بنیادی صفحہ / مضامین / مردوں کی مسیحائی۔05۔۔ ذکر رسول کی بلندی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

مردوں کی مسیحائی۔05۔۔ ذکر رسول کی بلندی۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ

ذکر رسولؐ کی بلندی

مثل آفتاب خادموں کا سرمایہ ناز

    کروڑوں تو شاید لیکن لکھوکھا بندے اللہ کے یقینا ایسے ملیں گے جو اپنی نجات اور اپنی عقبیٰ شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی ذات سے وابستہ سمجھ رہے ہیں اور آج ہی نہیں،سینکڑوں برس سے سمجھتے چلے آرہے ہیں۔ عقیدہ کی صحت و غلطی سے یہاں بحث نہیں، مقصود نفس واقعہ کا اظہار ہے، ان کی زبانوں پر نام ہے تو غوث اعظمؓ کا اور دلوں میں اعتقاد ہے تو محبوب سبحانی کا لیکن ذرا سوچ کر بتائیے کہ شیخ اور ان کے سارے پیش رو اور پس رو، حسن بصریؒ اور جنید بغدادیؒ، خواجہ اجمیریؒ اور سید احمد سرہندیؒ، نظام الدین اور علاء الدین صابر کلیریؒ نازاں کس شے پر ہیں؟ اپنی سروری و سرداری پر، یا عرب کے اُمی کی غلامی اور مکہ کے یتیم کی چاکری پر؟ اللہ اللہ! جو خود لاکھوں کے سردار اور کروڑوں کے پیشوا، انہیں اگر فخر ہے تو صرف اس کا کہ کسی آستان پاک کے جاروب کش ہیں اور بس! — دنیا میں اب تک بڑے بڑے جوگی اور رشی راہب اور اہل ریاضت گزرے ہیں، یہ امتیاز اور یہ اعزاز کسی اور کے حصہ میں آیا ہے؟ کسی کے خادموں میں بھی ایسے ایسے آفتاب اور ماہتاب، اور وہ بھی اس کثرت سے ہوئے ہیں؟

بے نظیر خدمت اور خادم

          امام بخاریؒ کے مرتبہ و عظمت سے کون ناواقف ہے۔ ان کی کاوش و تحقیق کی نظیر کسی ملک، کسی قوم میں ملتی ہے؟ پھر انہوں نے اور انہیں کی راہ پر دوسرے صدہا چلنے والوں نے، امام مسلمؒ نے، امام مالکؒ نے، امام ابوداؤدؒ نے، امام ترمذیؒ نے، امام نسائیؒ نے اپنی ساری ساری عمریں کس شغل کی نذر کردیں؟ محض ایک اُمی ہی کے اعمال و اقوال کے جمع کرنے میں! اور عسقلانیؒ اور عینیؒ، قسطلانیؒ اور طیبیؒ، سخاویؒ اور شوکانیؒ، قاضیؒ اور نوویؒ اور ان جیسے سینکڑوں دوسروں نے اپنی زندگیوں کو کس چیز کے لیے وقف کر رکھا ہے؟ اسی اُمی کے اقوال کی شرح و تفسیر، اور اس کی جانب منسوب الفاظ کی تنقیح و تنقید کے لیے! ابن جوزیؒ اور ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ، ان کی ساری زندگیوں کی تحقیق و تدقیق کا خلاصہ کیا ہے؟ بس اسی قدر نا کہ فلاں فلاں بدعتیں اس اُمی کی سنت کے مخالف ہیں اور فلاں فلاں اقوال اس کی جانب منسوب کرنا اس پر افتراء کرنا ہے۔ اس پردہ عالم پر ایک سے بڑھ کر ایک عالم و فاضل، حکیم و فلسفی، ادیب و مہندس پیدا ہوچکے ہیں، دنیا نے اب تک ان میں سے کسی کے ساتھ، اس کا نصف بھی اعتنا کیا ہے؟ کسی افلاطون، کسی سقراط، کسی ارسطو، کسی نیوٹن، کسی کینٹ، کسی ڈارون کے اقوال و ملفوظات اس کاوش کے ساتھ جمع کیے گیے ہیں؟ کسی کا ایک ایک فقرہ، ایک ایک قول، ایک ایک لفظ اتنی سخت جرح اور ایسی ایسی موشگافیوں کے بعد، پاکوں کے واسطہ سے اور سچوں کی شہادت سے یوں سلسلہ بہ سلسلہ منقول ہوکر پہنچا ہے؟

