بنیادی صفحہ / مضامین / تجربات ومشاھدات (7)۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔ الکویت

تجربات ومشاھدات (7)۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔ الکویت

Print Friendly, PDF & Email

صد سالہ اجلاس کے عرب مہمان

اجلاس صدسالہ کے شرکاء میں عربوں کی نمائندگی بھر پور تھی سعودی عرب سے بادشاہ کے نمائندہ کی حیثیت سے ڈاکٹر عبد اللہ الترکی اپنے  اعضائے وفد کے ساتھ،  رابطہ عالم اسلامی کاوفد امین عام مساعد شیخ علی مختار کی قیادت میں، دار الافتاء ریاض کا وفد  شیخ محمد بن قعود کی قیادت میں ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کےنائب رئیس الجامعہ ڈاکٹر عبد اللہ الزاید اور کئی اخباروں کے نمائندے اور مذھبی کالم نویس شیخ ابراھیم سرسیق وغیرہ

کویت کے وفد میں  وزیر اوقاف شیخ یوسف جاسم الحجی  مدیر شئون اسلامیہ شیخ عبد اللہ العقیل،مدیرمکتب وزیر فیصل المقہوی ۔ دوسری شخصیتوں میں سید  یوسف ھاشم الرفاعی، شیخ عود الخمیس ومتعدد دوسرے افراد اسعد بیوض التمیمی، شام کے مفتی شیخ احمد کفتارو۔ مصر کے وزیر اوقاف  ڈاکٹر عبد المنعم النمر مشہور قاری شیخ عبد الباسط عبدالصمد اورد عبد المعطی بیومی ، عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد الخلیلی دیگر مشہور علما ء میں شام کے ڈاکٹر عدنان زرزور وغیرہ تھے، یہ وہ نام ہیں جو مجھے یاد رہ گئے ہیں

دیوبند آنے سے پہلے دہلی کے اشوکا ہوٹل میں کویتی وفد کو ٹھہرایا گیا تھا ،تین مہمانوں کیلئے تین کمرے بک تھے شیخ عبد اللہ العقیل نے مجھے آواز دی اور فرمایا کہ تین کمرے کیوں بک کرائے گئے ہیں ؟

میں نے عرض کیا کہ معالی الوزیر کسی اور کے ساتھ کس طرح رہینگے، تو انہوں نے کہا کہ  یہ اسراف ہے ہمارے لئے دو کمرے کا فی ہیں چنانچہ ایک کمرہ کی بکنگ کینسل کرادی گئی، دیوبند میں تو افریقی منزل کے ایک  چھوٹے سےکمرے میں  تینوں مہمان مقیم رہے اور کسی کی زبان پر شکوہ کا ایک لفظ نہیں آیا، شیخ عبد العقیل کو دیوبند کی عوامی مقبولیت پر حیرت تھی  وہ کہتے تھے میں مصر میں سالہا سال رہا ہوں جامع ازھر کا بھی عوام سے رشتہ اتنا مضبوط نہیں ہے۔

سعودیہ کے شاہی وفد کی خاص بات یہ ہے کہ د ۔عبد  اللہ الترکی ملک فھد  کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کر رہے تھے   مجھے دیکھتے ہی  انہوں نے  کہا کوئی ذمہ دار نظر نہیں آرہاہے کسی کو بلاو میں واپس جا نا چا ہتاہوں ، میں پریشان ہوکر آدمیوں کے جنگل کو چیڑتا پھاڑتا جلسہ گاہ  تک پہنچا حضرت مہتمم صاحب نظر نہیں آئے تو مولانا منت آللہ رحمانی  صاحب سے  میں نے صورت حال کی نزاکت اس طرح بیان کی کہ وہ بیچارے ساتھ چل پڑے مہمان خانہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ ترکی صاحب جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں، مولانا  رحمانی میری وجہ سے خواہ مخواہ پریشانی میں مبتلا ہوئے۔ وہاں اندرا جی آگئیں اور کاروائی شروع ہو گئ اور مولانا منت اللہ رحمانی صاحب کیلئے دوبار اسٹیج تک پہنچنا دشوار ہوگیا ۔

ڈاکٹر عبداللہ الترکی نے ملاقات ہونے کےساتھ ہی  لوگوں کا ازدحام دیکھ کر کہ جانے کس سے ملاقات ہو اور   کس سے نہ ہو،  اور مجھے  ریاض کانفرنس میں شرکت کے بعد سے اچھی طرح جانتے تھے اور کافی مانوس تھے

 انہوں نےمجھے فرانسیسی قلم کے دو سیٹ دئےاور کہا کہ اس میں ایک تمہارا ہے اور دوسرا مدیر جامعہ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کیلئے ہے جبکہ رابطہ عالم اسلامی کے نمائندہ نے غلاف کعبہ کا ایک ٹکڑا دیا تھا جو عرصہ تک میرے پاس رہا پھر کسی کی نظر اسے لے گئی اوراسکا سراغ نہیں لگا

لیکن اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے” مؤ تمر الحوار” کا جو اجلاس مكه مكرمه ميں صفا پیلس میں ہوا تھا اس موقع پر اس سے بڑاٹکڑا ملک عبد اللہ بن عبدالعزیز کی طرف سے دوسرے ہدایا کے ساتھ مجھے مل گیا فالحمد للہ رب العالمین

اجلاس کے بعد میں نے قاری صاحب کی خدمت میں  قلم پیش کیا تو وہ یہ سمجھے کہ یہی قلم دونوں کیلئے مشترک ہے تو فرمانے لگے کہ یہ یہیں دفتر اھتمام میں رہے گا آپكو لکھنا ہوگا تو یہیں آکر لکھ لیا کریں اور میں بھی  لکھ كر  یہیں ركھدونگا ۔ مجھے انکی معصومیت پر ہنسی آگئی اور ان سے عرض کیا کہ حضرت میرا حصہ مجھے مل چکا ہے ڈاکٹر عبد اللہ الترکی نے مجھے بھی اسی طرح  کا قلم  الگ سےدیا ہے یہ قلم آپ کیلئے ہے اسے اپنے ساتھ گھر لیجائیں حضرت مسکرائے  کتنے سادہ اور نیک طبیعت کے تھے یہ لوگ  رحمه الله رحمة واسعة

http://www.bhatkallys.com/ur/author/dr-baderqasmi/

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*