بنیادی صفحہ / مضامین / تجربات ومشاہدات(۳) ۔۔۔ تحریر ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔ الکویت

تجربات ومشاہدات(۳) ۔۔۔ تحریر ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی۔ الکویت

Print Friendly, PDF & Email

اہل علم کے انداز مختلف ہو تے ہیں اور علمی مجلسوں میں نقطۂ نظر کے اختلاف کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھنا بھی ہر شخص کیلئے آسان نہیں ہوتا
اللہ تعالی کا یہ فضل رہا ہے کہ مختلف کانفر نسوں سیمیناروں میں شرکت اور اہل علم سے ملاقاتوں کے بے شمار مواقع ملے اور میرا مزاج خاموش رہنے کا بھی نہیں ہے اسلئے طرح طرح کے تجربات سے گزر نا پڑا لیکن اللہ کی توفیق ہمییشہ شامل حال رہی اور کچھ نہ کچھ سیکھنے کی راہ کھلتی رہی
1۔ 1981م میں دہلی میں لیبیا کے سفیر (جس کا لقب اس زمانہ میں امین المکتب الشعبی ہو گیا تھا ) دعوت نامہ ملا اور مقالہ لکھنے کی فرمائش کی گئی ,
سفر ہوا اور پہلی بار گھنٹوں کی پرواز کے بعد روم ایر پورٹ پہنچا اور ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرائے گئے رات کا آخری وقت تھا اسلئے نہ کچھ دیکھنے کاموقع تھا
میں نے مزاحا مولانا رضوان القاسمی کو خطاب کرکے لکھا:
"الم غلبت الروم ” ایسا لگتا ہے کہ امرؤآلقیس بھی میری طر ح klm كمپنی کے جہاز سے روم آیا تھا اور وقت آگے کی طرف بڑھتا رہا تو وہ پکار اٹھا:

الا یاآیھا اللیل الطویل الا انجل
بصبح وما الاصباح منک بامثل* "

اگلے دن عصر کے وقت وہاں سے لیبیا کیلئے روانگی ہوئی اور طرابلس ایر پورٹ پہنچے,
بحر ابیض متوسط کے کنا رے پر واقع فندق میں ٹھہرائے گئے, اپنے جریدہ "الداعی” کے کچھ شمارے
ساتھ تھے جسے میں نے بعض مہمانوں کو دئے,
رات میں ایک مہمان نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہنے لگے تم بالکل ہی غافل آدمی معلوم ہوتے ہو تم یہاں کے سیاسی حل نہیں جانتے ؟تم نے اپنے اخبار میں یہ کیا لکھ رکھا ہے ؟
یہاں سے زندہ واپس نہیں جاسکتے
دیکھا تو واقعی پہلے صفحہ پر اداریہ میں نے لکھ رکھا ہے :

