بنیادی صفحہ / مضامین / خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ ڈگیں ڈالنا ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

خبر لیجئے زباں بگڑی ۔۔۔ ڈگیں ڈالنا ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Print Friendly, PDF & Email

سورہ النحل کے ترجمے میں ایک جملہ پڑھا ’’جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں فوراً ’’ڈگیں‘‘ ڈال دیتے ہیں‘‘۔ سید مودودیؒ نے السَّلَمَ کا ترجمہ ڈگیں ڈالنا کیا ہے۔ یہ بھی خوب لفظ ہے۔ فتح محمد خان جالندھری نے اس کا ترجمہ مطیع و منقاد کیا ہے۔ دستیاب لغات میں ڈگیں ڈالنا تو نہیں ملا لیکن مطلب واضح ہے کہ فرشتے پکڑتے ہیں تو ساری ہیکڑی بھلا کر سرکشی سے باز آجاتے ہیں۔ فرہنگِ آصفیہ میں یہ لفظ ضرور ہوگا، کسی وقت دیکھیں گے۔ سید مودودیؒ نے جس وقت ڈگیں ڈالنا استعمال کیا تھا اُس وقت یہ عام فہم ہوگا۔ لغت میں ’’ڈگ‘‘ تو ہے لیکن اس کا مفہوم کچھ اور ہے۔ مثلاً نوراللغات میں ’’ڈگ‘‘ کا مطلب ہے: قدم، دو قدم کے بیچ کا فاصلہ جو چلنے میں ہوتا ہے۔ لمبے لمبے ڈگ بھرنا تو عام ہے۔ اور اگر ڈک بالضم ہو یعنی ’’ڈ‘‘ پر پیش، تو اس کا مطلب ہے گھونسا۔ صاحبِ نوراللغات نے ڈُک بمعنی گھونسا بازاری قرار دیا ہے، لیکن ہم نے فصحا سے انہی معنوں میں سنا ہے جیسے ڈُک رسید کرنا۔ ہوسکتا ہے کہ ڈگمگ کا تعلق بھی ڈگیں ڈالنے سے ہو، کیوں کہ اس کا مطلب ہے: کانپنا، ہلنا، جنبش کرنا، لڑکھڑانا، زمین پر قیام کرنے کی طاقت باقی نہ رہنا۔ واضح رہے کہ یہ کوئی تحقیق قسم کی چیز نہیں، ہماری رائے ہے۔ اور اُمید ہے کہ ہمارے قارئین میں سے جو اہلِ علم ہیں وہ کسی لغت سے ’ڈگیں ڈالنا‘ کھوج نکالیں گے۔
مولانا فتح محمد جالندھری نے ایک اور مشکل لفظ رکھ دیا ہے یعنی ’’منقاد‘‘۔ اس کی جگہ نوراللغات میں ’’منقار‘‘ مل گیا۔ اب اس کا مطلب تو اُن کو بھی معلوم ہے جو منقارِ زیر پر رکھتے ہیں۔ منقاد اگر نقد سے ہے تو اس کا مطلب ہے: درہم و دینار اور وہ رقم جو فوراً ادا کردی جائے۔ لیکن ایک مطلب آمادہ کرنا بھی ہے۔ بطور صفت اکیلا، مجرد، تن تنہا۔ لیکن ان میں سے کوئی مطلب مطیع یا سلَمَ سے لگّا نہیں کھاتا۔
(منقاد اسم فاعل ہے انقیاد سے، جس کا معنی کسی کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ مصدر قَوْد ہے جس کا معنی جانور کو پشت سے ہانکنا یا آگے کھینچنا ہے)
ایک صاحب نے پوچھا ہے کہ کیفرِ کردار کا مفہوم تو معلوم ہے لیکن یہ ’’کیفر‘‘ کیا ہے؟ کیفر فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے: برائی کا بدلہ یا عوض۔ جو لوگ ڈگیں نہیں ڈالتے وہ کیفرِ کردار کو پہنچ جاتے ہیں یا پہنچائے جارہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ کراچی اردو بولنے والوں اور پڑھے لکھے لوگوں کا شہر ہے۔ یقینا کبھی ایسا ہوتا ہوگا۔ اس شہر کی دیوار پر ایک مشورہ نوشتۂ دیوار ہے کہ ’’اپنے شہر کی شاعرائوں کو صاف رکھیں‘‘۔ کیا کسی نے ناصاف شاعرہ کو دیکھ لیا، یا یہ شعراء کی جمع ہے؟ کسی نے بتایا کہ یہ نوشتہ شاہراہوں کے بارے میں ہے۔ نوشتہ کو بہت سے لوگ نوشتہ بروزن ناشتہ بولتے پائے گئے، جب کہ یہ بروزن فرشتہ (نَوِشْ تہ) ہے۔
علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں ’فال و فر‘ استعمال کیا ہے۔ فال و فر کے بارے میں پہلے بھی کبھی وضاحت کی تھی لیکن جن تک یہ وضاحت نہیں پہنچی اُن کے لیے مکرر۔ فال و فرکا مطلب ہے: ہیبت و شُکوہ، شان و شوکت، دبدبہ۔ کروفر بھی کہتے ہیں۔ ’کر‘ فارسی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: زور، طاقت، قوت، توانائی، شان و شوکت۔ ہندی میں ’کر‘ کے بہت سے مطالب ہیں، تاہم اردو میں ان کا استعمال عام ہے جیسے ’’کر تو کر، نہیں تو خدا سے ڈر‘‘۔ یا یہ محاورہ ’’کربیٹھنا‘‘۔ سنسکرت میں ’کر‘ کا مطلب ہے: ہاتھی کی سونڈ، ہاتھ، محصول چنگی، خراج، مال گزاری، ٹیکس، جرمانہ، تاوان، جزیہ، چٹّی، بیگار وغیرہ۔ اسی طرح عربی کی ’فال‘ اردو میں عام ہے بمعنی شگون۔ فالِ اختر، فالِ بد، فال دیکھنا، فال نکالنا۔ کتنے ہی لوگ قرآن کریم سے صرف فال نکالنے کا کام لیتے ہیں یا دوسروں سے نکلواتے ہیں جسے فال کھلوانا کہا جاتا ہے۔ فارسی کا مقولہ ہے ’’فال زبان یا فال قرآن‘‘ یعنی زبان سے نکلی ہوئی بری بات فال قرآن کے برابر ہوتی ہے۔ اردو کی ایک نامعقول سی مثل ہے ’’فال کی کوڑیاں ملّا کو حلال‘‘۔ مطلب ہے مفت کا قلیل مال لے لینا جائز ہے، یا مشقت کی اجرت جائز ہے۔ لیکن اس مثل میں ملّا کی توہین ہے، جب کہ ملّا بڑا معزز لقب ہے، لیکن بے چارے کو سب ہی نے نشانہ بنایا ہے۔ علامہ اقبال بھی پیچھے نہیں رہے۔ کہتے ہیں:
ملّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
نادان سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
لیکن اب تو یہ آزادی بھی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
اخبارات میں طلبہ بار بار طلبا ہوجاتے ہیں۔ جب کہ طُلبا طلیب کی جمع ہے۔ عربی میں طالب کی جمع طُلاب ہے جو اردو میں عام نہیں ہے۔ طلیب کا مطلب ہے بہت ڈھونڈنے والا۔ اب طلبہ، علم نہیں کچھ اور ڈھونڈتے ہیں۔ اور طالب کہتے ہیں طلب کرنے والے کو۔ وہ طالبِ علم بھی ہوسکتا ہے اور طالب ِدنیا بھی۔ ایک سیاسی جلسے کے حوالے سے ایک اخبار میں پھر جامع تلاشی نظر سے گزرا۔ غالباً جامہ تلاشی لکھتے ہوئے ہمارے ساتھیوں کو شرم آتی ہے۔
انگریزی کا لفظ بنچ اور بینچ بھی خلط ملط ہورہے ہیں۔ انگریزی میں دونوں کے ہجے مختلف ہیں لیکن اردو اخبارات میں یہ ایک ہوگئے ہیں۔ بنچ (BUNCH) تو گچھے کو کہتے ہیں، جب کہ بینچ کے ہجے BENCH ہیں۔ چنانچہ یہ عدالتِ عالیہ کا ہو یا عدالتِ عظمیٰ کا، بہتر ہے کہ بینچ لکھا جائے، گو کہ اس میں ججوں کا گچھا تو ہوتا ہے۔
فارسی کا لفظ ہے لیکن بِیخ بکسر اول ہے یعنی ’ب‘ کے نیچے زیر ہے۔ لیجیے صاحب اور لغت دیکھیے۔ اسی طرح لفظ ’’بِید‘‘ہے۔ یہ بھی فارسی کا ہے اور بکسر اول ہے۔ ایک پہاڑی درخت جس میں پھل نہیں آتا۔ لوگ اس سے خوب واقف ہیں۔ گھروں میں بیدکا فرنیچر ہوتا ہے۔ حکیموں کے پاس ’’بیدانجیر‘‘، ’’بید مشک‘‘ بھی مل جائے گا۔ بید مجنوں بھی کہا جاتا ہے جس کے پتے باریک اور ٹہنیاں زمین کی طرف جھکی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کی صورت دیوانوں کی سی معلوم ہوتی ہے، شاید اسی لیے اسے بید مجنوں کہا گیا۔ ذوق کا شعر ہے:
نام میرا سن کے مجنوں کو جماہی آ گئی
بید مجنوں دیکھ کے انگڑائیاں لینے لگا
ایسا شعر استاد ذوق ہی کہہ سکتے تھے۔ ان کے نام میں ایسا کیا تھا کہ مجنوں کو جماہی آگئی؟ قارئین میں کچھ ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے اسکول میں بید کی چھڑی کا مزہ چکھا ہوگا۔ اب تو لغت کھولتے ہوئے جی گھبرانے لگا ہے۔

 

x

Check Also

مسلم سینا کا نام لینا بھی طوفان کو دعوت دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از: حفیظ نعمانی

ہم الحمد للہ نہ کم آمیز ہیں نہ مردم بے زار، بعض ...