نقوش سیرت کی حفاظت

          ابن اسحاق اور ابن ہشام، سہیلی اور زرقانی، ابن سعد اور قاضی عیاض دمیاطی اور مغلطائی اور ان کے صدہا شاگردوں اور رفیقوں کے ضخیم مجلدات آپ کی نظر سے اگر نہیں گزرے نہ سہی، ان کے ناموں کی شہرت تو یقینا آپ کے کانوں تک پہنچ چکی ہوگی۔ ان کا مشغلہ زندگی کیا رہا؟ یہ کاہے میں جیے اور کاہے میں مرے؟ اُسی اُمی معلم کائنات کی سیرت کا ایک ایک گوشہ محفوظ رکھنے میں، اس کی کتاب زندگی کی ایک ایک سطر حفظ کرنے میں اور محض یہی نہیں ’’روشن خیال‘‘ میور اور ’’علم دوست‘‘ مارگولینس ’’تحقیق پسند‘‘ کارلائل اور ’’حقیقت طراز‘‘ ولہاؤسن کو کس کے سوانح نویسوں کی صف میں شمار ہونے کی آرزو بے قرار کیے ہوئے ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے گردن کش بادشاہ اور تاج دار ہوچکے ہیں، کسی کی سیرت، اس تحقیق اور اس جزئی تفصیل کے ساتھ تاریخ کے صفحات میں کہیں بھی ملے گی؟ کسی فرعون، کسی نپولین، کسی سکندر، کسی زار، کسی قیصر، کسی دارا، کسی فغفور، کسی سلطان، کسی مہاراجہ، کسی ہزمجسٹی کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا، سونا، جاگنا، کھانا، پینا، ہنسنا، رونا، لیٹنا، بولنا، اس جامعیت، اس استقصاء، اس تاریخیت اور اس اہتمام کے ساتھ کاغذ کے نقوش پر آج تک منتقل ہوسکا ہے؟

اُمی کی شریعت کے شارح، اس کی وسعت

          امام ابوحنیفہؒ کے نام سے بچہ بچہ واقف ہے۔ کون دل ہے جو آپ کی عظمت سے خالی ہے؟ آپ خود الگ رہے، ان کے شاگرد، بلکہ ان شاگردوں کے شاگرد، اس پایہ کے تھے کہ معاصرین نے انہیں امام وقت تسلیم کیا لیکن خود یہ امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ اور امام مالکؒ اور امام احمدؒ اور ان کے احباب و رفقاء و تلامذہ، سفیان ثوریؒ اور اوزاعیؒ، ابویوسفؒ اور محمدؒ، زفرؒ اور حسنؒ، حمادؒ اور مزنیؒ، طحاویؒ اور سرخسیؒ اور صدہا ہزارہا فقہاء جو اب تک ہوچکے ہیں، یہ آخر گروہ در گروہ، انبوہ در انبوہ کرتے کیا رہے ہیں؟ اسی اَن پڑھ کے لائے ہوئے قانون کی شرح و تفسیر، اور اسی حرف ناشناس کی بتائی ہوئی شریعت کے فروغ کا حل اور جزئیات احکام کا استنباط، دنیا میں آخر اور بڑے بڑے امیر، وزیر، قانون ساز، قانون گر، مدبرین سلطنت گزرے ہیں، کیا ان میں سے کسی کو ایسے اور اتنے شارحین نصیب ہوئے ہیں؟ یونان، ہندوستان، مصر وغیرہ کو چھوڑیئے، روم کو لیجیے کہ اس کا ’’رومن لا‘‘ آج خدا معلوم کتنے دماغوں کو مرعوب کیے ہوئے ہے۔ جو بسط و وسعت اسلامی فقہ کو حاصل ہے۔ ’’رومن لا‘‘ غریب کو اس کا عشر عشیر بھی تو نصیب نہیں ہے۔