"سخف وتخریف فی لیبیا و قتل فی سوریہ”
انہوں نے سارے شمارے چاک کردئے اور میں اپنی غفلت پر خودہی نادم ہوتا رہا اور اللہ کی رحمت پر شکر گزار کہ وہ انسان کی حفاظت کا نظم کس طرح کرتا ہے اس قدرت کے کرشمے بھی عجیب ہوتے ہیں
شرکائے کانفرنس میں جامعہ بنوری ٹاون کراچی کے عبد الرزاق اسکندر صاحب بھی مل گئے جو اسوقت وفاق مدارس کے صدر ہیں
وہ زمانہ ہم دونوں کی جوانی کاتھا وہ عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے
ان دنوں وہ مولانا مناظر احسن گیلانی کی تدوین حدیث کا عربی میں تر جمہ کر رہے تھے
سب سے پیچیدہ مسئلہ اس وقت سربراہ مملکت کی طرف سے حجیت حدیت کے انکار کا مسئلہ تھا یہ تو ہم نے طے کر رہا تھا کہ اس کی تائید نہیں کرنی ہے
اس اجلاس کے دوران اچانک نعرے کی آواز آنے لگی :
احنا الفاتح وحدویة” احنا الفاتح ثوروية ”
پیچھے مڑ کر دیکھا کرنل معم القذافی بغیر کسی سابقہ اعلان کے داخل ہوئے اور اسٹیج کے بجائے پچھلی صف میں بیٹھ گئے اور وہیں سے فرمانے لگے :
میں نے معاشرہ میں قرآن نافذ کیا تو کچھ لوگ کہنے لگے کے تم کافر ہو
کیوں کہ تم حدیث کا انکار کرتے ہو
میں نے ایک ملازم کو بازار بھیج کر حدیث کی کتابیں منگوائیں تو 60 کتابیں ملیں جنمیں کچھ حدیثیں مقلوب کچھ موضوع اور کچھ ضعیف ملیں
یہ کہہ کر وہ پیچھے کے دروازہ سے ہی رخصت ہوگئے
شام کے وقت مختار عزیز نامی صحافی ہم لوگوں سے انٹر ویو لینے کیلئے پہنچ گئے
ایک سوال انہوں نے حدیث کے بارے میں بھی کرڈالا کہ مہمان ہونے کے ناطے ہم لوگ وہی کہیں گے جو ان کے رجحان کے مطابق ہو لیکن اللہ کا شکر ہے عین وقت پر ہمیں حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب کی منطق یاد آئی اور ہم اپنے موقف قائم رہنے میں کامیاب رہے
صحافی نے پوچھا کہ حدیث کے بارے میں کیا رائے ہے ؟میں نے عرض کیا کہ ؛
جو حدیث کو نہ مانے اس کا قرآن پر ایمان کیسے صحیح ہوسکتاہے ؟وہ حیرانی سے ؟ وہ کیوں؟
میں نے کہا قرآن اللہ کی کتاب ہے یہ میں نے کیسے جانا
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعوی یا حدیث کو مان کر کہ جبریل امین آتے ہیں اور اللہ کا کلام ان کو پہنچاتے ہیں
اس حدیث کو مان کر ہی قرآن پر ہمارا ایمان صحیح ہوسکتاہے
یہ سن کر وہ مبھوت رہ گیا اور کہنے لگا کہ اتنا تو ہم سبھی مانتے ہیں ,
میں نے کہا : محدثین نے اصول بنائے ہیں کون سی حدیثیں قابل قبول ہیں اور کون سی نہیں اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے اور بطل کی تائید سے نجات مل گئی فالحمد للہ علی ذلک.
دو ہفتے بعد جب لیبیا سے نکل کر اردن کے دار الحکومت عمان پہنچے تو الشریعہ کے ایڈیٹر حسان تیسیر ظبیان ملے تو کہنے لگے کہ تم لیبیا گئے اور زندہ نکل آئے ؟ تمہارا اداریہ میں پڑھ چکا تھا مجھے یقین نہیں تھا کہ تم وہاں جاسکو گے اور اگر گئے تو محفوظ رہ سکوگے
فاللہ خیر حافظا, وھو لطیف بعبادہ
خیال تھا کہ جدہ ہوکر واپسی پر چند گھنٹے ملیں گے عمرہ کر کے لیے جائینگے
لیکن ان دنوں لیبیا کے تعلقات دوسرے ملکوں سے ایسے تھے کہ ایر پورٹ پر امید وناامیدی کی کشمکش میں گزرے :

خیال وصل کو اب آرزو جھولے جھلاتی ہے
قریب آنا دل مایوس کا پھر دور ہو جانا

اللہ تعالی نے اس کے بعد خوب نوازا
ہر سال کئی کئی عمرے پھر تسلسل کے ساتھ حج کی سعادت حاصل ہوتی رہی مولانا محمد علی کے بقول:

اب ہونے لگیں انسے خلوت میں ملاقاتیں
اک” فاسق وفاجر” میں اور یہ زندہ کراماتیں

مولاناکے درجہ کا تواضع مجھ میں نہیں ہے اسلئے اس مصرع کو یوں پڑھیے:

اک "عاصی و غافل” میں اور یہ زندہ کراماتیں _

ریاض کی علمی شخصیتوں میں ایک معروف نام شیخ ا بو عبد الرحمن بن عقیل الظاھری کا تھا بڑے تیز اپنی ذہانت میں پرکالہ آتش بڑے صاحب قلم دماغ میں تاریخی معلومات کا ذخیرہ امام ابن حزم ظاھری کے عاشق زار
پہلی بار ملاقات ہوئی تو ریاض کی النادی الادبی کے ذمہ دار تھے کئی رسائل ہدیہ میں دیئے ,انمیں ایک رسالہ الاولوان کے نام سے بھی النادی کی طرف سے شائع کی تھی ان کو ابن حزم کی ہر اداپسند تھی سوائے عقیدہ کے اسمیں ان کا مسلک اہل نجد یا عام حنابلہ سے الگ تھا _

