بنیادی صفحہ / مضامین / سچی باتیں۔۔ عید کی خوشیوں کے اصلی حقدار۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی

سچی باتیں۔۔ عید کی خوشیوں کے اصلی حقدار۔۔۔ تحریر : مولانا عبد الماجد دریابادی

Print Friendly, PDF & Email

1927-03-28

عید آرہی ہے۔ آپ کے بچّے (خدا آپ کا سایہ اُن کے سروں پر عرصے تک قائم رکھے) خو ش ہورہے ہیں، کہ نئے نئے رنگین کپڑے پہننے کو ملیں گے، طرح طرح کی مٹھائیاں اور اچھے اچھے کھانے کھانے میں آئیں گے اور عیدگاہ میں نئے نئے کھلونے خرید کریں گے۔ آپ کو اپنے بچوں کی خوشیاں مبارک۔ لیکن یہ بھی کبھی آپ نے سوچاہے، کہ اِن مٹھائیوں اور کھانوں کی لذت کے لَمحوں تک، اور کپڑوں اور کھلونوں کی خوشی کتنی دیر تک قائم رہ سکتی ہے؟ کپڑے مَیلے ہوں گے، کھلونے ٹوٹیں گے، اور مٹھائیاں حلق کے نیچے اُتر جائیں گی۔ اپنے بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھ کر تھوڑی دیر آپ بھی خوش ہولیں گے، لیکن جس طرح تھوڑی ہی دیر کے بعد اُن کی اُداسی یقینی ہے،اُسی طرح آپ کی بھی خوشی ٹھہرنے والی نہیں۔ آپ وہ دائمی خوشی کیوں نہ خرید فرمالیں جسے نہ کبھی زوال ہو، اور نہ جس سے آپ کبھی محروم ہوسکیں؟

آپ کے پڑوس مین ، آپ کے محلہ میں، آپ کی بستی میں، آپ ہی کے بچوں کی طرح دل رکھنے والے اور دلوں میں ارمان وشوق رکھنے والے، کچھ اور بچّے بھی ہیں، جن کے نازبردارماں باپ آج اس عالم میں موجود نہیں، عید اُن کے گھر میں بھی آئی ہے، پر اُن چہرہ اُداس ہیں، اور کوئی وصل اُن کی اُداسی پر کُڑھنے والا نہیں۔ اُن کے دل غمگین ہیں، اور کوئی اُن کی غمگینی کو دور کرنے کی تڑپ اپنے دل میں رکھنے والا نہیں۔ وہ بے والی ووارث ہیں، آ پ ان کی سرپرستی کیجئے۔ وہ بے آسرے ہیں، آپ اُن کا آسرا بنئے آپ کی عید جب ہی مقبو ل ہوسکتی ہے، جب آپ اُن کی عید کو اپنی عید بنائیں۔ اور اپنے دل میں یہ خیال تک نہ لائیں، کہ آپ اُن پر کوئی احسان ونوازش کررہے ہیں، بلکہ اپنی خوش بختی پر سجدۂ شکر کریں، کہ آپ کو اپنی عاقبت سدھارنے کا ایک موقع دیاگیا! اگرآج ایک یتیم کی بھی عید آپ نے کرادی، تو ’’کل‘‘، جب تمام ہنستے ہوئے چہرے رورہے ہوں گے، آپ کے چہرے پر، ان شاء اللہ اُس وقت بھی تبسم رقص کررہا ہوگا

عید کا چاند دیکھا جاچکاہے۔ امیر گھرانوں کی ڈیوڑھیاں مبارکباد کے شور سے گونج رہی ہیں۔ آپ اپنے دل میں کل کے مصارف، دودھ، شکر، سوئیاں، میوہ، عطر، پان، بچوں کی خاطرداری، دوستوں کے تحفۂ وتحائف، ملازمین ومتوسلین کے انعام اکرام، وغیرہ کا حساب لگارہے ہیں۔ لیکن یہ بھی کبھی آپ کے خیال میں آتاہے، کہ اِن دعوتوں اور ضیافتوں کے خوشیوں کی عمر کتنی ہے؟ ان میں سے کسی مسرت کو بھی پائداری نصیب ہے؟ آپ اُس مسرت کا سودا کیوں نہ کرلیں، جو آپ سے کبھی نہ چھِن سکے، اور جو بڑے سے بڑے آڑے اور نازک وقت پر بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑے؟

آپ کے پڑوس میں، آپ کے محلہ میں، آپ کی بستی میں کچھ غریب وبیکس ضعیف ومفلس، محتاج وبے زر، بھی اپنی زندگی کے دن پورے کررہے ہیں وہ بھی آپ ہی کی شریعت کا کلمہ پڑھنے والے ہیں، آپ ہی کے رسول کی امت ہیں، آپ ہی کے پروردگار کے بندے ہیں۔ فرق صرف اتناہے، کہ آپ کے ہاں بہت کچھ ہے، اور ان بیچاروں کے ہاں کچھ بھی نہیں۔ آپ کل مٹھیاں بھر بھر کر پیسے لٹائیں گے، وہ غریب اناج کے دانہ دانہ کو ترس رہے ہیں، آپ کے ہاں نوکر چاکر ہی نہیں، بلکہ کُتے اور بلّی تک کل عید منائیں گے، ان بیچاروں کو اس کی فکر ہے، کہ کل کا فاقہ کیسے برداشت کیا جائے گا۔ آپ اگر عید کی حقیقی مسرت حاصل کرنا چاہتے ہیں ، تو اپنے کھانے سے پہلے ان محتاجوں اورمسکینوں کو کھلائیے، اور دوستوں کی پُرتکلف دعوتوں اور ضیافتوں سے قبل اِن فاقہ کشوں کا جبری روزہ کھُلوائیے۔ آپ کی اصلی عید یہی ہے، کہ یتیموں اور مسکینوں کے ہاں عید کرائیے، کہ آپ کے سرور وسردارؐ کا یہی طریقہ تھا۔ یتیموں کی غمخواری، مسکینوں کی دستگیری، دردمندوں کی حاجت روائی ، ان مختصر فقروں میں ساری سیرت مبارک کا عطر کھنچ آتاہے۔

 

x

Check Also

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت پندرہ منٹ کا یہ ...