء میں ہی ڈھالا گیا تھا۔کہاجاسکتا ہے کہ اب آر ایس ایس کا ناگپور ہیڈکوارٹر ہندتووادی سیاسی لیڈران تیارکرنے کی فیکٹری اور بی جے ایس ہندو راشٹر واد کے مقاصد پورا کرنے کاپلیٹ فارم بن گیا۔ بی جے ایس نے ہندوستانی سیاست میں پہلی بار1967میں اپنی حیثیت ثابت کردی تھی جب پارلیمنٹ میں کانگریس کی ہمیشہ سے چلی آرہی بہت بڑی اکثریت اعداد و شمار کی روشنی میں بہت ہی معمولی ہوکر رہ گئی تھی۔

ہندوستانی سیاست کی بدقسمتی: اس دوران ہندوستانی سیاست میں وہ موڑ آگیا جسے اس سیکیولر ملک کی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے۔یعنی انڈین نیشنل کانگریس کے اقتدارمیں اندراگاندھی نے 1975میں ملک میں ایمرجنسی لاگو کی توسنگھی زعفرانی سیاست کے لئے یہ بلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا والا معاملہ ہوگیا۔ ایمرجنسی جیسے آمرانہ دوراقتدار کو چیلنج کرنے اورملک میں جمہوری اقدار کو بحال رکھنے کی نیت سے سن 1977ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے مقابلے میں ہم خیال سیکیولر ،جن سنگھ جیسی دائیں بازو کی(Rightist) اور بائیں بازوکی (Leftist) کمیونسٹ پارٹیاں مہا گٹھ بندھن کرتے ہوئے ‘جنتاپارٹی’کے پرچم تلے یکجا ہوگئیں اور اندراگاندھی کو اقتدار سے ہٹاکر مرارجی دیسائی کو وزارت عظمیٰ کی مسندپربراجمان کروادیا۔اس وقت اگرچہ یہ ملک اور عوام کے لئے فال نیک سمجھا جا رہا تھا کیونکہ آزاد ہندوستان کی پہلی کانگریس مُکت مرکزی سرکاربنی تھی۔ لیکن درحقیقت یہیں سے ملکی سیاست کے برے دن شروع ہوگئے اورسنگھی سیاست کے فروغ کا گراف اوپر کی طرف اٹھنا شروع ہوگیا۔

فسطائی سیاست نے اپنے قدم جمائے: آزاد ہندوستان کی سیاسی بدقسمتی یہ بھی رہی ہے کہ یہاں ہمیشہ عوامی مفاد پر سیاسی لیڈروں کے دلوں میں کلبلانے والی اقتدارکی ہوس کوغلبہ حاصل رہا ہے۔ اور عوام کی حیثیت صرف ووٹنگ مشین کی سی ہوکر رہ گئی ہے۔لہٰذا سنگھی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بی جے ایس نے کانگریس کے خیمے میں نقب لگانے اوردھیرے دھیرے وہاں سے اقتدار کے بھوکے سیاسی لیڈروں کو اپنے خیمے میں لانے کا سلسلہ شروع کیا، جسے آج کے زمانے میں’ آپریشن کمل ‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔اس طرح راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، بہار اور اتر پردیش وغیرہ میں اس نے اپنے قدم مضبوطی سے جمالیے۔اور جنتا پارٹی کے جھنڈے تلے رہتے ہوئے اس نے 1977کے الیکشن میں 94سیٹیں حاصل کیں جبکہ اس کی شروعات 1951کے اولین عام انتخابا ت میں3سیٹوں سے ہوئی تھی۔

