بنیادی صفحہ / مضامین / بات سے بات ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادی سے تعلق۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

بات سے بات ۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادی سے تعلق۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

 جی تو بہت چاہا کہ مصنف بنیں مضامین لکھا کریں، لیکن کبھی تحریک کے بغیر منصوبہ بند طریقہ سے کچھ بھی نہ لکھ سے، کئی ایک محترم احباب ہیں جن کے بارے میں لکھنے کی فرمائشیں آتی رہتی ہے،جی چاہتا ہے حق دوستی ادا کیجائے، محبت اور تعلق بھی اس کا تقاضا کرتے ہیں، لیکن جب کچھ لکھنے کا ارادہ کرتے ہیں،تو سوچتے ہیں کہ کیا لکھیں ان کے بارے میں ہم سے زیادہ جاننے والے لوگ موجود ہیں، ہم لوگوں کی معلومات میں کیا  اضافہ کریں گے؟،یہ تو ایک مکرر عمل ہوگا، پھر قلم آگے بڑھنے سے رک جاتا ہے۔

مولانا شاہ اجمل فاوق ندوی  کا مولانا عبد الماجد دریابادیؒ اور مولانا نذر الحفیظ ندوی ؒکی رہنمائی کے تعلق سے ایک شذرہ نظر آیا تو کئی ایک یادیں ذہن میں تازہ ہوگئیں، مولانا نذر الحفیظؒ  ہمارےایسے بڑے تھے، جب بھی  آپ سے ملاقات ہوتی تو ہماری کاہلی اور سستی پر متوجہ کرتے، ہمت بڑھانے والے اوررہنمائی کرنے والے یہ سانچے قدرت نے بنانے شاید بند کردئے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو کان سے نکلے کوئلے کو تراش کر ہیرا بنا دیتے ہیں۔

ہماری تعلیمی زندگی ایسی نہیں گذری کہ اس پرکوئی رشک کرے، کبھی ترقی کے ارادے سے تعلیم کے دوران کوئی محنت نہیں ہوئی، (والدہ مرحومہ پر لکھے مضمون میں ان میں سے کئی ایک باتیں آپ کی نظروں سے گذر چکی ہونگی)، یہاں ان کے تذکرہ کی ضرورت چنداں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن شاہ صاحب کی تحریر نے اس سلسلے میں کچھ لکھنے پر مجبور کردیا ہے ۔

جب شعور کی آنکھیں کھلیں اور عمر ابھی دس بارہ سال کی رہی ہوگی کہ صدق جدید پر نظر پڑنے لگی، البلاغ بمبئی کے تبادلہ میں تایا کے گھر یہ آتا تھا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ ہمارے گھر کی بولی نائطی، ریاست کی زبان کنڑی، اور ملکی زبان انگریی اور ہندی ہے۔ ان میں اردو کے لئے جگہ نہیں ہے، درجے سے باہر آپسی بول چال میں شاذونادر ہی  اردو کی ضرورت پڑتی تھی،وہ بھی بازاری قسم کی، ہمارے زمانے میں جامعہ اسلامیہ بھٹکل ابتدائی دور سے گذر رہا تھا، اور انتشار کا شکار تھا۔ ان حالات میں مکتب پنجم تک اردو داخل نصاب تھی، اعلی تعلیم کے لئے جب چنئی جانا ہوا تو وہاں کا میڈیم عربی تھا، مقدونیا، ملیشیا، سری لنکا، تھائی لیند، انڈونیشیا، ٹامل ناڈو اور ملبار کے طلبہ ہی وہاں پر زیرتعلیم تھے، جو دو ایک ساتھی تھے وہ بھی ٹوٹی پھوٹی دکنی زبان بولتےتھے۔ ایسے ماحول میں اردو کی بول چال یا تحریر پر عبور ایک اچھنبے کی بات ہے، اور ہمیں اب بھی تعجب ہوتا ہے کہ ان سب کے باوجود اردو سے کیسے تعلق پیدا  ہوگیا؟۔

