بنیادی صفحہ / مضامین / مردوں کی مسیحائی۔۔۔۰۹— صابر رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

مردوں کی مسیحائی۔۔۔۰۹— صابر رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

انسانیت کے لیے ہرمصیبت میں تعزیت و تسلّی کا پیام اور صبر و رضا کا نمونہ

خلق عظیم کا ایک خاص پہلو

اصلاح اور مصیبتیں
جتنے مصلحین دین کی فلاح و بہبود کا نقشہ لے کر اٹھے کس کی آؤ بھگت گالیوں رسوائیوں سے، تکفیر و تفسیق سے،ضرب و بند سے نہیں ہوئی۔ کیا ابو حنیفہؒ قید میں نہیں ڈالے گئے؟ کیا احمد بن حنبلؒ کی پیٹھ سے خون کے شرارے خود مسلمانوں کے کوڑوں سے نہیں بہے؟کیا غزالیؒ کی کتابیں آگ کے ڈھیر میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں نہیں جھونکی گئیں؟ کیا اسمعیل شہیدؒ پر کفر کا فتوی نہیں لگا؟ کیا ان سب کی مصیبتیں اور بپتائیں الگ الگ نہیں،ملا کر اور سب ایک میں شامل کر کے بھی اس ایک انسان کے مقابلہ میں لائی جاسکتی ہیں،جو مخلوق کے اولین و آخرین میں سب سے بڑا بنا کر بھیجاگیا تھا؟ لیکن جسکو دن و دو دن نہیں،ہفتہ دو ہفتہ،مہینہ دو مہینہ بھی نہیں،تیرہ سال تک مسلسل یک لخت،دنیا کے شریروں اور رذیلوں سے،گندوں اور کمینوں سے، شرابیوں اور جواریوں سے، لٹیروں اور حرامکاروں سے،پتھروں کے پوجنے والوں اور درختوں کو سجدہ کرنے والوں سے انسانی سانپوں اور اژدہوں سے،انسان صورت بھیڑیوں اور درندوں سے،دب کر اور جھک کر رہنا پڑا۔ آج شہر کے کسی رئیس،کسی حاکم،کسی چودھری کو کوئی چوھڑ چمار ذرا گالی دے کر تو دیکھے، یہاں گالیاں کہلوائی گئیں۔ اسے جو سارے معززین سے معززتر۔ سارے وجاہت والوں سے بڑھ کر وجیہ اورسارے شریفوں سے اشرف تھا۔ ان کی زبانوں سے جو ذلیلوں سے بڑھ کر ذلیل۔گندگی میں اپنی آپ نظیر،اور رذیلوں میں بھی ارذل تھے اور جس جسد مبارک کو ادب و احترام کے ساتھ مس کرنا، نور کے بنے ہوئے فرشتوں کے لیے بھی باعثِ فخر و شرف تھا،اس کے ساتھ کیسی کیسی گستاخیاں اور دراز دستیاں وہ جہنم کے کندے کر کے رہے،جنہیں آگ میں جلنا اور آگ میں ملنا تھا جسے آسمان والے نے ’’محمد‘‘ ۔۔۔ستودہ صفات۔تعریف کیا گیا۔۔۔بنا کر بھیجا تھا،گندہ ذہن زمینی مخلوق اس کے ساتھ کس طرح پیش آئی۔ کیا اسے جی بھر کر چڑھایا نہیں۔ طرح طرح کے آوازے نہیں کسے؟ ڈھیلے نہیں برسائے؟ساق مبارک کو لہو لہان نہیں کیا؟کھانا پانی بند نہیں کیا؟ہرطرف سے گھیر کر ایک غار میں بندکرکے،فاقہ کشی کی نوبت نہیں پیدا کردی؟ دوستوں اورمخلصوں جاں نثاروں اور سرفروشوں پر کیا کیا قیامتیں برپا ہو کر نہیں رہیں؟غرض تکلیف وتعذیب،توہین و تحقیر،آزار جسمانی وروحانی کا کوئی پہلو اٹھ رہا؟تاریخ کے کس واقعہ سے انکار ہوگا؟ اور پھراس ذات پاک کے صبر میں،ہمت میں، استقامت و استقلال میں کس وقت،کس لمحہ،کس آن فرق پڑنے پایا ہے،آپ اپنی تکلیف کو جھینکتے پھرتے ہیں۔ ہے کوئی جو اس بڑی مثال کے سامنے اپنے کو پیش کرسکے؟ اس پہاڑ کے سامنے،اپنے ریت کے گھروندے کو لائے اس بے مثال،مثال کو سامنے رکھ کر ارشاد ہو،کہ کس نے دین کی راہ میں کیاکیا ہے؟کیا سہا ہے؟ کیا کھویا،کیا لٹایا،کیا اُٹھایا ہے؟

