بنیادی صفحہ / مضامین / مردوں کی مسیحائی۔۔۔۱۸۔۔۔ آستانہ نبوت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابابادئ

مردوں کی مسیحائی۔۔۔۱۸۔۔۔ آستانہ نبوت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابابادئ

Print Friendly, PDF & Email

آستانئہ نبوت

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا

یہ کسی فقیہ کا اجتہاد نہیں جس پر ردو قدح کی گنجائش ہو کسی بزرگ کا کشف نہیں جسمیں غلطی اور دھوکہ کا احتمال ہو،کوئی روایت حدیث نہیں جسکے اسنا د میں گفتگو ہوسکے،خدائے پاک کے کلام کی ایک آیت ہے ۔ارشاد ہوتا ہے کہ ’’ان لوگوں نے جس وقت اپنے اوپر ظلم کئے تھے ۔ائے پیغمبر ! اگر تمہارے پاس آگئے ہوتے اور اللہ سے اپنے قصور سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے حق میں معافی چاہتے تو پاتے اللہ کو معاف کرنے والا،مہربان،،گویا گناہگاروں اور تباہکاروں کو یہ حکم ملا ہے کہ اپنے پروردگار سے معافی طلب کریں،لیکن تنہا اپنے گھروں پر بیٹھے ہوئے نہیں ،بلکہ رسول ؐکی خدمت میں حاضرہوکر ،اور ان سے بھی اپنے حق میں دعا کراکر ،ظاہر ہے کہ حکم کا براہ راست تعلق کسی ایسے گروپ سے ہے جو حضور انورؐ کے زمانے میں موجود تھا ،خوش نصیب تھے ،وہ افراد جنہیں اس حکم پر عمل کی توفیق نصیب ہوئی ،جو رسول کی خدمت میں حاضرہوئے جنھوں نے اللہ سے گڑگڑا کر معافی مانگی ،اور رسول ؐنے جنکے حق میں سفارش فرمائی ،لیکن آج اس چودہویں صدی میں امت کا کوئی فاسق و فاجر،بدعمل و نامہ سیاہ اگر حکم ’’ جاؤوک‘‘کی تعمیل کرنا چاہے،تو کیا اسکے لئے اس سعادت و ہدایت کا دروازہ خدا نخواستہ قیامت تک کے لئے بالکل بند ہوچکا ہے ؟اور اسکی خدمت میں بجز مایوسی و محرومی کے اور کچھ نہیں۔؟

                                                                           موسم گل جب چمن سے رخصت ہو چکتا ہے اور کوئی بوئے گل کا متولاآنکلتا ہے تو عرق گلاب کے شیشوں اور قرابوں کو غنیمت سمجھتا ہے ،پھر اگر آج کوئی بوئے حبیب کا متولا حکم ’’جاؤک‘‘ کی تعمیل میں اپنے کو ہزاروں میل کے فاصلہ سے دیا ر حبیب ؐ تک پہونچاتا ہے اور اپنے مظالم نفس کی تلافی و عذر خواہی کے لیے اپنے ایمان اور بعید کی تجدید کے لیے اپنی تباہ کاریوں پرپشیمانی اور آشک افشانی کے لیے حبیب ؐتک نہ صحیح آستان حبیبؐ تک گرتا پھرتا پہونچتا ہے تو کیا اس پر ’’بدعت و شرک‘‘کا فتوی لگایا جائے گا؟جہاں تک اللہ کے سب سے بڑے پرستار (صلعم)نے نمازوں پر نمازیں پڑھیں ،اور اخری نمازیں پڑھیں ،جہاں عبد و معبود کے راز و نیاز حیات ناسوتی کی آخری سانس تک جاری رہے ،جہاں ہیبت و خشیت سے لرزتے ہوئے گھٹنے  خدا معلوم کتنے بار رکوع میں جھکے ،جہاں ذوق و شوق سے دمکتی پیشانی بارہا سجدے میں گری ،جہاں امت کے گنہگاروں اور سیاہ کاروں کے حق میں درد بھری دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھے اور ہلے ،جہاں ٹوٹی ہوئی آس والوں کی بیشمار مرتبہ تشفی کرائی گئی،جہاں وہ آج جسد اطہر آارم فرمایا ہے ۔جسکے طفیل میں آسمان بھی وجود میں اور زمین بھی،چاند بھی اور سورج بھی ۔اس عظمت و جلال والی اس برکت اور نورانیت والی زمین پر مقدس مکین کے مقدس مکان پر بھی جبین نیاز کو خم کرنا اگر شرک ہے’’بدعت ،،ہے تو خدا معلوم کس مقام اور کس مکان پر بھی حاضر ہونا کس آئین ’’ توحید‘‘ و سنت کے مطابق ہوسکتا ہے ؟

