بنیادی صفحہ / مضامین / تجربات و مشاھدات (11)۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر بدر الحسن القاسمی

تجربات و مشاھدات (11)۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر بدر الحسن القاسمی

Print Friendly, PDF & Email

                 ھیولی برق خرمن کا

          *******

طالب علمی کا زمانہ اپنی تعمیر کا ہوتا ہے کسی  تعلیم گاہ کا رخ آدمی کرتا تو اسی لئے ہے کہ اپنے دامن کو موتیوں سے بھر لے، مختلف علوم وفنون میں مہارت حاصل کر لے

لیکن داخلی اور خارجی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں اور آدمی بسا اوقات وہ نہیں بن پاتا جو وہ بننا چاہتا ہے ،کبھی طلب کی کمی ہوتی ہے،کبھی ذہانت قوت حفظ اور جسمانی صحت  ساتھ نہیں دیتی ،کبھی مؤثر یعنی استاذ اچھے نہیں ملتے،اور کبھی بیرون ادارہ کے لوگوں کے  مفاد میں یہ ہوتا کہ اندر اضطراب کا ماحول رکھیں اور تھوڑے تھوڑے وقفہ سے طلبہ ہی کو آلہ کار بنا کر نظام تعلیم میں خلل ڈالتے رہیں کچھ کو قربانی کا بکرا بنائیں اور کوئی آفت آئے تو تنہا انہیں نتیجہ بھگتنے کیلئے چھوڑ دیں ،جسکی وجہ سے آدمی کو یہ کہنا پڑتا کہ :

 مری تعمیر میں مضمرتھی اک صورت خرابی کی

 ھیولی برق خرمن کا ہے خون گرم دھقاں کا

لیکن لوگ  تو یہی کہیں گے کوتاہی اپنی ہے :۔

 ولم آر فی عیوب الناس شیئا

 کنقص القادرین علی آلتمام

میں دیوبند میں داخل ہوا تو نورانی شکلیں تین باقی رہ گئی تھیں :۔

 شیخ الحدیث مولانا  سید فخر الدین احمد  مراد آبادی

 حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب  مہتمم دار العلوم

مفتی محمود حسن گنگوہی صدر شعبہ افتاء

 اساتذہ اور بھی تھے :۔

مولانا فخر الحسن مراد آبادی

مولانا شریف الحسن دیو بندی

مولانا معراج الحق دیو بندی

مولانا نصیراحمد خان بلند شہری

مولانا محمد حسین بہاری

مولا نا اختر حسین  میاں صاحب

مولانا عبد الاحد دیو بندی

مولانا محمد نعیم دیوبندی

 مولانا وحید الزماں کیرانوی

مولانا خورشیدعالم دیوبندی

مولانا زبیر احمد دیو بندی

مولانا انظر شاہ کشمیری

مولانا محمد سالم قاسمی

مولانا بہاء الحسن مراد ابادی

مولانا محمد ھارون دیوبندی

ڈاکٹر اعزاز الدین بھو پالی

مفتی نظام الدین اعظمی

مفتی احمد علی سعید

یہ وہ حضرات ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں رہے اللہ تعالی انکے درجات بلند فرمائے اور انہیں فردوس بریں میں جگہ دے

 ہر ایک  استاذ کا پڑھانے کا انداز الگ ہوتاہے اور ہر ایک کا اثربھی اسکے علمی کمال اورعملی امتیاز کے لحاظ سے ہوتا ہے

جب میں دار الافتاء میں تھا تو ایک دن مفتی محمود حسن گنگوھی صاحب  نے دریافت کیا کہ:

تم نے فلاں کتاب کس سے پڑھی؟

میں نے کہا :۔

 کتاب کی پہلی جلد فلاں استادسے” پڑھی” اور دوسری جلد فلاں استاد کے پاس   "تھی”

مفتی صاحب نے کہا  : یہ تم نے” پڑھی” اور "تھی” کا فرق کیوں کیا؟اس کا جواب وہی تھا جو وہ سننا چاہتے تھے۔

غرض یہ کہ استاد کی ایک ایک ادا طالب علم پر اثرانداز ہوتی ہے لہذا اساتذہ اپنے فن میں جتنے ماہر اور تدریس کے فن سے واقف ہونگے طلبہ بھی اتنے ہی باکمال ہوکر نکلیں گے

اسوقت جبکہ مدارس خانقا ہیں اورتبلیغ ودعوت کے مراکز سبھی بے اثر ہوتے جارہے ہیں اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا اورطریق کار کو بدلنا اور بہتر بنانا  ضروری ہے

اساتذہ کو طریق تدریس، طلبہ کو بحث وتحقیق کا منھج اورزبان سیکھنے کے نئے اصول سے آگاہ کرنا چاہیے، صرف روایتی انداز  پر کتاب کے ترجمہ اورشرح پر اکتفا شاید کافی نہ ہو، اسی طرح تعلیم میں صرف حاسہ سماع کااستعمال اور باقی حواس کو معطل رکھنا نظر ثانی کا محتاج ہے

