بنیادی صفحہ / مضامین / خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔ کان میں دم آگیا ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

خبرلیجئے زباں بگڑی ۔۔ کان میں دم آگیا ۔۔۔ تحریر : اطہر ہاشمی

Print Friendly, PDF & Email

آج بھی پہلے اپنے ہی گریبان میں جھانکتے ہیں، کیونکہ لوگ ’چراغ تلے اندھیرا‘ کا طعنہ دینے میں دیر نہیں لگاتے۔ 6 نومبر کے جسارت میں جو قطعہ چھپا ہے اُس کا پہلا مصرع ہے ’’سنتے سنتے کان میں دم آگیا‘‘۔ اس میں شاعر کی کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ جس نے یہ قطعہ کمپوز کیا ہے، غالباً اُس کے کان میں دم آگیا ہوگا، کیونکہ جسارت میں قطعہ عموماً ٹیلی فون پر کان سے سن کر لکھ لیا جاتا ہے۔ محاورہ تو ’’ناک میںدم آنا‘‘ ہے، کان میں نہیں۔ کان میں تو مسلمان بچے کی پیدائش پر اذان دی جاتی ہے۔ ناک میں دم آنا یعنی تنگ ہونا۔ اس کی جگہ ’’ناک میں جی ہونا‘‘ بھی بولتے ہیں، لیکن عموماً ناک میں دم مستعمل ہے۔ ویسے تو ناک کے حوالے سے اور بھی کئی محاورے ہیں مثلاً ناک میں تیر ڈالنا، ناک کٹنا، ناک اونچی رکھنا، ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا، ناک پکڑے دم نکلتا ہے، ناک چنے چبوانا۔ جانے یہ کام کیسے ہوتا ہے لیکن شوق قدوائی کا شعر ہے:
گلیوں گلیوں ہم نے لاکھوں کنکر پتھر کھائے ہیں
لڑکوں نے دیوانہ پاکر ناک چنے چبوائے ہیں
فارسی کا ایک محاورہ ہے ’’بیک بینی ودوگوش‘‘۔ یہ بینی بھی ناک ہی ہے۔ پنجابی میں بینی کلائی کو کہتے ہیں۔
کہیں قارئین کا ناک میں دم نہ آجائے چنانچہ آگے بڑھتے ہیں۔ جسارت ہی میں 2 نومبر کو ادارتی صفحے پر ایک ربانی کالم شائع ہوا ہے جس میں فاضل مصنف نے لکھا ہے ’’انسان میں دو طرح کے رجحانات پائے جاتے ہیں نفسِ عمارہ اور نفسِ لوامہ۔ نفسِ عمارہ انسان کو برائی کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرتا ہے‘‘۔ اور ہم جب سے اس سوچ میں ہیں کہ یہ ’’عمارہ‘‘ کیا ہوتا ہے؟ لغت میں یہ لفظ تو نہیں ملا البتہ عمّاری مل گیا۔ اس کے موجد کا نام عمار تھا، اس وجہ سے یہ نام رکھا گیا۔ عماری کا مطلب عربی میں اونٹ کا محمل، مُردے کا تابوت، ہاتھی کا ہودہ جو بیٹھنے کے لیے اس کی کمر پر رکھتے ہیں۔ تو یہ نفس عمارہ کیا ہے؟ اسے کمپوزنگ یا کتابت کی غلطی بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک سے زائد بار استعمال ہوا ہے۔ کہیں یہ نفس کا تابوت تو نہیں؟ ایک صاحبِ علم کا کہنا ہے کہ یہ دراصل ’’امّارہ ہے‘‘ اور لکھنے والے سے سہو ہوا ہے۔ اس کی وضاحت یوں ضروری ہے کہ جسارت کے قارئین عمارہ ہی کو درست نہ سمجھ لیں۔ امارہ کا مادہ امر ہے یعنی حکم۔ اور امارہ کثرت سے حکم دینے والا، بدی کی طرف رغبت دلانے والا، سرکش، نفسِ انسانی کی ایک قسم۔ امارہ کے ساتھ نفسِ لوامہ کا ذکر بھی آتا ہے۔ یہ بھی اسمِ مبالغہ ہے یعنی سخت ملامت کرنے والا۔ لائم کا مطلب ہے ملامت کرنے والا۔ یہ بھی نفسِ انسانی کی ایک قسم ہے جو انسان کو بدی پر ملامت کرتا ہے۔