تعلیم کے دوران درجات  میں محنت سے جی چرانے کے باوجود اللہ تعالی کا یہ کرم ضرور ہوا کہ اس نے غیر شعوری طور پر مطالعہ کی عادت بچپن ہی میں ڈال دی۔ بے کار بیٹھنے کی عادت کبھی نہیں رہی، لہذا تنہائی نے کتابوں اور مجلات کو ساتھی بنادیا، اور (وخیر جلیس فی الزمان کتاب) کی عملی تعبیر مل گئی۔ ابتدا میں ایک دور ایسا بھی آیا کہ بعض رشتہ داروں نے ہماری والدہ سے شکایت کی کہ یہ لڑکا راہ چلتے کتابیں پڑھتا ہے، کہیں راستے میں گاڑی سے ٹکرا کر مر نہ جائے، اسے روکو، لیکن قسمت میں ایسا کوئی حادثہ نہیں لکھا تھا، اس وقت کوئی رہنما میسر نہیں تھا، اورہوتا بھی کیسے؟ ہمارے پھوپھا اور ہمارے تایا کے یہاں جو کتابیں اور مجلات  میسرتھے وہ دوسروں کو کہاں میسر تھے؟۔ وہ تو ان کتابوں کے نام ہی سن کر حیران ہوجاتے  تھے، کتب خانے کی تعمیر تک جامعہ میں کتابوں کی ایک دو الماریاں ہی  تھیں، جن میں درسیات سے متعلق کتابیں زیادہ تھیں۔ تنظیم  لائبریری میں بھی ہمارے اساتذہ کا آنا جانا بہت کم تھا، لہذا اس وقت ہم نے جو بھی پڑھا وہ پڑھنے سے زیادہ آنکھوں کی ورزش ہی تھی۔ اب بارہ تیرہ سال کا لڑکا ایک رات میں شمائل ترمذی مع خصائل نبوی پڑھے تو اسے آپ یہی تو کہیں گے؟ ۔

جب ۱۹۷۰ء میں اعلی تعلیم کے لئے مدراس ( چنئی ) جانا ہوا تو وہاں ہمارے مشفق استاد مولانا سید عبدالوہاب بخاری ؒ کی ڈاک میں ہر جمعہ کو (صدق جدید  ) لکھنو اور سید خلیل اللہ حسینی کی ادارت میں جاری  ہفتہ وار  (  شعور)  حیدرآباد آتے تھے، بخاری صاحب کو انہیں پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی تھی ،تو ہم انہیں پوسٹ بکس سے براہ راست لے لیتے تھے، اس طرح یہ دونوں پرچے چار سال تک حرز جان بنے رہے، البتہ صدق جدید تو مولانا دریابادی کے بعد بھی آپ کے جانشین حکیم عبد القوی دریابادی مرحوم کی ادارت میں آخر تک زیر مطالعہ رہا۔ اس دوران دو ایک بار مولانا دریابادیؒ سے طالب علمانہ خط وکتابت کا شرف بھی حاصل ہوا۔

فراغت کے بعد جب تدریس سے وابستگی ہوئی تو اس وقت تک ناولوں ہی کی طرح کتابیں چاٹنے کی عادت رہی، اس کا بھی فائدہ ہوا، لیکن علم میں جو پختگی درکار تھی وہ نہ مل سکی، انہی دنوں تنظیم لائبریری میں مکتبہ جدید، لاہور سے چھپی ہوئی  ایک چھوٹی سی خوبصورت کتاب ملی، عنوان تھا  ( گفتگو اور تقریر کا فن ) یہ ایک امریکن مصنف ڈیل کارنیگی کی کتاب کا ترجمہ تھا،گفتگو اور تقریر کا فن تھوڑے کتاب سے آتا ہے، یہ توخداداد صلاحیت ہوتی ہے، جو اللہ کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے،  تایا مرحوم نے ہاتھ میں جب یہ کتاب دیکھی تو کہا اوپر جو لال سرورق کی کتاب پڑی ہےجس کے کنارون کو چوہے نے کتر لیا  ہے اسے بھی پڑھیں، یہ کارنیگی ہی کی دوسری کتاب  (پریشان ہونا چھوڑئے جینا شروع کیجئے  ) تھی، اب کارنیگی کی کتابوں کا چسکا لگ چکا تھا، تو اسی دوران کارنیگی کی ایک اور کتاب  (قوت حافظہ  ) ہاتھ لگی۔ ہمارا خیال ہےکہ یہ کتاب  ڈونلڈ نرسی اور لیرڈ نرسی کی ہے ناشر نے کارنیگی کی شہرت کی وجہ سے مصنف کے نام میں خیانت کی ہے۔ ان کتابوں سے نہ تقریر اور گفتگو  کا فن آیا ، نہ پریشانیاں دور ہوئیں، نہ حافظہ پتھر کی طرح  مضبوط ہوا، لیکن اتنا ضرور ہوا کہ آئندہ زندگی میں مطالعہ کا سلیقہ آگیا، شاید ہمارے اس دعوی میں جھوٹ یا مبالغہ نہ ہو کہ اس کے بعد جن کتابوں کا بھی مطالعہ ہم  کیا، تو  انہیں خرید کرنے کی بساط بھر کوشش کی ، کیونکہ بغیر پنسل اور ہائی لائٹر کے اس کے بعد کوئی کتاب ہم سے پڑھی ہی نہیں گئی۔  (  مطالعہ کے موضوع پر النخیل مطالعہ نمبر میں ہمارا مضمون ضرور دیکھیں، اس میں جو باتیں ہیں اردو میں شاذو نادر ہی ذکر ہوئی ہیں، محسوس ہوتا ہے کہ اس مضمون پر اہل علم کی خاطر خواہ توجہ نہیں ہوئی)