                                                                                            حافظ ابن کثیر و مشقی تیرھویں اور چودھویں صدی کے ،مبتدع،نہ تھے ۔ساتویں اور اٹھویں صدی کے محدث تھے ،اپنی تفسیر میں (اس تفسیر میں جو ایک بار ہندوستان کے مشہور موحّدنواب صدیق حسن خان مرحوم کی تفسیر کے ساتھ شائع ہوئی تھی، اور اب نجد و حجاز کے مشہور موحّد سردار سلطان سعود کے حکم سے شائع ہوئی ہے )عتبی ؒ کے زبانی نقل فرماتے ہے،کہ میں رسول اللہ ؐ کی تربت مبارک کے قریب بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا ،اور عرض کیا کے ’’یارسول اللہ ؐ میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے ووَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا

پس میں آپ ؐکے پاس حاضر ہوا ہوں ،اپنے گناہوں پر مغفرت طلب کرتا ہوں اور اپنے پر وردگار میں آپ ؐسے شفاعت کی درخواست کرتا ہوں،۔اسکے بعد نعت میں دو شعر پڑھے۔عتبی کہتے ہے کہ اسکے بعد اعرابی تو وہاں سے ہٹ گیا اور مجھے نیند آئی ، خواب میں مجھے رسول ؐ کی زیارت ہوئی،اور آپؐنے مجھ سے فرمایاکہ اس اعرابی سے جاکر مل اور اسے بشارت پہونچا دے کہ اللہ نے اسکی مغفرت کردی (جلد ۲،صفحہ ۵۰۱،مطبوعہ المنار مصر ۱۴۴۳ھ؁ )اور اسی سے  ملتی جلتی ایک دوسری روایت ابو حیان اندلسی نے بھی اپنے تفسیر بحر المحیط میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حوالہ سے نقل کی ہے ۔ (جلد ۳،صفحہ ۶۸۳ مطبوعہ مصر ۱۳۴۸ھ؁) یہ روایت جزئیات و تفصیلات کے ساتھ صحیح ہو ں ،یا نہ ہوں ،لیکن اتنا تو بہر حال نکلتا ہے کہ یہ ،خوش عقیدگی کوئی آج کی بدعت نہیں ،بلکہ صدیوں پیشتر کہ ،موحدین،بھی اس مرض میں مبتلا رہ چکے ہے۔

                                                                                  اس کے بعد اپ اس بحث میں کیوں الجھئے کہ نیت روضئہ اقدس کی زیارت کی رکھنی چاہئے،یا مسجد نبوی کی ؟انسان کی جدال پسند فطرت ہر سیدھی بات کو ٹیڑھی بنا دیتی ہے ،صاف اور سیدھی بات ہے ہیں کہ مقصود خود حضور انور ؐکی زیارت ہونی چاہئے ۔ظاہر ہے کہ آپ مادی آنکھوں سے اسکا امکان نہیں ۔اس لئے مکان کے جس حصہ کو مکین سے جس قدر زیادہ تعلق ،جس قدر زیادہ قرب ہوگا ،اس قدر اسکی زیارت اہم تر و محبوب تر ہوگی ،حجر عائشہ صدیقہؒہو یا مصلّی و منبر،جس شے کو بھی امتیاز و افتخار حاصل ہوا،اسی بنا پر حاصل ہوا کہ حضورؐکی ذات سے اسکا تعلق تھا ،اس میں نہ کسی کو نزاع ہے اور نہ کوئی وجہ نزاع،اسکے آگے جو بھی کچھ اختلاف ہے وہ کسی اصول عقیدہ کا اختلاف نہیں ،اپنے اپنے ذوق کی طبعی کا اختلاف ہے ،بعض کی نظر زمین کے ان ان ٹکڑوںکے عظمت و تقدس پر گئی،جو سیدالانبیاء ؐ کے رکوع و سجود کے لیے مخصوص تھے اور اس لئے انہوں نے نیت زیارت میں مسجد نبویؐ کے احترام کو سب پر مقدم و بالا رکھا۔اور بعض نے یہ خیال کیا کہ وہ شہیدوں اور صدیقوں کاسردارجب اپنی حیات طیبہ کے ساتھ اس وقت بھی زندہ و قائم ہے ،تو قدرتا سب سے زیادہ شرف و احترام مٹی کی اس لحد کو حاصل ہے ،جسکے اندر جسد اطہر آارم فرمایا ہے اور اسی لئے سفر کا اعلی مقصد اس تربت پاک ؐہی کی زیارت ہوتو بہتر ہے ،اور فقہائے حنیفہ نے غایت انصاف واصابت رائے کے ساتھ یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ زیارت تربت مبارک کے ساتھ ہی ساتھ زیارت مسجد نبوی ؐکی نیت کو بھی جمع کر لیا جائے ۔

 وزيارة قبر الشريف مندوبۃ ، بل قیل انھا واجبۃ ، ولینو معہ زیارۃ مسجدہ الشریف (درمختار)

فاذا نوی زیارۃ القبر فلینو معہ زیارۃ مسجد رسول اللہ۔

قبرشریف کی زیارت مستحب ہے بلکہ بعض علماء کے قول کے مطابق واجب ہے جس کو اسکی اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی مسجدشریف کی زیارت کی بھی نیت کرلی جائے ،جب زیارت قبر رسول کی نیت کرے تو چاہئے کہ زیارت مسجد نبوی ؐکی بھی نیت کرلے۔

                                                                                       مسجد نبویؐ اور روضئہ مبارک الگ الگ عمارتوں کے نام نہیں،اور ایک دوسرے سے جدا نہیں،مسجد کی عمارت بہت وسیع شاندار اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر حسین و جمیل ہے ،اس سے بڑی بعض مسجدیں ہندوستان کے اندرموجود ہیں اوردوسرے ملکوں میں بھی یقینا ہوں گی،لیکن حسن و جمال کے لحاظ سے ،زیبائی و دلکشی کے لحاظ سے پردئہ زمین پر اس مسجد کا خواب نہیں،بس یہ جی چاہتا تھا کہ ہروقت صحن میں بیٹھے ہوئے عمارت مسجد کی طرف برابر ٹکٹکی لگی رہے ۔اللہ اللہ!کس محبوب کی مسجد ہے ،کیسے کیسے محبوبوں نے یہاں ماتھے ٹیکے ہیں،اینٹ اور پتھر ،مٹی اور چونے تک پر محبوبیت چھارہی ہے !مسجد کی پیمائش کا دماغ کس کو اور طول و عرض کے جائزہ لینے کا ہوش کسے ،لیکن بعض کتابوں میں پڑھا ہے کہ موجودہ مسجد کا طول ۶۰۰ فٹ اور عرض ۴۸۰ فٹ ہے ،قبلہ جنوب کے رخ پر ہے ،آگے پیچھے دس گیارہ دالان بنے ہوئے ہیں ۔بہترین نقش و نگار سے آراستہ حسن و زیبائش میں ایک سے ایک بڑھے ہوئے ،اس کے بعد وسیع صحن ،صحن کے داہنے اور بائیں دونوں جانب صحن ہی کے برابر لانبے لانبے دالان،بائیں دانب والے دالان میں عورتوں کے لیے جگہ مخصوص ،کلام پاک کی آیات ،بعض احادیث کے ٹکڑے ،اسمائے الہی ،اسمائے رسول ؐ ،اسمائے صحابہ مبارک ،سب موقع موقع سے درود دیوار پر کندہ ،بڑی محراب محراب عثمانی کے نام سے موسوم ،حضرت خلیفئہ ثالث ؓکی تعمیر کرائی ہوئی،منبر ٹھیک اسی جگہ پر رکھا ہوا جہاں عہدنبوت میں تھا،اسی منبر اور اسی روضئہ مبارک (حجرئہ عائشہ صدیقہ ؓ)کا درمیانی حصہ روضتہ الجنۃ کے نام سے حدیث صحیح کی بنا پر موسوم ۔اتنے رقبہ میں کوئی ڈھائی تین سو نمازیوں کی جگہ ہوگی،اسی حصہ میں محراب النبی ؐاور مصلی نبی یعنی وہ مقام جہاں حضور ؐ کے قدم مبارک ہوتے تھے ۔اس طرح اب جو قسمت کا دھنی وہاں کھڑے ہوکر نماز پڑھتا ہے اس کا سر قدرتا واضطرارًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار قدم پر جاکر پڑتا ہے ،خواجہ جافظ کا یہ مشہور یہاں گویا لفظ چسپا ں

                                                         برزمینے کہ نشاں کف پائے تو بُود

                                                        سالہا سجدہ صاحب نظراں خواہد بود

اللہ اکبر !کیا شان جمال ،کیا وسعت کرم ہے!خدا جانے کتنوںکی نجات اسی بہانہ سے ہوجاتی ہے !

                                                                                    عہہد نبوت میں یہ تکلفات اور یہ وسعت کہاں تھی،مختصر سی زمین اور انتہائی سادگی،توسیع فاتح روم و ایران حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ہوئی،پھر خاص خاص ترمیمات حضرت عثمان غنیؓ اور خلیفہ ولید نے کرائیں،موجودہ عمارت کی زینت و خوشنمائی کا سہرا سلطان عبد المجید ؔ خاں مرحوم و مغفور کے سَر ہے،اللہ ان سب خدام نبو یؐ کو پورا اجر عطافرمائے ۔اس وقت مسجد پانچ کے دروازے،دو جانب مغرب،باب السلام اور باب الرحمتہ،ایک جانب شمال باب مجیدی،سلطان عبد المجید خاں کا تعمیرکرایا ہوا۔اور دو جانب مشرق باب النساء اور باب جبرئیل ۔صحن میں شرقی دالان سے ملا ہو ابستانِ فاطمہ تھا،کھجور کے چند شاداب لگے ہوئے تھے ،اور ان کے سایہ میں ایک کنواں تھا ،جس کا پانی شیرنی و لطافت میں مشہور تھا ،سعودی حکومت نے وہ درخت کٹوا کر صاف کر دیے ہیں ۔اور کنوئیں کو بند کر کے اس میں قفل ڈال دیا ہے ۔مسجد میں پہلے سیکڑوں تھے ،اب بہت گھٹ گئے ہیں،خواجہ سراؤں(آغاؤں)کی جماعت پہلے ہی بہت ذی اختیار تھی،اب یہ لوگ بھی تعداد میںبہت کم رہ گئے ہیں،اور ان کے اختیارات بھی بہت محدود ہوگئے ہیں،ان کے بیٹھنے کا ایک وسیع چبوترہ باب النساء کے درمیان بنا ہوا ،کہاجاتا ہے کہ اصحاب صفہ رضی اللہ عنہ اجمعین کا بھی یہی چبوترہ تھا ۔مسجد کے ستونوں پرعہدِنبوی ؐ کی مسجد کے حدود درج ہیں۔

                                                                                   اسی مسجد کے گوشئہ جنوب و مشرقی میں دالانوں کے اندر وہ سبز گنبد والا روضئہ اقدس ہے ،جس کی زمین بقول محدث جلیل قاضی ؔعیاض مالکی بلا نزاع و اختلاف سارے روئے زمین سے بڑھ کر ہے ۔

ولا خلاف فی انّ موضع قبرہ صلعم افضل بقاع الارض  (اس میں کوئی اختلاف ہی نہیںکہ روئے زمین کے سارے مقامات سے بڑھ کر رسول اللہ ؐ کی قبر کا مبارک مقام ہے۔

اور بہ قول ہمارے فقہاء کے :

فما ختم اعضاؤہ الشریفۃ فھو افضل بقاع الارض بالاحتماع حتّی من الکعبۃ ومن العرش فانّہ افضل مطلّقا حتّی من الکعبۃ و العرش و الکرسیّ ۔ باب المناسک القاری

جس جگہ حضور کا جسد مبارک زمین سے مس رہا ہے ۔وہ بالاتفاق روئے زمین کا افضل ترین مقام ہے ۔یہاں تک کہ کعبہ اور عرش سے بھی بڑھ کر ،وہ مقام علی الاطلاق سارے مقامات سے افضل ہے ،یہاں تک کہ کعبہ اور عرش و کرسی سے بھی بڑھکر ۔

جس جصہ زمیںکے بابت محدثین اور خشک فقہاء یہاں تک فرماجائیں۔اس کے لئے جذبات کی زبان الفاظ کہاں سے ڈھونڈھ کر لائے؟اور کسی نے خود جو کچھ دیکھا ہے ،وہ اسے کیوں کر دوسروں کو دکھائے ؟شاعرکی تخیئل نے بڑی بلند پروازی کی تو یہ کہا کہ