ڈان نیوز چینل پر 4 اور 5 نومبر کو اخبار ڈان کے قیام کے حوالے سے ایک رپورٹ بار بار پیش کی گئی۔ ممکن ہے 6 نومبر کو بھی نشر ہوئی ہو۔ رپورٹ پیش کرنے والے صاحب بتارہے تھے کہ 1942ء میں ڈان اخبار کا دفتر دریائے گُنج کی ایک پرانی عمارت میں قائم ہوا۔ ڈان اسٹاف سے تعلق رکھنے والے اِن صاحب کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ دہلی کے مشہور علاقے کا نام ’’دریا گنج‘‘ ہے اور ’گ‘ پر پیش نہیں زبر ہے۔ خیال ہے کہ چوں کہ انگریزی میں اس کا املا GUNG ہے اس لیے رپورٹ تیار کرنے والے نے اسے گُنج (گاف پر پیش) بنادیا۔ لیکن یہ ’’دریائے،‘ کیا ہے؟کسی سے پوچھ ہی لیا ہوتا۔ مزید حیرت یہ کہ بار بار رپورٹ نشر ہونے کے باوجود کسی نے تصحیح نہیں کی اور ہر بار دریائے گُنج بہتا رہا۔ ممکن ہے گنج کی وجہ سے صحیح لفظ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا ہو حالانکہ گنج تو خزانے کو کہتے ہیں۔ کسی کا شعر یاد آیا:
مزارِ کشتگانِ تاز کیوں کھدوائے جاتے ہیں
خزانہ کیا کوئی مل جائے گا گنجِ شہیداں سے
بعض لوگوں کے منہ سے ہم نے ’’گنجے شہیداں‘‘ بھی سنا ہے۔ گنج کے اور بہت سے معانی ہیں مثلاً ہاٹ بازار، منڈی، ذخیرہ، گودام وغیرہ۔ اُس زمین کو بھی کہتے ہیں جس میں کچھ لوگوں کو آباد کردیں۔ گنج لگانا کا مطلب ہے اناج کی منڈی قائم کرنا، شاید ان ہی میں سے کسی سبب سے دریا گنج کا محلہ آباد ہوا۔ گُنج کے علاوہ اس رپورٹ میں ’جان سنگھ‘ کی دھمکیوں کا بھی ذکر ہے۔ یہ بھی غالباً انگریزی املا میں JAN ہوگا جب کہ یہ جن سنگھ ہے جو ایک انتہا پسند تنظیم ہے۔ جَن پر بحث طویل ہوجائے گی، اس لیے کسی اور طرف چلتے ہیں۔
ایک اخبار میں ’’محصور زدہ‘‘ دیکھا۔ کیا پتا یہ بھی عام ہوجائے جیسے ’بیانیہ‘ عام ہوگیا ہے۔ محصور زدہ کی ترکیب صحیح نہیں ہے۔ محصور میں ’زدہ‘ شامل ہے یعنی جس کا حصار کیا گیا ہو۔ اس سے بہتر تو حصار زدہ ہے۔ پچھلے دنوں ایک کثیرالاشاعت اخبار کے خبروں کے ایک ہی صفحے پر میعار اور معیار نظر سے گزرا۔ جملہ تھا ’’غیر میعاری کیمیکل‘‘ اور اس کے ساتھ دوسری خبر کی سرخی تھی’’غیر معیاری تعلیم دینے کی کوشش‘‘۔ اب ان میں سے کوئی ایک لفظ ہی درست ہوگا۔ معیار کی جگہ میعار اور میعاد کی جگہ معیاد بہت عام غلطیاں ہیں اور کہیں غلط العام نہ ہوجائیں۔
لالچ کو ہمارے صحافی بھائی جانے کس لالچ میں مونث بنائے دے رہے ہیں۔ ٹی وی چینل پر کہا گیا ’’نئے ملبوسات کی لالچ میں‘‘۔ ایک اینکر ’’حظ‘‘ اٹھا رہے تھے مگر ’ح‘ کو زیر کرکے یعنی حِظ۔ اب تو انگریزی پر بھی ’’حملے‘‘ شروع ہوگئے ہیں۔ پاناما کے حوالے سے ایک اینکر ’’منی ٹرائیل‘‘ تلاش کررہے تھے۔ ارے بھائی ’’ٹرائیل‘‘ اور ٹریل میں فرق ہے۔ ٹی وی چینل ’دن‘ کے اینکر 2 نومبر کی نشریات میں ایک بڑے شاعر حکیم مومن خان مومن کے نام اور ان کے شعر کی ایسی تیسی بڑے اہتمام سے کررہے تھے۔ وہ مومِن کو مومَن (دوسرے میم پر زبر) کہہ کر ان کی روح کو تڑپا رہے تھے۔ پھر انہوں نے مومن کے مشہور شعر پر حملہ کیا۔ فرمایا:
عمر ساری تو کٹی ’ہے‘ عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
شکر ہے کہ فاضل اینکر نے دوسرا مصرع ٹھیک پڑھ دیا، ورنہ وہ کچھ بھی کہہ سکتے تھے۔ پہلے مصرع میں ’ہے‘ زائد ہے، مومن نے اس کے بغیر ہی عمر کاٹ دی تھی۔ ویسے مومن خان آخری وقت میں پکے مسلمان ہوگئے تھے۔ چنانچہ کہا کہ
مومن چلا ہے کعبہ کو اک پارسا کے ساتھ
اب کچھ ذکر اُن محبت ناموں کا ہوجائے جو محبانِ کرام نے بھیجے ہیں۔ سید محسن نقوی نے وضاحت کی ہے کہ ان کا تعلق بمبئی سے نہیں۔ ان کی پیدائش لکھنؤکی ہے اور سب بہن بھائی لکھنؤ ہی میں پلے بڑھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جبلی (غالباً جوبلی) کالج جس عمارت میں ہے وہ آغا میر کا امام باڑہ تھا،آصف الدولہ کا بڑا امام باڑہ نہیں۔ انگریزوں نے 1857ء میں امام باڑہ آغا میر پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ سید محسن نقوی کا قیام نیوجرسی(امریکا) کے شہر پرنسٹن میں ہے۔
دوسرا خط محترمہ عابدہ رحمانی کا ہے (کسی نامعلوم جگہ سے)۔ ان کے ذہن میں صرف دو ہی سوالات آئے ہیں (شکر ہے) ان کو نمٹا دیجیے۔ (دیجیے پر ہمزہ نہیں آئے گی)۔ پوچھا ہے کہ درست لفظ کیا ہے نمٹنا، نمٹانا یا نبٹانا۔ اس کا جواب تو یہ ہے کہ یہ نمٹنے والے پر منحصر ہے۔ نمٹنا اور نمٹانا دونوں ہی صحیح ہیں۔ نمٹانا کا مطلب ہے بھگتانا، چکانا، بے باق کرنا، خالی کرنا۔ ہندی کا لفظ ہے اور جس لفظ میں ’ٹ‘ ہو وہ ہندی ہی کا ہوتا ہے کیونکہ یہ حرف عربی میں ہے نہ فارسی میں۔ اور نمٹا ہوا فعلِ لازم ہے۔ یعنی بھگتا ہوا۔ نپٹانا صحیح نہیں ہے گو کہ بعض لوگوں کی زبان پر ہے اور وہ نپٹتے رہتے ہیں۔
نمٹا ہوا کا ایک مطلب تجربہ کار، جہاں دیدہ بھی ہے، جیسے وہ ان مسائل سے نمٹا ہوا ہے۔ ایک شعر ہے:
زبانِ تیغ سے دیتے ہیں وہ پیغام ملنے کا
نمٹتے جاتے ہیں جھگڑے، صفائی ہوتی جاتی ہے
لغات میں ’’نبٹانا‘‘ بھی ہے اور یہ بھی ہندی کا لفظ ہے۔ مطلب وہی ہے فیصلہ کرنا، بھگتانا، جھگڑا طے ہونا وغیرہ۔ ہمارے خیال میں یہ جھگڑا دہلی اور لکھنؤ والوں کا ہے۔ دہلی والے نمٹنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ محترمہ عابدہ رحمانی جیسے چاہیں نمٹ لیں۔
ان کا دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح لفظ کیا ہے ذمہ داری یا ذمہ واری۔ پشتو میں ہم ذمہ واری کہتے ہیں، اردو میں یہ ذمہ داری ہوجاتا ہے، لیکن ہمارے علاقوں کے لوگ اردو میں بھی ذمہ واری کہتے ہیں۔ فی الحال اتنا ہی۔