اس دوران کارنیگی کتاب کا یہ اصول دماغ میں تیر کی طرح پیوست ہوگیا کہ ایک مرتبہ کا لکھنا بیس مرتبہ پڑھنے کے برابر ہے، چونکہ ازبر کرنے کی عادت تب بھی نہیں پالی تھی، اور اب بھی صورت حال یہی ہے کہ ایک متعینہ  تناسب سے زیادہ طلبہ کو ازبر کروانے پرلگانا پسند نہیں ہے۔ اس اصول نے کتابیں نقل کرنے پر آمادہ کیا۔ اور اسی کے زیر اثر ہم نے مولانا دریابادیؒ کے سچ لکھنو کی فائلیں نکلوائیں اور خود کو اس بات کا پابند کیا کہ  سچی باتیں کا ایک کالم روزانہ نقل کریں، یہ کالم کوئی بڑا نہیں ہے، عام کاپی کے دو صفحات یا ایک اے فور پرآتا ہے، نقل کرنے میں وقت بھی زیادہ نہیں لگتا، اس طرح ہم نے چار سالوں کی سچی باتیں کاپی پر نقل کیں، اوریہ کہنے میں ہمیں کچھ بھی تامل نہیں ہے کہ آج جو بھی ہمیں اردو لکھنی پڑھنی آتی ہے، یہ اسی کی دین ہے۔

ہاں یہاں ایک اہم کتاب کا تذکرہ چھوٹ رہا ہے، جس نے غیر شعوری طور پر ذہن ودماغ کو ہلا دیا، عمر ابھی کچھ کچی تھی، یہی تیرہ چودہ کی رہی  ہوگی، دارالمصنفین سے چھپا ہوا خطبات مدراس کا پہلا خوبصورت ایڈیشن ہاتھ لگا تھا، اس وقت تک کچھ بھی پتہ نہیں تھا کہ ادبی تحریر کیا ہوتی ہے، اور کس طرح دل ودماغ کواپنی جکڑ میں لے لیتی ہے،لیکن جب خطبات کو پڑھنا شروع کیا تو ایک سحر سا محسوس ہونے لگا، آج نصف صدی بعد بھی جب تصور میں خطبات مدراس کی وہ عبارتیں یاد آتی ہیں تو دل دماغ پر عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے، ہماری دل میں حضوراکرمﷺ کی محبت آپ کی سیرت کی عظمت پیدا کرنے میں اس کتاب کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ ہماری ناقص رائے میں سید صاحب صرف یہی ایک کتاب تصنیف کرتے تو تاقیمت آپ کا نام زندہ رکھنے کے لئے کافی تھی۔

اس مختصر سی محنت کا اثر جلد ہی نظر آیا،۱۹۷۷ء میں جب اندراگاندھی رائے بریلی سے ہارگئیں تو ہمارا پہلا مضمون  ( غرور کا سرنیچا ) کے عنوان سے شائع ہوا۔ اور کافی پسند کیا گیا، انجمن آرٹس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید انور علی مرحوم نے کہا کہ آپ میں لکھنے کے صلاحیت ہے، تقریر پر کوشش نہ کریں، اسی میدان کو اپنا لیں۔

۱۹۷۸ء کی بات ہے ہمارے ہاتھ میں مولانا محمد علی جوہر کی رحلت کے بعد لکھے ہوئے مضامیں (محمد علی۔ ذاتی ڈائری کے چند اوراق  ) کا وہ مجموعہ ہاتھ لگا، جسے غلام دستگیر رشید مرحوم نے حیدرآباد سے شائع کیا تھا، یہ  ( ۲۵۰ )صفحا ت کا مجموعہ تھا، دو جلدوں میں یہ  ضخیم کتاب بہت بعد میں آئی تھی، ہمیں اچھی طرح یاد ہے، جہاں عبد الباری فرنگی محلیؒ سے مولانا جوہر کے اختلافات، اور مولانا عبد الباری ؒ کی رحلت کا جو منظر مولانا دریابادیؒ نے کھینچا ہے، وہاں تو آنکھیں ٹپک پڑی تھیں۔انہی دنوں ہمارے استاد بلکہ استاد الاساتذہ مولانا عبد الحمید جیسکھ پوری ندوی ، جو مولانا دریابادی کے عاشق زار تھے، اور جنہوں  نے بھٹکل میں مولانا دریابادی کو اتنا متعارف کروایا تھا کہ مولانا دریابادی نے آپ کے ایک شاگرد جناب الحاج محی الدین منیری مرحوم کنوینر افتتاح جامعہ آباد کمیٹی ومدیر یادگار جامعہ کے نام ایک پیغام میں لکھا تھا کہ:

