بنیادی صفحہ / مضامین / کورونا سے پہلے بُھکمری مار ڈالے گی… سہیل انجم

کورونا سے پہلے بُھکمری مار ڈالے گی… سہیل انجم

Print Friendly, PDF & Email

’’کورونا سے بڑا خطرہ بھوک ہے۔ اگر کورونا سے بچ بھی گئے تو بھوک نگل لے گی‘‘۔ یہ اور ایسے جملے آج کل ان مزدوروں کی زبانی سننے کو مل رہے ہیں جو دہلی، ممبئی، کولکاتا، چنئی اور ایسے ہی دوسرے شہروں سے بے یار و مددگار اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔ وہ یو پی، بہار بنگال سے اپنے گھر چھوڑ کر ان شہروں میں اس لیے آئے تھے کہ اپنے اور اپنے خاندان کے پیٹ کی آگ بجھا سکیں گے۔ محنت مزدوری کریں گے۔ چند پیسے ملیں گے اور دو نوالے حلق کے نیچے اتریں گے۔ لیکن 21 روزہ لاک ڈاؤن نے ان کی زندگی کو ہی لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔ کام دھندہ بند ہو گیا ہے۔

وہ جائیں تو جائیں کہاں؟ اسی لیے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ دہلی اور یو پی کی سرحد ہو یا دوسری ریاستوں کی سرحدیں، ہر جگہ بڑے ہی دلدوز مناظر ہیں۔ لاکھوں لاکھ افراد اپنے ٹھکانوں سے نکل پڑے ہیں۔ مرد کے سر پر اشیائے ضروریہ کی گٹھری ہے، عورت اپنی گود میں بچہ لیے ہوئے ہے اور دیگر افراد خانہ ان کے پیچھے پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔ بھائی یہاں سے آپ کا گھر کتنی دور ہے؟ پچاس کلومیٹر۔ آپ کا ڈیڑھ سو اور آپ کا ڈھائی سو کلومیٹر۔ لوگ اتنی لمبی لمبی مسافتیں بال بچوں کے ساتھ پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔ دہلی سے تین افراد کا ایک گروپ اسکوٹر کے انجن کو ایک رکشہ میں فٹ کرتا ہے اور اسی سے بہار کے لیے نکل پڑتا ہے۔

یہ تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے کمر کس لی اور پیدل ہی گھر جانے کی ٹھان لی۔ لیکن ذرا ان کی خبر لیجئے جو ریاستوں کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کو جبراً ان کے ٹھکانوں سے ہنکا دیا گیا ہے اور وہ چلنے کے لیے مجبور ہیں۔ لیکن ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ پیدل جائیں اس لیے بس اڈوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کھلی جگہوں کو ٹھکانہ بنائے ہوئے ہیں۔ رین بسیروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بھوک سے بے حال ہیں۔ جیب میں پیسے نہیں۔ اگر ہوتے بھی تو کیا کر لیتے۔ ہر چیز تو بند ہے۔

دہلی، یو پی اور بہار کی حکومتیں ایسے لوگوں کے لیے بسو ں کا انتظام کر رہی ہیں۔ ایک ایک بس میں گنجائش سے زیادہ افراد ٹھونس دیئے گئے ہیں۔ ہر شخص کسی نہ کسی بس میں سوار ہونے کے لیے بے چین ہے۔ ماں باپ اندر چلے گئے بچے باہر رہ گئے۔ پھر انھیں کسی طرح ٹھونسا جا رہا ہے۔ بڑوں کو دروازوں کے راستے اور بچوں کو کھڑکیوں کے راستے۔ کسی طرح پورا خاندان ایک بس میں آگیا۔ بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے۔ کوئی کھڑا ہے۔ کوئی فرش پر براجمان ہے

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت نے 21 دنوں کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ لوگ سوشل ڈسٹینسنگ یا سماجی فاصلہ قائم رکھیں۔ کیونکہ کچھ پتا نہیں کہ کون سا شخص کس انفکٹیڈ شخص کے رابطے میں آیا اور اس کے ذریعے وائرس دوسروں تک پہنچ جائے۔ لیکن یہ تارکین وطن کیسے سماجی فاصلہ بنائیں، کیسے سوشل ڈسٹینسنگ قائم کریں۔ وہ اگر سماجی فاصلہ بنانے چلیں تو شوہر کہیں ہوگا بیوی کہیں ہوگی اور بچے کہیں ہوں گے۔ اور پھر لاکھوں لاکھ کی بھیڑ میں کیسے فاصلہ رکھا جا سکتا ہے اور وہ بھی ایسے میں جبکہ ہر شخص جلد از جلد اپنے گھر کو پہنچ جانے کے لیے بے تاب ہے۔