ایک صاحب اور تھےجوابو تراب الظاہری کے نام سےمشھور تھے لیکن وہ اصلا پاکستانی تھے انکے والد سے ان کو شہرت ملی تھی انکو عربی جملوں کی تصحیح سے دلچسپی تھی انکے والدعبد الحق الھاشمی حدیث کے عالم تھے مکہ مکرمہ میں صحیح بخاری پڑھایا کرتے تھے, تراجم ابواب پر انکی ایک ضخیم کتاب اللباب کے نام سے ہے اور عادات البخاری کے نام سے بھی ایک مختصر رسالہ شیخ محمد ناصر العجمی نے کویت سے شائع کیا ہے
ابن عقیل الظاھری سے ملاقات کے دوران علامہ ابن حزم الظاھری کے بارے میں ہم دونوں کے درمیان بحث چھڑ گئی وہ زبردست حامی اور میں سخت مخالف مولاناسالم صاحب کو الجھن ہورہی تھی اور کھانا بھی ٹھنڈا ہورہاتھا بمشکل ہمارامباحثہ ختم ہوا
برسوں کے بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو کافی بوڑھے ہو چکے تھے ہوٹل میں کھانے کی میز پر ساتھ ہی امیر تر کی الفیصل بھی آکر بیٹھ گئے اور بعض تاریخی موضوعات پر گفتگو ہونے لگی
اب ان کو وہ پرانے مباحثے بھی یاد نہیں رہ گئے تھے
بولنے میں بھی دشواری ہو رہی تھی لیکن تاریخی امور میں انکی یاد داشت بدستور تھی
امام ابن حزم اپنی زبان کی شدت اور قلم کی تیزی وسختی اورجارحانہ تنقید میں مشہور ہیں یہاں تک کہ "سیف الحجاج وفلم ابن حزم شقیقان ” کا محاورہ مشہور ہوگیا کہ” ابن حزم کی زبان حجاج کی تلوار ہی کی طرح ہے وہ ناحق خون ریزی میں اور یہ دشنام طرازی یادرشت کلامی میں ”
مین نے انکو مفتی مھدی حسن شاہ جہاںپوری کی” السیف المجلی علی صاحب المحلی ” بھیج دی تھی جس کاذکر بھی انہوں نے اسی سختی سے کیاہے
البتہ مولانا عبد الحی لکھنوی کی "الرفع و التکمیل فی الجرح والتعدیل "جو شیخ عبد الفتاح ابو غدہ کی تحقیق وتعلیق کے ساتھ شائع ہوئی ہے
اور اہل علم کے حلقہ میں معروف و متداول ہے اسکی تعریف کرتے تھے کہ یہ اپنے فن میں بے مثال ہے
علامہ ابن حزم کے بارے میں میری رائے سخت تھی لیکن جب سے میں نے انکی کتاب” مداواة النفوس”میں یہ پڑھا کہ انھوں نے جگر کی بیماری کو زبان کی سختی کا سبب قرار دیا ہے اس وقت سے میں بھی انہیں معذور سمجھنے لگا
بعد میں میں نے مفتی عتیق الرحمن عثمانی کے حوالہ سے مولانا انظر شاہ صاحب کی تحریر دیکھ کہ علامہ کشمیری رح بھی ابن حزم کی بیماری کو زبان کی تیزی کا سبب قرار دیتے تھے تو خیال ہوا کہ شاید انہوں نے بھی وہیں دیکھا ہوگا اور اس تائید سے خوشی بھی ہوئی کہ میں نے صحیح سمجھاتھا
علامہ ابن حزم کی عبقریت مسلم ہے انکی” طوق الحمامہ ” ادب لطیف کی شاندار مثال ہے
انکی” الفصل فی الملل والنحل”عقائد کی عظیم انسائیکلو پیڈیا ہے

"المحلی ” اگر انکی زبان کی سختی اور بعض مسائل میں ظاھریت کی مضحکہ خیز مثالوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو فقہ و حدیث اور نقل مذاھب سلف کا بے مثال ذخیرہ ہے

