بنیادی صفحہ / مضامین / مذہب اور قومیت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

مذہب اور قومیت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

یہ تقریرلکھنئوریڈیواسٹیشن سےجولائی1951ءمیں نشرہوئی،اس میں مولانا نے مذہب اورقومیت کے صحیح حدود بڑے توازن کے ساتھ بیان کیے ہیں، اورایک ایسےلائحہ عمل کی طرف نشان دہی کی ہے جس پرچل کربلاکسی تشویش اورذہنی اضطراب کے اچھی زندگی کامیابی سے گذاری جاسکتی ہے۔ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی

——————————————————————————————————————–

"لڑکوں اورنوجوانوں کے لیے توخیرسنی سنائی ہے، لیکن آج کے بڑے بوڑھوں کے لیے 1919ء کی تحریک خلافت وترک موالات آنکھوں دیکھی ہے۔ وہ طوفان وہ ہیجان وہ بحران کہ آج بھلانا چاہیے بھی تودماغ تعمیل سے انکارکردے۔ اک آگ تھی کہ پیشاورسے راس کماری تک اورڈھاکہ سے کراچی تک لگی ہوئی، اورپھروقتی اُبال ہفتہ دوہفتہ کا نہیں زورشورسمجھیے توکوئی تین سال توقائم رہا۔ اب ذراحافظہ پرزورڈال کے یہ بھی یادکرلیجیے کہ تحریک کی باگ ڈورتھی کن ہاتھوں میں؟ گاندھی جی اورعلی برادران کوتوچھوڑیے، کہ ان کے نام تویادکی کوشش کیے بغیرہی نوک زبان ہیں، باقی اوربڑے اورچھوٹے لیڈر۔ایک طرف موتی لال، سی آرداس، راج گوپال آچاریہ، ولبھ بھائی پٹیل، راجندرپرشاد، حکیم اجمل خاں، ڈاکٹرانصاری، اورسیاسی اکھاڑے کے اورنامی پہلوان اوردوسری طرف شیخ الہند محمودالحسن، مولاناعبدالباری فرنگی محلی، مولاناابوالکلام، شری شنکرآچاریہ، اورمذہبی حلقوں کی دوسری جانی پہچانی ہوئی ہستیاں۔ توتحریک ایک طرح پرمذہبی تھی اور ایک پہلو سے سیاسی، زیادہ صحیح طورپریوں کہیے کہ تحریک ایک مجموعہ تھی مذہب اورسیاست کا،ایک کامل نمونہ یا آئیڈیل مذہب اور قومیت کے درمیان توازن کا، اوران لوگوں کاایک مکمل جواب جوذہن میں یہ خیال جمائے بیٹھے ہیں کہ آدمی یاتومذہب کاہوکررہے یاقومیت کا! اس تحریک کے جونتیجے فوری اوربراہ راست نکلے اورجوبالواسطہ اورجودوررس پیداہوئے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔

انسان الجھنے اورجھگڑنے پرآئے تو ہیرے میں بھی کیڑے نکال سکتاہے، اورکوئی سینہ زورجی پررکھ لے تودواوردوکوچارکی جگہ پانچ بھی ثابت کردکھانے کادعویٰ کرسکتاہے، لیکن ہے یہ کہ مذہبیت اوروطنیت کے درمیان کوئی شے آپس میں ٹکرانے کی اورایک دوسرے سے الجھنے الجھانے کی ہے ہی نہیں ۔قوم کی دوستی ہوئی یاملک ووطن کی محبت ،یہ تو ایک جذبہ ہے فطری اورطبعی ،گورے کالے، بڑے چھوٹے، صاحب اور "نیٹو” امیر غریب، بوڑھے بچے سب کے دلوں میں موجزن۔ بلکہ انسان توانسان ہے، سمجھ دارحیوان تک اس سے خالی نہیں۔ کتے کودیکھیے تواپنی گلی کادیوانہ، بلی پرنظرکیجیے تواپنے ٹھکانے کی حریص، گھوڑے پرنگاہ دوڑائیے تواپنے تھان کاعاشق۔ تو یہ توہوئی وطن کے ساتھ، جنم بھومی کے ساتھ مرزبوم کے ساتھ طبعی، فطری، جبلّی محبت۔ اب رہا مذہب تووہ اس سے بالکل الگ نام ہے ایک آئیڈیل کاجس کے ماتحت زندگی کاایک ایک قدم اٹھایاجائے، نام ہے ایک راستہ کاجومخلوق کوخالق سے ملادے اور خاکی کو جنت تک پہونچادے، وہ راستہ جس پرچل کر زندگی کاایک ایک نشیب وفرازایک ایک پیچ وخم، امن اورسلامتی کے ساتھ دل کے سکھ اورچین کے ساتھ بسر ہو، اوریہ دل کاچین ابدی ہو، یہاں کی زندگی ختم ہوجائے اوریہ نہ ختم ہو۔ یہ نوردوسری زندگی میں بھی ساتھ دیے جائے، بلکہ یہاں سے وہاں ہزارہا درجہ بڑھ جائے، توجب دونوں کے یہ حدودمعلوم ہوگئے تواب جھگڑے کاامکان کیارہا۔ زندگی کامرتب وباقاعدہ نظام عمل جس کا نام مذہب ہےاوراس فطری جبلی علاقہ محبت کے درمیان جس کانام جذبہ وطینت ہے تصادم کی ٹکراؤکی صورت ہی کیاہے، بجزا س کے کہ نظر کی کجی یاسرشت کی بدی خودہی حدود ناشناسی سے کام لینے لگے یاغلوپسندی میں مبتلا ہوجائے اور قوم پروری یاوطن دوستی کو مذہب کے مقابلے میں اوراسی کی سطح پرلے آئے۔ اورگویابقول شخصے :

