بنیادی صفحہ / مضامین / سچی باتیں۔۔۔ خوشی منانے کا اسلامی طریقہ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

سچی باتیں۔۔۔ خوشی منانے کا اسلامی طریقہ۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

13/02/1925

اسلامی دنیا میں یہ مہینہ رجب کے نام سے موسوم ہے، ایک ضعیف روایت یہ پھیلی ہوئی ہے کہ رسول خدا ﷺ کی معراج مبارک اسی مہینہ میں ہوئی تھی۔ بہت سے مسلمان اس روایت کو مان کر، اس مہینہ میں طرح طرح کی خوشی کرتے، اور بہت سی رسمیں بجا لاتے ہیں۔ اول تو یہ روایت ہی ثبوت کو نہیں پہنچی ہے، لیکن جو لوگ اس کے ماننے ہی پر زور دے رہے ہیں، ذرا وہ اپنے دل میں سوچیں، کہ اس کے ماننے کے بعد خوشی منانے کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔ آیا وہی جس کے وہ عادی ہیں، یا کچھ اور! ایسا نہ ہو کہ ہم خوشی منانے کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کربیٹھیں، جوہمارے رسولؐ کا ناپسند کیا ہوا، اور ہمارے خدا کی ناخوشی کا باعث ہو۔
خوشی منانے کے دنیا میں بہت سے طریقے ہیں۔ بعض قومیں خوشی کے وقت شراب پیتی ہیں بعض ناچ دیکھتی ہیں،بعض آتشبازی میں اپنا روپیہ پھونکتی ہیں۔ لیکن مسلمان کاکام تو یہ نہیں، کہ ان طریقوں سے اپنی خوشی کو ظاہر کرے، اس لئے کہ ہمارے سچے مذہب نے ان سب صورتوں کو ہمارے لئے منع کردیا ہے۔ دنیا کاتجربہ بھی یہی بتاتاہے کہ ان طریقوں سے نمائشی خوشی چند لمحوں کے لئے ہوجاتی ہے لیکن بعد کو رنج وتکلیف بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اور دل کی فرحت وراحت تو ایک لمحہ کے لئے بھی ان طریقوں سے نہیں ہوتی۔ مسلمان کو اتنا ناسمجھ تو نہ ہونا چاہئے، کہ اس کی ناسمجھی پر دوسری قومیں ہنسیں، اور وہ خود دنیا میں بھی اپنا نقصان کرے، اور آخرت میں بھی اس کو شرمندگی اور پچھتاوا ہو۔
مسلمان کو معراج کا مرتبہ تو خدا کے فضل وکرم سے روزانہ حاصل ہوسکتاہے، اور وہ بھی ایک بار نہیں، کم ازکم پانچ بار۔ اس کی معراج نماز ہے۔ رسول خدا ﷺ کومعراج میں خدا کی حضوری نصیب ہوئی تھی، امت محمدی پر خدائے کریم کی یہ حد سے بڑھی ہوئی مہربانی ہے، کہ اس کے ہر فرد کو دن میں کم ازکم پانچ مرتبہ خدا کے دربارمیں عاجزی کے موقع ہیں۔ پس جو لوگ واقعہ معراج نبویؐ کو اس مہینہ میں مان کر اس کی زیادہ عزت وعظمت کرتے ہیں، انھیں تو واجب ہے کہ اس مہینہ میں وہ خود بھی اس دولت کے حاصل کرنے کی اور زیادہ کوشش کریں، اور نماز کو حضور قلب اور جماعت وطہارت کے ساتھ ادا کرنے میں پوری ہمت ومستعدی کو کام میں لائیں۔ یہی دو طریقہ ہے، جس سے دنیا میں بھی ان کے قلب کو راحت ومسرت حاصل ہوگی، سب بھائی بھائی امن اور چین سے رہیں گے، اور آخرت میں خدا ورسول کی خوشنودی کی دولت ہاتھ آئے گی۔
بہت سے ناواقف بھائی (اور بہنیں) رجب کی پہلی جمعرات کو بہت سی رسمیں بجالاتے ہیں، اس مہینہ کی بعض تاریخوں میں پوریاں پکاکر مٹھائی کے ساتھ ایک خاص مقام پر بیٹھ کر کھانا بڑا ثواب جانتے ہیں، اور بعض راتوں کو روشنی کرکے جلسہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں، یہ ساری باتیں بعض انسانوں نے دوسری قوموں کی دیکھا دیکھی دل سے گڑھ لی ہیں، ان میں سے کوئی شے نہ خدا کی بتائی ہوئی ہے نہ اس کے رسولؐ کی، اور نہ کسی صحابی کی۔ بعض بزرگوں نے اس مہینہ میں چند نمازوں کا خاص ثواب لکھا ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ رائے بھی صحیح نہیں، لیکن اگر صحیح بھی ہو تو بہرحال نمازہی کی فضیلت رہی۔ باقی تیل، بتی، گھی، شکر، میدہ وغیرہ پر روپیہ پھینکنے کا حکم کسی مستند صوفی، کسی سچے فقیر، کسی صاحب دل نے بھی کہیں نہیں دیا ہے۔ مسلمان کا کام یہ ہے کہ بُری رسموں سے دوسروں کو بچائے نہ یہ کہ دوسروں کی بُری رسمیں خود اختیار کرے۔

 

x

Check Also

عظیم معلم، مربی اور اولین معتمد جامعہ ۔ قسط ۰۱- تحریر: عبدالمتین منیری

یہ مضمون ۱۹۷۹ء  میں مولانا عبد الحمید ندوی علیہ الرحمۃ کی  رحلت کے ...