بنیادی صفحہ / مضامین / مردوں کی مسیحائی۔۔۔۱۰—عتاب محبوب ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

مردوں کی مسیحائی۔۔۔۱۰—عتاب محبوب ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

صورت حَال
صورت یہ ہوئی کہ ایک بار مکہ میں حضورؐ اپنی مجلس میں مصروف تبلیغ تھے کہ قریش کے بڑے بڑے زور آور اور متکبر سردار،ابوجہل،شیبہ،امیہ وغیرہم آنکلے،اور اس مجلس میں بیٹھ گئے۔ اسلام سے بڑھ کر ظاہر ہے کہ حضورؐ کو کون سی شے عزیز ہو سکتی؟ دن رات اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے۔ دھن تھی تو اسی کی، تڑپ تھی تو اسکی۔ ایسا موقع مل جانا حضورؐ کے نقطہ نظر سے غنیمت نہیں، نعمت تھا۔ ایسے مواقع حاصل ہی کب ہوتے تھے؟ منکرین قریش،حضورؐ کی کوئی آواز اپنے کانوں تک آنے ہی کے کب روادار ہوتے تھے۔ جتنی سرگرمی جس قدر انہماک،خیال میں آسکتا ہے،حضور اس  کے ساتھ انھیں کی طرف متوجہ ہوتے تھے،خدا جانے کن کن آرزؤں کے ساتھ کہ ان میں سے ایک متنفس بھی ایمان قبول کرلے،تو اس کے ساتھ بیسوں،پچاسوں،سیکڑوں اور مسلمان ہوجائیں
عین ایسے موقع پر ایک نابینا اور وجاہت دنیوی کے اعتبار سے بالکل معمولی درجہ کے مسلمان حاضرخدمت ہوتے ہیں،اور کچھ پوچھ پاچھ شروع کردیتے ہیں۔ غریب کو کیا خبر کہ یہاں کون کون بیٹھا ہوا ہے۔ سرداران قریش کی ذہنیت کا حال معلوم ہے۔اپنے مرتبہ اپنی پوزیشن کے نشہ میں کس قدر چور رہتے تھے۔ بدر میں مقابلہ پر جب انصار …شرفائے مدینہ… آتے تو یہ کہہ کر لڑنے سے انکارکردیا،کہ تم ہمارے برابر کے نہیں چنانچہ نہیں لڑے،جب تک کہ مقابلہ میں خاندان قریش ہی کے مومنین صف آرا نہ ہوگئے۔ اسی بدر میں ابو جہل جب قتل ہونے لگا، تو عین اس وقت سے رحم کی درخواست نہیں کرتا،بلکہ پوچھتا ہے کہ تم ہوکون؟اور جب جواب میں ان کا انصاری ہونا سنتا ہے،تو حسرت و یاس سے انہیں آخری لفظوں پر دم توڑتا ہے،کہ کاش میرا قاتل شرفائے مکّہ میں سے کوئی ہوتا افسوس کہ جان ایک کاشتکار کے ہاتھ سے جارہی ہے
یہ تھی ذہنیت ان قریشی سرداروں کی۔ اس ذہنیت کے افراد پر،جو اثر ان نابینا کے یک بیک آجانے اور ….ان کے نقطہ خیال سے…. تو دخل درمعقولات شروع کردینے کا پڑا ہوگا،وہ ظاہر ہے۔حضور سے بڑھ کر ان لوگوں کے ایمان لے آنے پر حریص اور کون ہوسکتا تھا، ٹھیک اسی نسبت سے حضورؐ پر تنغض و انقباض کا اثر ہونا بھی بالکل قدرتی تھا۔
اب آیت پڑھیے اور مفہوم مقتضائے حال کی مناسبت سے پوری طرح ذہن نشین کرتے جائیے۔
عَبَسَ وَتَوَلّی اَنْ جَا٫َہُ اَلْاَعْمیٰ نبی اپنی مجلس خاص میں منقبض ہوگئے اور بے التفاتی برتی، اس پر کہ ایک نابینا آوارد ہوئے۔
اعمی کا لفظ کسی تحقیریا تعریض کے لیے نہیں،بلکہ یہ لفظ لا کرگویا ان صحابیؓ کی طرف سے صفائی پیش کردی گئی،کہ ان بے چارے کی یہ مداخلت،قصداً اور دانستہ نہ تھی

