بنیادی صفحہ / مضامین / مردوں کی مسیحائی۔۰۷۔۔۔ محبوب سے خطاب۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

مردوں کی مسیحائی۔۰۷۔۔۔ محبوب سے خطاب۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

محسن کے ساتھ شقاوت
وہ جو اپنے وسیع ملک میں خدائے واحد کا پکارنے والا تھا، وہ جو اپنے دن پروردگار کی بڑائی بیان کرنے میں گزارتا تھا اور اپنی راتیں اپنے اسی اَن دیکھے مولا کی یاد میں رکوعوں میں جھک جھک کر اور سجدوں میں گر گر کر بسر کرتا تھا وہ جو اپنی عمر عزیز کے دنوں اور ہفتوں، مہینوں اور برسوں کو اپنی اسی ایک دھن پر واری کرچکا تھا، اسے اپنے دوستوں اور اپنے عزیزوں، اپنی قوم والوں اور اپنے وطن والوں، اپنی برادری والوں اور اپنے کنبہ والوں کے ہاتھوں انعام یہ ملتا ہے کہ گالیوں کی بوچھار ہوتی ہے، بد زبانیوں کا مینہ برسایا جاتا ہے اور اس کے دل کو چھلنی بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی اینٹ اور پتھر کا نشانہ بنالیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے پیر زخمی ہوتے ہیں اور اس کے پائے مبارک کی انگلیوں سے خون کی بوندیں بہتے اور ٹپکتے دیکھ دیکھ کر شقاوت کی آنکھیں تسکین حاصل کرتی ہیں۔

حق پر ثابت رہنے والے قدم
یہ پَیر وہ تھے کہ ان پر دنیا جہاں کے سارے سر بلندوں اور سر فرازوں کے سر قربان ہوں، یہ پیر وہ تھے جو صرف راہ حق کے طے کرنے اور عبدیت و عبادت پر ثابت رہنے کے لیے خلق ہوئے تھے۔
ان پیروں کی انگلیوں کو زخمی کیا گیا ۱اور اللہ کے بندے کو مجبور کیا گیا کہ قیام شب کی عادت کو دو یا تین راتوں کے لیے ترک کردے۔ ظالموں کو اس پر بس نہیں ہوتا، بلکہ ایک شیطان عورت، جو رشتہ میں چچی بھی ہوتی ہے، آتی ہے اور کہتی ہے کہ ’’بھتیجے‘‘ معلوم ہوتا ہے تیرے شیطان نے اب تجھے تعلیم دینا چھوڑدی۔ (العیاذ باللہ!) بندہ گو بہترین بندہ ہو، پھر بھی بندہ ہے اور بشر، گو خیر البشر ہو بہرحال بشر ہے، بندگی کا تقاضا، بشریت کا اقتضا، خیال قدرۃً یہ گزرا کہ کہیں اس ذات نے جو ہمہ بے نیازی ہے، واقعتاً التفات ترک نہ کردیا ہو!

