بنیادی صفحہ / مضامین / ستمبر 12 :-: بیسویں صدی کے سب سے بڑے قطعہ نگار شاعر رئیس امروہوی کا یومِ پیدائش ہے

ستمبر 12 :-: بیسویں صدی کے سب سے بڑے قطعہ نگار شاعر رئیس امروہوی کا یومِ پیدائش ہے

Print Friendly, PDF & Email

از: ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نام سید محمد مہدی، تخلص رئیس اور عرفیت اچھن تھی۔  12؍ستمبر1914ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔1918ء میں مکتبی تعلیم شروع ہوئی۔ان کی تعلیمی عمر کا زیادہ حصہ مطالعہ میں گزرا۔ پہلا شعر 1924ء میں کہا۔ ادب وصحافت سے عملی تعلق کی ابتدا 1931ء میں ماہ نامہ ’’حیات‘‘ کی ادارت سے کی۔ متعدد اخبارات اور رسائل سے متعلق رہے۔ اکتوبر 1947ء میں رئیس ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت پذیر ہوئے۔ تین سال تک وہ بہ حیثیت مدیر روزنامہ ’’جنگ ‘‘ کراچی سے وابستہ رہے۔ چالیس سال سے زیادہ روزنامہ ’’جنگ‘‘میں حالات حاضرہ پر روزانہ ایک قطعہ لکھتے رہے۔ 22؍ ستمبر 1988ء کو کسی نامعلوم شخص کی گولی سے کراچی میں انتقال کرگئے۔ رئیس اکادمی کے زیر اہتمام ان کی تیس سے زیادہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں پانچ مجموعے نظم وغزل کے شامل ہیں۔ نثری کتب کے موضوعات نفسیات ، مابعد النفسیات، ہپناٹزم، جنات، عالم برزخ، حاضرات ارواح، عالم ارواح، روحانیت اور فلسفہ بشریات ہیں۔ ان کی چند تصانیف کے نام یہ ہیں: ’’الف‘‘، ’’پس غبار‘‘، ’’حکایات نے‘‘، ’’ملبوس بہار‘‘، ’’قطعات‘‘(اول ودوم)، ’’بحضرت یزداں‘‘، ’’نجم السحر‘‘، ’’آثار‘‘، ’’انا من الحسین‘‘۔1984ء میں حکومت پاکستان نے ان کے ادبی خدمات کے صلے میں تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ وہ بیسویں صدی کے سب سے بڑے قطعہ نگار شاعر تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قطعہ
جو اپنے قول کو قانون سمجھیں
وہ قائل ہو نہیں سکتے ابد تک
بہت سے لوگ یاران وطن ہیں
محقق ہیں مگر حقے کی حد تک
۔۔۔۔۔۔۔۔
قطعہ
میزان ہاتھ میں ہے زیاں کی نہ سود کی
تفریق ہی محال ہے بود و نبود کی
پروا نہیں ہے ہم کو خود اپنے وجود کی
لیکن شکایتیں ہیں یہود و ہنود کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رئیس اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا
حضور دوست کچھ گستاخ ہو لیتے تو اچھا تھا

جدائی میں یہ شرط ضبط غم تو مار ڈالے گی
ہم ان کے سامنے کچھ دیر رو لیتے تو اچھا تھا

بہاروں سے نہیں جن کو توقع لالہ و گل کی
وہ اپنے واسطے کانٹے ہی بو لیتے تو اچھا تھا

ابھی تو نصف شب ہے انتظار صبح نو کیسا ؟
دل بیدار ! ہم کچھ دیر سو لیتے تو اچھا تھا

قلم روداد خون و اشک لکھنے سے جھجھکتا ہے
قلم کو اشک و خوں ہی میں ڈبو لیتے تو اچھا تھا

فقط اک گریہ شبنم کفایت کر نہیں سکتا
چمن والے کبھی جی بھر کے رو لیتے تو اچھا تھا

سراغ کارواں تک کھو گیا اب سوچتے یہ ہیں
کہ گرد کارواں کے ساتھ ہو لیتے تو اچھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح نو ہم تو تیرے ساتھ نمایاں ہوں گے
اور ہوں گے جو ہلاک شب ہجراں ہوں گے

صدمہ زیزست کے شکوے نہ کر اے جان رئیسؔ
بخدا یہ نہ ترے درد کا درماں ہوں گے

میری وحشت میں ابھی اور ترقی ہو گی
تیرے گیسو تو ابھی اور پریشاں ہوں گے

آزماۓ گا بہرحال ہمیں جبر حیات
ہم ابھی اور اسیر غم دوراں ہوں گے

عاشقی اور مراحل سے ابھی گزرے گی
امتحاں اور محبت کے مری جاں ہوں گے

قلب پاکیزہ نہاد و دل صافی دے کر
آئینہ ہم کو بنایا ہے تو حیراں ہوں گے

صدقہ تیرگئ شب سے گلہ سنج نہ ہو
کہ نۓ چاند اسی شب سے دروزاں ہوں گے

آج ہے جبر و تشدد کی حکوت ہم پر
کل ہمیں بیخ کن قیصر و کاقاں ہوں گے

وہ کہ اوہام و خرافات کے ہیں صید زبوں
آخر اس دام غلامی سے گریزاں ہوں گے

صرف تاریخ کی رفتار بدل جاۓ گی
نئی تاریک کے وارث یہی انساں ہوں گے

x

Check Also

فرزانہ اعجاز سے گفگتو۔۔۔از : ڈاکٹر شاہنواز جہاں

’غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں سمجھو وہیں ...