مظالم اور اسوہ محمدیؐ
مظلومیت و غربت،بے کسی اور بے بسی،ہم پر،آپ پر،آج کسی درجہ میں طاری ہو، اسوہ محمدیؐ سے بڑھ کر کون اسوہ ملے گا، تسکین و تسلّی کے لیے اس ذات کے سوا اور کہاں سامان نظر آئے گا؟ لیکن فراغت و غلبہ کے وقت بھی کیا اس کا سررشتہ ہاتھ سے چھوٹنے پائے گا؟ اچھا تو یہ بتائیے کہ سرداری و فتحمندی کی حالت میں کبھی اس سرداروں کے سردار کے قدم نے عبدیت کے حدود سے ذرا بھی تجاوز کیا ہے؟ انتہائے مشغولیت میں بھی کبھی غفلت طاری ہوئی ہے؟ بڑی سے بڑی جنگ اور معرکہ آرائی کے وقت رسد کا سامان، اور روپیہ کا انتظام،گھوڑوں کی فراہمی اور ہتھیاروں کی خریداری،میدان جنگ کا انتخاب اور صفوف لشکر کی ترتیب، کوچ کا حکم اور قیام کا ارشاد،فوجوں کا لڑانا،صلح کے شرائط طے کرنا،مال غنیمت کی تقسیم اور ملوک و سلاطین سے نامہ و پیام، یہ سارے کام جن کے لیے آج بیسوں ماہرین خصوصی کی ضرورت ہوتی ہے،کمسریٹ والوں انجینئروں کی،جنرل اور مدبر کی،خدمات بنفس نفیس ہی انجام دیتے تھے،اور ممکن نہ تھا کہ ان میں پڑکر کسی وقت کی نماز رہ جائے، معمولات عبادت میں فرق آجائے۔پھر آج کسی کے مشاغل کیا ان سے زائد ہو سکتے ہیں۔ کس کی مشغولیت زندگی اس مقابلہ میں لانی ممکن ہے؟

