بنیادی صفحہ / مضامین / اکتوبر 31 :-: پنجابی زبان کی نامور شاعرہ، مسلمہ ادیبہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کی برسی ہے
[adrotate banner="161"]

اکتوبر 31 :-: پنجابی زبان کی نامور شاعرہ، مسلمہ ادیبہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کی برسی ہے

Print Friendly, PDF & Email

از : ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امرتا پریتم گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے پر ان کے ایک ناول پنجر پر اسی نام سے فلم بھی بن چکی ہے۔ وہ بھارتی ایوان ِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہو ا اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے جن میں پنجابی ادب کے لیے گیان پیتھ ایوارڈ بھی شامل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
امرتا پریتم 1919ء میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام امرت کور تھا۔ ان کے والد گیانی کر تار سنگھ لاہور کے ایک رسالہ کے ایڈیٹر تھے۔ امرتا پریتم علمی و ادبی ماحول میں پروان چڑھیں۔ ماحول واقعی انسانی شخصیت پر بڑا اثر انداز ہوتا ہے۔
12سال کی عمر میں والدہ داغ مفارقت دے گئیں۔ اس کے باوجود سولہ سال کی عمر میں امرتا پریتم کا پہلا شعری مجموعہ ’’امرت لہراں‘‘ منظر عام پر آ گیا۔ شعری مجموعہ کی اشاعت پر داد و تحسین کی پھوہار میں امرتا پریتم بھیگ گئی۔ امرتا پریتم نے بے مثال ادب تخلیق کیا۔ بہت سے ادبی ایوارڈ حاصل کئے۔ بے شمار کتب منصۂ شہود پر آئیں۔ ان کی بیشتر کتابوں کا انگریزی سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ساحر لدھیانوی کے ساتھ یک طرفہ عشق تھا۔ ون وے ٹریفک کی طرح یک طرفہ محبت بھی خطرے سے خالی ہوتی ہے۔ پاکستان معرض وجود میں آنے سے پہلے کا قصہ ہے کہ اس وقت کا مشہور شاعر مہون سنگھ امرتا پریتم کو دل دے بیٹھا۔ اسی دور میں ایک ریڈیو کے افسر کو بھی امرتا پریتم سے پریم ہو گیا۔ امرتا نے دونوں صاحبان کو دو ٹوک کہا کہ وہ صرف اورصرف ساحر لدھیانوی کے سحر میں مبتلا ہے او ربس۔ پروین شاکر کی طرح امرتا پریتم کی ازدواجی زندگی بھی گزارے لائق تھی۔ امرتا پریتم کو (لائل پور) فیصل آباد کے رہائشی مصور امروز سے شادی رچانا پڑی۔
امرتا پریتم دہلی ریڈیو سے وابستہ تھیں۔ پٹیل نگر کے مکان میں بجلی نہ تھی۔ ایسے میں انکے دونوں بچے نوراج اور کندلاں ہمسائے کے گھر بیٹری والے ریڈیو پر اپنی ماں کی آواز سننے جاتے تھے۔ ایک روز دونوں بچے کہنے لگے کہ ماما! آپ بھولو کے ریڈیو پر اپنی آواز نہ سُنایا کیجئے کیونکہ اس نے ہمارے ساتھ دھینگا مشتی کی ہے۔ اس دور کے بچے کتنے بھولے بھالے تھے۔
امرتا پریتم کو پاکستان اور اس کے باشندوں سے بڑا پیار تھا۔ وہ بابا فرید، بابا بُلھے شاہ اور وارث شاہ، شاہ حسین جیسے صوفی دانشوروں کا بڑا احترام کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ امرتا پریتم کے کمرہ میں ان عظیم ہستیوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ جب کوئی پہلوانوں کے شہر سے ان کی مزاج پرسی کے لیے جاتا تو ضرور پوچھتی کہ گوجرانوالہ کے دال بازار، ٹھاکر سنگھ گیٹ، آرئیناں والی گلی اور گھنٹہ گھر کا کیا حال ہے۔ امرتا پریتم اب اس دنیا میں نہیں مگر ان کی ادبی خدمات تادیر یاد رہیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں تک کہ 1957ء میں جب اکادمی کا ایوارڈ ملا فون پر خبر سنتے ہی سر سے پاؤں تک میں جھلسی گئی . . . . . . خدایا ! یہ سنہیڑے میں نے کسی انعام کے لیے تو نہ لکھے تھے جس کے لیے لکھے تھے اس نے نہ پڑھے اب کل عالم بھی پڑح لے تو مجھ کو کیا . . . . . اس روز شام کے وقت ایک پریس نے رپورٹر بھیجا، فوٹو گرافر بھی وہ جب تصویر لینے لگا اس نے کاغذ اور قلم کے ذریعیے وہ لمحہ گرفت میں لینا چاہا جو کسی نظم کا وقت تصنیف ہوتا ہے میں نے سامنے میز پر کاغذ رکھا اور ہاتھ میں قلم پکڑ کر کاغذ پر نظم لکھنے کے بجائے . . . . . . . . ایک بے خودی کے عالم سے میں اس کا نام لکھنے لگ گئی جس کے لیے وہ سنہیڑے لکھے تھے . . . . . . ساحر . . . ساحر . . . . . سارا کاغذ بھر گیا پریس کے لوگ چلے گئے تو اکیلی بیٹھی کو ہوش سی لوٹی . . . . صبح کو اخبار میں تصویر نکلے گی تو میز کے کاغذ پر یہ ساحر، ساحر کی گردان . . . . . اوہ خدایا! مجنوں کے لیلیٰ لیلیٰ پکارنے والی حالت میں نے اس روز اپنے جسم میں بتائی یہ علیحدہ بات ہے کہ کیمرہ کا فوکس میرے ہاتھ کے اوپر تھا کاغذ پر نہیں اس لیے دوسرے دن کے اخبار میں نے کاغذ پر سے کچھ نہیں پڑھا جا سکتا تھا (کچھ نہیں تھا پڑھا جا سکتا، اس بات کی تسلی کے بعد ایک درد بھی اس میں شامل ہو گیا . . . . . کاغذ خالی دکھائی دیتا ہے . . . . . لیکن خدا جانتا ہے کہ یہ خالی نہیں)
(امرتا پریتم کی خودنوشت رسیدی ٹکٹ سے اقتباس صفحہ نمبر 22)
۔۔۔

ایک دفعہ ایک اردو مشاعرے پر لوگ ساحر سے آٹو گراف لے رہے تھے لوگ کچھ منتشر ہوئے تو میں ہنس کر ہاتھ کی ہتھیلی اس کے آگے کر دی اور کہا، آٹو گراف!
ساحر نے ہاتھ میں پکڑے پین کی سیاہی اپنے انگوٹھے پر لگا کر وہ انگوٹھا میری ہتھیلی پر لگا دیا جیسے میری ہتھیلی کے کاغذ پر دستخط کر دئیے اس کاغذ کی کیا عبارت تھی جس کے اوپر اس نے دستخط کیے یہ سب ہواؤں کے حوالے ہے یہ عبارت نہ کبھی اس نے پڑھی نہ زندگی نے اسی لیے کہہ سکتی ہوں
ساحر ایک خیال تھا . . . . . . . ہوا میں چمکتا، شائد میرے اپنے ہی خیالوں کا ایک جادو، لیکن امروز کے ساتھ گزاری زندگی ، ابتدائی کچھ سالوں کو چھوڑ کر ایک بیخودی کے عالم تک پہنچ گئی ہے اس عالم کو شائد ابھی یاد آئی ہے ایک روز کی ایک بات میں سے کچھ پکڑا جا سکتا ہے
ایک دن کسی آئے مہمان نے میرا اور امروز کا ہاتھ دیکھا مجھے کہنے لگا ……. تمہارے ہاتھ میں دولت کی بڑی گہری اور لمبی لکیر ہے تمہیں زندگی میں کبھی دولت کی کمی نہیں آ سکتی لیکن امروز سے کہنے لگا ……. تمہارے پاس دولت کبھی نہیں ٹھہرے گی تمہارے ہاتھ کی لکیر جگہ جگہ ٹوٹتی ہے امروز نے اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ پکڑ کر کہا .. . . . . "اچھا پھر ہم دونوں ایک ہی لکیر پر گزارا کر لیں گے”
(امرتا پریتم کی خودنوشت رسیدی ٹکٹ سے اقتباس صفحہ نمبر 79)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میں ایک اس طرح کا وقت بھی آیا تھا جب اپنے ہر خیال پر میں نے اپنے تخیل کا جادو چڑھتے دیکھا تھا جادو لفظ صرف بچپن کی کہانیوں میں کبھی سنا تھا لیکن دیکھا . . . . . ایک دن اچانک وہ میری کوکھ میں آ گیا تھا اور میرے ہی جسم کے گوشت کی آڑ میں پلنے لگ پڑا تھا یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا بیٹا میرے جسم کی امید بنا تھا 1946ء کے آخری دنوں کی بات ہے
اخباروں اور کتابوں میں کئی وہ حادثے پڑھے تھے کہ ایک ہونے والی ماں کے کمرے میں جس طرح کی تصویریں ہوں یا جس قسم کی صورت وہ دل میں لائے بطے کے خدوخال ویسے ہی بن جاتے ہیں اور میرے تخیل ے جیسے دنیا سے چھپ کر دبے لہجے میں میرے کانوں میں کہا اگر میں ساحر کا چہرہ ہر وقت اپنی یادوں کے سامنے رکھوں تو میرے بچے کی صورت اس کے مشابہ ہو جائے گی
جو زندگی میں نہیں پایا تھا جانتی ہوں یہ اسی کو پا لینے کی کرشمے ایسی سعی تھی خدا کی طرح پیدائش دینے کی سعی جسم کا ایک آزاد فعل صرف فطری میلافات سے آزاد نہیں گوشت و خون کی حقیقت سے بھی آزاد
سنک اور دیوانگی کے اس عالم میں جب 3 جولائی 1947ء کو پیدائش کے عمل میں آئی اول مرتبہ اس کا مننہ دیکھا، اپنے خدا کے ہونے کا یقین آ گیااور بطے کے چہرے کی نشو و نما کے ساتھ یہ خیال بھی نشو و نما پاتا رہا کہ اس کی صورت واقعی ساحر سے مشابہ ہے
خیر ! دیوانگی کی آخری چوٹی پر پاؤں رکھ کر ہمیشہ کھڑے نہیں رہا جا سکتا پاؤں کو بیٹھنے کے لیے زمین کا قطعہ چاہیے اس لیے آئیندہ برسوں ممیں اس کا تذکرہ ایک پری کہانی کی طرح کرنے لگ گئی
ایک بار یہ بات میں نے ساحر کو بھی سنائی اپنے آپ پر ہنستے ہوئے اس کے اور کسی ردعمل کی خبر نہیں صرف ااتنا معلوم ہے کہ وہ سن کر ہنس پڑا اور اس نے صرف اتنا کہا ویری پو ٹیسٹ! ساحر کو زندگی کا سب سے بڑا کملیکس ہے ….. کہ وہ خوبرو نہیں اسی میں سے اس نے میرے پور ٹیسٹ کی بات کی
اس سے پیشتر بھی ایک بات واقعہ ہوئی تھی ایک روز اس نے میری بچی گود میں بیٹھا کر کہا تھا "تم کو ایک کہانی سناوں” اور جب میری بچی کہانی سننے کے لیے تیار ہوئی تو وہ سنانے لگا "ایک تھا لکڑ ہارا وہ شب و روز جنگل میں لکڑیاں کاٹتا تھا پھر ایک روز اس نے جنگل میں ایک شہزادی کو دیکھا بڑی حسین ! لکڑہارے کا جی چاہا وہ شہزادی کو لے کر دوڑ جائے”
"پھر” میری بیٹی کہانیوں میں غور کرنے کی عمر کی تھی اس لیے بڑی توجہ سے کہانی سن رہی تھی میں صرف ہنس رہی تھی کہانی میں دخل نہیں دے رہی تھی
وہ کہہ رہا تھا "لیکن تھا تو لکڑ ہارا ناں وہ شہزادی کو صرف دیکھتا رہا دور فاصلہ پر کھڑا ہو کر اور پھر اداس ہو کر لکڑیاں کاٹنے لگ پڑا ……. سچی کہانی ہے نا؟”
"ہاں میں نے بھی دیکھا تھا” معلوم نہیں بچی نے یہ کیوں کہا
ساحر ہنستا ہوا میری طرف دیکھنے لگا "دیکھ لو اس بچی کو بھی معلوم ہے” اور بچی سے پوچھنے لگا "تم وہاں تھیں نا جنگل میں؟”
بچی نے ہاں میں سر ہلا دیا
ساحر نے پھر اس کو گود میں بیٹھی ہوئی سے پوچھا "تم نے اس لکڑ ہارے کو بھی دیکھا تھا نا؟ بھلا کون تھا؟” بچی کو اس لمحے الہام اترا لگتا تھا کہنے لگی …………. "آپ” ساحر نے پوچھا "اور وہ شہزادی کون تھی؟”
"ماما” بچی ہنسنے لگ پڑی
ساحر مجھ سے کہنے لگا "دیکھا بچوں کو سب کچھ معلوم ہوتا ہے”
پھر برسوں بیت گئے 1960ء میں جب بمبئی گئی تو ان دنوں راجندر سنگھ بیدی دوست تھے اکثر ملا کرتے ایک شام بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک انہوں نے پوچھا "پرکاش پنڈت سے ایک بات سنی تھی کہ نوراج ساحر کا بیٹا ہے”
