بنیادی صفحہ / مضامین / شکوہ اور جواب شکوہ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

شکوہ اور جواب شکوہ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Print Friendly, PDF & Email

۔(مولانا دریا بادی کا یہ نشریہ ۲۱/اپریل ۱۹۴۳ء کو یوم اقبال کے موقع پر دہلی ریڈیو اسٹیشن سے نشرہوا تھا، موضوع اقبال کی مشہور نظم شکوہ اور جواب شکوہ ہے۔ اس میں دریابادی نے دونوں نظموں کا تجزیہ یا یوں کہیے کہ ان کا خلاصہ پانچ منٹ کے مختصر وقفہ میں اپنے مخصوص اور نہایت عالمانہ انداز میں پیش کیاہے۔ ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی)

"جو زبان خوگرتھی حمد و ثنا شکر و مناجات کی، وہ آخر اک بار گلہ و شکوہ پر کھلی ۔ یا یوں کہیے کہ کھلوائی گئی۔ آقا کا کرم جب خود ناز برداری پر آمادہ ہوجائے تو کون بندہ ہے جو ”نیاز“ کے فرش زمیں کو چھوڑ کر ”ناز“ کی فضا میں نہ اڑنے لگے۔ عبدیت کی دنیا میں سنتے ہیں کہ گریہ یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ساتھ ایک منزل تبسّم سلیمانیؑ کی بھی تو آتی ہے ۔
اقبال کے شکوہ میں (شاعر اس وقت تک شاعر اسلام بن چکا تھا) بندہ اپنے خالق سے گویا روٹھ کرکہتا ہے کہ واہ بیگانوں پر، باغیوں پر، سرکشوں پر تو لطف و نوازش کی یہ بارشیں، اور ہم اہل توحید کی یہ حالت زار، کیا یہی ہماری وفا کیشی کا صلہ ہے؟ یہی ہماری توحید پرستی کا انعام ہے؟
کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی؟
اور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئی؟
کس کی شمشیر جہانگیر جہاندار ہوئی؟
کس کی تکبیر سے دنیا تیری بیدار ہوئی؟
لیکن ”شکوہ“ نام ہی کا شکوہ ہے مضمون وہی حمد و مناجات کا اس لفافہ کے اندربھی موجود ہے۔ ہر طنز میں عبدیت کی چاشنی، ہر گلہ میں توحید پرستی کی شیرینی ۔
اقبال کی اردو شاعری کی شہرت و عظمت کی اصل بنیاد یہی شکوہ ہے ۔خوب چلا خوب پھیلا۔ جو کچھ بھی نہ سمجھے انھوں نے بھی مزے لے لے کر پڑھا اور جو مطلب بالکل الٹا سمجھے انھیں تو اپنی گویا آزاد خیالی کے لیے ایک سند و دستاویز ہاتھ آگئی۔
حکیم ملت کہ ملت کا نباض تھا، قوم کے رگ و ریشہ سے واقف تھا، بھانپ گیا کہ جو آب حیات کا قطرہ تھا وہ شیشوں اور گلاسوں تک پہنچتے پہنچتے زہرکی بوند بن گیا ۔ معاً پلٹا اور شکوہ کے جواب میں ”جواب شکوہ“ کہہ ڈالا۔ جوش و خروش وہی زور بیان وہی۔ البتہ حقائق زائد ۔حقیقتوں کی تعبیرکھلی ہوئی اور صداقتوں کا اظہار فاش و برملا ۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ وہ ”وعدے تومسلموں اور پرستاران توحید کے لیے تھے، تم مسلم اورموحد ہو کب؟ نظر قال پرنہیں اپنے حال پرکرو۔ اپنے اعمال پرکرو۔“
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر از بر ہو
پھر پسر قابل میراث پدر کیوں کر ہو؟
حیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟
عوام اپنے جذبات کی ترجمانی ”شکوہ“ میں زیادہ پاتے ہیں، اس لیے پست مذاق طبقہ آج تک شکوہ پسندی ہی چلا آرہا ہے، حالانکہ ”جواب شکوہ“ کی سطح ”شکوہ“ سے کہیں بلند ہے۔ ”شکوہ “ والا اقبال ایک صاحبِ حال سالک ہے ”جواب شکوہ “ والا اقبال ایک صاحبِ مقام عارف ہے۔ پہلے کے قدم اقلیم کی وادیوں میں ۔ دوسرے کی نگاہ فضائے روح کی بلندیوں میں۔
(منقول: نشریات ماجدی، ترتیب جدید مع تخریج و تحشیہ، مرتبہ زبیر احمد صدیقی، ۲۰۱۶ء)
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*