بی جے ایس بدل کر بی جے پی ہوگئی: 1980میں جنتا پارٹی ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئی اور سنگھی ہندتوا وادیوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی BJP بناڈالی۔ اسی کے ساتھ ادھر ناگپور کی فکیٹری میں آر ایس ایس کے سیاسی روبوٹ کی تیاری زور و شور سے جاری رہی اور پوری طرح سانچے میں ڈھلے ہوئے انتہائی تربیت یافتہ کٹر وادی ہندو سیاسی لیڈر ریاستی اسٹیج سے ہوتے ہوئے مرکزی اسٹیج تک پہنچنے لگے۔اور اب صورتحال یہ ہے کہ مرکز ی اقتدار کے ساتھ بی جے پی ملک کی 6ریاستوں پر تنہا اور 12ریاستوں میں این ڈی اے کی شریک کے طور پر اقتدار پر قابض ہے۔اس طرح 18ریاستوں میں سے 13ریاستوں میں وزیر اعلیٰ کی کرسی بھی بی جے پی کے قبضے میں ہے۔ملک کے صدر اور نائب صدر کا اعلیٰ ترین منصب بھی بی جے پی کے جھولی میں ہے۔ان حالات کے پس منظر میں اندازاہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے شمال، مشرق اورمغرب میں حالیہ انتخابات کے دوران چلائی گئی زعفرانی سیاسی آندھی اب جنوب میں کس طرح کی تباہی لاسکتی ہے۔
بی جے پی کو دور رکھنا ضروری ہے مگر۔۔۔!: ظاہر ہے کہ ابھی کچھ مہینوں میں کرناٹکا میں جو اسمبلی الیکشن منعقد ہونے والاہے اسے جیتنابی جے پی کے لئے گویا ناک کا سوال بن گیا ہے۔ جبکہ اسے ہارنا کانگریس کے لئے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔حالانکہ سدارامیا کی قیادت میں کانگریسی حکومت کی کارکردگی اس قابل ہے کہ اسے دوبارہ اقتدار پر لایا جاسکے۔اور بی جے پی کو صرف اس کی آئیڈیالوجی ہی کی وجہ سے نہیں بلکہ ماضی میںیہاں یڈی یورپا کی قیادت میں بنی حکومت کی بدعنوانیوں اور موجودہ دور میں یڈی یورپا،ایشورپا، جگدیش شٹراور دیگر ریاستی لیڈروں کی آپسی ریشہ دوانیوں سے بچنے کے لئے اقتدار سے دور رکھنا ضروری ہوگا۔ایک طرف کانگریس کے اندر اس کے اپنے کلچر کے مطابق الیکشن قریب آنے پر کرسی کی بھوک انتہا کوپہنچنے کی وجہ سے رسہ کشی کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ دوسری طرف بھگوا بریگیڈ کب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے والا ہے!ایسے میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا ضروری تو ہے مگر اس کے لیے جو پاپڑ کانگریس کو بیلنے پڑیں گے اس کا صحیح اندازہ لگانے میں کانگریس کامیاب ہوگی یا نہیں سارا دارومدار اسی ایک بات پر ہے۔

