بنیادی صفحہ / مضامین / کاروان حیات کی آخری منزل۔۔۔ مولانا عبد الرحمن مظاہری کی وفات ۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔

کاروان حیات کی آخری منزل۔۔۔ مولانا عبد الرحمن مظاہری کی وفات ۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔

Print Friendly, PDF & Email

‘‘کاروان زندگی’’ ‘‘کاروان حیات’’ ‘‘میری زندگی’’ ‘‘نقش حیات’’ جو بھی عنوان اختیار کیجئے، ‘‘زندگی’’ رہنے والی چیز نہیں ہے بغیر آپ کے طلب یا اختیار کے مل گئی ہے آپ نے اعزہ واقارب دوست اور احباب جمع کئے ہوں یا خدم وحشم اور محافظ دستے تشکیل دیئے ہوں بغیر آپ کی مرضی اور خواہش  معلوم کئے ایک دن آپ سے رخصت بھی ہوجائے گی بلکہ آپ خود ہی اس کے ساتھ دوسری دنیا کے لئے رخت سفر باندھ لیں گے۔

بقول اکبر:

ایک ہی کام سب کو کرنا ہے

یعنی جینا ہے اور مرنا ہے

(کل من علیھا فان) اور (کل نفس ذائقۃ الموت) کا حاصل بھی تو یہی ہے۔

خبر آئی ہے کہ ‘‘باب مکہ’’ کہلانے والے شہر ‘‘جدہ’’ میں حیدرآباد کے مولانا عبد الرحمن مظاہری کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے (إنا للہ وإنا إلیہ راجعون) یہ نام نہ صرف یہ کہ میرے لئے مانوس ہے طویل عرصہ سے لائق احترام وقابل تعریف بھی ہے۔

حرمین شریفین کے سفر کے دوران جب کبھی جدہ میں میرے ہونے کی ان کو اطلاع ملتی وہ ملنے کی خواہش ظاہر کرتے اور جب تک صحت اچھی تھی از راہ عنایت قیام گاہ تک تشریف لانے کی بھی زحمت گوارا فرماتے اور شفقت ومحبت سے ملتے تھے۔

اسی طرح کی ایک ملاقات کے دوران انہوں نے اپنی متعدد تصنیفات بھی عطا کی تھیں ان میں سے ایک ‘‘کاروان حیات’’ بھی ہے جس کے سرورق پر ان کے دستخط ثبت ہیں اور ہدیہ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں مکمل طور پر کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا یا نہیں ياد نهين لیکن اب اس کی فہرست پر نظر ڈالنے اور اس کی ورق گردانی سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے وطن کے ماحول کو ٹھیک کرنے اور لوگوں کے صحیح عقیدہ ومسلک اختیار کرنے کے لئے بڑی محنت کی ہے اور ایک اچھے داعی کا فریضہ ہمیشہ ادا کرتے رہے ہیں۔

مولانا کی اور میری عمر میں کافی تفاوت ہے وہ اس وقت مظاہر علوم سے فارغ ہوچکے تھے جبکہ میں نے عالم رنگ وبو میں قدم ہی رکھا تھا لیکن ان کا معاملہ ہمیشہ مشفقانہ اور خورد نوازی کا رہا۔

دراصل ہمارے درمیان ‘‘واسطہ عقد’’ اور تعلقات کی اساس مولانا محمد رضوان القاسمیؒ تھے جو اپنی ہمہ جہت رونق افروزیوں، عطر بیزیوں، علمی وادبی سرگرمیوں اور تعمیری واصلاحی جلوہ سامانیوں کے عین عروج کے زمانہ میں ہم سبھوں کو غم زدہ اور حیران وششدر چھوڑ کر شیخوخت کا مرحلہ آنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے، رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔

وہ جب تک رہے حیدرآباد میں دینی وتعمیری صحافت کا عنوان اور دعوتی واصلاحی کاموں کا نشان بن کر رہے۔

مولانا عبد الرحمن مظاہری پہلے سے سرگرم تھے دونوں کو ایک دوسرے سے بے حد تقویت تھی، اور اصلاحی مہم میں دونوں ہی شریک رہے، ‘‘مجلس علمیہ’’ کا قیام  علاقہ کے چند مخلص علماء کی جدوجہد سے ہوا اور مولانا عبد الرحمن مظاہری مرحوم اس کے پہلے جنرل سکریٹری منتخب کئے گئے۔

مولانا عبد الرحمن صاحب کی تعلیم کی تکمیل مظاہر علوم سہارنپور میں ہوئی تھی اور ان کے اساتذہ میں سرفہرست حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب رامپوریؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، مولانا مفتی مظفر حسین صاحب اور مولانا منظور احمد صاحب وغیرہ ہیں، اس سے پہلے کے تعلیمی مراحل انہوں نے عسرت کی حالت میں پورے کئے تھے۔

فراغت کے بعد وہ لاہور جاکر مولانا احمد علی لاہوری صاحب کے تفسیر قرآن کے حلقہ میں بھی شامل ہوئے لیکن ایک حادثہ کی وجہ سے دورہ کی تکمیل نہ کرسکے۔

مدت تک وہ حیدرآباد کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ میں تفسیر وحدیث کے استاذ بھی رہے۔

انہوں نے تعلیم کے ابتدائی مراحل میں سخت مشقت برداشت کی تھی اور اپنے اہل خانہ کی سخت مخالفت کے باوجود ہردوئی اور شاملی میں محض اپنے شوق سے علم دین کے حصول میں لگے رہے۔