غم اور چارہ گری
یہ غم اسے پیدا ہوا، جو دنیا کو غم سے نجات پانے کا راستہ دکھانے آیا تھا، ادھر اس فکر و غم کا پیدا ہونا تھا، کہ ادھر عالم قدس میں جنبش پیدا ہوگئی۔ غم اگر بندہ کو ہوا تو بندہ کا مالک تو غم کے دور کرنے سے عاجز نہ تھا۔
اضطراب اگر پیکر خاک کو ہوا، تو تسکین کا نسخہ جان پاک سے تو کچھ دور نہ تھا۔ نورانیوں کے سردار اور قدوسیوں کے پیشوا، جبریل امین خدمت سفارت پر مامور ہوتے ہیں، اور ہفت افلاک کی منزلیں طے کرکے تسلی و تشفی کا صحیفہ لے کر کسی کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں کہ غم و اضطراب کی کیا بات ہے۔

وَالضُّحیٰ
دن نکل آیا۔ ہدایت و نورانیت کا آفتاب طلوع ہوچکا۔ بشارت ہو کہ اس آفتاب کی کرنیں پھوٹ چکیں، اس کا اجالا گھر گھر پھیل چکا، وہ رب رحیم جو عالم کے جسمانی نشو و نما اور حیات مادی کی تکمیل کے لیے روزانہ آفتاب کو چمکاتا رہتا ہے، کیا انسان کی ربوبیت روحانی کے لیے آفتاب ہدایت کی روشنی نہ پھیلاتا؟ پس ہر روز آفتاب کے اجالے کا ظہور خود تیرے منبع نور ہدایت ہونے پر، تیری صداقت پر، اور تیری رسالت پر گواہ ہے اور محض شعاعوں والا دن ہی نہیں، بلکہ سکون والی رات،۲وہ رات جس کا کام’’وَاللَّیْلِ إِذَا سَجَی‘‘ سکون دینا ہوتا ہے۔ وقت کا وہ تاریک حصہ جس میں ساری جان دار مخلوق سکون و آرام کرلیتی ہے، وہ بھی تیری ہی سچائی کا ایک نشان ہے۔ جو حکیم مطلق جانداروں کے آرام و آسائش کے لیے یہ وقت نکالتا ہے، وہ انسان کی راحت اور روحانی سکون کا سامان نہ کرے گا؟
آفتاب کا ظہور اور رات کا سکون، بجائے خود اس کے گواہ ہیں، اور زبان حال سے مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلیٰ اس پر شہادت دے رہے ہیں کہ اے خلق کے غم خوار! تیرے رب نے نہ تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ تجھ سے ناخوش ہے، یہ تیرے منکر اور تیرے حاسد اپنی بے بصری سے جو رائے تیرے متعلق چاہیں قائم کریں مگر یہ کہیں ممکن ہے کہ جس نے تجھے خلعت رسالت سے سرفراز کیا ہے، وہ تجھے چھوڑ دے، یا تجھ سے ناخوش ہوجائے۔ وہ تو تیرا ’’رب‘‘ ہے، اس کی نسبت ربوبیت کا تو عین تقاضا ہے کہ وہ تیری تربیت کرتا رہے اور جس غرض سے اس نے تجھے اپنا پیامبر بناکر بھیجا ہے، اس کی تکمیل کے لیے لازمی ہے کہ وہ تیرے اوپر اپنی مسلسل و غیر منقطع رحمتوں کی بارش جاری رکھے، نافہموں نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ تیرے پروردگار نے تجھے چھوڑدیا ہے اور تجھ سے ناخوش ہوگیا ہے۔ چھوڑ دینا اور ناخوش ہونا تو الگ رہا، تیرے رب کی تو تیرے حال پر اس درجہ شفقت و مرحمت ہے کہ وَلَلْآخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْأُوْلَیتیرے لیے تو ترقی ہی ترقی ہے، تیری آخرت تیری دنیا سے کہیں بڑھ کر اور تیری ہر پچھلی حالت تیری ہر پہلی حالت سے کہیں بڑھ چڑھ کر رہے گی۔ آخرت کا حال تو جب معلوم ہوگا، لیکن اسی دنیا میں فتح و نصرت تو تجھے ابھی حاصل ہوتی ہے، آج جو تجھے ذلیل و خوار کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں، کل وہ خود ذلیل و خوار ہوں گے۔ آج جو تجھے ستانا چاہتے ہیں کل وہ خود اسی مادی دنیا میں مٹ کر رہیں گے۔ مکہ تیرا ہوگا، مدینہ تیرا ہوگا، طائف کا سبزہ زار تیرا کلمہ پڑھے گا، خیبر کا قلعہ تیرے سپاہیوں کے نعرۂ تکبیر سے گونجے گا، تیرا جاہ و جلال ہر لحظہ، ہر آن ترقی کرے گا اور تو ہی اپنی بے چارگی و بے سر و سامانی کے ساتھ سارے ساز و سامان والوں، سارے قوت و جبروت والوں پر غالب ہوکر رہے گا، یہ بدبخت اور کورباطن تجھے ہماری رحمت اور ہمارے قرب سے دور سمجھ رہے ہیں، تو تُو ہم سے اتنا نزدیک اور ہمیں اتنا عزیز، اتنا محبوب، اتنا پیارا ہے کہ ہماری رضا عین تیری رضا میں ہے۔ تجھ پر ہمارے لطف و کرم کی اس درجہ بارش وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰہے کہ تو خود ہمارے الطاف بے کراں سے سیر اور مطمئن ہوجائے گا، تیری طبیعت خود ہمارے عطایائے پیہم سے آسودہ ہوجائے گی تو جو مانگے گا ملے گا۔ تیری جو خوشی ہوگی پوری ہوگی۔ یہاں بھی اور وہاں بھی، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، آج بھی اور کل بھی۔ یہ عطائیں اور بخششیں تیرے ’’رب‘‘ کی طرف سے ہوں گی۔ اس کی ربوبیت تجھے پورے منتہائے کمال تک پہنچاکر رہے گی اور کمالات میں دنیا کے کمال بھی شامل ہیں اور آخرت کے بھی۔ ’’آج‘‘ عطاء و بخشش کا مشاہدہ یوں ہوگا کہ تیرے گنے چنے مفلس مرید اور فاقہ مست شاگرد اپنے سے دس گنے اور بیس گنے اور سو گنے سورماؤں پر، بڑے بڑے جتھے اور سرمایہ والے سرداروں پر غالب آئیں گے۔ مکہ کو فتح کریں گے، مدینہ پر حکومت کریں گے، یمن کو زیر کریں گے، عراق پر اپنا علم نصب کریں گے، مصر کو اپنا کلمہ پڑھائیں گے، قیصر کے قصر، جہاں داری کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے، ایران کے پایۂ تخت کو ہلاکر رکھ دیں گے، اور ’’کل‘‘ تیرے کمالات کا ظہور اس رنگ میں ہوگا کہ جس وقت ابرار و اخیار، لرزاں و ترساں ہوں گے، جس دم بڑے سے بڑے مقربین اپنے لیے تھرا رہے ہوں گے، جس گھڑی موسی کلیمؑ و عیسیٰ ؑ مسیح تک کی زبانوں پر نفسی نفسی ہوگا، اس آن اور اس گھڑی لوائے حمد تیرے ہی ہاتھ میں ہوگا، اس وقت تیری ہی سنی جائے گی، اس وقت تیری ہی مانی جائے گی اور اس وقت تجھی کو یہ حق حاصل ہوگا کہ آپ تو آپ، اپنوں میں سے، اپنے کہلانے والوں میں جتنوں کو چاہے گا…. اور تو ان میں سے کس کو نہ چاہے گا؟ تو اپنے والوں پر ’’حریص‘‘ بھی ہے اور ’’رؤف‘‘ بھی اور ’’رحیم‘‘ بھی حَرِیْصٌ عَلَیْْکُم بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَ٫ُوْفٌ رَّحِیْمٌ
سب کو اپنے ساتھ لگالے گا، آگ سے نکال لے گا، قہر و غضب سے بچالے گا۔ ۳
