بنیادی صفحہ / مضامین / خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ۔’’بے ڑا‘‘ اٹھانا ممکن نہیں۔۔۔ از : اطہر علی ہاشمی

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ ۔’’بے ڑا‘‘ اٹھانا ممکن نہیں۔۔۔ از : اطہر علی ہاشمی

Print Friendly, PDF & Email

بچے ہر عہد کے چالاک ہوتے ہیں، اپنے عہد کے اعتبار سے۔ بچوں کا ایک رسالہ ’ساتھی‘ ہے جس میں ہم کبھی کبھی بچوں کی تحریروں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک بچے کا خط آیا ہے کہ ’’آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ لالچ مذکر ہے، لیکن فرائیڈے اسپیشل میں ایک بڑے ادیب اور استاد اپنے مضمون میں لکھتے ہیں ’’جنت کی لالچ‘‘۔ آپ کا زور ہم ہی پر چلتا ہے‘‘۔ لالچ مونث ہونے کی دلیل بچے اس محاورے سے دیتے ہیں ’’لالچ بری بلا ہے‘‘۔ اس میں تو صاف صاف بری بلا کہا گیا ہے تو یہ مذکر کیسے ہوگیا! لیکن بری کی صفت ’لالچ‘ کے لیے نہیں ’بلا‘ کے لیے آئی ہے۔ اگر اسے صحیح مانا جائے تو اس کا مطلب کیا ہوگا ’’ہر وقت رونا بری بات ہے‘‘ یا ’’ہر وقت ہنسنا بری عادت ہے‘‘۔ اس سے تو رونا اور ہنسنا بھی مونث ہوگیا۔
’لالچ‘ ہندی زبان کا لفظ اور مذکر ہے۔ سند کے طور پر ناسخؔ کا شعر ہے:۔

حسن بھی کیا چیز ہے واعظ ذرا انصاف کر
اپنے بندوں کو خدا دیتا ہے لالچ حور کا

اسی طرح ہم نے ایک بار بچوں کو سمجھایا تھا کہ ’’حامی بھرنا‘‘ غلط ہے، اصل میں یہ ’ہامی بھرنا‘ ہے، یعنی کسی کام کے لیے ہاں کرنا۔ جب کہ ’حامی‘ کا مطلب ہے حمایت کرنے والا۔ اس پر بھی ایک بچے ہی نے توجہ دلائی ہے کہ ایک بڑے ادیب، شاعر اور صحافی جو کم از کم 50 برس سے لکھ رہے ہیں انہوں نے اپنے کالم میں لکھا ہے ’’حامی بھرلی‘‘۔ ہمیں تو ٹوکتے ہیں لیکن ان بڑے ادیبوں کو نہیں سمجھاتے۔
برخوردار ہمارا جہاں تک اختیار ہے وہیں تک کوشش کرتے ہیں، پنجابی محاورے کے مطابق ’’شہتیروں کو جپھے‘‘ نہیں ڈالتے۔ اب یوں تو بیڑا (بے ڑا) اور بیڑا (بی ڑا) میں بھی فرق روا نہیں رکھا جاتا۔ بچوں کی کہانیوں کی ایک کتاب میں ’’بیڑا سر پر اٹھانا‘‘ پڑھا۔ چلیے یہ ایک بچی کی غلطی ہے، لیکن گزشتہ دنوں ہم 5 کتابوں کے ایک مصنف کی کتاب پڑھ رہے تھے، اس میں وہ اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں ’’بیڑہ سر پر اٹھا لیا‘‘۔ بیڑا ہو یا پان کا بِیڑا، دونوں کے آخر میں ’ہ‘ نہیں الف آتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بیڑا (بے ڑا) جہازوں کا ہوتا ہے، انگریزی میں فلیٹ کہہ لیجیے۔ جہازوں کا بیڑا تو پوری بحری فوج بھی مل کر سر پر نہیں اٹھا سکتی، کئی گردنیں ٹوٹ جائیں گی۔ جو اٹھایا جاتا ہے وہ بیڑا (بی ڑا) ہے جسے ایک چٹکی سے اٹھایا جاسکتا ہے۔ ایک بار پھر وضاحت کردیں کہ بِیڑا اٹھانے کا محاورہ یوں وجود میں آیا کہ جب حکمران کسی اہم مہم کے لیے کسی کو ذمے داری سونپنا چاہتے تھے تو اپنے سرداروں کے سامنے پان کے بیڑے رکھ دیا کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ اس مہم پر کون جائے گا؟ کوئی ایک آگے بڑھ کر بِیڑا اٹھا لیتا تھا۔ یعنی وہ یہ مہم سر کرے گا۔ اس مصرع کے مصداق ’’ہم بڑھے، بڑھ کر کہا ہم سرکار ہم‘‘۔ یہ نازک سا بِیڑا جانے کیوں جہازوں کا بیڑا ہوگیا۔ بِیڑا (پان کا) اٹھانے کو آپ ’’ہامی بھرنا‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔
جسارت میں شائع ہونے والے مضامین میں کئی دلچسپ جملے بھی مل جاتے ہیں۔ ایک صاحب نے اعمال کی بھی جمع ’’اعمالوں‘‘ بنا ڈالی، صرف ’اعمال‘ لکھنے سے بات نہیں بنی۔ ایک کالم نگار نے ’’صِراط مستقیم کا راستہ‘‘ لکھا ہے۔ خدارا، سوچا تو ہوتا کہ ’صراط‘ کا مطلب کیا ہے۔ سورۂ فاتحہ میں صراطِ مستقیم کی دعا کی گئی ہے۔ ’صراط‘ کا مطلب ہی راستہ ہے اور یہ مونث ہے، ’صراطِ مستقیم‘ یعنی سیدھا راستہ۔ ایک شعر ہے:۔