بی بی! ذمہ داری اور ذمہ واری کے بارے میں پہلے بھی انہی کالموں میں تفصیل سے لکھا جاچکا ہے۔ اس وقت کے وزیر داخلہ چودھری نثار کا حوالہ بھی رہا تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پہلے ذمہ وار کہا اور پھر ذمہ دار (ذمے دار) کہہ کر وضاحت کی کہ میں اپنی اردو صحیح کررہا ہوں۔ وہ لوگ جو ذمہ وار کہتے ہیں، شوق سے کہیں۔ یہ عابدہ رحمانی کے علاقے (غالباً خیبرپختونخوا) ہی تک محدود نہیں بلکہ پنجاب میں بھی عام ہے۔ کہتے ہیں ’’میں ذمہ وار آں،،۔ تاہم دونوں ہی صوبوں میں اہل علم یہ غلطی نہیں کرتے۔ اگر یہ ذمہ وار ہے تو دین دار دین وار کیوں نہیں، ایمان وار کیوں نہیں، دیانت وار کیوں نہیں؟ وار ہندی کا کلمہ نسبت ہے جیسے امیدوار، سوگو ار،سزاوار وغیرہ۔ دار (لاحقہ فاعلی) فارسی کے مصدر داشتن سے صیغۂ امر ہے جو کسی اسم کے بعد آکر اسے اسم فاعل ترکیبی بنادیتا ہے اور رکھنے والا کے معنی دیتا ہے مثلاً دلدار، آبدار وغیرہ۔ چنانچہ ذمہ دار کا مطلب ہوا ذمہ لینے یا رکھنے والا۔ دار کے اور بھی بہت سے معانی ہیں اور عربی میں گھر کو کہتے ہیں۔ دار پھانسی کو بھی کہتے ہیں۔ میر تقی میر کہتے ہیں:
موسم آیا تو نخلی دار پہ میر
سر منصور ہی کابار آیامسعود صدیقی اور کینیڈا کے ڈاکٹر شکیل احمد کا ذکر پھر سہی۔ فی الحال تو رسید حاضر ہے۔

www.akhbaroafkar.com

بشکریہ : فرائیڈے اسپیشل کراچی

 

x

Check Also

امریکہ کی دھمکی کتنی حقیقت کتنا فسانہ:۔۔۔۔۔۔۔۔از:حفیظ نعمانی

پاکستان اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بنا تھا اسے بنانے والے ...