نعت گو شعراء

          مثنوی شریف آج بھی کتنے دلوں کو مست کیے اور کتنی محفلوں کو گرمائے ہوئے ہے، یہ مولانائے رومی اور خواجہ حافظ، سعدی شیرازی اور نظامی گنجوی، خسرو اور جامی، سنائی اور عطار، صدیوں سے کس کے نام پر سر دُھن رہے ہیں؟ کس کے پیام کی ترجمانی کر رہے ہیں؟ کس بڑے کا سہارا پکڑ کر خود بھی بڑے بن چکے ہیں؟ وہی بادیہ عرب کا بوریہ نشین، جو شاید شعر موزوں پڑھ بھی نہیں سکتا تھا اور جس کے لیے شاعری موجب فخر نہیں، باعث ننگ تھی۔ {وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ} دنیا کے بڑے سے بڑے شاعروں نے آج تک کس کا اس طرح استقبال کیا ہے؟ کس بادشاہ کی شان میں اس عقیدت قلب کے ساتھ، اس ارادت و خلوص کے ساتھ، اس سوز و گداز کے ساتھ قصائد لکھے ہیں؟ کسے یوں بے تاب ہو ہو کر پکارا ہے؟ ہومر کے، امرؤ القیس کے، فردوسی کے، والمیک کے، شیکسپیئر کے، ملٹن کے، گوئٹے کے، کالیداس کے، کسی خطہ اور کسی زمانہ کے شاعر کے نام کو، پیام کو، کلام کو، یہ مقبولیت، یہ مرتبہ نہ سہی، اس کا آدھا، چوتھائی، دسواں حصہ نصیب ہوا ہے؟

کس شمع کے پروانے تھے

          عمر فاروقؓ اور علی مرتضیؓ کے نام سے کیسے کیسے سورماؤں کے کلیجے دہل دہل کر رہے، خالد سیف اللہ کی شمشیر اور ابن عاصؓ کی تدبیروں نے پتھروں کو پانی کرکے بہادیا، لیکن یہ سب خود، کس شمع کے پروانے تھے؟ کس کے آستانہ پر جبیں سائی سے رفعتیں اور بلندیاں حاصل کرتے رہے؟ ہارون اور مامون، سلجوق اور ویلم، غزنوی و غوری، تیمور و بایزید، عثمان و سلیم، طارق و قاسم، لودھی و خلجی، تیمور و بابر، ہمایوں و جہانگیر، شاہ جہاں و اورنگ زیب، کس کی خاک بوسی کو، سدا اپنے لیے معراج کمال اور وسیلہ نجات سمجھے؟ دکن کا موجودہ صاحب سریر کس کے اشتیاق و تمنا میں گرم آنسو بہاتا اور سرد آہیں بھرتا رہتا ہے؟ بے سر و سامان ریفیوں نے کس کے دین کی غیرت میں اسپین اور فرانس دو دو سلطنتوں کا چیلنج قبول کرلیا؟ انور نے کس کی امت کی خاطر جان تک نذر کردی، محمود الحسن کو کس کے نام کی عزت و ناموس نے در در پھرایا؟ گھر سے بے گھر کرایا، نظر بند کرایا؟ محمد علی کس کی امت کے غم میں دیوانہ وار جلا وطن ہوا، نظر بند ہوا، جیل میں کئی کئی سال کاٹے؟ سب کے جواب میں ایک بار پھر اسی عبد اللہ کے لخت جگر اور آمنہ کے نور نظر کا نام لیا جائے گا، یا کسی اور کا؟