اس شام میں نے بیدی صاحب کو اپنے اس عالمی دیوانگی کی بات سنائی کہا "یہ تخیل کا سچ ہے، حقیقت کا نہیں”
انہی دنوں میں ایک روز نوراج نے بھی سوال کیا اس کی عمر اب تقریباً تیرہ سال تھی ……. ماما ایک بات پوچھوں سچ سچ بتا دو گی؟”
"ہاں!”
"کیا میں ساحر انکل کا بیٹا ہوں؟”
"نہیں!”
"لیکن اگر ہوں، تو بتا دیجئے! مجھے ساحر انکل اچھے لگتے ہیں!”
"ہاں بیٹے ! مجھے بھی اچھے لگتے ہیں لیکن اگر یہ سچ ہوتا تو میں تم کو ضرور بتا دیتی!”
سچ کی اپنی طاقت ہوتی ہے میرے بچے کو یقین آ گیا
سوچتی ہوں …….. تخیل کا سچ چھوٹا نہیں تھا تاہم وہ صرف میرے لیے تھا صرف میرے لیے اس قدر کہ وہ سچ ساحر کے لیے بھی نہیں
لاہور جب کبھی ساحر ملنے کے لیے آیا کرتا تھا تو گویا میری ہی خاموشی میں سے خاموشی کا ٹکڑا کرسی پر بیٹھتا تھا اور چلا جاتا تھا
وہ چپ چاپ صرف سگریٹ پیتا رہتا تھا قریب آدھا سگریٹ پی کر راکھ دانی جھاڑ دیتا اور پھر نیا سگریٹ سلگا لیتا اور اس کے جانے کے بعد صرف سگریٹوں کے بڑے بڑے ٹکڑے کمرے میں رہ جاتے تھے
کبھی ایک بار اس کے ہاتھ کا لمس لینا چاہتی تھی لیکن میرے سامنے میرے ہی رواجی بندھنوں کا فاصلہ تھا جو طے نہیں ہوتا تھا اس وقت تخیل کی کرامات کا سہارا لیا تھا
اس کے جانے کے بعد میں اس کے چھوڑے ہوئے سگریٹوں کے ٹکڑے سنبھال کر الماری میں رکھ لیتی تھی اور پھر ایک ایک ٹکڑے کو تنہائی میں بیٹھ کر جلاتی اور جب ان کو انگلیوں میں پکڑتی تھی محسوس ہوتا جیسے اس کا ہاتھ چھو رہی ہوں
سگریٹ پینے کی عادت مجھے اس وقت پہلی بار پڑی تھی ہر سگریٹ سلگاتے وقت محسوس ہوتا وہ پاس ہے سگریٹ کے دھویں میں سے جیسے وہ جن کی طرح نمودار ہو جاتا تھا
پھر برسوں بعد اپنے اس احساس کو میں نے "ایک تھی انیتا” ناول میں قلم بند کیا لیکن ساحر کو شائد ابھی تک سگریٹ کی اس تاریخ کا علم نہیں
سوچتی ہوں تخیل کی یہ دنیا اس کی ہوتی ہے جو اس کو تخلیق کرتا ہے اور جہاں اس کی تخلیق کرنے والا خدا بھی اکیلا ہوتا ہے
(امرتا پریتم کی خودنوشت رسیدی ٹکٹ سے اقتباس صفحہ نمبر 116، 117، 118، 119)

[adrotate group="32"]
x

Check Also

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ بغیر ہمزہ کے ’گاے‘ اور’ چاے‘۔۔۔۔تحریر :اطہر علی ہاشمی

پاکستان میں روزِ اوّل سے اردو کو قومی زبان تسلیم کرنے کے ...