اور یہ وعدے اور یہ بشارتیں تو خیر آئندہ کے لیے ہیں، انہیں دیکھنے کے لیے پھر بھی کسی قدر پیش بینی اور نور بصیرت کی ضرورت ہے، یہ منکر اور حاسد تو اتنے اندھے ہیں اور بصارت سے اس حد تک محروم ہوچکے ہیں کہ اب تک جو کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا ہے، وہ بھی انہیں نہیں سوجھ پڑتا! اب تک اے پیمبر! جو معاملہ تیرے ساتھ رہا ہے، وہ بجز محبوبیوں کے کسی اور کے ساتھ بھی رہ سکتا ہے؟ کیا ان بے بصروں نے یہ نہیں دیکھا أَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْماً فَآوَیکہ اس عالم ناسوت میں تیری آمد کس بے کسی اور کیسی بے چارگی کی فضا میں ہوئی تھی؟ دنیا بھر میں تعلیم و تربیت، پرورش و پرداخت کا اصلی ذریعہ باپ ہوتا ہے۔ تیرے پیدا ہوتے ہی تیرے لیے یہ سہارا توڑ دیا گیا تھا۔ باپ کے بعد پھر بے غرض خدمت کرنے والی ہستی ماں کی ہوتی ہے، چند ہی روز بعد تجھے اس کے آغوش سے بھی جدا کردیا گیا تھا۔ لے دے کے ایک سہارا دادا جان کا تھا، لیکن قبل اس کے، کہ تیرا بچپن ختم ہو، یہ سایہ بھی تیرے سر سے اٹھالیا! اب تو تھا اور تیری یتیمی، تو تھا اور تیری بے کسی! نہ گھرانا کوئی خوش حال، نہ تعلیم و تربیت کا کوئی سامان! پھر آخر بجز ہماری ربوبیت کے کس نے تیرا ہاتھ پکڑا ہے، بجز ہماری رحمت کاملہ کے کس نے تیری دست گیری کی؟ کس نے تیرے سر پر ہاتھ رکھا، کس نے تجھے ہر خطرہ سے بچایا؟ کس نے قدم قدم پر تیری حفاظت کی؟ کس نے تیری صورت، تیری سیرت، تیری صحت اور تیرے اخلاق کو ایسا سنوارا کہ تیرے ظاہر پر شہزادے اور امیر زادے، تیرے باطن پر حکماء و درویش رشک کرنے لگے؟ دشمنوں سے کس نے بچایا؟ ابولہب کی تلوار اور ابوجہل کے نیزے کو کس نے تجھ سے دور رکھا؟ پھر یہی نہیں بلکہ وَوَجَدَکَ ضَالّاً فَہَدَی تو بے تعلیم اور حرف ناشناس، جو خدمت خلق کی دھن میں، راہ نجات کی تلاش میں، تزکیۂ باطن کے فراق میں، غافل و بے خبر ادھر سے ادھر سرگرداں پھرا کرتا تھا،۴ کس نے تجھے بغیر کسی درس گاہ و کتب خانہ کی مدد کے، بغیر کسی مرشد و استاد کی وساطت کے، اپنی صاف اور روشن راہ دکھا دی؟ کس نے علوم لدنی کے صحیفے تیرے لیے کھول دیے؟ کس نے تیرے قلب کا پردہ روشن کردیا جو اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی پر روشن نہیں ہوا تھا؟ یہ اگر ہماری ربوبیت کاملہ کا کرشمہ نہیں تو اور کیا ہوسکتا تھا؟ اور اسی طرح وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنَی تو جو ہر طرح پر محتاج تھا؟ تجھے تونگر و مستغنی کس نے بنادیا؟ کیا بجز ہماری رحمت کاملہ و ربوبیت مطلقہ کے کوئی اور شے تھی، جس نے خدیجۃ الکبریؓ کی خوش حالی میں تجھے شریک بنادیا، جس نے متمول صحابۂ مہاجرین کی دولتیں تیری نذر کرادیں؟ تیرا قلب تڑپ رہا تھا کہ دنیا میں توحید باری کیوں کر قائم کی جائے، تیرے قلب کو اس کے دلائل سے بھردیا گیا، تیرے نفس کے فقر کو غنا ۵سے تبدیل کردیا گیا! تو خود اپنی مغفرت و نجات کی فکر میں ۶ہم نے تجھے خود تیری ہی نجات کی طرف سے بے فکر نہیں کردیا، بلکہ دنیا جہاں کے رہبروں کا سردار اور رہنماؤں کا پیشوا بنادیا گیا۔ یہ معاملات اگر خاص محبوبوں کے ساتھ نہیں تو کیا کسی اور کسی کے ساتھ ہوسکتے ہیں؟ بے بصر منکروں اور حاسدوں کو مستقبل نہ سہی، ماضی میں بھی تیرے مرتبہ قرب کی یہ کھلی ہوئی نشانیاں نہ دکھائی پڑیں؟