یہاں دینی مدارس  اور مراکز ہی ہمارا دینی اثاثہ  رہے ہیں، موجودہ حالات ایسے ہیں کہ قدرتی آفات کے علاوہ ہم نے خود ہی اپنی حرکتوں سے تعلیم و ہدایت کے سبھی  اداروں کو بے اثر کرکے رکھدیا ہے۔

مدارس کی عمارتیں عالیشان ہوگئی ہیں  بڑے مدارس  میں وسائل کی آج بھی کمی نہیں ہے ، ہم نے تاج محل کے طرز تعمیر اور فتحپور سیکری کے قلعہ کی برجیوں کی نقالی کرنے میں تو کوئی کسر نہیں چھوڑی  لیکن تعلیم کی بہتری کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ تربیت کی طرف دھیان دیا گیا اس کا نتیجہ نظروں کے سامنے ہے،  بہت سی خانقاہیں بھی جلب زر کا ذریعہ بن گئی ہیں اور عوام کی تسخیر کیلئے ہر طرح کے وسیلے جائز ہوگئے ہیں، حکیم الامت تھانوی کے  "صفائی معاملات "کے اصول کو اپنانے اور نفس کے فریب سے نکلنے کی ضرورت ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ:

یکدم منافقانہ نشیں در کمین خویش

ورنہ صوفی بن کے بھی آدمی ابو زید سروجی کا رول ادا کرتا ہے یا کار ملا فی سبیل اللہ فساد کی مہم میں لگ جاتا ہے۔

امام غزالی کی طرح حقیقی دیندار بننے اور نفس کے تزکیہ اور ضمیر کےبیدار ہونے کی ضرورت ہے تاکہ  علوم دین کا احیاء ” اور  "علمائے ربانیین” کا دور دورہ ہو سکے

           تلخ وشیریں:۔

         *****

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کا مقام کیا تھا ؟

یہ حضرت شیخ الھند مولانا محمود حسن کے دل سے ہی  پوچھیے لیکن   اقتدار کی ہوس میں سارے  حدود پھلانگ جانے والوں  کا وطیرہ ہی الگ ہوتاہے،  دیوبند میں شب خوں سے پہلےحبیب الرحمن میواتی نام کے ایک شخص نے قسط وار مضمون لکھنا شروع کیا جو روزنامہ الجمعیہ میں شائع ہوتا تھا۔

ایک قسط میں لکھا تھا کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کو "قاسم العلوم والخیرات لکھا جاتاہے کون سے علوم تقسیم کئے ؟ کیا خیرات تقسیم کی؟ چند چھوٹے چھوٹے رسالے لکھے تھے جو نہ اس وقت کسی کی سمجھ میں آتے تھے نہ اب سمجھ میں آتے ہیں ، جہاں تک خیرات کی بات ہے تو بال بچوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے خیرات دینا تو کیا  خود ہی خیرات جمع کرنے کی فکر میں رہتے ہیں "

الفاظ میں نے اپنے حافظہ سے نقل کئے ہیں اسلئے ممکن ہےآخری الفاظ میں تقدیم وتاخیر ہو گئی ہو لیکن مفہوم یہی تھا، میں حیدر آباد میں تھا مولانا محمد رضوان القاسمی  کی مسجد عامرہ عابد روڈ کے مکتبہ میں جو عام طور پر میری آرام گاہ مطالعہ گا ہ اور تفریح گاہ سب کچھ ہواکرتا تھا تھا اس میں مرحوم دار التر جمہ کے آثار وباقیات تھے صدرالدین شیرازی کی” اسفار اربعہ” ابن حزم کی” الملل والنحل” شیخ اکبر کی” فصوص الحکم ”  اورتاریخ طبری کے ترجمے جو جامعہ عثمانیہ میں اردو کوذریعہ تعلیم بنانے کیلئے لائے گئے تھے۔ پنکھا چلا تو اخبار کاایک صفحہ اڑکر میرے پاس آگیا اس میں حضرت نانوتوی کے بارے میں وہی گستاخانہ مضمون تھا، میں  نےمولانا خالد سیف اللہ رحمانی  کے حوالہ کردیا جو اسوقت وہاں تھےاور تذکرہ وہاں یہ چل رہا تھا کہ آج رات صدر جمعیت علماء کا کوئی پروگرام ہے انکی تقریر ہونے والی ہے میں نے کہا اسے انکے سامنے پیش کر دیجئے کہ یہ کیا ہورہاہے؟

چنانچہ ایسا ہی ہوا انہوں نے جیسےہی حضرت نانوتوی کا ذکر چھیڑا اور بزرگوں کے بارے میں اپنی پاکدامانی کا ذکر شروع کیا مولانا رحمانی نے وہ عبارت پڑھ کر سنا دی جس سے جلسہ کا رنگ تو پھیکا پڑاہی خود مولانا کا رنگ بھی فق ہو گیا

اعاذنا اللہ من الحور بعد الکور

http://www.bhatkallys.com/ur/author/dr-baderqasmi/

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*