بنیادی صفحہ / مضامین / مولانا مفتی محمد تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ۔۔۔ تحریر: مولانا ڈاکٹر بدر الحسن القاسمی

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ۔۔۔ تحریر: مولانا ڈاکٹر بدر الحسن القاسمی

Print Friendly, PDF & Email

عصر حاضر کے علمائے دین میں حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کو رب کائنات نے خصوصی امتیاز بخشا ہے ان کا خاص میدان اسلامی فقہ ہے لیکن حدیث، تفسیر اور دیگر اسلامی فنون میں بھی ان کی مہارت مسلم ہے اور ان کے علمی کارناموں، جدید فقہی مسائل میں ان کی تحقیقات، تدریسی، تصنیفی اور اصلاحی کوششوں کے آثار کو دیکھا جائے تو بلاشبہ وہ ‘‘شیخ الاسلام’’ کے لقب کے مستحق ہیں اور ان کا وجود امت مسلمہ کی فقہی وفکری رہنمائی کے لئے بے حد ضروری ہے اور ان کے بارے میں وہ بات کہی جاسکتی ہے جو حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنے استاذ اور نامور فقیہ ومجتہد حضرت امام محمد بن ادریس الشافعی کے بارے میں کہی تھی اور جس کا اطلاق کبھی میں نے اپنے ایک عربی مضمون میں حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ کی ذات پر کیا تھا۔

مشہور واقعہ ہے کہ امام احمد بن حنبل سے ان کے بیٹے نے جب یہ دریافت کیا کہ آپ اٹھتے بیٹھتے اور بیشتر نمازوں کے بعد امام شافعی کے لئے دعا کیا کرتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ اور امام شافعی کیا چیز تھے؟ تو امام صاحب نے برجستہ فرمایا کہ:

‘‘کان الشافعی کالشمس للدنیا وکالعافیۃ للناس’’ کہ امام شافعی کی حیثیت دنیا کے لئے سورج کی اور لوگوں کے لئے عافیت کی تھی اور ان دونون كي سب كو ضرورت هي’’۔

جس طرح دنیا کو سورج کی روشنی کی ضرورت ہے اور لوگوں کو عافیت کی اس طرح امام شافعی کا وجود لوگوں کے لئے راحت وسعادت کا باعث تھی اور ان کے علم کی روشنی سے سارا عالم منور تھا۔

فقیہ اعظم امام شافعیؒ کے استاذ اور امام اعظم ابوحنیفہؒ کے شاگرد جن کے سر ‘‘فقہ اسلامی’’ کی تدوین کا سہرا ہے یعنی امام محمد بن الحسن الشیبانی کی شب وروز کی محنت اور مسائل کے احکام کی تحقیق واستنباط میں انہماک اور شب بیداری کو دیکھ کر ایک عقیدت مند نے سوال کیا کہ آپ اس قدر کم کیوں سوتے ہیں کہ جس سے صحت کی خرابی کا اندیشہ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ: ’’ساری قوم یہ سوچ کر سورہی ہے کہ دین کے جو مسائل پیدا ہورہے ہیں ان کا حکم محمد بن الحسن بتلائیں گے تو اگر میں بھی سوگیا تو امت کا کیا حال ہوگا؟!

اس طرح کا جذبہ ہر کسی پر طاری نہیں ہوتا اور نہ ہر شخص میں اس کی صلاحیت ہوسکتی ہے اللہ تعالی کے کچھ خاص بندے ہی ہوتے ہیں جن میں علم کا بے پناہ شوق ڈال دیا جاتا ہے اور جن کو ساری امت کی طرف سے فرض کفایہ کی ادائیگی کی توفیق ہوتی ہے، ان کا حال وہی ہوتا ہے جس کی تعبیر اقبال نے کی ہے:

اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں

کبھی سوز وساز رومی کبھی پیج وتاب رازی

یہ محض تمثیل ہے ورنہ رومی ورازی الگ الگ میدانوں کے شہسوار ہیں اور ‘‘فقہ وحدیث’’ کے شیفتگان کی اور ہی شان ہوتی ہے۔

مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کو قدرت نے علم وعمل کا جامع بنایا ہے اور فقہ وحدیث میں مجتہدانہ بصیرت سے نوازا ہے۔

وہ بیک وقت مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع کی فقہی بصیرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ اور محدث عصر علامہ محمد یوسف بنوری كا تحقيقي وتصنيفي ذوق ، مولانا اشرف علی تھانویؒ کی جامعیت، حکمت باریک بینی اور علم برائے علم کے بجائے علم برائے عمل و تزکیہ نفس واصلاح امت کے جذبہ کے حقیقی وارث و ترجمان اور بھرپور نمائندہ ہیں، ان خصوصیات کی وجہ سے ان کی حيثيت مرجع خلائق كي بن گئی ہے۔ اور برصغیر ہی کی طرح عالم عرب کے علمی حلقوں میں بھی ان کی ایک نامور فقیہ اور بلند پایہ عالم کی حیثیت سے  شناخت اور شہرت ہے، اپنے پیش رو علماء کے مقابلہ میں ان کو حالات حاضرہ کو زیادہ قریب سے دیکھنے اور برتنے کا موقع ملا ہے اس لئے ان کی فکر میں غیر معمولی اعتدال اور ان کی فقہ میں بے پناہ دقت نظراور واقعیت ہوتی ہے اسلامی مالیاتی نظام اور غیر سودی بینک کاری سے متعلق فقہی احکام میں ان کی حیثیت سند اور حجت کی مانی جاتی ہے چنانچہ ‘‘معاییر شرعیہ’’ کی تدوین کرنے والی علمی کمیٹی کے برسوں سے سربراہ وہی ہیں اور ان کی ہی رہنمائی میں موجودہ زمانہ کے نامور فقہاء نے اس اہم کارنامہ کو انجام دیا ہے۔

پچھلے دنوں پاکستان کے شہر کراچی میں جمعہ کی نماز کی امامت کے لئے جاتے ہوئے ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور خودکار بندوقوں سے لیس حملہ آوروں نے مقامی، علاقائی یا عالمی سازش کے تحت ان پر گولیوں کی بوچھار کردی جس میں ان کے دوساتھی موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ دو زخمی ہونے والے ڈرائیوروں میں سے ایک نے بعد میں دم توڑ دیا۔

یہ ہولناک خبر جب آئی تو ایک دم سکتہ طاری ہوگیا یوں محسوس ہوا کہ جیسےہر طرف اندھیرا چھا گیا ہے اور پوری دنیا میں ان کے جاننے والے بے چین ہوگئے۔

ایک ایسی شخصیت جس سے سارے عالم کو روشنی مل رہی ہے اس پر خود اس کے اپنے شہر میں اور ایسے ملک میں جس کی نشات اور تعمیر میں اس کے کنبہ کا بھرپور حصہ رہا ہے ایسی کسی کو کیا ٖپرخاش يا دشمني ہوسکتی ہے کہ اس کے وجود کو ہی مٹا ڈالنے کی کوشش کرے اور سارے عالم کو غم والم میں مبتلا کرڈالے یہ حیرت انگیز بات تھی۔

یہ محض اللہ رب العزت کی عنایت وحفاظت کا کرشمہ ہے کہ وہ گولیوں کی بوچھار میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ معجزاتی طور پر محفوظ رہے اور ایک بار پھر نبوت کبری کا یہ فرمان سچ ثابت ہوکر رہا کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تم کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو تمھیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتي سوائے اس کے جو تمہارے مقدر میں پہلے ہی سے لکھ دیا گیا ہے۔

اور یہ بھی کہ (احفظ اللہ یحفظک) اللہ سے رشتہ حفاظت کا ضامن ہے، (احفظ اللہ تجدہ تجاھک) اور اللہ سے رشتہ غیبی نصرت کا باعث ہے۔

مولانا محمد تقی عثمانی صاحب پر قاتلانہ حملہ اتنا سنگین تھا کہ جس پر کہا جاسکتا ہے کہ:

ع    آسمان را حق بود گر خوں بیارد بر زمیں

جس طرح بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے تاتاریوں کے ظلم وستم پر یا نادر شاہ جس نے دہلی میں کشتوں کے پشتے لکادیئے تھے اسکي ستم رانی اور بربریت پر یہ بات صادق آتی ہے ، اسی طرح فقہ وحدیث کی نمایاں ترین خدمت کے علم بردار اور فکری اعتدال کی علامت اور سراپا جذبہ اصلاح واخلاص کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش اتنا ہی ہولناک سانحہ ہے جس پر زمین ہی نہیں آسمان کو بھی خون کے آنسو بہانا چاہئے اور انسان ہی نہیں سارے وجود کو ماتم کرنا چاہئے۔

مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کے علمی کارناموں اور اصلاحی فیوض وبرکات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ ان کی تصنیفات میں ‘‘تکملۃ فتح الملہم’’، ‘‘فقہ البیوع’’، ’’قضایا فقھیۃ معاصرۃ’’، ‘‘آداب الافتاء’’۔

ان کی درسی تقریریں بخاری کی شرح ‘‘انعام الباری’’، سنن ترمذی کی شرح ‘‘تقریر ترمذی’’، ‘‘فتاوی عثمانی’’ سبھی معروف ومقبول ہیں۔

ان کے سفرنامے اپنی الگ ہی شناخت رکھتے ہیں ان کے اصلاحی خطبات اور اصلاحی مجالس کے علاوہ بھی ‘‘فقہی مقالات’’، ‘‘عدالتی فیصلے’’ سبھی بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔

ان کے اس طرح کے متعدد کارنامے اور معیاری علمی فقہی حدیثی اور اصلاحی آثار کو دیکھ کر یقینا یہ شعور ابھرتا ہے کہ :

دیدہ ام شاخ گلے بر خویش می پیچم کہ کاش

می توا نستم بیکد ست ایں قدر ساغر گرفت

یا یہ کہا جائے کہ:

ولیس علی اللہ بمستنکر

أن یجمع العالم فی واحد

            اللہ رب العزت نے اس سخت جان لیوا حملہ میں ان کی حفاظت کی اور اس کی  قدرت  كا كرشمه اپنے مقبول بندوں کی حفاظت كا خاص انتظام ہے۔

            آخر جو ذات اپنے خلیلؑ کے لئے آگ کو گل وگلزار بنا سکتی ہے اور اپنے نہ بھولنے والے برگزیدہ بندہؑ کی مچھلی کے پیٹ میں حفاظت کرسکتی ہے، اور اپنے کلیمؑ کی اس کی جان کے دشمن اور نسلوں کے قاتل کے گھر بلکہ اس کی گود میں پرورش کراسکتی ہے اس کی قدرت کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ اس کی عظمت کی تسبیح پڑھنے والے اور اس کے دین کی سربلندی کے لئے شب وروز مشغول رہنے والے اپنے بندہ کی بندوق کی زد اور گولیوں کی بوچھار میں بھی ہر طرح حفاظت فرمائے۔

            دنیا مين حفاظت کے بعد ایک عالم باعمل اور فاضل بے بدل کا حوصلہ خدا کے شکر وسپاس کے لئے اور بڑھتا ہے پھر وہ علامہ ابن الجوزی کے الفاظ مستعار لے کر اپنے رب سے التجا کرتا ہے کہ:

            بار الہٰا میری زبان تیرے ذکر وتسبیح میں مشغول رہتی ہے اور تیرے دین کے حقائق تیرے بندوں کو سمجھانے کے لئے شب وروز حرکت میں رہی ہے۔

            میرے قدم تیرے دین کی نصرت کے لئے اٹھتے رہے ہیں اور میرے ہاتھ میرے نبی پاکﷺ کے اقوال وارشادات کو لکھنے میں مشغول رہے ہیں، اے اللہ تو ان کو آتش دوزخ سے بچانا اور جہنم کی آگ کی لپٹ سے محفوظ رکھنا۔