امیت شاہ کا دورہ اور ڈرامے بازیوں کا آغاز: لہٰذا ریاست کی سیاسی صورتحال کا سرسری جائزہ لیں، تو پچھلے دنوں بی جے پی کی انتخانی پلاننگ کے ماسٹر مائنڈ یا پھر ماڈرن زمانے کی ہندتوا سیاست کے ‘چانکیہ”(وہ مفکر اور شاہی سیاسی مشیر جس نے چندرگپت موریہ کو سیاسی عروج دلانے میں بنیادی کردار اداکیا تھا) کہلانے والے بی جے پی کے صدرامیت شاہ کے دورے کے بعد یہاں دو بڑی اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ایک تو بی جے پی کے خیمے میں کانگریس مخالف ہلچل اور ہنگامے تیز ہوگئے ہیں۔ اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے کہ مودی سرکارکے چانکیہ امیت شاہ نے ریاستی بی جے پی لیڈروں کو لتاڑ سنائی تھی کہ وہ لوگ کانگریس حکومت کے خلاف ماحول کو گرمانے کی کوشش کیوں نہیں کررہے ہیں۔لہٰذا ڈرامے بازیاں شروع ہوگئیں۔ سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے بی جے پی کا نشانہ خاص طور پر ساحلی کرناٹکا ہے۔ جنوبی کینرامیں قتل و غارت گری اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کے لئے اس نے سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا اور پاپولر فرنٹ کو اپنی مخالفت کا ہدف بنالیا ہے۔ تیز و تند بیانات ، جلسے ، جلوس ، بند، ہڑتالیں ، دھرنے سب ایک ساتھ شروع ہوگئے ہیں۔
حکومت نے پہلا راؤنڈ توجیت لیا۔۔۔مگر!: امیت شاہ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی نے "منگلورو چلو بائک ریالی "کے نام سے حکومت مخالف انتخابی ڈرامے کا جوپہلا بڑا شو کیاتھا اسے فلاپ کرنے میں ریاستی حکومت پوری طرح کامیاب ہوگئی ہے۔اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ تازہ تازہ بچھائی گئی بساط پر شطرنج کی پہلی چال سدارامیا حکومت نے جیت لی ہے۔مگرسیکیولر ازم اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لئے اس میں بغلیں بجانے کا نہ کوئی سبب ہے اور نہ کانگریس کو مطمئن ہوکر بیٹھ جانے کا کوئی موقع ہے۔ کیونکہ بی جے پی کے پاس چانکیہ کے ارتھ شاستر کے مطابق چلنے کے لئے بہت ساری چالیں ہونگی اور اسے جیتنے کے لئے ہمیشہ کی طرح ہر محاذ پر تمام قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں گے۔جس میں بھگوابریگیڈ کا سب سے زیادہ آزمودہ اورپسندیدہ حربہ فرقہ وارانہ آگ کی ہولی کھیلنے کا ہو سکتا ہے۔
اننت کمار کو وزارت فسطائی عزائم کاسگنل!: بی جے پی صدر امیت شاہ کے دورے کے بعد کرناٹکا کی سیاست میں جودوسرا اہم اور چونکانے والا موڑ سامنے آیا ہے وہ اپنی اسلا م اورمسلم دشمنی کے لئے پہچانے جانے والے شمالی کینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کومودی سرکار کی طرف سے وزارتی قلمدان سے نوازناہے۔ جس کے بارے میں خود اننت کمار کا کہنا ہے کہ اس نوازش کا راز امیت شاہ اور مودی کو ہی معلوم ہے !
یہ ایک چونکانے والا اقدام اس لئے ہے کیونکہ کچھ دن پہلے تک ساحلی کرناٹکا سے جنوبی کینرا کے شوبھاکرندلاجے یا نلین کمار کٹیل جیسے کٹر وادی بی جے پی ارکان پارلیمان کو مرکزی وزارت میں شامل کیے جانے کے چرچے عام تھے۔مگر اچانک اننت کمار کو وزارت میں شامل کیے جانے سے کچھ اور طرح کے واضح سگنل مل رہے ہیں۔ جنہیں ڈی کوڈ کریں تو مبہم انداز میں ہی سہی آئندہ انتخابات کے بعد والی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔یعنی پچھلے کچھ مہینوں سے ساحلی سیاسی حلقوں میں ہلکی ہلکی سرگوشیاں جو سنائی دے رہی تھیں کہ اننت کمار ہیگڈے کو ریاستی سیاست میں اتارنے کے منصوبے بن رہے ہیں، اس مفروضے کوحقیقت میں بدلنے کے آثاراور امکانات نمایاں ہونے لگے ہیں۔
یو پی میں آدتیہ ناتھ۔ کرناٹکا میں اننت کمار؟!: سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاید بی جے پی کے’ چانکیہ’ نے کرناٹکا کے دورے کے وقت پارٹی کے اندرونی حالات کاجائزہ لینے اور بی جے پی کیمپ میں مچی ہوئی پرانے لیڈروں کی ریشہ دوانیاں ملاحظہ کرنے کے بعد مودی سرکار کو یہ پیغام دیا ہوگا کہ جس طرح یو پی میں مسلم مخالف اورکٹر وادی ہندتووادی آدتیہ ناتھ یوگی کو ریاستی حکومت کی باگ ڈور تھمادی گئی ہے ، بالکل اسی انداز میں کرناٹکا میں بھی بازی کھیلنے کے لئے اسی معیاراورخاصیتوں والے اننت کمار کو ترپ کا پتّا بنادیا جائے۔ اس سے ایک فائدہ تویہ ہوگاکہ بی جے پی کوریاستی سیاست کے لئے ایک نیانوجوان اور جوشیلا لیڈرمل جائے گا جو فسطائی ایجنڈے کو بے دھڑک لاگوکرنے کے اپنے منصب پر کاربند رہے گادوسری طرف جنوبی کینرا اور شمالی کینرا جیسے دونوں اضلاع میں بیک وقت پارٹی کے لئے اپنی پکڑ مزید مستحکم اورمضبوط کرنااوراپنے گیم پلان پر عمل کرنابھی آسان ہو جا ئے گا۔