تھکا دینے والے مشاغل اور صبر و استقامت
جنگ کی حالت چھوڑئیے،امن کا زمانہ لیجئے۔ ابھی طائفؔ مسلمان ہورہاہے، ابھی یمنؔ کے اسلام کی خوشخبری آرہی ہے، ابھی بحرینؔ اسلام قبول کررہا ہے،ابھی عمانؔ اطاعت قبول کررہا ہے۔ ابھی مزینہ ؔ کا وفدآرہا ہے۔ ابھی بنو تمیمؔ کی سفارت پہونچ رہی ہے۔ابھی قیصر و کسری کے نام خطوط روانہ ہورہے ہیں،ابھی شاہ مصرکو دعوت اسلام بھیجی جارہی ہے،فلاں قبیلہ پر جزیہ کی تشخیص ہورہی ہے،فلاں نو مسلم آبادی پر زکوۃکی تعیین کی جارہی ہے، ادھر دعات و موذنین کا تقرر ہورہاہے، ادھر مختلف شہروں اور صوبوں کے لیے حکام و ولات مقرر کیے جارہے ہیں، ابھی غیر ممالک کے قاصدوں سے گفتگوہورہی ہے، ابھی مقدمات کے فیصلہ صادر فرمائے جارہے ہیں، مریضوں کی عیادت بھی ہورہی ہے، اور ساتھ ہی احتساب کا کام بھی جاری ہے،اور پھر تسبیح وتہلیل میں فرق آنے پاتا ہے،نہ شب بیداری و تہجد گزاری میں، وہی مناجاتیں اور گریہ وزاری کے ساتھ عبادتیں،اور وہی راتوں کو کھڑے ہوکر اتنا قرآن پڑھنا کہ پائے مبارک پر ورم ہو جائے ۔ آج ذرا سی بھی مشغولیت کسی کو پیش آجاتی ہے،تو جھٹ نوافل کیا معنی،فرائض تک کے ترک کا حیلہ ہاتھ آجاتاہے،ادھر یہ نظیر موجود ہے،کہ اس بے حدو حساب مشغولیت کے باوجود تعلق مع اللہ کے آثار ظاہری میں سرمو فرق نہیں۔ جنگ ہو یا صلح فوجی خدمات ہوں یا ملکی مناصب، زمینداری ہو ریاست،کاشتکاری ہویا تجارت،کلکٹری یا ججی، منسٹری ہو یا گورنری،انسانی زندگی کا کون سا رخ ایسا ہے، جس کے لیے،آفتاب ہدایت دلیل راہ نہیں؟

بہترین رفیق حیات کا صدمہ
بیوی اور چہیتی بیوی کے شوہر کے ہاتھوں اٹھ جانا،شوہر کے لیے کس قدر روح فرساواقعہ ہوتا ہے، رفیق حیات،جس سے دل ملا ہوا ہو،جس نے زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ساتھ دیا ہو،اسے اپنے ہاتھوں کفنانے دفنانے کی ہمت کوئی کہاں سے لائے؟ بجا ہے۔ لیکن ذرا خیال اللہ کے اس لاڈلے بندہ کی طرف بھی جائے جس نے خدیجۃالکبریؓ جیسی عزیز و عزیز الوجود،محبوب و وفا سرشت شریک حیات کو ۲۳،۲۴ سال کی رفاقت کے بعد اپنے ہاتھ سے کھویا اور اللہ کی مشیت پر صبر کیا۔ کیا آپ میں کسی کا رنج سے بڑھ کر کسی کا صدمہ اس صدمہ سے زائد ہے۔ جب اسے کلیجہ پر پتھر رکھنا پڑا،جس کی مرضی خود مرضی الہی کو منظور رہا کرتی تھی،وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ،توپھرہم اور آپ،یہ اور وہ، زید اور بکر کس شمار میں ہیں، تسکین اگر ہوگی،تو پھر اپنے اسی بڑے کی مثال کود یکھ کر۔قومی زندگی سے قطع نظر کیجئے، خانگی زندگی کے مصائب و نوائب میں بھی، اس ایک کے سوا اور کس کا سہارا پکڑیے گا؟

ازدواجی زندگی کا ایک اور غم
اس کی برعکس صورت بھی کچھ کم روح فرسانہیں، نوجوان بیوہ کس طرح چاہنے والے،ناز اٹھانے والے،شوہر کے داغ مفارقت کو برداشت کرے،کس طرح اپنے بے قرار دل کو قرار دے؟ آئیے ایک بار پھر اسی عالمگیر دوا خانہ کی طرف رجوع کریں۔ مائی زینب ؓاور مائی سلمہؓ وغیرہا کو چھوڑئیے،خود عائشہ صدیقہؓ جیسی کم عمر اور شوہری لطف و محبت کی خوگر بیوہ پرآخر کیا گذری تھی؟ صبر انھیں کیسا آیا؟ کیا جو وقت ان پر ڈالا گیا اس سے بڑھ کر کوئی وقت کسی دوسری،حوّا کی بیٹی پر پڑسکتا ہے؟یہاں تو سہاگ لٹتے وقت صرف ایک چاہنے والے شوہر ہی کا غم ہوگا، وہاں صدمہ کس کا اٹھانا پڑا تھا، ایسے شوہر کا جورسولؐ اور پھر سب رسولوں کا خاتم،سب رسولوں کا سردار۔ اس دکھ کا کوئی علاج،اس صدمہ کا کوئی عوض،تصور میں بھی آسکتا ہے؟آج بڑی سے بڑی غمزدہ مسلمان بیوہ بھی،عائشہ صدیقہؓ کی بیوگی کو دیکھے،اور ذرا اپنے سوگ کا ان کے سوگ سے مقابلہ کرے؟ انشاء اللہ بے قرار دل کو قرار از خود آجائے گا۔