دنیا میں اللہ رب العزت کی حفاظت ونصرت حاصل ہو اور آخرت میں جہنم سے رستگاری اور جنت کی نعمت اور مالک حقیقی کی رضا وخوشنودی حاصل ہوجائے تو اس سے بڑھ کر کامیابی اور کیا ہوگی (فمن زحزح عن النار وأدخل الجنۃ فقد فاز) اور خاص بندوں کے لئے خصوصی انعام (ولدینا مزید) کا وعدہ بھی ہے۔

            علامہ ابن خلدون نے امام بخاری کی ‘‘الجامع الصحیح’’ کی شرح کو امت کے دمہ قرض قرار دیا تھا جس کی ادائیگی حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری لکھ کر کی اور اپنی عمر عزیز کے پچیس سال اس قرض کی ادائیگی میں صرف کئے جس کے بارے میں علامہ شوکانی کو کہنا پڑا کہ:

(لا ھجرۃ بعد الفتح) فتح الباری کے بعد اب کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی گو کہ کرمانی، قسطلانی، مغلطائی، ابن الملقن اور علامہ بدر الدین عینی سبھی کے کارنامے اہم ہیں۔ اور بہت سے نئے نکات وفوائد پر مشتمل ہیں بلکہ امام العصر علامہ محمد انور شاہ الکشمیریؒ کے افادات ‘‘فیض الباری’’ میں بھی بہت سے ایسے نکات ملتے ہیں جن سے عسقلانی اور عینی کی شرحیں خالی ہیں۔

صحیح بخاری کے بعد دوسرا درجہ صحیح مسلم کا ہے اس کی شرحیں بھی قاضی عیاض، علامہ مازری، أبی، اور امام نووی سبھی نے لکھی ہیں اور یہ سب ایک دوسرے کی تکمیل کرتے آئے ہیں ، اس کی بھی  ايك جامع ترين شرح کی ضرورت پھر بھی محسوس کی جارہی تھی۔

علامہ شبیر احمد عثمانی جو بلند پایہ محدث، مفسر اور نامور محقق اور خطیب سبھی کچھ تھے اور جو بجا طور پر شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے، جب ان کی شرح ‘‘فتح الملہم’’ سامنے آئی تو علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی اس کی داد دی اور نامور محدث ومحقق علامہ زاہد الکوثری نے اس کا پرجوش خیر مقدم کیا اور اسے صحیح مسلم کی جامع ترین اور افضل ترین شرح قرار دیا اور اس کی خصوصیات پر بڑا ہی محققانہ تبصرہ کیا، لیکن افسوس ہے کہ کتاب مکمل نہ ہوسکی اور مولانا کی وفات نے اس تکمیل کی امید ہی ختم کردی تھی۔ علامہ شبیر احمد عثمانی نے اپنی شرح کے لئے اصول حدیث کے مسائل پر مشتمل مفصل مقدمہ لکھا جو ایک مستقل کتاب کی شکل میں شامی محدث شیخ عبد الفتاح ابوغدہ کی تعلیقات کے ساتھ شائع ہوچکا ہے۔

کتاب الایمان کی شرح علامہ عثمانی کا خاص میدان تھا چنانچہ انہوں نے پوری محققانہ ومتکلمانہ شان سے اس کی شرح کی ہے۔ طہارت، صلاۃ، زکاۃ، حج وغیرہ کے مباحث بھی علامہ نے بھرپور تحقیقی انداز سے لکھے ہیں اور ائمہ مذاہب آراء کے بیان میں نہایت ہی منصفانہ انداز اختیار فرمایا ہے۔

اس نامکمل شرح کی تکمیل کا سہرا اللہ رب العزت نے فقیہ عصر اور محدث بے بدل مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کے لئے مقدر کررکھا تھا چنانچہ اپنے والد بزرگوار مولانا محمد شفیع صاحب کی خواہش کی تکمیل میں ۱۸؍سال کی محنت کے بعد اسے پایہ تکمیل کو پہنچا کر ہی دم لیا۔

مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کے علمی کارنامے تو سبھی بے مثال ہیں، ‘‘فقہ البیوع’’ کا تفصیلی تعارف میں پہلے ہی ایک مضمون میں کراچکا ہوں لیکن ان کے علمی کارناموں کا شاہکار جس پر انہوں نے بعض دوسرے کاموں کے ساتھ اپنی زندگی کے تقریباً ۱۸ سال صرف کئے ہیں وہ ‘‘صحیح مسلم’’ کی شرح ‘‘فتح الملہم’’ کا تکملہ ہے، جسے بعض عرب علماء وارباب نظر نے ‘‘شرح العصر’’ کہہ کر اس کے امتیاز کو ظاہر کیا ہے۔

‘‘تکملۃ فتح الملہم’’ جو چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اس میں آپ نے اپنے پیش رو اور ‘‘فتح الملہم’’ کے مصنف علامہ شبیر احمد عثمانی کی راہ پر چلنے اور حرف بہ حرف ان کی پیروی کرنے کے بجائے وقت کے تقاضوں کی بھرپور رعایت رکھی ہے چنانچہ اس ‘‘تکملہ’’  میں عام شروح احادیث کی خصوصیات کے ساتھ ان پہلوؤں کی بھی رعایت رکھی ہے:

  • احادیث کی تخریج کا اہتمام اور صحاح اور بعض دوسری کتابوں میں ان کے محل ورود کی نشاندہی۔
  • علل حدیث پر ضروری گفتگو اور ناقدین وعلمائے رجال کے کلام سے استفادہ۔
  • دیگر شراح حدیث کے کلام پر محققانہ تبصرہ اور اختلاف کی صورت میں ان کے درمیان تطبیق کی کوشش یا ترجیح کے اسباب کا ذکر۔
  • فقہاء کرام کےدرمیان اختلاف اور ان کی آراء اور دلائل کا مستند طریقہ پر بیان۔
  • اختلافی مسائل میں دلائل کی بنیاد پر ترجیح اور بعض جزوی مسائل میں دوسرے مذاہب کے فقہاء کی رائے کو قبول کرنے یا ترجیح دینے میں منصفانہ رویہ۔
  • ہر ‘‘کتاب’’ یعنی مرکزی عنوان کے شروع میں نہایت ہی عالمانہ ومحققانہ تمہید۔
  • عصر حاضر کے شبہات کا ازالہ اور طلاق کی مشروعیت، غلامی کی حقیقت اور اس سے انسانیت کو نجات دلانے میں اسلام کا رول، تعدد ازدواج کے اسباب اور حضور اکرمﷺ کی شادیوں کی حکمت اور اس کے اسباب، خلافت وامارت کی حقیقت۔اور سياسي امور كا بيان

ثروت اور ملکیت کی حقیقت، کرنسی، اور بینک نوٹ سود اور جدید مالی معاملات سے متعلقہ مسائل، علاج ومعالجہ اور تعویذ گنڈوں کے استعمال کی شرعی حیثیت طب نبویؑ کی حقیقت اور آپ کے تجویز کردہ نسخوں اور بیان کردہ علاج ودوا کی شرعی حیثیت اور اس طرح کے سیکڑوں مسائل ہیں جن کی احادیث کی تشریح یا تمہیدی مقدمات کے دوران آپ نے وضاحت کی ہے اور ان کا صحیح شرعی حکم بیان کرنے کی کوشش فرمائی ہے جو بلاشبہ ایک عظیم علمی وفقہی ذخیرہ ہے۔

غرض یہ کہ ‘‘فتح الملہم’’ کا یہ تکملہ دیگر شروح سے ممتاز اور عصر حاضر کی نمائندہ شرح کہلانے کا مستحق ہے۔

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید اور فیض الباری کے مرتب وحاشیہ نگار مولانا بدر عالم میرٹھی نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ‘‘صحیح بخاری’’ کی تدوین اگر موجودہ زمانہ میں ہوتی تو امام بخاری باب الرد علی الجھمیین کے بجائے عصر حاضر کے فرقوں اور فتنوں کی تردید کے لئے تراجم ابواب کے ضمن میں ایسے عنوان قائم فرماتے جن سے موجودہ زمانہ کی گمراہیوں کا ازالہ ہوسکے۔