پھر ملازمت کے زمانہ میں بھی اہل بدعت کی طرف سے ان کو سخت مخاصمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کے پائے استقامت میں تزلزل نہیں آیا اس لحاظ سے ان کی داستان حیات دلچسپ اور بہت سے لوگوں کے لئے لائق عبرت وبصیرت ہے۔

جب وہ حیدرآباد میں تھے تو بارہا ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں کیونکہ میری ‘‘پناہ گاہ’’ مولانا محمد رضوان القاسمی کی لائبریری تھی اور وہ مولانا کے ساتھ بہت سے اصلاحی ودینی پروگراموں میں شریک تھے اور ان میں فکر ومسلک کی بڑی حد تک ہم آہنگی تھی۔ جدہ کے قیام کے زمانہ میں ملاقات ایک دوبار ہی یاد پڑتی ہے۔

مولانا نے ‘‘کاروان حیات’’ کے نام سے جو اپنی زندگی کی روداد لکھی ہے اس میں بہت سی باتیں بڑی کارآمد ہیں، خاص طور پر شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کے درس تفسیر میں شرکت کے لئے ان کا لاہور کا سفر اور ان کے طرز تفسیر وتاویل کے بارے میں حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے رسالہ کی روشنی میں ان کے سوال وجواب کا ذکر اور بغیر کسی تبصرہ کے مولانا کے طرز تاویل کی مثالیں۔ اور بعض سرحدی طالب علموں کی طرف سے ان پر مسلح حملہ کی کوشش کے بعد ان کی واپسی۔

اس سفر کے دوران مولانا مودودی صاحب سے ملاقات اور ان کے مزاج وانداز اور ان کے ساتھ صحابہ کرامؓ کی ذات پر تنقید اور تقلید وغیرہ مسئلہ پر گفتگو۔

مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے مواعظ اور ان کی شخصیت اور جذبہ کا ذکر اور مظلوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر مولانا کا رد عمل۔

اسی طرح حضرت تھانویؒ کے خلیفۂ اجل مولانا محمد حسن امرتسریؒ کی مجلس میں شرکت اور ان کی روحانی کیفیت کا ذکر اختصار کے باوجود لائق دید عنوانات ہیں۔

افسوس کے کئی سال پہلے انہوں نے کتاب مجھے دی تھی لیکن ان کی زندگی میں اپنی رائے ظاہر کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ورنہ مولانا کو بے حد خوشی ہوتی۔كتاب عقيده مين انكي صلابت اور  علم مين امتياز اور استدلال كي قوت كي شاهد هي

انہوں نے مسلک کی حفاظت اور عام لوگوں کو بدعات وخرافات سے بچانے کے لئے متعدد اقدامات کئے، پالن حقانی اور مولانا ارشاد صاحب دیوبندی وغیرہ کے پروگرام رکھے۔ اپنے   خطبه جمعه  اوردرس قرآن کو بھی رشد وہدایت کا وسیلہ بنائے رکھا۔

مولانا عبید اللہ سندھی کے ذکر میں یہ لکھنا کہ وہ شیخ الہند کے ساتھ کئی سال مالٹا کی جیل میں رہے غالبا سہو قلم ہے۔

اس خبر سے بھی حیرت ہوئی کہ کہ مشہور حنفی عالم ومحقق مولانا ابو الوفاء افغانیؒ کی لاش کو حضرت مولانا انوار اللہ خاں صاحب کی قبر کا طواف کرایا گیا۔    پانچ مسائل پر ان کا رسالہ انكي علمي  شان کيمطابق نهين۔

اس کے علاوہ اہل بدعت سے ان کی معرکہ آرائیاں، پالن حقانی کے پروگرام، زلزلہ نامی کتاب کا فتنہ، عامر عثمانی صاحب کا سجدہ سہو، جامعہ نظامیہ سے برطرفی اور جمعہ کے خطبہ پر پابندی وغیرہ کی داستان دلچسپ اور معلومات افزا ہے۔

انہوں نے حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی مجلس میں اپنی شرکت کے دوان اپنے کانوں سے سنا یہ جملہ بھی نقل کیا ہے کہ:

‘‘کانگریس سے ہم نے عرش مانگا تھا لیکن ہمیں فرش دیا گیا’’ پھر فرمایا: ‘‘اللہ تعالی مولانا تھانوی کی قبر کو انوار سے بھر دے ان کی آنکھیں چالیس سال پہلے آج کا منظر دیکھ رہی تھیں’’۔

اب مولانا اس دنیا میں نہیں رہے اس لئے براہ راست ان سے نہ کسی بات کی توثیق کرائی جاسکتی ہے اور نہ توضیح، لیکن ان کی علمی ودینی خدمات اور بے مثال شخصیت کو خراج عقیدت ضرور پیش کیا جاسکتا ہے اور ان کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا کی جاسکتی ہے کہ:

اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان سے نسبۃ کم عمر لیکن پیش رو مولانا محمد رضوان القاسمی مرحوم کے ساتھ فردوس بریں میں جگہ دے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت اور خوشنودی سے نوازے، آمین۔

x

Check Also

محسن کتابیں۔۔۔ تحریر: مولانا بدر الدین علوی

مولانا بدرالدین علوی             ولادت:علی گڑھ،۱۳۱۰ھ،مطابق ۱۸۹۳ء             معزز علوی سادات سے ...