بنیادی صفحہ / مضامین / غلطی ہائے مضامین۔۔۔ رسوم و قیود کا نشئی۔۔۔ – ابو نثر

غلطی ہائے مضامین۔۔۔ رسوم و قیود کا نشئی۔۔۔ – ابو نثر

Print Friendly, PDF & Email

ادبی محفل سجی ہوئی تھی۔ یکایک اُردو کے ایک گراں قدراور’گزیٹڈ‘ استاد اُٹھے اور گرج گرج کر اقبالؔ کی نظم ’شکوہ‘ سنانے لگے۔ ابھی پہلا ہی مصرع پڑھاتھا کہ ہم نے سر پیٹ لیا۔ حالاں کہ موقع ’سرپیٹ دینے‘ کا تھا۔ مصرع انھوں نے کچھ اس طرح پڑھا:

کیوں زیاں کار بنوں ’’سُودے فراموش‘‘ رہوں

صاحبو!آج کل معانی جانے بغیر پڑھنے اور بولنے کا رواج ہوگیا ہے۔ لسانی لطیفے اسی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ بہت عام ہوتی جارہی ہے یہ وبا کہ جہاں دو الفاظ جُڑے دیکھے جھٹ اُن میں سے پہلے کو زیر کردیا۔ دو ہی پر کیا منحصر؟ تین الفاظ ساتھ ہوں تو تینوں میں سے شروع کے دو الفاظ سوچے سمجھے بغیر ہی زیر کردیے جاتے ہیں۔ ’سرے تسلیمے خم‘ پر ہم پہلے ہی مفصل کالم لکھ چکے ہیں۔ ابھی پچھلے جمعے کی بات ہے، ایک واعظِ شعلہ بیاں خود تو منبر پر جلوہ افروز تھے، مگر مقتدیوں کو ’جہادے فی سبیل اللہ‘ پر بھیجا چاہتے تھے۔ خانقاہ سے باہر نکل کر خود انھیں رسمِ شبّیری ادا کرتے ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ دوسری مسجد کے مولوی صاحب مسلکی اور فرقہ وارانہ جذبات اُبھار اُبھار کر فرزندانِ امت کو ’فسادے فی سبیل اللہ‘ پر اُکسا رہے تھے۔ یہ بھی مسجد سے نکل کر حجرے میں مقید ہوجاتے ہیں۔ بازار میں آئیں تو پتا چلے کہ یہاں کوئی سنّی دکان ہے نہ کوئی شیعہ پرچون فروش۔ شہر میں بریلوی بازار ہے نہ دیوبندی مارکیٹ۔ کوئی وہابی کارخانہ ہے نہ اہلِ حدیث اسپتال۔ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب نولکّھا بازار کے برابر والی گلی میں ہم نے ’’بدعت توڑ آئرن ورکس‘‘ ضرور دیکھا تھا۔ پَرکارخانہ بند ہوگیا، بدعتیں بند نہ ہوئیں۔ کہیں لوہے کے لٹھ سے بدعتیں بند ہوا کرتی ہیں؟

اب ہم اپنی بقراطی بند کرکے پڑھنے، لکھنے اور بولنے والوں کو ایک آسان سی پہچان بتائے دیتے ہیں۔ دو الفاظ میں سے جب پہلے لفظ کے آخری حرف پر زیر لگایا جاتا ہے تو یہ زیر ’کا، کی، کے‘کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔مگر جب ہم ان دونوں الفاظ کے درمیان ’کا، کی یا کے‘ لگائیں گے تو الفاظ کی ترتیب اُلٹ جائے گی۔ مثلاً ’دردِدل‘ میں درد کے آخری ’د‘ پر جو زیر لگایا گیا ہے، وہ ’کا‘ کے معنی ادا کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔ اگر ہم زیر ہٹاکر اُس کی جگہ ’کا‘ استعمال کرنا چاہیں گے تو الفاظ کی ترتیب اُلٹ کر ’دل کا درد‘ کہیں گے۔ اسی طرح ’نگاہِ شوق‘ کو ’شوق کی نگاہ‘ اور ’حالاتِ سفر‘ کو ’سفرکے حالات‘ کہا جائے گا۔ پسجب ہم ’جہاد فی سبیل اللہ‘ یا ’فساد فی سبیل اللہ‘ بولیں گے تو جہاد اور فساد کے دال پر زیر نہیں لگائیں گے۔ اسی طرح ’سُود فراموش‘ میں بھی سود کے دال پر زیر نہیں لگے گا۔ ’سُود فراموش‘ ( نفع یا فائدہ بھلا دینے والا) ایک صفت ہے، جیسے ’احسان فراموش‘ ۔ اپنے کسی ایسے رشتے دارکو جوآپ کا احسان بھلا بیٹھا ہو، آپ ’احسانے فراموش‘ نہیں کہتے۔ پھر ’سُودے فراموش‘ کیوں کہیں؟ زیر لگانے کی عادت پڑ گئی ہو تو اور بات ہے۔ اُستادِ محترم نے، ممکن ہے کہ ’زیاں کار‘ (نقصان کے کام کرنے والا) کے نون غُنّہ پر بھی عادتاً زیر لگاکر بولنے کی کوشش کی ہو، مگر شاید یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

ایک اسم کی دوسرے اسم سے نسبت یا تعلق بیان کیا جائے تو قواعد کی زبان میں اسے ’اِضافت‘ کہتے ہیں۔ جیسے دریا کا پانی یا شراب کا پیالہ۔ فارسی میں ’آبِ دریا‘ اور ’جامِ ۔ اِضافت کا مطلب نسبت، تعلق، جوڑ اور میل ہے۔ اصطلاحاً دو الفاظ کے درمیان نسبت یا تعلق ظاہر کرنے کی علامت ہی ’اِضافت‘ ہے۔ اردو میں ’کا، کی، کے‘ وغیرہ استعمال ہوتا ہے اور فارسی میں زیر، ہمزہ یا ’ئے‘ ۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اگردونوں الفاظ میں سے پہلا لفظ ہائے مختفی پر ختم ہو یعنی اُس ’ہ‘ پر جس کی آواز پوری نہیں نکلتی تو زیر یا کسرہ لگانے کے بجائے ہمزہ لگایا جاتا ہے۔ مثلاً سایۂ دیوار، ناقۂ لیلیٰ اور خانۂ خدا وغیرہ۔ ہائے ہَوّز کی آواز پوری نکلے تو زیرہی لگایا جائے گا، جیسے راہِ حق، نگہِ شوق یاآہِ سرد۔ پہلا لفظ’ی‘ پر ختم ہو تو ہمزہ نہیںکسرہ آئے گا۔ لہٰذا ماہیِ بے آب کو ماہی ٔ بے آب اور آزادیِ وطن کو آزادی ٔ وطن لکھنا غلط ہے۔ اگر پہلا لفظ الف پر ختم ہو تو ’ئے‘ لگایا جائے گا، مثلاً فضائے بدر، نوائے وقت اوردانائے راز وغیرہ۔ نسبت یا تعلق دو افراد یا دو چیزوں میں بھی ہوسکتا ہے اورتین چیزوں میں بھی۔ تین سے زائد کو اضافت سے جوڑنا معیوب ہے۔ مثلاً ’سرِ وادیِ طورِ سینا‘ میں چار الفاظ جوڑ دیے گئے ہیں۔ یہ عیب ہے۔ اضافت سے جوڑ کر بنائے جانے والے مرکب الفاظ ’مرکبِ اضافی‘ کہے جاتے ہیں۔

زیر یا ہمزہ کی مدد سے جن دو الفاظ میں نسبت قائم کی جاتی ہے، ضروری ہے کہ دونوں الفاظ فارسی کے ہوں۔ ہندی اور فارسی کا مرکب جائز نہیں سمجھا جاتا۔ مثلاً گُلِ لالہ کی جگہ ’پھولِ لالہ‘ استعمال کرنا معیوب ہوگا۔ اسی طرح عربی اور فارسی کا مرکب بنانا بھی عموماً درست نہیں گردانا جاتا۔ جیسے ’راہِ مستقیم‘ یا ’صراطِ راست‘۔ ان کی جگہ صراطِ مستقیم اور راہِ راست بولنا ہی درست ہوگا۔ تاہم اردو میں بہت سی مستثنیات ہیں، جو رائج ہوچکی ہیں اور انھیں قبول کرلیا گیا ہے۔ مثلاً ہندی اور فارسی کا امتزاج ’لبِ سڑک‘ اور ’موسمِ برسات‘ وغیرہ۔ اسی طرح عربی اور فارسی کے مرکبات بھی رائج ہیں، مثلاً ’شبِ قدر‘ اور’روزِ قیامت‘ وغیرہ جن کی عربی ترکیب لیلۃ القدر اور یوم القیامہ ہے۔

فقط ایک سُودے فراموش ہی نہیں اور بھی کئی مرکب الفاظ غلط طور پر اضافت لگاکر غلط بولے جارہے ہیں۔ مثلاً ’سرے ورق‘ (درست: سَرْ- ورق)، پسے نوشت (درست:پَس- نوشت)، پسے منظر (درست:پَس- منظر)، پیشے امام (درست:پیش- امام) اور پیشے منظر(درست:پیش- منظر) وغیرہ۔

اوپر جو مثالیں دی گئی ہیں ان کا شمار بھی اِضافت میں ہوتا ہے، مگر انھیں ’اِضافتِ مقلوب‘ کہتے ہیں (دیکھیے یہاں اضافت کے ’ت‘ پر بھی زیر یعنی اضافت ہے) ’مقلوب‘کا مطلب ہے: بالعکس، برعکس، بدلا ہوا، اُلٹا کیا ہوا یا اوندھا کیا ہوا۔ دراصل ان مثالوںمیں الفاظ کی ترتیب اُلٹ دی گئی ہے۔ پس منظر اصل میں ’منظرِ پس‘ تھا یعنی پیچھے کا منظر جسے انگریزی میں Backgroundکہتے ہیں۔ اسی طرح پس نوشت بھی ’نوشتۂ پس‘ تھا یعنی سب کچھ لکھنے کے پیچھے لکھی جانے والی بات۔ شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں نے ایک لفظ ’پیرزن‘ پڑھا ہوگا(پِیر-زن) یہ لفظ بھی ’زنِ پیر‘ یعنی بوڑھی عورت تھا۔ حفیظ ؔ جالندھری کی ایک نظم کا شعر ہے:

اگر کوہکن کو جوئے شیر دینا

تو پھر پیر زن کو بھی تدبیر دینا

قصۂ شیریں فرہاد میں مذکور ہے کہ جب فرہاد پہاڑ کاٹ کر نہر کھودنے لگا تو اس کو کامیاب ہوتے دیکھ کر بادشاہ کو تشویش ہوئی۔ آخر ایک بڑھیا نے ترکیب بتائی کہ فرہاد کو جا کر اطلاع دی جائے کہ جس کے لیے تم اتنا کشٹ اٹھا رہے ہو وہ تو چل بسی۔ یہ سنتے ہی فرہاد نے بسولے سے اپنا سر پھوڑ کر خود بھی جان دے دی۔ حفیظؔ کے مندرجہ بالا شعر کے دوسرے مصرعے میں اُسی بڑھیا کا ذکر ہے۔ مگر فرہاد کی اس خود کُشی پر چچا غالبؔ نے بڑی لعن طعن کی۔چچا کے خیال میں فرہاد کو تو خبر سنتے ہی فوت ہو جانا چاہیے تھا۔پَر وہ تو رسم و رواج ، پابندیوں اور اسبابِ بیرونی کے نشے کا سرپھرا نکلا۔ مرنے کے لیے بسولا مار کر سرپھوڑنے کی رسم ادا کرنی پڑی۔چچا کہتے ہیں:

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کَن اسدؔ

سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

دوسرے مصرعے کے ’سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود‘میں دو اضافتیں استعمال ہوئی ہیں۔ مراد ہے:رسوم و قیود کانشئی۔

پروفیسر ڈاکٹر غازی علم الدین کا ایک بیش قیمت مضمون ’’اضافتِ مقلوب اور ہماری نافہمی‘‘ اس موضوع پر نہایت جامع تحریر ہے۔ جن لوگوں کو مزید مطالعے سے دلچسپی ہو، وہ اس مضمون کو ضرور پڑھیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*