کرناٹکا کی سیاست کے لئے خطرے کی گھنٹی: اوربدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کایہی موڑ(twist)یہاں کے امن پسند عوام کے لئے خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے۔ وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد بنگلورو میں بی جے پی کے ریاستی دفتر پہنچنے پر اننت کمارنے یہ کہا کہ انہیں ہندتووادی سمجھا جاتا ہے ، لیکن وہ ہند تو وادی نہیں ہے۔وہ ایک وطن پرست (nationalist) ہیں اوردیش کے لئے اور دیش کے جھنڈے کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیارہے۔حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ فسطائیت کی ڈکشنری میں وطن پرستی یا نیشنلزم کا مطلب کیا ہوتا ہے ۔پھر بھی لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ اننت کمار نے آخر یہ بات کس ترنگ میں کہی ہوگی کہ وہ ہندتووادی نہیں ہے۔ کیونکہ آج اننت کمار کی اگر کوئی شناخت ہے تو وہ صرف اور صرف کٹر وادی ہندتووادی لیڈر ہی کی ہے جس پر کئی مقدمات درج کیے جاچکے ہیں، 1993میں بھٹکل کے مسلم کش فسادات کے دوران ہندو جاگرن ویدیکے کے بینر تلے مسلمانوں کے خلاف ہندونوجوانوں کی قیادت کے ساتھ سیاسی افق پر ابھرنے والے اننت کمارنے فرقہ وارانہ رنگ اور تشدد سے ہٹ کراپنی کوئی اور امیج بنائی ہو، ایسی کوئی مثال تاحال نظر نہیں آتی ہے۔بہ حیثیت رکن پارلیمان اپنے حلقے میں کوئی اہم تعمیری اور ترقیاتی سرگرمیاں انجام دے کر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہو، ایسا بھی نہیں ہے۔
اس لئے امن و شانتی سے جینے کی خواہش رکھنے والے عوام کا تشویش میں مبتلا ہونا فطری بات ہے ۔کیونکہ” دہشت گردی ختم کرنا ہوتو دنیا سے اسلام کو مٹانا ہوگا” یا پھر” تمام دہشت گرد مسلمان ہی ہوتے ہیں”جیسے بیانات دے کرزہر اگلنے یا پھر اپنے فرائض انجام دینے میں مصروف ڈاکٹروں کی غنڈوں کی طرح پیٹائی کرکے سرخیوں میں رہنے والے اور فسطائی ایجنڈے کے اطلاق کے لئے پیدائشی جارحانہ عزائم رکھنے والے ایک fire brandقسم کے سیاسی لیڈر کااس طرح کا عروج ریاستی سیاست کے لئے بہرحال کوئی نیک شگون تو نہیں کہا جاسکتا! کیونکہ : ؂

منزل منزل ہَول میں ڈوبی آوازیں ہیں

رستہ رستہ خوف کے پہرے دیکھ رہا ہوں
*******

[email protected]

x

Check Also

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ اوچھے کا تیتر۔۔۔ : تحریر : اطہر ہاشمی

معین کمالی صاحب بڑے سینئر صحافی اور اہلِ علم و اہلِ قلم ...