بے نظیر علم کلام کس کے پیام کے لیے

          غزالیؒ کی تصانیف پر خود انہیں رشک آآگیا ہے، جن پر ہم آپ دن رات رشک کرتے رہتے ہیں۔ بہ قول جارج ہنری ایٹس (صاحب تاریخ فلسفہ) کے، اگر غزالی کی تصانیف کا ڈیکارٹ کے وقت تک ترجمہ ہوگیا ہوتا، تو لوگ ڈیکارٹ کے فلسفہ کو غزالی کا سرقہ ہی سمجھتے۔ یہ غزالی اور ان کے آثار قدم پر چلنے والے، شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ وغیرہم نے علم اسرار الدین اور معالجہ امراض نفسانی پر جو دفتر کے دفتر تیار کردیے ہیں، ان کا حاصل اور لب لباب کیا ہے؟ بس اسی نبی اُمی کے لائے اور پھیلائے ہوئے دین کی حمایت و نصرت اور اس کی تبلیغ و ترویج۔ ابو الحسن اشعری اور ابوبکر باقلانی، رازی اور آمدی، نسفی اور جرجانی نے عقائد و کلام میں تصانیف کا جو انبار لگادیا اور ان کے جانشین جس طرح ہر دور میں پیدا ہوتے رہے، یہاں تک کہ آج چودہویں صدی ہجری کے وسط میں بھی جو کام ہورہا ہے، اس پایہ کا علم کلام کسی شخصیت کے ارد گرد پیدا ہوسکا ہے؟ کون سی تاریخی ہستی اتنا زبردست اور اس قدر وسیع کلامی لٹریچر پیدا کرسکتی ہے؟

تفسیر کے میدان میں رجعت

          مفسرین کرام کے نام اور ان کے کارنامے کس پر روشن نہیں؟ تابعین میں ضحاک اور قتادہ، مجاہد اور ابن زید نے معانی قرآن کی جو خدمت کی، اس کا صلہ کس کے امکان میں ہے۔ ابن جریر کے تیس مجلدات کو کون بھول سکتا ہے۔ ابن کثیر کی کاوش و جستجو کی داد کون دے سکتا ہے۔ بیضاوی و زمخشری کی قدر کس کے دل میں نہیں۔ بغوی اور نسفی ابن حیان اور ابو سعود نے اپنی عمریں کس کی خدمت کے لیے وقف کردیں۔ چشم تصور دیکھ رہی ہے کہ یہ سب کے سب، اپنے اپنے مجلدات و اسفار لیے ہوئے، ایک اُمی کی خدمت میں دست بستہ اس کی نگاہِ کرم کے منتظر کھڑے ہوئے ہیں، اور ان کی بڑی سی بڑی آرزو ہے، تو یہ کہ اس کے قدموں پر نثار ہوجائیں!

نحو و لغت، خدمت نبی کی ایک صورت

          نحو و لغت کی طرف آئیے، تو ایک سے بڑھ کر ایک امامِ فن نظر آئیں گے، ایسے کہ جن پر خود فن کو ناز ہے۔ کسائی اور ابوالاسود دوئلی، خلیل اور سیبویہ، ابن مالک اور ابن حاجب، ابن درید و ابن میدہ، زمخشری و مطرزی، جوہری و فیروزآبادی، ابن منظور و زبیدی کسی نے صَرف پر لکھا اور کسی نے نحو پر، کسی نے لغت کو اپنا موضوع رکھا لیکن ان تمام پردوں کے پیچھے، مقصود اصلی سب کا کیا رہا؟ وہی دین کی خدمت، اُمی کے لائے اور بتلائے ہوئے دین کی خدمت! کیا دنیا میں اُمیوں اور اَن پڑھوں کو یہی مرتبے حاصل ہوا کرتے ہیں؟ اُمیوں کو چھوڑئیے، جو زیادہ سے زیادہ پڑھے لکھے گزرے ہیں، کیا ان میں سے کسی کو بھی ایسے شارح، ایسے ایسے خادم نصیب ہوئے ہیں؟ معانی و بیان اور بدیع پر لکھنے والوں کی تعداد، اس فہرست پر مستزاد۔

حکیم اور فلسفی

          سب سے آخر میں فلسفیوں کو لیجیے، فلسفی بھی بھلا کسی کے ہوئے ہیں؟ لیکن یہاں کیا ہے کہ ابن سینا و ابن رشد، طوسی و فارابی، رازی و شیرازی، سب کے سب اسی زلف کے اسیر، سب کی عقیدتوں کے دامن، اُمی کے بندِ نعلین سے وابستہ! کتنے علوم و فنون کے نام گنائے جائیں؟ زندگی کے کن کن شعبوں کو روشنی میں لایا جائے؟ قوت اور صولت کے کن پہلوؤں کو شمار کیا جائے؟ سرداروں اور ناموروں کے نام، شہادت میں کہاں تک پیش کیے جائیں کہ

جملہ ترکانِ جہاں ہندوے تو

مدارس میں ذکر

          مصر کے جامع ازہر اور آزاد اسلامی ممالک کے مدرسوں کو چھوڑیئے، غلام اور بے نوا ہندوستان میں جہاں عربی کے سکہ کا چلن کسی بازار میں بھی نہیں، یہ آخر ندوہ اور دیوبند کے سے عظیم الشان مدارس کس کا نام لیے ہوئے چل رہے ہیں؟ جامعہ ملیہ کس کی امت کی خدمت کی خاطر زندہ ہے؟ علی گڑھ، آزادیوں کے دعوے کے باوجود، کس کے دین و آئین کی پابندیوں پر نازاں ہے؟

 

کس وقت بلندی کا اعلان ہورہا ہے

          ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے قریوں اور موضوعوں، عرب کے ریگستان اور چٹیل میدان، اور افریقہ کے صحراو بیابان سے لے کر، لندن اور پیرس اور برلن کے تمدن زاروں تک، اور ہر روز میں بھی پانچ پانچ بار کس کے نام کی پکار، اللہ کے نام کے ساتھ ساتھ، بلند ہوتی رہتی ہے؟ اپنی ذاتی عقیدت مندی کو الگ رکھیے، محض ایک خالی الذہن اور نا طرف دار تماشائی کی حیثیت سے محض واقعات پر نظر کرکے فرمائیے کہ یہ مرتبہ، یہ اکرام، دنیا کی تاریخ معلوم سے لے کر آج تک کسی ہادی، کسی رہبر، کسی مخلوق کو حاصل ہوا ہے؟ جس بے کس اور بے بس سے، عین اس وقت جب کہ اسے زور اور قوت والے سرداران قریش اپنے خیال میں کچل کر اور پیس کر رکھ چکے تھے، اور اس کا نام و نشان تک مٹاچکے تھے، یہ وعدہ ہوا تھا کہ {وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ} ہم نے تیرے لیے تیرا ذکر بلند کر رکھا ہے۔ اگر آوازہ اس کا بلند نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا؟ نام اس کا سرفراز اور سربلند نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا؟ بلندی ذکر کی یہ وہ تفسیر ہے جو اوراق لیل و نہار پر ساڑھے تیرہ سو برس سے ثبت چلی آرہی ہے، چشم روزگار اسے صدیوں سے پڑھتی چلی آرہی ہے، اور خدا معلوم کب تک اسی طرح پڑھتی رہے گی!

          حشر کے دن عند اللہ، اس بندہ کا جو مرتبہ ہوگا وہ تو ہو ہی گا، اس سے قطع نظر کرکے، ذرا صرف اس مرتبہ کا تصور کیجیے، جو محض اس بلندی ذکر کے لحاظ سے اس روز حاصل ہوگا، فوج کی فوج، انبوہ در انبوہ، ادھر سے ملوک و سلاطین چلے آرہے ہیں، ادھر سے بڑے بڑے نامور جنرل اور سپہ سالار۔ ایک طرف سے محدثین کرام جوق جوق چلے آرہے۔ اور دوسری طرف سے مفسرین عظام۔ اہل فقہ، اہل اصول، اہل کلام، اہل تصوف، اہل لغت، اہل سیر، اہل رجال، اہل نحو، اہل معانی، اہل بیان، اہل فلسفہ، اہل منطق، اہل اخلاق، جس فن کو بھی لیجیے اس کے ائمہ و ماہرین، ادب سے آنکھیں نیچی کیے، ہاتھ باندھے ہوئے خادمانہ انداز سے گرد و پیش حلقہ کیے ہوئے ہیں! ایک اسی انعام کی پوری وسعت کا تصور کس کے بس کی بات ہے؟

 http://www.bhatkallys.com/ur/author/abdulmajid/

 

x

Check Also

سچی باتیں: شیخ عبد القادر جیلانی ؒ اور مقام عبدیت۔۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

1925-10-30 شیخ سعدیؒ کی مشہور ومعروف کتاب گلستاںؔ سے کون واقف نہیں، ...