ع   قصورڈھونڈھ کے پیداکیے جفاکے لیے

تویہ قصور تواپنی طبیعت کا اورفتوراپنے نفس کاہوا، نہ کہ مذہب کے محترم ومقدس اصول کا یاوطن دوستی کے پاک وپاکیزہ جذبات کا

اب مذہب بھی جوایسے ہیں جن میں بڑا اورمرکزی درجہ وطن کاہے انھیں تو خیر جانے ہی دیجیے۔ اسلام کولیجیے۔ جومقام ومکان کی قیدسے کہناچاہیے بالکل آزادہی ہے۔ اس تک کایہ حال ہے کہ پیمبرحق یوسف علیہ السلام کواپنے وطن سے جومحبت تھی اوربعض دوسرے پیمبروں کواپناوطن چھوڑنا جیسا شاق گذراہے۔ اس کی رودادسے قرآن کی بین السطور لبریزہے۔ اوریہ حال توجوچاہے سیرت نبوی کی کتابوں میں پڑھ سکتاہے کہ ہمارے رسول پاکﷺ نے جب اپنے پروردگارکے حکم سے اپنے وطن شہرمکہ کوچھوڑاہے تو باربار شہرکی طرف حسرت ومحبت کی نظروں سے دیکھتے جاتے تھے، اوراس کے چھوٹنے کارنج نہ صرف دل سے محسوس فرمارہے تھے بلکہ زبان سے بھی برملا اس کااظہار کررہے تھے۔ اور یہی کیفیت بڑے بڑے پایہ کے صحابیوں یعنی رسولﷺکے معززومقر ب رفیقوں کی ہوئی ہے۔ مسلمان کے عقیدہ میں رسولﷺ کا ہرعمل ایک معیاری عمل ہے اور رسولﷺ کا مزاج ہراعتبارسے توازن واعتدال کا مکمل نمونہ ۔ تووطن کی محبت جب آپ کے قلب مبارک میں رچی ہوئی اورآپ کے خالص ومخلص رفیقوں کی طبیعت میں بسی ہوئی تھی تواب اس میں شک کس کورہ سکتاہے کہ وطن کی محبت ایک نعمت ہے قابل قدر۔ اورجس نے اپنے شہر اور ملک کی دوستی کاحق اداکیا، اس کورسول ﷺاوران کے صحابیوں کے نقش قدم پرچلنے کی دولت خواہ مخواہ ہاتھ آگئی۔

پھرہجرت کاجواعلیٰ درجہ واجرہمارے ہاں رکھاگیاہے وہ خود اس کی دلیل ہے کہ وطن کاچھوڑنا ہرطبع سلیم کوکس قدرگراں گذرتاہے، اوراس کاپاس کس حدتک ہماری شریعت نے رکھاہے۔ ہجرت کرنے والوں کادرجہ بس شہیدوں کے لگ بھگ ہے اور آگے چلیے، شہادت مومن کے لیے موت کی بلند سے بلند شکل کا نام ہے۔ اس کی ایک قسم (وہ قسم ہلکی ہی سہی) ہمارے ہاں یہ بھی بتائی گئی ہے کہ کوئی شخص اپنی ملک وجائداد کی حفاظت میں مارا جائے، اورکون سی ملک وجائداد خود وطن سے بڑھ کر حق رکھنے والی ہوسکتی ہے؟ اس سے بھی آگے بڑھیے خاص قرآن مجیدمیں جہاں ذکرمکّہ کے مظلوم مہاجروں اورشہیدوں کاہے وہاں فضیلت کے موقع پر یہ مضمون بھی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جواپنے گھروں سے نکالے گئے اپنے وطن سے بے وطن کیے گئے۔