یہ مرتبہ محبوبیت سارے عالم کے محبوبوں میں سے کسی کو حاصل ہوا ہے؟ پھر یہ مراتب محبوبیت اب بھی ختم نہیں ہوتے، محبوبوں کی ذات ہی نہیں، ان کی ایک ایک صفت محبوب ہوتی ہے۔ ان کا ایک ایک وصف، محبت کی کائنات میں کیا کچھ درجہ رکھتا ہے! تو ’’یتیم‘‘ تھا، لے آج سے ہم کو خود یہ صفت یتیمی محبوب ہوگئی ہے، فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ آج سے کسی یتیم کے ساتھ سختی، بدسلوکی، بے مہری، بے اعتنائی ہمیں گوارا نہیں۔ جو یتیم سے بے مہری کرے گا، خود اس کے ساتھ بے مہری کی جائے گی، جو یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ نہ پھیرے گا، وہ خود شفقت و رحمت سے محروم رہے گا، جس کے دل میں یتیم کا درد نہ ہوگا، اس بے درد کے ساتھ بھی درد مندی نہ برتی جائے گی۔ یہ اعلان ہماری کتاب میں ہمیشہ کے لیے کیا جارہا ہے۔ ہماری کتاب یتیمی کی قدر و منزلت کی گواہ رہے گی اور ہمارا دین یتیموں کے حقوق کا محافظ ہوگیا۔ تو بہت دنوں تک راہ کی تلاش میں سرگرداں رہا تھا، تو بہت روز تک اپنی تشفی کے لیے سائل بنا رہا، تو نے بہت زمانہ بہ حیثیت سوالی کے بسر کیا، اس کی یادگار میں وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْہَرْ یہ اعلان عام کیا جاتا ہے کہ سائل کی عزت کے ہم نگران ہیں۔ سوال کرنے والا ہرگز سختی و درشتی کے برتاؤ کا مستحق نہیں۔ بلکہ نرمی، آشتی و شیریں زبانی اس کا حق ہے، اور وہ راہِ ہدایت کا سرگرداں، حق کی راہ میں ہر نکلنے والا، علم صحیح ۷ کی تلاش میں ہر قدم رکھنے والا اس کا مستحق ہے کہ اس کی تشفی کی جائے۔ آج سے ہماری آسمانی کتاب زمین والوں کو حکم دیتی ہے کہ سوالی کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آئیں۔ آخر ہر سائل کو عرب کے ’’سائل‘‘ اعظم سے کچھ نسبت ومناسبت تو بہر حال حاصل ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم نے تجھے محتاج اور بدرجۂ غایت محتاج پایا تھا۔ جس درجہ کی یہ محتاجی تھی، اسی درجہ کا غنا، ہم نے اپنی عطا و بخشش سے مرحمت فرمایا، وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ اس دولت کا نام، دولت نبوت و قرآن ہے۔ ہماری یہ نعمت چھپا کر رکھنے کی نہیں، خوب لٹانے اور تقسیم کرنے کی ہے۔ پس جہاں تک ممکن ہو، اس دولت کو لٹاؤ، اس نعمت کا فیض عام جاری کرو، اور اس چشمہ رحمت سے ایک ایک کو مستفیض کرتے رہو۔
مکہ کے بے بس و بے کس یتیم، غار حرا میں مراقبہ کرنے والے گوشہ نشین! دیکھ لی تیرے مرتبہ کی بلندی دیکھ لی، تیری شان محبوبیت کا نظارہ کرلیا! خادموں اور غلاموں ہی نے نہیں، منکروں اور حاسدوں، بدباطنوں، اور کورچشموں تک نے تیرے آفتاب اقبال کی چمک دمک دیکھ لی، جو تجھ سے ٹکرایا، مٹادیا گیا۔ توڑ دیا گیا، پاش پاش کردیا گیا، جو تیرے سامنے جھکا، نوازا گیا، سرفراز ہوا، اپنی مراد کو پہنچا۔ ابوجہل اور فرزندِ خطاب ٗ دونوں تیرے حق میں یکساں تھے۔ ابو جہل نے تجھ سے دشمنی کی، اپنے آپ سے دشمنی کرلی! عقل و دانش، نیک نامی و اقبال مندی، آفتاب و ماہتاب، زمین و آسمان سب اس کے دشمن ہو گئے! فرزند خطاب نے اپنا سر تیرے آگے جھکادیا، سب اس کے آگے جھک گئے۔ خزانے جھکے، فوج و لشکر جھکے، اقبال و چشم جھکا، ناموری و اقبال مندی جھکی، شام و ایران، مصر و عراق کے تخت و تاج جھکے، ایک عالم کا عالم صولتِ فاروقی کے آگے جھک گیا۔

