بنیادی صفحہ / مضامین / سچی باتیں۔۔۔ مسلمان کون؟۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

سچی باتیں۔۔۔ مسلمان کون؟۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

09-01-1925 
مسلمان کون ہے؟ خدا کا قانون بتاتاہے کہ وہی جو سارے جہانوں کے رب کا کہنا مانے۔ کام تو یہ کچھ بڑا اور کٹھن نہیں ہے، پر دیکھو اور دل کو ٹٹولو تو جان جاؤ گے کہ رب کاکہنا ماننے والے کتنے ہیں اور نہ ماننے ولے کتنے۔ مگر جو کہنا مانتے ہیں وہ بھی مسلمان کہتے جاتے ہیں اور جو نہیں مانتے لوگ ان کو بھی مسلمان ہی جانتے ہیں۔شاید رب کا کہنا ماننے کا مطلب لوگوں نے نہیں سمجھا۔
رب کا کہنا ماننے کا کیا مطلب ہے؟ یہی کہ رب نے جو قانون بھیجا ہے اس کے موافق سب کام کئے جائں۔ بات تو یہ بھی بڑی سہل ہے مگر مشکل یہ آن پڑی ہے کہ لوگ اپنے رب کے قانون کو اٹھاکر دیکھے ہی نہیں۔ اور بنتے ہیں بڑے پکے مسلمان۔ اگر تمہارے ماں باپ ، دادادادی ، نانا نانی، میں سے کوئی مسلمان تھا اور اس کی اولاد ہونے کی وجہ سے تم بھی مردم شماری میں مسلمان لکھ دئیے گئے ، نام بھی تمہارا مسلمانوں کاساہے، اور دنیا تم کو کہتی بھی مسلمان ہے، تو کیا تم سچ مچ مسلمان ہوگئے؟نہیں۔ لوہار کا بیٹا یا پوتا کہاجاتاہے لوہار ہی، مگر جب تک وہ ہتوڑا چلانا نہیں سیکھتا لوہار نہیں ہوتا۔ سنار، بڑھئی، دھوبی، نائی، قصائی، سب کا یہی حال ہے۔ پھر کوئی مسلمان کیسے ہوسکتاہے اگر اپنے رب کا کہا نہ مانے۔ اور رب کا کہا وہی مان سکتاہے جو اس کے حکم کو بجائے۔ اور حکم اس کا لکھا ہے اس کے قانون یعنی قرآن میں۔ تو جو مسلمان کہاجاتاہے اس کو چاہئے کہ قرآن پڑھے۔ اور جو آپ نہیں پڑھ سکتا وہ کسی سے پڑھوا کرسنے۔ جیسے کسی کے پاس کوئی چٹھی پتر آئے اور وہ پڑھنا نہ جانتاہو تو کسی پڑھے لکھے کے پاس جاکر پڑھوالیتاہے ، ویسے ہی اگر خدا کی بھیجی ہوئی چٹھی کوئی آپ نہیں پڑھ سکتا تو کسی سے پڑھوا کر سنے۔ اور جو اس میں لکھاہے اس کے موافق کرے۔ کہ یہی مسلمان کی پہچان ہے۔
خدا نے اپنا قانون بھیجا تو یہ بھی جتادیا کہ یہ قانون لوگوں کو راہ دکھاتاہے ۔ کن لوگوں کو؟ اللہ کے نیک بندوں (پرہیزگاروں)کو۔ تو یہ نیک بندے کون ہیں؟ خدا کے قانون میں ان کی جو پہچان لکھی ہے وہ بھی کان دھر کر سن لو۔ نیک بندے وہ ہیں جو (خدا کی بتائی ہوئی) بن دیکھی باتوں کو سچ مانتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، اور جو کچھ کھانے پینے کو انھیں دیاگیاہے اس میں سے دوسروں کو بانٹتے ہیں۔
مسلمانو! کیسا سستا سودا ہے۔ نیک بندہ بننا کیسا سہل نسخہ ہے۔ مگر تم تو بڑے باؤلے ہو کہ پیٹ کی روٹی اور بدن ڈھانکنے کا کپڑا تو سستا ڈھونڈتے ہو اور اللہ کی بتائی ہوئی نیک بندہ بننے کی سستی ترکیب بھلابیٹھے۔ شاید تم سمجھتے ہو کہ آدمی روٹی کپڑے ہی کےلئے بنایاگیاہے۔ اسی لئے دن رات روٹی کپڑے کی دھن تو رکھتے ہو، مگر نیک بننے کی لگن نہیں رکھتے۔
خدا کے قانون میں یہ بھی لکھاہے کہ آدمیوں کے دکھ کی دوایہی قانون ہے۔ اور یہ بھی لکھاہے کہ اچھی بری کوئی بات اس قانون سے باہر نہیں۔ تم اور کیا چاہتے ہو۔ قرآن پڑھا کرو تو تمہارے دکھ بھی جاتے رہیں اور دنیا کے سب کام بھی اس کی مدد سے بن جائیں۔
گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں

 

x

Check Also

کورونا سے پہلے بُھکمری مار ڈالے گی… سہیل انجم

’’کورونا سے بڑا خطرہ بھوک ہے۔ اگر کورونا سے بچ بھی گئے ...