تبلیغ کا اقتضاء
حضورؐ انوار اس موقع پر،اور ان حالات میں، یہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے،کوئی بھی مبلغ ایسے موقع پر ہوتا تو اور کیا کرتا؟ کیا ان بڑے بڑے سرداروں کے ایمان لانے کا موقع یوں ہاتھ سے نکلے جاتے دیکھنے پر خوش ہوتا؟

فروع کا سوال
پھر وہ صحابیؓ صاحب،زیادہ،پوچھنا کیا چاہتے تھے خدانخواستہ انہیں توحید میں شک تھا؟ رسالت میں شبہ تھا؟وجود آخرت میں تردد تھا؟ مومن تو بحمداللہ وہ تھے ہی۔ جو کچھ بھی پوچھتے دین کے فروع ہی کی کوئی بات ہوتی،کہاں کسی کو دین کے اندر کوئی فرعی عمل بتانا اور کہاں کفار کے کسی رئیس،یا چند رؤسا،کو دائرہ اسلام میں لانا دونوں کی اہمیت کا کوئی مقابلہ ہوسکتا تھا؟ چہ جائیکہ جب وہ چند کافر،چند سو کے لیے ذریعہ ہدایت بن سکتے تھے
نبی ؐسے کمتر ضبط رکھنے والا کوئی دوسرا مبلغ ہوتا،تو یہ وقت تو وہ تھا،کہ بے اختیار جھنجلا اٹھتا۔حضور خود بھی اگر اس گھڑی قولی یا فعلی،کوئی،سختی یا تشدّد برتتے،جب بھی فطرت بشری کے لحاظ سے بالکل حق بجانب ہوتا۔ نہیں فطرت بشری ہی نہیں،فطرت نبوی کے بھی عین مطابق ہوتا،راہ تبلیغ میں رکاوٹ دیکھتے،کون نبیؐ ایسا تھا،کہ اللہ ہی کے واسطے اللہ ہی کے دین کے واسطے جوش سے تمتما نہ اٹھتا؟ لیکن یہاں؟ کمال حلم سے یہ بھی تو نہ ہوا۔ اور معاملہ صرف عدم التفات اور چین بہ جبین پر ختم ہوکر رہا،اور وہ صاحب ٹھہرے آنکھوں سے معذور۔انھوں نے دیکھا ہی نہیں، اس لیے ان کی کچھ زیادہ دل شکنی بھی نہ ہونے پائی۔
غرض مبلغ اعظمؐ نے جو بھی کیا،اس موقع پر کوئی بشر یہاں تک کہ پیمبر بھی اس سے زیادہ،اور اس کے سوا کرہی نہیں سکتا تھا، لیکن اب ان کی سنئے جو بشر نہیں، خالق بشرہیں اور جن کے لئے انسانی غیب،اور شہادت، دونوں ایک حکم میں ہیں،اور ان کافر مانا،بشری دماغ کی تشریح کے مطابق سمجھتے جائیے:۔
وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہُ یَزَّکّٰی۔اے پیغمبرؐ آپ کو غیب کی کیا خبر؟ ممکن تھا کہ ہمارے علم غیب میں یہی مقدر ہوتا،کہ وہ صحابیؓ آپ کی اس وقت کی توجہ والتفات سے پوری طرح نکھر جاتے،نکھرے ہوئے تو تھے ہی،آپ کی اس وقت کی توجہ و التفات سے پوری طرح نکھر جاتے، نکھرے ہوئے تو تھے ہی،اب پوری طرح سنور جاتے۔کمال تزکیہ حاصل کرلیتے۔
اَوْیَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکرٰی یا یہی ہوتا کہ وہ جو خاص چیزیں آپ سے دریافت کرنے آئے تھے،اسی میں آپ کی نصیحت پوری طرح کارگرہوجاتی۔ اسی باب خاص میں انھیں پوری تشفی ہوجاتی
اجتہادنبویؐ صحیح یقینا نہیں قرار پایا، لیکن کس معیار سے؟ کس بشری،انسانی،طبعی، مخلوقی،یہاں تک کہ پیمبری معیار سے بھی نہیں محض خدائی،الہی،فوق البشری،عالم الغیبی،معیار سے
ارشاد ہوتا ہے کہ آپ کا اجتہاد بجائے خودبالکل صحیح،مرض کی اہمیت یقینا انہی کفار کی بہت بڑھی ہوئی تھی،لیکن مسئلہ کا دوسرا رُخ بھی تو تھا، نظر ادھر کرنی چاہئے تھی۔سرداران قریش کا مرض لاکھ اہم سہی،یہ بھی بالکل درست کہ ہرطبیب،زکام کے مریض سے کہیں پیشتر ہیضہ کے مریض پر توجہ کریگا۔ لیکن پھر یہ بھی تو ہے،کہ وہ بدبخت طالب علاج تھے کب؟

ساری کنجی لفظ
اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی فَاَنْتَ لَہُ تَصَدّٰی استغناء سے وہ اپنے کو مریض اور محتاج علاج سمجھ ہی کہاں رہے تھے؟وہ تو الٹی آپ سے نفرت و وحشت کررہے تھے،طلبِ حق سے بے زار تھے،آپ کے پاس سے ہٹنے اور بھاگنے کا بہانہ ڈھونڈرہے تھے،اور آپ انہیں کی طرف لپکے جاتے تھے حق تعالی کی غیرت اسے گوارا نہیں کرسکتی۔ایمان لائیں نہ لائیں،خود ہی بھگتیں گے۔
یہ بالکل درست کہ مبنی و منشاء آپ کے اس عمل کا،آپ کی غرض اصلاح وشفقت علی الخلق ہی تھی، لیکن اثرات تبلیغ کے ترتیب و وقوع کا اس درجہ اہتمام آپ کے ذمہ ہے کب؟ آپ کا کام تبلیغ کردینا ہے۔ وہ نہیں سنتے تو۔
وَمَا عَلَیْکَ اَلاَّ یَزَّکّٰی۔آپ کو کیا؟ نتائج و ثمرات توتمامتر ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ وہ نہ مانیں آپ کی بلا سے،آپ پر،ان کے نہ ماننے کا کیا الزام؟ اور آپ کیوں اس فکر میں پڑئیے۔
اب رہا وہ دوسرا شخص جس سے آپ نے بے التفاتی برتی،اس کا مرض لاکھ ہلکا سہی اور اس پر ضرورت توجہ اس حیثیت سے اور اسی نسبت سے،ہزار موّخر۔
وَاَمَّا مَنْ جَآءکَ یَسْعٰی وَھُوَ یَخْشٰی فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَھّٰی لیکن یہ بھی تو خیال کیجئے،کہ وہ طلب صادق کے ساتھ امید شفاء لے کر اپنے کو مریض اور آپ کو طبیب سمجھ کر دوڑا ہوا آیا تھا اس کے دل میں اعراض نہیں،اللہ کا ڈر تھا،وہ نسخہ شفا آپ سے مانگنے آیا تھا۔کیا اب بھی وہ مستحق توجہ نہ تھا؟اس کا حق راحج نہ تھا؟
خیریہ واقعہ خاص تو گزرہی چکا۔ آئندہ ایسا نہ ہونے پائے۔خوب مستحضر رکھیے کہ۔
کَلَّا اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَاءَ ذَکَرَہُ، کلام مجید زبردستی کسی کے سرپر چپکنے کی چیز ہی نہیں محض نصیحت کی کتاب ہے۔جس کاجی چاہے،اسے ہنسی خوشی قبول کرے جو ادھر نہ آنا چاہے وہ آپ بھگتے گا۔
اس کے آگے بھی کچھ دور کلام مجید ہی کے خصوصیات کا بیان چلا گیا ہے لیکن جو سوال تھا،اس کا جواب ختم ہوچکا، ان توضیحات وتصریحات کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل بحمد اللہ بالکل شفاف، بے غبار نظر آنے لگا،اور کم ازکم اس باب میں ذہن کو کوئی الجھن باقی نہیں رہی۔

 

x

Check Also

سادھوی پرگیہ پر اتنی مہربانیاں کیوں؟… سہیل انجم

جب پارلیمانی انتخابات کے دوران بھوپال سے بی جے پی کی امیدوار ...