اولاد کا صدمہ
شوہر اور بیوی سے بڑھ کر جانگسل صدمہ اولاد کا ہوتا ہے۔کسی کے کلیجہ کو گرم گرم لوہے سے داغ دیا جائے،اور کہا جائے کہ زبان سے آہ،اور دل سے شعلہ نہ اٹھنے پائے،تو اس پر کیا گزر کر رہے گی؟یہاں جس کے سرپر دین و دنیا کی سرداری کا تاج تھا،اس نے اپنے ہاتھوں ننّھے اور معصوم ابراہیم اور دوسرے پیارے نبی زادوں کو نہلایا،کفنایا،جو ساری دنیا کے مسلمانوں کے حق میں رؤف و رحیم تھا۔ جو دشمنوں تک کے لیے رحمت و شفقت تھا،کیا خود اپنی اولاد کے حق میں اس کا دل پتھر کا تھا۔کیا اس کے دل سے مامتا نکال ڈالی گئی تھی، دل پر جو کچھ گزر رہی تھی،دل والا جانے یا دل کا پیدا کرنے والا،خادوموں اور جاں نثاروں نے یہ دیکھا،کہ قبل موت،ننّھے لخت جگر کے منہ پر منہ رکھے ہوئے شفیق باپ،اور ہم سب کا شفیق روحانی باپ،بوسہ پر بوسہ لے رہا تھا، اور بعد موت جب قبر میں اپنے ہاتھ سے اتارا ہے،تو آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اور زبان پر یہ فقرہ تھا کہ ’’اے ابراہیم ہم تیرے غم میں رورہے ہیں‘‘ آج دنیاکا کون باپ اپنی مصیبت کو اس سے بڑی مصیبت بتا سکتا ہے؟کفار و مشرکین کے دشمنوں اور منکروں کا گروہ طعنہ دینے کو مستعد کہ کیسے نبی ہیں کہ اولاد نرینہ کا سلسلہ بھی موقوف ہورہا ہے،متعدد لخت جگر پہلے پیوند خاک ہوچکے ہیں،آخری فرزندیوں رخصت ہورہا ہے،کس کی مصیبت اس مصیبت سے بڑی ہوگی۔ کس کا حزن اس حزن سے بڑھ کر ہوگا؟

جوان اولاد کا غم
اولادیں سب کی سب بچپن ہی میں رخصت نہیں ہوئیں۔رقیہؓ اور ام کلثومؓ نبی زادیاں پل کر اور بڑھ کر بالغ اور جوان ہوکر،اور یکے بعد دیگرے عثمان غنیؓ کی بیوی بن کر دنیا سے رخصت ہوئیں۔اور جو سارے عالم کو حیات جاودانی کی بشارت دینے آیا تھا،اس نے اپنی جوان جہاں بیٹوں کی حیات ناسوتی ختم ہوتے،انہیں دم توڑتے،اپنی آنکھوں دیکھا۔ان کے لاشے اپنے ہاتھوں قبر میں اتارے۔اب اس کے بعد کون ہے جو اپنی جوان اولاد کے غم میں اپنے کو سب سے زیادہ غم نصیب سمجھتا ہے، آئیے اور تسکین کا مرہم اپنے زخم جگر پر اس بے خطا دوا خانہ سے حاصل کیجئے