۱عام اہل تفسیر نے صرف اس قدر لکھا ہے کہ حضورؐ کی انگلی میں چوٹ آگئی تھی لیکن ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالہ سے بروایت حضرت جندبؓ صاف لکھا ہے کہ حضورؐ کی انگلی پتھر سے زخمی ہوگئی تھی، اور اس زخمی کیے جانے کی تائید اس شعر سے بھی ہوتی ہے جو آپ نے اس وقت پڑھا، جس میں آپ نے اپنی انگلی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تو اللہ کی راہ میں لہو لہان ہوئی ہے اور جسے اکثر مفسرین نے نقل کیا ہے۔
۲سجیٰ کے معنی میں اہل تفسیر مختلف ہیں، لیکن ابن زید سے اس کے معنی سکون ہی مروی ہیں۔ (تفسیر ابن جریر اور راغب نے بھی سجی کے معنی سکون ہی لیے ہیں۔
۳عموماً مفسرین نے آیت کے معنی یہ لیے ہیں کہ تیری عاقبت، تیری دنیا سے بہتر ہوگی لیکن ابن عطیہ اور ایک گروہ مفسرین اس جانب بھی گیا ہے کہ بہتر حالت کا تعلق، اس دنیا سے ہے یعنی نزول سورۃ کے وقت جو حالت ہے، اس سے کہیں بڑھ کر آئندہ ہوگی اور فتح و نصرت حاصل ہوگی۔ ’’ویحتمل أن یرید حالتہ قبل نزول السورۃ و بعدھا وعدہ تعالی بالنصر وانظفر قال ابن عطیۃ‘‘ ….البحر المحیط، ابن حیان…. قاضی بیضاوی نے اس سے زیادہ تصریح کے ساتھ دنیوی ترقی و کمالات کو اس میں شامل کیا ہے۔ نہایۃ ’’أمرک خیر من ہدایتہ فانہ صلی اﷲ علیہ وسلم لا یزال یتصاعد فی الرفعۃ والکمال أی وعد شامل لما أعطاہ من کمال النفس وظہور الأمر واعلاء الدین ولما ادخر ما یعرف کہنہ سواہ‘‘ ….بیضاوی…. قیل ولسوف یعطیک ربک من الثواب وقیل من النصر وکثرۃ المؤمنین فترضی۔ ….بغوی…. وحمل الآیۃ علی ظاہرھا من خیر الدنیا والآخرۃ معا ادنی۔ الخ ….خازن…. والأولی ان ھذا موعد شامل کما أعطاہ فی الدنیا من الظفر ولما أدخر لہ من الثواب۔ ….ابن حیان….
۴ووجدک ضالا فہدی؛ أی غیر مہتد لما سبق الیک من النبوۃ۔….راغب…. قال الحسن والضحاک وابن کیسان ووجدک ضالا عن معالم النبوۃ وأحکام الشریعۃ غافلا عنہا فہداک الیہا۔ ۔۔بیضویؒ۔۔۔
۵ووجدک عائلا فأغنی أی أزال عنک فقر النفس وجعل لک الغنی الأکبر۔ ….راغب و تاج العروس….
۶ووجدک فقیرا الی رحمۃ اﷲ وعفوہ فأغناک بمغفرۃ لک ما تقدم من ذنبک وما تأخر۔ ….راغب و تاج العروس….
۷السوال؛ استدعاء معرفۃ أو ما یؤدی الی المعرفۃ۔ ….راغب…. قال ابو الدرداء والحسن وغیرھما السائل ہو السائل عن العلم والدین والاسائل المال۔ ….بحر المحیط…. وروی عن الحسن فی قولہ؛ وأما السائل فلا تنہر، قال طالب علم۔ ….معالم التنزیل، بغوی…. السائل طالب العلم فیجب احکام مطلوبہ۔ ….خازن…. قال العلماء؛ أما أنا لیس بالسائل ولکن طالب العلم۔ ….نیشاپوری….

x

Check Also

وہ شب گزیدہ سحر۔۔۔ تحریر: آصف جیلانی

میں نے آنکھ مسلم قوم پرست تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ...