بنیادی صفحہ / بھٹکل – ایک تعارف

بھٹکل – ایک تعارف

ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے مغربی ساحل پر واقع قصبہ بھٹکل اپنی مخصوص شناخت رکھتا ہے، 1968 تک اس کی بندرگاہ پرکراچی سے کوچین تک جانے والے مسافر جہاز لنگر انداز ہوتے تھے اوربڑے بادبانی جہاز بھی ستر کی دہائی کے آخر تک رواں دواں تھے ،یہ بندرگاہ چودھویں اور پندرھویں صدی میں سلطنت وجے نگر کے دور میں مغربی ساحل ہند کی سب سے اہم اور شاداب تجارتی بندرگاہ شمار ہوتی تھی ، اور تنگنائے مالقہ ملیزیا ، برما وتھائِی لینڈ سے ، جدہ سعودی عرب ،  بصرہ عراق اور وہاں سے وینس اور جنوہ اٹلی تک ہونے والی عالمی بحری تجارت کا اہم مرکز تھی، اس وقت بحری تجارت اور جہازرانی پر عربوں کی حکمرانی تھی ، قبیلہ نوائط انہی عرب جہازرانوں  کی نسل سے تعلق رکھتا ہے، اور بھٹکل اس قبیلے کا اہم ترین مرکزرہنے کی وجہ سےاپنی ایک مخصوص تہذیبی شناخت کا حامل رہا  ہے۔ اس برادری کی زبان نائطی کہلاتی ہے  ، ویسے اس علاقے کی  ریاستی زبان کنڑی اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں  مرکز کی سرکاری زبان انگریزی اور ہندی ہے۔

1502ء میں بحری قزاق واسکوڈی گاما نے بھٹکل کے سامنے واقع  کائل پٹن میں مدفون مشہور بزرگ طبل عالم نطہر ولی رحمۃ اللہ  کی چلہ کشی کی طرف منسوب  نطہرا پہاڑی یا  جزیرہ نتھرانی  Pigeon Island  پرصلیب نصب کرکے  اس پر شہنشاہ پرتگال عمانویل کا زرہ اور ہیٹ لٹکا کر اعلان کیا تھا کہ دنیا کی بندرگاہیں اب  صلیبی سلطنت پرتگال کے ماتحت ہوگئیں۔ اور 1515ء میں گوا پر پرتگالی قبضہ کے بعد پرتگالی گورنر الفانسو دلبوقرق نے شہنشاہ عمانویل کے حکم نامے کے تحت بھٹکل کی بندرگاہ پر اترنے والے جہازرانوں کو قابل گردن زدنی قرار دے کے اس بندرگاہ کو توڑ دیا تھا اور یہاں پر بحری آمد و رفت سفر حج وغیرہ پر پابندی عائد کردی تھی ۔