عزیزوں اور جاں نثاروں کے صدمے
بیوی اور اولاد کے غم کے بعد پھر دوسروں عزیزوں دوستوں کی وفات کے صدمے ہوتے ہیں،امّت میں قیامت تک جس کسی کو یہ صدمے ہوں وہ آئے اور صبر،اس کی مثال کو دیکھ کر حاصل کرے،جس نے ابوطالب کی موت کا، شہداء احد کا، اور اپنے بیسیوں دوسرے مخلص خادموں اور جاں نثاروں کی موت کا صدمہ اٹھایا اور صبر سے کام لیا۔رسولؐ کے صدمات کے بعد کس کا صدمہ انوکھا رہ جاتا ہے؟رسول کے غموں کے بعد،کس کا غم بلا تعزیت رہ جاتا ہے؟

عسرت و فاقہ کے مصائب
موت کے صدمات سے ہٹ کر آئیے۔تو پھر غم افلاس کا نمبر آئے گا۔ایک خلقت کی خلقت ہے،کہ معاش کی تکلیف میں مبتلا،اپنے نصیبوں کو کوس رہی ہے۔ امت کے ان دکھیاروں کو بشارت دیجئے کہ ذرا نظر اٹھا کر اس کے جمال جہاں آراء کی جھلک دیکھ لیں،جو امیروں کا امیر اور سردار بنا کر بھیجا گیا،مگر حالت یہ ہے کہ کئی کئی وقت گھروں میں چولہا تک نہیں جلتا،فاقوں پر فاقے ہورہے ہیں اور پیٹ بھوک کی شدت سے پتھر بندھے ہوئے ہیں،اور متصل فراغت کے ساتھ کھانا تو شایدکبھی تین وقت سے زائد قسمت میں آتا ہی نہیں۔کس کی مفلسی، اس مفلسی سے بڑھ کر ہے؟ کون بھوکا آج اتنا بھوکا ملے گا؟کہ پیٹ پر پتھر بندھے ہیں،اور وہ کام کاج، دوڑ وھو پ میں مشغول ہو،بھوک اور معدہ کی کھر چن،عسرت و ناداری،فقر وفاقہ کے مارے اور ستائے ہوؤ رسول ؐاسلام کی آواز پر لپکو،کہ اس آواز دینے والے سے بڑھ کر کوئی غمخوار کوئی صحیح معنی میں ہمدرد کہیں نہیں ملے گا

جسمانی تکالیف
اب اس امتّی کو لیجئے،جو علیل و رنجور ہے،اور جس کا تن طبیبوں کا نیاز مند بنا ہوا ہے وہ دیکھے گا کہ روحوں کو شفا بخشنے والا اور اخلاق کے بیماروں کو چشم زدن میں چنگا کر دینے والا طبیب خودبھی جسمانی آزاد و آلام سے مستثنی نہیں۔زہر آپ کو دیا گیا،اور زہر کا اثر آپ پر ہوا،تیر کے زخم آپ کے جسم پر لگے،دندانِ مبارک شہید ہوئے،اور خون دھلا دھل اس جسد انور سے بہا،اور پھر بخار کی شدت اور کرب،جوایسے صابر اور ضابط کو بھی متاثر کیے ہوئے تھی ،کون سی رنجوری ہے۔جس کے لیے نسخہ شفا اس دارالشفاء میں موجود نہیں؟