حدیث پاک کے الفاظ وتعبیرات قیامت تک رونما ہونے والے مسائل کے حل کے لئے کافی ہیں البتہ ان کی عصری تعبیر وتشریح ہر زمانہ کے علماء کی ذمہ داری رہے گی۔

حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے اپنی شرح کے ذریعہ کام کا راستہ روشن کردیا ہے اور مستقبل میں آنے والوں کے لئے طریقہ کار متعین کردیا ہے جو بلاشبہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔

مولانا کی شخصیت کا ایک امتیازی وصف یہ بھی ہے کہ انہوں نے اتنے سارے علمی کارنامے انجام دینے کے باوجود اپنے بارے میں نہ تو کبھی ‘‘فقیہ عصر’’ ہونے کا دعوی کیا، نہ اپنی کتابوں کی نمائش کے لئے کوئی میلہ لگایا اور نہ ہی اپنے لاکھوں شاگردوں اور عقیدت مندوں کو جمع کرکے کوئی جشن منایا بلکہ اپنی تحقیقات کو بھی اپنے بڑوں کی شخصیات سے جوڑ کر اور ان کے حوالہ سے ہی پیش کرنے میں راحت محسوس کی اور ہر قول کو صاحب قول کی طرف منسوب کرنے کو علم کی برکت سمجھا، چنانچہ ان کی کتابوں میں حکیم الامت تھانویؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، علامہ محمد یوسف بنوریؒ اور اپنے والد بزرگوار کے حوالے بکثرت نظر آئیں گے یہ بھی ان کے اخلاص کی دلیل اور ان کی عظمت کا نشان ہے اور دوسروں کے لئے عبرت وبصیرت سے بھرا پیغام کہ:

نقش ہیں سب نا تمام خون جگر کے بغیر

مولانا محمد تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ کرنے میں جو گروہ بھی ملوث ہے اس نے درحقیقت علم وعمل، تقوی واخلاص، تہذیب وشرافت سبھی کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے، اور ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس میں ملک وقوم کی تباہی اور ساری انسانیت کی ہلاکت ہے، عالم کی موت کو ‘‘عالَم’’ کی موت قرار دیا گیا ہے اور ایک شخص کے نا حق قتل کو پوری انسانیت کا قتل شمار کیا گیا ہے۔

گولیوں کی بوچھار میں مولانا محفوظ رہے اور مطمئن بھی يه ایمان کی قوت كي دليل  اور اللہ کے قرب کی علامت  ہے (لا خوف علیھم ولا ہم یحزنون)۔

ان ظالم قاتلوں کو کون سمجھائے کہ ایسی شخصیت خون بہا دینے سے فنا نہیں ہوجا تیں بلکہ ان کو نئی زندگی ملتی ہے۔

ہرگز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدۂ عا لم دوام   ما

ان کی شہادت باطل اور اہل باطل کو بیخ وہن سے اکھاڑ پھینکنے کی ضامن ہوتی ہے نہ ان کا عزم مضمحل ہوتا ہے اور نہ حوصلہ پست ہوتا ہے۔

موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے

آستان یار  سے   اٹھ       جائیں          کیا؟

شیخ الاسلام ابن تیمیہ کہا کرتے تھے:

(ماذا یصنع أعدائی بی، إن جنتی وبستانی فی صدری، قتلی شہادۃ وسجنی خلوۃ ونفیی سیاحۃ) (میرے دشمن میرا کیا بگاڑ لیں گے، میرے علم ویقین کا گلستان میرے سینہ میں ہے میرے لئے قتل ہوجانا شہادت ہے اور جیل میرے لئے خلوت گاہ ہے اور ملک بدر کیا جانا سیاحت ہے)۔

ایسے لوگوں پر نہ دشمنی کی تلوار کارگر ہوتی ہے اور نہ گولیوں کی بوچھار ۔ واللہ خیر حافظاً وھو أرحم الراحمین ۔  

x

Check Also

مصری صحافی کی کتاب اور شیخ الہند کی تصویر… تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

WA:00971555636151 گزشتہ چار سال سے ہمارا ایک واٹس اپ گروپ علم وکتاب ...