انبساطِ عید دیدن روئے تو

                              عید گاہ ماغریباں کوئے تو

لیکن جسکی دیدرخ کو ’’انبساط عید‘‘سے بھی نسبت نہ ہو ،جس کے ابروئے خمدار ہلال عید سے بڑھ چڑھ کر ہوں اور جس کی گلی پر عید گاہیں خود قربان ہوں

                             صد ہزار اں عید قربانت کنم                         اے ہلال ماخم ابروئے تو  اس کے زیارت جمال کے بیان کرنے کے لیے دنیا کی کس زبان سے الفاظ تلاش کرکے لائے جائیں اور کس اہل زبان کی زبان سے امداد و اعانت کی التجا کی جائے؟رومیؒ

ہر کجا یوسف رخے باشد چوماہ                    جنت ست آں گرچہ باشد قعر چاہ

ہر کجا دلبر بود خرّم نشین                           فوقِ گردوں ست نے قعر زمیں

      خوشترازہر دوجہاں آنجا بود                      کہ امر باتو سرو سودا بود

یہ تو سب معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے حجرہ میں عالم ناسوت سے سفر آخرت اختیار فرمایا تھا اور جسد اطہر یہیں سپرد لحد کیا گیا،پہلو میں ادب کے ساتھ ذرا پائین کی طرف ہٹے ہوئے ،صدیق ؓ و فاروقؓ دونوں یہیں آرام فرمائیں،حجرئہ صدیقہ میں اس کے بعد ترمیم و توسیع ہوتی رہی،یہاں تک کہ اب روضئہ مبارک کوئی ۳۰‘۳۵ فٹ لانبی اور اس سے کچھ چوڑی عمارت ہوگی ،خانئہ کعبہ سے ممتاز رکھنے کے لیے اسے بالقصد بجائے مربع کے مستطیل رکہا گیا ہے ۔ سب سے پہلے چاروں طرف لوہے اور پیتل کی جالی یا جنگلے کی دیواریںہیں۔  ان جالیوں کی دیواروں میں جنوب ،مشرق اور شمال کے رخ پر دروازے بھی ہیں ،مگر عام لوگوں کے لیے ہمیشہ بند رہتے ہیں۔خاص خاص موقعوں پر خدام وغیرہ کے لیے کوئی دروازہ کھلتا ہے ۔جالیوں کے اندر سیسہ بھری ہوئی گہری بنیادوں کے اوپر ایک مضبوط پختہ چاردیواری ہے ۔جو حجرئہ صدیقہ ؓ کو پوری طرح گھیرے ہے ۔اور جس میں کوئی دروازہ نہیں اس عمارت پر غلاف پڑا ہوا ہے ،اور گنبد خضراء اس عمارت کے اوپر ہے ،اس کے اندر اصل حجرئہ صدیقہ ؓ ہ ،جو عہد نبوی میں خام تھا،بعد کو پختہ کردیا گیا،یہ بھی ہر طرف سے بند ہے جالیوں والی چاردیواری کے اوپر کے حصہ میں بھی خوش رنگ سبز غلاف ترکوں کے زمانہ کا اب تک پڑا ہے ۔مدینہ سے کعبہ سمت جنوب میں ہے۔اس لیے روضئہ اطہر کا جسے صدر دروازہ سمجھا جاتا ہے وہ جنوب رخ ہے اور یہی مواجہہ شریف کہلاتا ہے ۔اس عمارت کے اندر حجرئہ صدیقہ ؓ سے ملا ہوا ایک اور حجرہ بھی ہے جس کے اندر ایک مزارسا بنا ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا ؓ نے یہیں وفات پائی ہے اور مزار کی بابت ایک روایت یہ ہے کہ انہیں سیدہ خاتون جنت کا ہے ،اور بعض روایات یوں مشہور ہیں کہ یہ کوئی دوسری بی بی حضرت زہرا کی ہمنام تھیں ۔۔۔۔۔۔مدینہ پہونچتے ہی تڑپ تھی تویہ ،بے قراری تھی تو اس کی کہ جس قدر جلد بھی ممکن ہو اس آستانئہ پاک تک پہونچیے۔لیکن اس ذوق و شوق ،اس طلب و تمنا کے باوجود یہ کیا ہے کہ ہمت کے قدم ڈگمگائے جارہے ہیں اور ارادہ ہے کہ جم جم کر ٹوٹتا ہے اور ٹوٹ کر جمتا ہے ۔الہی یہ آخرکیا اسرار ہے !

                                                                                         (ماخوذ از ۔۔سفر حجاز)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*