یتیمی کے داغ،ماں باپ کا غم
یتیمی کے داغ سے بڑھ کر اور کونسا داغ ہوسکتا ہے۔اس وقت سے بڑھ کر بے کسی اوبیچارگی کا اور کون سا وقت ہوتا ہے؟آج ساری دنیا کے بے کس بے چارے،یتیموں یسیروں کو خوشخبری ہوکہ جس نے ساری دنیا کے یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھا،وہ خود بھی یتیم ہی ہوکر دنیا میں آیا،اور یتیمی بھی کسی غضب کی عمر کے دس سال پر نہیں، پانچ سال پر نہیں، والد کی شکل سرے سے دیکھی ہی نہیں، اور باپ کی محبت کو ایک لمحہ کے لیے بھی جاناہی نہیں۔جب دنیا میں تشریف لائے تو باپ پہلے ہی واپس بلالیے گئے تھے۔ رہیں والدہ ماجدہ،سودہ بھی پانچ سال سے زائد اپنی آنکھوں کے تارے،اور عالم کے آفتاب کا نظارہ نہ کر سکیں۔ یتیم کا اطلاق تو اس پر ہونے لگتا ہے جس کا صرف باپ زندہ نہ ہو۔ یہاں شروع سے بے پدری،اور شعور پیدا ہوتے ہی بے مادری،ایک ساتھ یتیمی و یسیری،دنیا جہاں کے یتیمو! اپنے حال پر رونے اور کڑھنے کی جگہ خوش اور نازاں ہو،کہ تم کس کی صف میں کھڑے ہوئے ہو۔

دلخراش طنز اور تشنیع
طنز وتشنیع سے خوف کھانے،اور بدنامی و رسوائی سے ڈرنے والو ذرا اس نمونہ کو پیش نظر رکھو،جس کے جلو میں ملائکہ مقربین اور جبرئیل رُوح الامین کی نصرتیں تھیں، اس پر بھی اُسے اُحدمیں اور حنین میں چاہے وہ کسی مصلحت سے اور کتنی ہی عارضی طور پر ہو،دشمنانِ دین کے سامنے ناکام رکھا جاتا ہے،اور دشمنانِ حق کے مقابلہ میں اس کی مغلوبیت دکھائی جاتی ہے۔ راستی اور راستبازی کے دشمنوں نے ایسے موقع پر انتہائی دلخراش و دل شکن طنز و تمسخر کا کوئی دقیقہ اٹھا رکھا ہوگا۔ بے اولادی کا طعن ہے۔ کسی فرزند نرینہ کے نہ باقی رہ جانے کا طنز کوئی آسانی سے برداشت ہوجانے والا طنز ہے۔ پھر صاحب کوثر کو یہ سب سننا پڑا یا نہیں؟ امّت کے حق گوؤں اور حق پرستوں کے لیے حیات طیبہ کی کتاب کے ابواب کیا سرے سے بے معنی ہیں؟

خانہ داری کی مشکلات
بیوی کسی کی ایک ہوتی ہے،تو اسکے پورے ادائے حقوق اور اسکے ساتھ ہمیشہ لطف و موافقت مشکل رہتا ہے، چہ جائے کہ جس کی ایک وقت میں دو نہیں تین نہیں اکٹھی نو نو بیویاں ہوں۔ ان سب کے ساتھ بہ حسن معاشرت نباہ کرنا معمولی بشرکا کام تھا؟ عقل کے اندھے کہتے ہیں،کہ یہ ایک صورت عیش پرستی کی تھی۔خدائے واحد کی قسم۔یہ صورت انتہائی مجاہدہ اورنفس کشی کی تھی۔ بیویاں بھی جنت کی حوریں یا فرشتہ بنا کر بھیجی نہیں گئی تھیں۔ یہی انسانی اجسام ان کے تھے، یہی کھانے پینے کی خواہشیں اور یہی پہننے، اوڑھنے کی ضرورتیں، یہی قلوب کے اندر،رقابت کی چشمکیں باہم چلیتں، باتیں بڑھتیں،اور ملال و تکدر حضور ؐ کے قلب مبارک تک پہونچتا، کاشانہ مبارک میں جو بے سروسامانی تھی، ظاہر ہے، صراحت کے ساتھ ان بیویوں کو علیحدگی کا اختیار سے فائدہ اٹھانا گوار نہیں کیا۔ بیویوں بچوں کے جنجال میں پھنسے ہوئے امتی،کیا کوئی سبق نہیں لے سکتے؟