اگر چہ کچھ حکومتوں نے بسوں اور کھانوں کا انتظام کیا ہے، کچھ فلاحی ادارے بھی سامنے آرہے ہیں لیکن پورے ملک میں اتنا بڑا انتظام کرنا آسان نہیں ہے۔ ذرا ان لوگوں کے بارے میں سوچیے جن کے پاس پیسے نہیں ہیں اور پھر بھی وہ پیدل اپنے گھروں کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کورونا پکڑے نہ پکڑے بھکمری پکڑ لے گی اور ان کی زندگی کی شمع گل کر دے گی۔ گویا خطرہ چاروں طرف ہے۔ جو بیماری سے ڈر کر بھاگ رہے ہیں ان کے لیے بھی خطرہ ہے اور جو بھکمری سے بھاگ رہے ہیں ان کے لیے بھی خطرہ ہے۔ کہیں جائے مفر نہیں ہے۔ ایسی آفت سماوی آئی ہے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔

یہ تو حال ہے ان لوگوں کا جو بغیر کوئی فاصلہ قائم کیے ہوئے اپنی اپنی منزلوں کو رواں دواں ہیں۔ لیکن جو لوگ اپنے گھروں میں ہیں جن کو کہیں جانا نہیں ہے اور مثال کے طور پر دہلی ہی جن کا وطن ہے، کیا ان کے حالات اچھے ہیں۔ جی بالکل نہیں۔ کم از کم دہلی کے مسلم علاقوں کے حالات تو بالکل ہی ٹھیک نہیں ہیں۔ جامعہ نگر کا علاقہ ہو یا جامع مسجد کا یا جعفرآباد اور سیلم پور کا۔ جہاں بھی مسلمانوں کی گھنی آبادیاں ہیں وہاں سماجی فاصلہ ایک تماشہ بن کر رہ گیا ہے۔ گلیوں میں لوگ گھوم رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے گھر جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے میل جول بڑھا رہے ہیں۔ سیر سپاٹا کر رہے ہیں۔ ہوٹلوں پر بھیڑ ہے۔ بازاروں میں بھیڑ ہے۔ کسی کو اس کی ذرا بھی پروا نہیں ہے کہ اس طرح گھل مل کر رہنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

ابھی تو کمیونٹی کی سطح پر وائرس نہیں پھیلا ہے لیکن اگر یہی حال رہا تو اس کے پھیلنے میں کوئی دیر بھی نہیں لگے گی۔ اور اگر کمیونٹی کی سطح پر یہ بیماری پھیل گئی تو پھر سنبھالے نہیں سنبھلے گی۔ اس وقت لاشیں اٹھانے کے سوا کوئی کام نہیں بچے گا۔ ذرا سوچیے کہ کیا ہوگا اس وقت جب اسپتالوں سے لاشوں کے قافلے آنے لگیں گے۔ کیا اس وقت اتنے لوگ ملیں گے جو تجہیز و تکفین کا انتظام کر سکیں۔

حکومت کی سخت ہدایت کے تحت مسجدوں میں نماز کی ادائیگی پہلے کی مانند نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن جمعہ کے روز جو صورت حال دیکھنے کو ملی وہ انتہائی افسوسناک تھی۔ پولیس کی سختی کی وجہ سے لوگوں نے مسجدوں میں جا کر جمعہ کی نماز ادا نہیں کی لیکن انھوں نے چھتیں آباد کر دیں۔ پھر مسجد میں نہ جانے کا کیا فائدہ ہوا۔ کیا وائرس صرف مسجدوں میں پہنچے گا چھتوں پر نہیں جائے گا۔

جب علماء نے اس کی اجازت دے دی ہے کہ نماز جمعہ ادا کرنے کے بجائے اپنے اپنے گھروں میں ظہر کی نماز ادا کریں تو پھر چھتوں پر بڑی تعداد میں جمع ہو کر جمعہ کی نماز پڑھنے کی کیا تُک تھی۔ لیکن نہیں نماز جمعہ نہیں چھوڑیں گے خواہ کوئی اور نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ جو لوگ کبھی نماز نہیں پڑھتے ان کو جمعہ کی نماز کی بڑی فکر ہے۔ ویسے عام دنوں میں مسجدیں ویران رہیں تو مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ لیکن اگر اپنی صحت کے پیش نظر احتیاطی قدم اٹھاتے ہوئے مسجدوں میں نہ جانے کی صلاح دی جائے تو وہ اَڑ جاتے ہیں۔ ایسے مسلمانوں کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔

اے مسلمان! ذرا سنبھل جا۔ اپنے گھروں میں رہ لے۔ سماجی فاصلہ بنا کے رکھ۔ ورنہ یاد رکھ کہ:

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔

x

Check Also

مناظروں کی افادیت، چند پہلو؟؟؟ ۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

(( علم کتاب واٹس اپ گروپ پر مناظروں کی افادیت کے موضوع ...