بنیادی صفحہ / مضامین /   نومبر 11 :  کو نامور شاعر سید سبط علی صباؔ کا یومِ پیدائش ہے

  نومبر 11 :  کو نامور شاعر سید سبط علی صباؔ کا یومِ پیدائش ہے

Print Friendly, PDF & Email

از: ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید سبطِ علی صبا 11 نومبر 1935ءکو اپنے آبائی گاؤں کوٹلی لوہاراں (مشرقی) تحصیل و ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔والدہ نے ان کا نام سبطِ علی رکھا۔ ان دنوں صبا کے والد زین العابدین فوج کی ملازمت کے سلسلے میں رڑکی (انڈیا) میں تھے۔ سید زین العابدین بتاتے ہیں : ”ان دنوں میں آرمی سروس کے سلسلے میں رڑکی (انڈیا) میں تھا۔ دریا کے کنارے ہمارا کیمپ تھا۔ اور وہاں بذریعہ خط مجھے سبطِ علی کی پیدائش کی اطلاع ملی تھی۔ خط پڑھتے ہی دوستوں نے اک جشن سا منا ڈالا، مٹھائی تقسیم کی گئی اور ہر طرف سے مبارک سلامت کی صدائیں آنے لگیں ۔گھر میں سبطِ علی کی ولادت پر کچھ اس لئے بھی زیادہ خوشی منائی گئی کہ وہ میرا پہلا بیٹا تھا۔ اس سے پہلے دو لڑکیاں ہوئی تھیں اور وہ بھی کم سنی میں چل بسی تھیں ۔ اور، اس سے بھی بڑی بات یہ کہ خود مجھ سے بڑے دس بھائی ایک ایک کر کے فوت ہو چکے تھے اور ان میں سے تنِ تنہا میں خود تھا جو زندہ رہا تھا۔ گویا خاندان کا نام مٹتے مٹتے بچا تھا۔ اور میرے بعد اب ننھا سبطِ علی تھا جو خاندان کی بقا کی علامت بن گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ پیدا ہوا تو ایک عرصے تک میری ماں نے اسے باہر کے لوگوں سے چھپائے رکھا، مبادا بچے کو کسی کی نظر لگ جائے۔
صبا کے بچپن ہی میں ان کے والد اپنے مختصر خاندان کو اپنے ساتھ رڑکی لے گئے۔ صبا کو والد نے آرمی کے ایک سکول میں داخلہ دلوایا۔ پرائمری تک تعلیم صبا نے وہاں سے حاصل کی اور ساتھ ساتھ اپنے والد سے ہی قرآنِ پاک ناظرہ پڑھا۔ گھر کا ماحول مذہبی تھا۔ والد اور والدہ دونوں ہی اپنے مذہبی عقائد کے پکے تھے۔ لہٰذا ابتدا ہی سے آنحضرت اور اہل بیت سے محبت صبا کے دل میں پروان چڑھنے لگی۔ والد کو مطالعہ کا شوق تھا اور گھر پر مذہبی تقریبات اور مباحثے بھی ہوتے تھے، جن کی وجہ سے اسلامی اقدار اور اسلامی تاریخ سے وابستگی صبا کی شخصیت کا جزوِ لاینفک بن گئی۔ والد کی عسکری زندگی سے وابستگی کی بنیاد پر جنگی ساز و سامان کو صبا نے ایک بچے کی پر تجسس نگاہ سے دیکھا۔ حب وطن کا جذبہ صبا کی شخصیت میں اسی دوران رچ بس گیا۔ کیونکہ انہوں نے اپنے بچپن کے اس دور میں لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ اپنے باپ کو بھی بدیسی حکم رانوں کی اقتصادی، معاشرتی اور جسمانی غلامی میں دیکھا۔ صبا کے عہدِ طفلی میں ان کے والد پانچ سال تک جرمنی کے قیدی رہے۔ پھر بر صغیر کی تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے دوران کی تحاریک، مظاہرے اور فسادات اس وقت اپنے عروج پر صبا نے دیکھے جب وہ سنِ شعور میں داخل ہو رہے تھے۔
رڑکی میں صبا نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ تقسیم کے بعد سید این العابدین نے فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی اور نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کا عزم لے کر اپنے مختصر کنبے کے ساتھ پاکستان آئے، اور سیالکوٹ میں اپنے بہنوئی کپتان محبوب علی شاہ اور گاؤں کے دو اور آدمیوں محمد بشیر بٹ اور محمد نذیر بٹ کے ساتھ مل کر ایک کارخانہ ”جعفری ربڑ انڈسٹری“ کے نام سے کھول لیا۔ شب و روز کی محنت س اس کارخانے نے بہت ترقی کی۔ سید سبطِ علی صبا کو مقامی سکول میں داخل کروا دیا گیا مگر شومئ قسمت سے چھٹی دہائی کے آخر میں ، جب صبا نویں کے طالب علم تھے، یہ کارخانہ ایک تباہ کن سیلاب کی نذر ہو گیا۔ چونکہ کارخانے کے مالکان حکومت کے قرض دار بھی تھے، اس لئے ملبہ اور بچا کھچا سامان نیلام کر دیا گیا۔ ان حالات میں گھر کی معاشی ابتری کے باعث سید زین العابدین کو مجبوراً کوئی ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ اس دور کو یاد کرتے ہوئے، وہ کہتے ہیں : ”میرے معاشی حالات ایسے نہ تھے کہ سبطِ علی کی پڑھائی جاری رہ سکتی“۔
۔۔۔۔
سبط علی صباؔ نے صرف 44 برس عمر پائی۔ ان کا مجموعہ کلام جس کا نام انہوں نے خود ابرسنگ تجویز کیا تھا ان کی وفات کے بعد ان کے احباب نے طشت مراد کے نام سے شائع کیا۔ سبط علی صبا کی کلیات ابر سنگ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے
سبط علی صبا کا ایک شعر اردو ادب میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے
14 مئی 1980ء کو سبط علی صباؔ واہ کینٹ میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے

ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئینے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے

میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے

ہر حُرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر
ماؤں نے اپنی گود میں بچّے چھپا لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر اک قدم پہ زخم نۓ کھاۓ کس طرح
رندوں کی انجمن میں کوئی جاۓ کس طرح

صحرا کی وسعتوں میں رہا عمر بھر جو گم
صحرا کی وحشتوں سے وہ گھبراۓ کس طرح

جس نے بھی تجھ کو چاہا دیا اس کو تو نے غم
دنیا ترے فریب کوئی کھاۓ کس طرح

زنداں پہ تیرگی کے ہیں پہرے لگے ہوۓ
پر ہول خواب گاہ میں نیند آۓ کس طرح

زنجیر پا کٹی تو جوانی گزر گئی
ہونٹوں پہ تیرا نام صباؔ لاۓ کس طرح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں
سفر نیا ہے مگر کشتیاں پرانی ہیں

یہ کہہ کے اس نے شجر کو تنے سے کاٹ دیا
کہ اس درخت میں کچھ ٹہنیاں پرانی ہیں

ہم اس لیے بھی نۓ ہم سفر تلاش کریں
ہمارے ہاتھ میں بیساکھیاں پرانی ہیں

عجیب سوچ ہے اس شہر کے مکینوں کی
مکاں نۓ ہیں مگر کھڑکیاں پرانی ہیں

پلٹ کے گاؤں میں میں اس لیے نہیں آیا
مرے بدن پہ ابھی دھجیاں پرانی ہیں

سفر پسند طبیعت کو خوف صحرا کیا
صباؔ ہوا کی وہی سیٹیاں پرانی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرد چہروں سے نکلتی روشنی اچھی نہیں
شہر کی گلیوں میں اب آوارگی اچھی نہیں

زندہ رہنا ہے تو ہر پہروپیۓ کے ساتھ چل
مکر کی تیرہ فضا میں سادگی اچھی نہیں

کس نے اذن قتل دے کر سادگی سے کہہ دیا
آدمی کی آدمی سے دشمنی اچھی نہیں

جب مرے بچے مرے وارث ہیں ان کے جسم میں
سوچتا ہوں حدت خوں کی کمی اچھی نہیں

گوش بر آواز ہیں کمرے کی دیواریں صباؔ
تخلیۓ میں خود سے اچھی بات بھی اچھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو
مر گئی فاقہ زدہ معصوم بچی رات کو

آندھیوں سے کیا بچاتی پھول کو کانٹوں کی باڑ
صحن میں بکھری ہوئی تھی پتی پتی رات کو

کتنا بوسیدہ دریدہ پیرہن ہے زیب تن
وہ جو چرخہ کاٹتی رہتی ہے لڑکی رات کو

صحن میں اک شور سا ہر آنکھ ہے حیرت زدہ
چوڑیاں سب توڑ دیں دلہن نے پہلی رات کو

جب چلی ٹھنڈی ہوا بچی ٹھٹھر کر رہ گیا
ماں نے اپنے لال کی تختی جلا دی رات کو

وقت تو ہر ایک در پر دستکیں دیتا رہا
ایک ساعت کے لیے جاگی نہ بستی رات کو

مرغزار شاعری میں گم رہا سبطؔ علی
سو گئی رہ دیکھتے بیمار بیوی رات کو

x

Check Also

نصف صدی گزارنے والے تارکین کی واپسی ۔۔۔از: عبد الستارخان

آج سعودی اس قابل ہوگئے ہیں کہ اپنا ملک خود چلا سکیں ...