Home / State / کرناٹک:انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 65 فیصد رہی

کرناٹک:انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 65 فیصد رہی

Print Friendly, PDF & Email

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور الیکشن کمیشن کے مطابق 65 فیصد ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے۔
کرناٹک میں اسمبلی کی کل 224 نشستیں ہیں اور ہليال سب سے بڑا اسمبلی علاقہ ہے۔ یہاں کل ووٹروں کی تعداد 4 کروڑ 35 لاکھ ہے اور انتخابات کے لیے 65,000 ووٹنگ مشینوں کا انتظام کیا گیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور سے بتایا ہے کہ چلچلاتی دھوپ اور حبس کی وجہ سے دوپہر تک ووٹنگ مراکز میں سناٹا رہا تاہم دوپہر کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے نکلے۔
ارٹي نگر کے علاقے میں ایک پولنگ مرکز کے باہر جمع لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اب تبدیلی کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ وہاں جمع لوگوں کے لیے بدعنوانی سب سے بڑا مسئلہ تھی اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے بنگلور شہر کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔
ریاست کے شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں ووٹنگ کی شرح بہتر رہی اور ووٹ ڈالنے کے لیے لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔
پولنگ کے دوران بنگلور سے 22 کلومیٹر دور مانڈور علاقے میں دو جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان ہلکی جھڑپ بھی ہوئی۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بنگلور شہر کا کوڑا پھینکا جاتا ہے۔ لوگ اس علاقے میں کوڑا پھینکے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اہم مقابلہ ریاست میں برسر اقتدار جماعت بی جے پی اور حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس میں ہے۔ ان اسمبلی انتخابات میں جو دیگر پارٹیاں میدان میں ہیں ان میں جنتا دل سیکولر اور كرناٹک جن پکش (کے جے پی) اہم ہیں۔
واضح رہے کہ کے جے پی حال ہی میں حکمراں جماعت بی جے پی سے علیحدہ ہو کر قائم ہوئی تھی اور اس کے سربراہ بی ایس یدورپا ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں سب کی نظریں ریاست کے سابق وزیراعلی بی ایس یدورپا پر ہیں جنہوں نے ریاست کی حکمراں جماعت بی جے پی سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ماہرین کی رائے ہے کہ يدورپا کے بی جے پی سے علیحدہ ہونے سے بی جے پی کو نقصان ہو سکتا ہے۔
کرناٹک جنوبی بھارت کی پہلی ریاست ہے جہاں پانچ سال پہلے ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخاب جیت کر حکومت بنائی تھی لیکن پارٹی گروہ بندی کا شکار رہی اور ریاستی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی عائد ہوئے۔
گزشتہ پانچ سالوں کے دوران جہاں بی جے پی کی حکومت میں کرپشن اہم مسئلہ رہا، اب سب کی نگاہیں انتخابی نتائج پر ہوں گی کہ کیا مرکز میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہی کانگریس کرناٹک میں بی جے پی کی پریشانیوں کا فائدہ اٹھا پاتی ہے یا نہیں۔

-BBCUrdu

x

Check Also

Possibility of ending lockdown on April 14 looks unlikely: Modi

New Delhi: Prime Minister Narendra Modi on Wednesday Apri 8 hinted that ...