تہمت و الزام کے صَدمے
کسی باعزت شریف کی بے گناہ بیوی پر آج ذرا سا عیب لگادیا جائے،دیکھئے میاں بیوی دونوں کی کیا حالت ہوکر رہتی ہے، نہ معلوم کتنے شوہروں نے ایسے موقعوں پر بیویوں کو تلوار کے وار یا بندوق کی گولی سے ختم کردیا ہے اور خود بھی خود کشی کر لی ہے اور کتنی بیویاں کنویں میں پھاند پڑی ہیں یا کچھ کھا کر سوگئی ہیں۔ اب ذرا اس شریف شوہر کودیکھئے جو دنیا میں شرافت،عصمت و حیاکا پیکر بنا کر بھیجا گیا تھا،اور اس کی اس عزیز و محبوب بیوی کا خیال کیجئے جس کی نیچی نگاہوں کی بلائیں خود حیا پروری اور عصمت شعاری لیتی تھی۔ اور جس کے صدق و وفا کی گواہی صراحت کے ساتھ قیامت تک کے لیے خود کلام مجید کے صفحات نے دے دی …حوّا کی بیٹیوں میں بجز مریم ؓ صدیقہؓ کے اور کس کے نصیب میں یہ دولت آئی ہے،بیہودہ لوگوں نے جب عائشہ صدیقہؓ سے متعلق اپنی زبانیں گندہ کی ہیں،تو اس طہارت و لطائف کے پتلے اور اس شرم و حیا،عصمت وفا کی تصویر پر کیا کیا گزرہی ہوگی، تلخ اور زہرہ گداز بجرّبہ بہر حال کرایا گیا،اور ہر زمانہ کے مومنین اور مومنات کے لیے،تسکین و تسلّی کا کتنا اہم اور کیسا بیش بہا سبق دے دیا گیا۔

زندگی کے حوادث میں جامع تعزیت و تسلّی
غرض اجتماعی و انفرادی،قومی ومعاشرتی،خانگی و شخصی، کوئی بھی ممکن پہلو انسانی زندگی کا لیجئے،غم و الم کی جتنی صورتیں انسان کو کسی شعبہ حیات میں پیش آسکتی ہیں،انھیں فرض کیجئے، ہردرد کا درماں،ہر زخم کا مرہم، ہر حادثہ کے لیے تعزیت اگر ملے گی تو اسی دارالشفاء محمدیؐ کے اندر۔ روحانیت کے دوسرے پہلوؤں اور صدق رسالت کے دوسرے دلائل سے قطع نظر محض اسی ایک جامعیت کے پہلو کو لیجئے۔ اس کی نظیر اگلوں اور پچھلوں میں،شرق و غرب میں شمال و جنوب میں کہاں ملے گی؟ ہر بڑی سے بڑی مصیبت کے وقت تسلّی و دل دہی کو اسوہ مبارک موجود۔ کتنا سچ ہے کہنے والے کا قول،جو اس نے اپنے متعلق کہا کہ’’میں قصر انبیاء کی آخری اینٹ ہوں”۔
عمارت بلاشبہ ہر طرح پر کامل ومکمل،آراستہ وپیراستہ، پہلے سے تیار تھی۔ لیکن اس آخری اینٹ کے بغیر یہ جامعیت اور یہ اکملیت کہاں تھی؟ رحمتیں اور بے شماررحمتیں نازل ہوں،اس پر جس کے وجود نے کامل کو اکمل،شریف کو اشرف،فاضل کو افضل،حسین کو احسن اور جمیل کو اجمل کے مرتبہ تک پہونچا کر،امت کے غریبوں اور ضعیفوں،دکھیاروں اور ناچاروں اور ناچاروں،بیمار اور سوگواروں، غمزدوں اور ناداروں سب کی تسکین کا سامان،رہتی دنیا تک کردیا۔

http://www.bhatkallys.com/ur/author/abdulmajid/

x

Check Also

دہلی اور اطراف کا ایک مختصر علمی سفر۔ ۰۶۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

  صبح دس بجے شاہ منزل میں مولانا نسیم اختر شاہ کے یہاں ...