رکھنا سمجھ سمجھ کے قدم چاہیے یہاں
دنیا نہیں صراط ہے یوم الوردو کی

لغت میں ایک بڑا دلچسپ لفظ ہے ’’غرارہ‘‘۔ برعظیم پاک و ہند کی مسلم خواتین میں یہ ایک عام پہناوا ہے جو اب شادی بیاہ کے موقع ہی پر نظر آتا ہے، تاہم کچھ علاقوں کی خواتین میں اب بھی یہ عام پہناوا ہے۔ اس پر گفتگو اس انکشاف کی وجہ سے کررہے ہیں کہ غرارہ پہنا تو یہاں جاتا ہے لیکن یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ ہے ناں مزے کی بات۔ عربی میں غرارے کا مطلب ہے ’’ناآزمودہ کار‘‘ ہونا، فریب کھانا۔ فارسی میں غرارے کا مطلب ہے ایک پیراہن جو زرہ کے نیچے پہنتے ہیں اور خوب ڈھیلا ہوتا ہے۔ اسی سے معنی کے اعتبار سے غرارے دار پیجامہ تیار ہوا۔ اب اس کے ساتھ پیجامہ نہیں کہا جاتا، صرف غرارہ کافی ہے۔ ایک مزاحیہ شاعر حاجی لق لق کا شعر ہے:۔

نہ آنے والے پہ کوئی بندش، نہ جانے والے پہ کچھ رکاوٹ
ہوائیں آئیں، ہوائیں جائیں بنا ہے جنت کا در غرارہ

حاجی لق لق اچھے بھلے شاعر تھے لیکن مقبول نہیں ہوئے۔ ان کا مجموعہ کلام بھی کہیں سے شاید مل جائے۔ غرارے کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ کالم بوجھل نہ ہوجائے۔
بھارت میں تو اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دے کر اس سے وہی سلوک ہورہا ہے جو مسلمانوں سے ہے۔ لیکن خود ہندوئوں نے اردو کے گیسو سنوارنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ شاعری تو اب بھی بہت عمدہ ہورہی ہے اور مشاعرے بھی برپا کیے جارہے ہیں۔ اردو کی خدمت کرنے والوں میں ایک نمایاں نام پنڈت برج موہن دناتریہ کیفی کا ہے جنہوں نے اردو زبان کی مختصر تاریخ اور اس کی انشا اور املا وغیرہ سے متعلق اہم امور پر بحث کی ہے اور ’کیفیہ‘ کے نام سے کتاب مرتب کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کتاب کے پڑھنے سے پہلے قواعد ِ اردو کی واقفیت ضروری ہے ورنہ اس سے فائدہ اٹھانا مشکل ہوگا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ ہم نہ پڑھیں۔ اس کتاب میں سے جو کچھ سمجھ میں آئے گا وہ قارئین تک پہنچاتے رہیں گے۔ اہلِ زبان اور اختراع کے بارے میں ان کی رائے ہے کہ ان لوگوں کے مذاق پر عموماً اعتبار کیا جاتا ہے اور ان کی رایوں کو وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو پشتوں سے ایک زبان بول رہے ہیں اور جنہیں عرفِ عام میں اہلِ زبان کہا جاتا ہے۔ عموماً صحت اور فصاحت کی سند ان سے لی جاتی ہے۔ لیکن قوموں میں سیاسی اور سماجی جمود کی طرح ادبی اور لسانیاتی جمود بھی حاوی ہوجایا کرتا ہے۔ اس صورت میں وہ استبداد اور قدامت پرستی کے مرض میں مبتلا ہوجایا کرتی ہیں اور ہر اختراع کو بدعت قرار دے دیتی ہیں۔
ان کی بات درست ہے، لیکن اب اہلِ زبان کا امتیاز ختم ہوتا جارہا ہے۔ خود اہلِ زبان کہلانے والوں کی زبان بگڑ گئی ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اہلِ زبان وہی ہے جو زبان کا صحیح استعمال کرے خواہ پشتوں سے کوئی اور زبان بولتا آیا ہو، یا اس کے اجداد اردو نہ بولتے ہوں۔ کتنے ہی پنجابی اہلِ قلم اور شاعر مستند اردو لکھتے ہیں اور لکھتے رہے ہیں۔

بہ شکریہ: فرائیڈے اسپہشل

x

Check Also

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

ایک مکالمہ۔۔۔ موجودہ سائنس رحمت ہے یا زحمت پندرہ منٹ کا یہ ...