غرض وطن سے انس والفت رکھنا ایساہی لازمہ انسانیت وتقاضائے شرافت ہے جیسا بھائی بہن سے محبت کرناعزیزوں پڑوسیوں کادل ہاتھ میں لینا، محلہ والوں سے میل ملاپ کارشتہ جوڑے رکھنا۔ مذہب جب ہرقدرتی جذبہ کااحترام کرتاہے تواس کا کیوں نہ کرتا۔ اس کی فضیلتیں بیان کرکے حبّ وطن رکھنے والوں کے دل بڑھاناہے۔ پڑوسیوں کی خدمت کرنا، محلہ والوں کے دکھ سکھ میں شریک رہنا، فلاح عام کے کاموں میں بستی بھر کا ساتھ دینا، وقت پڑنے پردشمن کے مقابلہ میں ساری بستی والوں کی طرف سے سینہ سپربن جانا، یہ سب مختلف منزلیں وطن دوستی اورقوم پروری کی نہیں تواورکیا ہیں۔ اوران میں سے ہر منزل اپنے اپنے مقام پرایک اجررکھتی ہے۔

کسی فرد کا فلاں ملک یا فلاں قوم میں پیدا ہونا ظاہرہے کہ اس کے ارادہ و اختیار کی چیزنہیں، اس کے لیے تمام ترایک امراتفاقی وغیرارادی ہے۔ مذہب اس کے ٹھیک برعکس ایک عقلی وارادی ادارہ ہے۔ اسے انسان اپنے اختیارسے کام لے کرپسند کرتاہے۔ چاہے توجس مذہب کے اندرپیداہواہے اس پرقائم رہے اورچاہے تواسے چھوڑدے۔ مذہب سوفی صدی ایک مقصدی چیزہے اوراس کی ایک اہم اوربنیادی تعلیم یہ ہے کہ عقیدہ اورکردارکی جن چیزوں پربھی فلاح ونجات کا دارومدار ہے وہ سب کی سب اختیاری ہیں۔ یہ اختیاری احکام اورفرائض کہیں بھی انسان کے جبلّی تقاضوں اورفطری مطالبوں سے آکرنہیں ٹکراتے ۔مذہب کے قانون کی یہ کوئی سی بھی دفعہ نہیں کہ پیاس کے وقت پانی نہ پیاجائے، بھوک کے وقت کھانا نہ کھایا جائے، اورنیندکے وقت سویانہ جائے، سچّامذہب توان فطری جذبات کی اورقدرکرتاہے۔ ان کی پرورش میں لگارہتاہے، اوران کی پاس داری کواپنے نقشہ ہدایات میں ایک ممتاز ومعزز جگہ دیتاہے۔

مذہب سے نیشنلزم کے ٹکراﺅ کی صورت ایک ہے وہ یہ کہ نیشنلزم بے لگام کا گھوڑا، بے نکیل کا اونٹ، بے ڈرائیورکامتحرک انجن بن جائے، اورعقل اعظم کے بجائے اپنے کو زندگی کے ہرشعبہ میں حاکم مطلق بنالیناچاہے۔ اسی جارحانہ (Aggressive) منزل پرآکروہ ہردوسری نیشنلزم سے ٹکرائے گی، اورمذہب سے بھی بے بات کی بات نکال کردست وگریبان ہوگی، اوراس صورت میں وہ دنیا کے امن عامہ کے حق میں بھی ایک مہیب خطرہ بن جائے گی۔ مذہب ایسے موقع پرآکراپنی بالادستی کویاددلائے گا، دنیاکوامن وسلامتی کاسبق دے گا۔ دشمنوں تک کے حق میں عدل کی تعلیم دے گااورانسانیت کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو پھرسے جوڑنے کی کوشش کرے گا۔ برطانیہ کے قدیم فلسفی بیکن کا مقولہ مشہورہے کہ علم و حکمت میں شُدبُد انسانی دماغ کودہریت والحاد کی طرف لیجاتی ہے، لیکن علم وحکمت میں کامل دستگاہ پھرایمان واقرارکی طرف واپس لے آتی ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ غلط وفا سد قسم کی وطنیت مذہب سے آکرٹکرلیتی رہتی ہے۔ لیکن صحیح وصالح قسم کی وطنیت توخودایک عبادت اورجزومذہب ہے، جس کاایک واضح نمونہ ہندوستان ابھی تحریک خلافت وترک موالات کے زمانہ میں دیکھ چکاہے۔ "

٭٭٭

ماخوذ: نشریات ماجدی (ترتیب جدید مع تخریج و تحشیہ) مرتبہ زبیر احمد صدیقی،براون پبلی کیشنز، نئی دہلی، 2016ء

x

Check Also

جب حضور آئے (۵) فضائیں جھوم اٹھیں۔۔۔ احسان بی اے

          "ابھرتے ہوئے سورج کی نرم سنہری شعاعیں لپک لپک کر اور ...