بنیادی صفحہ / مضامین / خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ مچھلی بازار کا شور ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ مچھلی بازار کا شور ۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی

Print Friendly, PDF & Email

ایک مضمون نما افسانے میں یہ دل چسپ جملہ نظر سے گزرا ’’چوکھٹ کی دہلیز… لیکن اتنی اونچی نہیں کہ ہاتھ اس تک نہ پہنچ پاتے۔‘‘
جملے سے ظاہر ہے کہ موصوفہ کو چوکھٹ کا مطلب ہی نہیں معلوم، نہ یہ معلوم ہے کہ چوکھٹ اور دہلیز ایک ہی چیز ہے۔ چوکھٹ اونچی نہیں ہوتی بلکہ قدموں میں ہوتی ہے اور اسی کو دہلیز کہتے ہیں۔ دروازے کی نیچے کی لکڑی کو چوکھٹ کہتے ہیں، اس تک ہاتھ کیا پیر بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ’’چوکھٹ کو چومنا‘‘ محاورہ ہے، اگر یہ اونچی ہو تو بڑا مسئلہ ہوجائے گا۔ کچھ دن پہلے ہی تو ایک سیاست دان اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک مزار کی چوکھٹ چومتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔ دروازے کی اوپرکی لکڑی کو ’’اترنگ‘‘ کہتے ہیں جس تک ہاتھ پہنچ جائیں تو بچے لٹک کر جھولا جھولتے ہیں۔ دروازے کی اِدھر اُدھر کی لکڑیوں کو بازو کہتے ہیں، تاہم اب یہ بازو استعمال میں نہیں، کم از کم ہماری نظر سے نہیں گزرا۔ چوکھٹ آستانہ کو بھی کہتے ہیں جیسے بابا فرید کی چوکھٹ۔ آتشؔ کا شعر ہے:
سرائے یار میں پہنچیں گے ہم لگا کے کمند
بلند بام سے رتبہ ہے اس کی چوکھٹ کا
’’چوکھٹ نہ جھانکنا‘‘ محاورہ ہے یعنی کبھی دروازے پر نہ آنا۔ اس پر شوقؔ کا شعر ہے:
فیل کیوں کر رہا ہے چل ہٹ بھی
اب تو جھانکوں نہ تیری چوکھٹ بھی
مذکورہ شعر میں ایک لفظ ’’فیل‘‘ آیا ہے۔ یہ لفظ بھی نامانوس ہوگیا ہے، البتہ انگریزی کا فیل (Fail) عام فہم ہے۔ عربی کا فِیل (’ف‘ بالکسر) بھی اردو میں عام فہم ہے۔ ایک تو سورہ فیل کی وجہ سے، دوسرے ایک بیماری ’فیلِ پا‘ کے حوالے سے، جس میں پیر سوج کر ہاتھی کے پیروں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ لیکن فیل کرنا الگ چیز ہے۔ فیل مچایا بھی جاتا ہے۔ اس فیل کا مطلب ہے: مکر، فریب، شرارت۔ فیل کرنا: مچلنا، ضد کرنا جیسے عموماً بچے کرتے ہیں۔ چنانچہ خواتین کی زبان پر یہ لفظ آجاتا ہے یا آجاتا تھا۔ ’’فیل بھرنا‘‘ محاورہ ہے یعنی مکاری کرنا، دھوکا کرنا۔ ایک اور محاورہ ہے ’’فیل لانا‘‘ یعنی جھگڑنا، فساد کھڑا کرنا، مکر کرنا۔ اس حوالے سے لغت میں ایک لفظ ہے ’’فیل ہایا‘‘۔ یہ لفظ نیا ہے، مطلب ہے: مکار، فریبی، بدباطن، حیلہ گر۔ مونث اس کی ’’فیل ہائی‘‘ ہے لیکن اس کا استعمال ہماری نظر سے تو نہیں گزرا۔ یہ بھی اُن الفاظ میں سے ہے جو متروک ہوچکے ہیں، اب اس پر کیا فیل مچانا۔ عربی کے فیل (ہاتھی) کے بارے میں لغت کہتی ہے کہ یہ فارسی کے ’’پیل‘‘ کا معرب ہے، تاہم عربی کے بڑے محققین کا کہنا ہے کہ قرآن کریم میں جتنے بھی الفاظ آئے ہیں وہ عربی کے ہیں، اور کسی دوسری زبان سے نہیں لیے گئے۔