 (بھٹکل والوں سے میرا تعلق آج سے نہیں سالہا سال سے قائم ہے، کہ سکتا ہوں کہ میرے جتنے مخلصین بھٹکل میں ہیں، ملک کے کسی ایک مقام پر مشکل ہی سے ہوں گے)

مولانا  کی رحلت پر ہم نے ایک مقامی پرچہ میں نو قسطوں میں ایک مضمون لکھا تھا، ہمارے تایا مرحوم نے اس کی جملہ قسطیں بڑی دلچسپی سے پڑھی تھیں، حالانکہ وہ اس طرح پڑھنے کے عادی نہیں تھے، اور بعد میں کئی ایک بزرگوں نے ہم سے کہا تھا کہ اس تحریر میں مولانا دریابادیؒ کا رنگ جھلکتا ہے،  (  چہ نسبت خاک راہ بہ عالم پاک) ، حالانکہ یہ بات ہمارے ذہن کے کسی خانے میں بھی نہیں تھی۔

بات یہاں اپنی فضلیت اور صلاحیت بیان کرنے کی نہیں ہے، عمر جتنی ضائع ہونا تھی ہوچکی، جو ہاتھ نہ آئے اس پر رونا کیا؟

لیکن یہاں یہ بات اس لئے یاد آئی کہ اس علم وکتاب گروپ پر نصاب تعلیم کی کمیوں اور خامیوں پر بہت بحثیں ہوتی رہی ہیں، اور ذاتی طور پر یہ ہماری دلچسپی کا موضوع  بھی ہے، جب کچھ پڑھنا آیا تو آٹھویں جماعت میں علامہ شبلی کے نصابیات پر مقالات نظر سے گذرے، سمجھ میں کچھ آئے کچھ  نہ آئے،لیکن اپنا اثر چھوڑے بغیر کہاں رہتے؟ اس کے بعد اس موضوع پر دوسرے کئی سارے مفکرین کی کتابیں نظر سے گزریں، پہلی تنخواہ  (۲۰۰  ) روپئے  والدہ کے ہاتھ میں دینے سے پہلے جو چیز لی وہ آٹھ روپئے کی  افضل حسین مرحوم کی کتاب فن تعلیم وتربیت تھی، لیکن اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کوششیں او فکریں ہوتی رہیں گی، ہمیں نقائص کے پیچھے بھاگنے کے بجائے، اپنے ہاتھ سے نکال کر ایک ڈول پانی ڈال سکیں تو ڈالنا چاہئے، اور ان حالات میں بھی جو کچھ کرسکتےہیں اس کی کوشش کرنی چاہئے، علم وکتاب گروپ کا بنیادی کام یہی ہے،

ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہمارے طلبہ کومطالعہ اور حاصل مطالعہ ( اقتباسات ) کو اپنی ڈائریوں میں محفوظ کرنے کی عادت ڈلوانی چاہئے، اس سے تعلیم کے دوران ہونے والے بہت سے نقائص کو کم کیا جاسکتا ہے، لہذا ہمارے پاس ہزاروں لاکھوں پی ڈی یف کتابیں ہونے کے باوجود ہم نے  پی ڈی یف کتابوں کی ہمت شکنی کی ہے ، ہم نے اب تک گروپ پر غیر ضروری طور پر انہیں پوسٹ ہونے نہیں دیا ہے ، کیونکہ یہ کام دوسرے  بھی کر رہے ہیں۔

ہم نے ہمیشہ اس بات پر اپنے رفقاء کو اکسایا کہ وہ دلچسپ اور سبک زبان میں کتابوں کو ٹائپ کرکے انہیں سلسلے وار پوسٹ  کیا کریں، ان کی مقدار اتنی ہو کہ پہلی نظر میں قاری انہیں پڑھ لے، اور آئندہ پر نہ چھوڑے، اور اساتذہ طلبہ میں گروپ پر پوسٹ شدہ کو پروموٹ کریں، ہم سمجھتےہیں کہ جو احباب اس گروپ میں حاصل مطالعہ، کتابوں کے سلسلے ، ٹائپ کرکے پوسٹ کرتےہیں، ان کا فائدہ دوسروں کو پہنچتا ہی ہے، لیکن اس کا سب سے زیادہ فائدہ خود انہیں اس محنت کے صلے میں پہنچتا ہے،جو لوگ اس محنت میں شریک ہیں ان شاء اللہ کچھ عرصے بعد ہماری اس بات  کی تصدیق کریں گے۔بات بہت  لمبی ہوگئی، اور بھی باتیں ہیں جو ذہن میں پھدک رہی  ہیں، یار زندہ صحبت باقی۔

2022-06-26

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*