شافعی فقیہ سلطان العلماء علامہ عز الدین بن عبد السلام تو ابن قدامہ کی "المغنی” اور ابن حزم کی” المحلی "کے بغیر فتوی نویسی کی لذت ہی محسوس نہیں کرتے تھے
انکی” الاحکام” بھی اصول کی مستند کتاب سمجھی جاتی ہے
"جوامع السیرہ ” مختصر اور شاندار ہےاور بعض دیگر رسائل بھی مفید ہیں
البتہ قیاس کا انکار ظاھریت کی وجہ سے طھارت وغیرہ کے مسائل میں ان کی بعض انتہائی مضحکہ خیز آراء امام ترمذی کو اور امام ابو حنیفہ ومالک وغیرہ کے بارے میں نامناسب الفاظ کا استعمال یقینا غلط اور قابل تردید ہے جسکی وجہ وہ خود ہی اپنی بیماری کوبتلاتے ہیں اسلئے انکی طرف سےکہ سکتے ہیں :

من ذا الذی ماساء قط
ومن لہ الحسنی فقط

یاپھر:

من ذالذی تر ضی سجایاہ کلها
کفی المرأ نبلا ان تعد۔ معائبه

كبھی ہمیں بھی غصہ آتاتھا لیکن اب خیال یہ ہوتا کہ:

لاتشتموا الأموات وان طال المدي
اني اخاف. عليكموا ان تلتقو ا

یہ رائے علمی مسائل کے بارے میں ہے
لیکن وہ لوگ جنہوں نے محض دنیوی مفاد کیلئے سياسي چالیں چلیں امت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا دوسروں کے حقوق غصب کئے اور علم و تقوی کا نام لیکر نسلوں کو تباہ کیا انکو بڑوں کے خلاف ابھارا ایسے لوگوں کی غلطیوں کو واضح کرنا ضروری ہے
آخر میں ایک دلچسپ واقعہ کےذکر پر یہ گفتگو ختم کرتا ہوں
ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی معروف شامی عالم ہیں چند سال پہلے ان کا انتقال ہوا انکی گفتگو یوتیوب پر محفوظ ہے
وہ دودرجن موسوعات کے مرتب ہیں موسوعہ عمر بن الخطاب موسوعہ ابراھیم النخعی موسوعہ اسحاق ابن راھویہ وغیرہ انہوں نے ہی تیارکیاہے
انہوں نے اپنا یہ عجیب واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ان کوخیال ہواکہ علامہ ابن حزم نے امام ابو حنیفہ کی تردید میں جو دلائل دئے ہیں انکو یکجا کر کے شائع کردیا جائے چنانچہ انہوں نے کام شروع کردیا اوراپنی عادت کے مطابق بطاقات ایک ساتھ جمع کرنے شروع کردئے, کام چل پڑا
تو گھر کی چھت پر ایک دن سو رہے تھے تو امام ابن حزم خواب میں تشریف لائے دیکھا کہ وہ آکر خوشی کا اظھار کرنے کے بجائے اس کام سے منع کر رہے ہیں کہ” یہ مت کرو
اگر تم نے ایسا کیا تو جودلائل تم جمع کروگے انہیں کا استعمال کرکے لوگ پورے دین کی تردید کرینگے ”
خواب دیکھ کر پریشان ہوگئے اپنے استاد ورہنما شیخ محمد المنتصر الکتانی کو ٹیلیفون کیا جو ان دنوں شاہ فیصل کے مستشار کی حیثیت سے سعودیہ میں مقیم تھے اور انہیں اپنا یہ عجیب و غریب خواب سنایا,
شیخ نے بلا تردد کہا کہ اس موضوع پر ابتک جو کچھ جمع کیا ہے اسے جلادو اور یہ کام بند کردو چنانچہ یہی ہوا ایک تھیلی میں رکھ کر انہوں نے سب کو نذر آتش کردیا "

وللہ فی خلقہ شئون

شیخ زندہ ہوتے تو میرے لئے چٹکی لینے کا سامان تھا میں نے یہ بیان بعد میں سناورنہ میں تو ہر دن ہی انکو چھیڑتا رہتا تھا _

رحمه الله رحمة واسع

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*