مچھلی بازار کے حوالے سے اسلام آبادی عبدالخالق بٹ کی تحقیق بہت دن سے بِن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ اب انھوں نے اپنی اس تحقیق کو تحریر کی شکل دے دی ہے:
’’مچھلی بازار: ایوان میں حزبِ اقتدار اورحزبِ اختلاف کے باہمی تعاون سے ہونے والی ہنگامہ آرائی یا دوسرے لفظوں میں ہلڑ بازی کو برقی اور ورقی ذرائع ابلاغ’’مچھلی بازار‘‘ بنا دینے سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ بعض صحافی’’ ندرتِ خیال‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے روشِ عام کے برخلاف ’’مچھلی منڈی‘‘ بھی لکھتے اور بولتے ہیں۔ جب سے ’’مچھلی بازار‘‘ کی ترکیب پڑھنے اور سننے کا اتفاق ہوا، ہم یہی سمجھتے رہے کہ ’’مچھلی بازار‘‘ میں واقعی بہت شور شرابا ہوتا ہوگا اور اس’’ غذائے آبی‘‘ کی طلب میں خریداروں کے مابین دھکم پیل ہوتی ہوگی، چنانچہ اسی رعایت سے ایوان یا کم تر درجے میں کمرۂ جماعت کے شور و شغب کو ’’مچھلی بازار‘‘ کے ہنگامے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ تاہم جب بھی مچھلی خریدنے کا اتفاق ہوا تو ایسے کسی بھی شور شرابے سے واسطہ نہیں پڑا، بلکہ ’’مچھلی بازار‘‘ سے زیادہ شور ’’سبزی بازار‘‘ میں سننے کو ملا جہاں کُنجڑے گلا پھاڑ پھاڑ کر سبزی کے تازہ ہونے اور خاص ہمارے لیے کم نرخ لگا دینے کا مژدہ سناتے نظر آئے، گویا ہم اُن کے رشتے دار ہوں۔ یہ دیکھ کر خیال آیا کہ مچھلی بازار کی نسبت سے مچائے جانے والے جس شور کو ہم مچھلی کی دُکانوں اور ٹھیلوں ریڑھوں پر تلاش کررہے ہیں وہ شاید یہاں نہیں بلکہ فشری (Fishery) پر ہوتا ہوگا، مگر یہ قیاس بھی فشری انتظامیہ کے اس تردیدی بلکہ احتجاجی بیان کے ساتھ دم توڑ گیاکہ’’ایوان میں استعمال ہونے والی غیر پارلیمانی زبان خود اہلِ پارلیمان کی خانہ ساز ہے، اس بدتمیزی اور بدتہذیبی کا ’’مچھلی بازار‘‘ سے کو ئی تعلق نہیں۔‘‘
عجب اتفاق ہے کہ جس ہنگامے کو ہم ٹھیلوں اور دُکانوں پر ڈھونڈ رہے تھے اس کا سراغ ’’سانحہ ٔ کانپور‘‘کے فسادات میں ملا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ 1913ء میں کانپور کی میونسپل کمیٹی کی جانب سے شہر کی سڑکوں کی توسیع کا کام جاری تھا۔ اس منصوبے میں ’’مچھلی بازار‘‘ کانپور کی اے بی روڈ (موجودہ مسٹن روڈ، جسے مسلمان مولانا حسرت موہانی روڈ بھی لکھتے ہیں) بھی شامل تھی۔ سڑک کے ایک جانب جامع مسجد اور دوسری جانب مندر واقع تھا، یہاں سڑک تنگ تھی، منصوبے کے مطابق توسیع کی زد مندر پر پڑ رہی تھی، یہ دیکھ کر ہندوؤں نے ہنگامہ مچا دیا، نتیجتاً نزلہ عضوِ ضعیف پر گرا اور مندر کی جگہ مسجد کا کچھ حصہ مسمار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایسے میں مچھلی بازار کی مسجد کے تحفظ کے لیے مسلمان میدان میں آگئے۔ اب ہنگامے کی باری مسلمانوں کی تھی۔ یو پی کا گورنرجیمس مسٹن خود کانپور آیا اور حقیقتِ حال سے صرفِ نظر کرتے ہوئے میونسپلٹی کے فیصلے کی توثیق کردی، یوں بزورِ قوت مسجد کا مطلوبہ حصہ مسمار کردیا گیا۔ ایسے میں 3 اگست1913ء کو مچھلی بازار میں جمع ہونے والے احتجاجی مظاہرین پر پندرہ منٹ تک براہ راست فائرنگ کی گئی۔ اس اقدام کے خلاف ہندوستان کے طول و عرض میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ مولانا محمد علی جوہر اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکریٹری سرسید وزیرحسن پر مشتمل وفد لندن گیا جہاں اس نے برطانوی حکام کو درپیش صورتِ حال سے متعلق بریفنگ دی۔ مسلمانوں کا ردعمل اس قدر شدید تھا کہ وائسرائے ہند لارڈ ہارڈنگ کو کانپور آنا پڑا، جائے وقوع کا جائزہ لینے کے بعد وائسرائے نے نہ صرف یہ کہ گورنر یوپی مسٹن کی سرزنش کی بلکہ مسلمانوں کے لیے مسجد کے مسئلے کا قابلِ قبول حل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ گرفتارمسلمانوں کی رہائی اور ان پر قائم مقدمات ختم کرنے کا بھی حکم دیا۔ یوں ’’مچھلی بازار‘‘کا یہ ہنگامہ ختم ہوا۔ تاہم اس کے بعد سے لے کر آج تک ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کو ’’مچھلی بازار‘‘کانپورکے ہنگامے منسوب کیا جاتا ہے۔
(وللہ اعلم بالصواب)‘‘
اسمبلیوں میں حلف اٹھانے کا موسم آرہا ہے لیکن ہم سمیت بہت سے لوگ اس الجھن میں ہیں کہ حلف کا تلفظ کیا ہے، یعنی کیا یہ حرف کے وزن پر حَلْف ہے یا حَلَف (پہلے اور دوسرے حرف پرزبر)۔ اردو میں تو یہ حلف بر وزن رقم، کرم، ستم، حلق ہے تاہم عربی میں ’ح‘ بالکسر ہے یعنی حِلف۔ تسلیم کا شعر ہے:
ناصح خیال مصحفِ عارض کا چھوڑ دوں
اس پر حلف تو مجھ سے اٹھایا نہ جائے گا
مصحف کے کئی معانی ہیں۔ اہلِ عرب قرآن کریم کے لیے مصحف ہی استعمال کرتے ہیں۔ اہلِ فارس نے اسے چہرے کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ شادی بیاہ میں ایک رسم ’’آرسی مصحف‘‘ کی ہوتی تھی، اب تو اس کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ آرسی کے حوالے سے ایک محاورہ ہے ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے‘‘۔ آرسی ایک بڑی سی انگوٹھی ہوتی تھی جو انگوٹھے میں پہنی جاتی تھی اور اس سے ایک آئینہ لگا ہوا ہوتا تھا۔ محاورے کا مطلب ہے کہ ہاتھ میں پڑے ہوئے کنگن سب کو نظر آرہے ہیں تو انہیں آئینے میں دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔

 

x

Check Also

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ شہر ابلاغ میں لکڑ ہارے۔۔۔ تحریر : اطہر علی ہاشمی

شاعر نے کہا تھا جانے کن جنگلوں سے در آئے شہرِ تنقید ...