الصوم لی و انا اجزی بہ” روزہ تو بس میرے لئے ہے اور اسکا اجر بھی بس میں ہی دونگا“ کس قدرپیار کے الفاظ ہیں! دنیا میں کتنے بھوکے پھرتے ہیں! کوئی کسی سے اتنی اپنائیت کب کرتا ہے! کسی سے اسطرح محبت کب جتاتا ہے پھر جہانوں کے مالک کو تو کسی کی پڑی ہی کیا ہے! مگر وہ شکور اورقدر دان ہے، شاکر اور علیم ہے، ایک ایک پل کی خبر رکھتا ہے اور بندگی کی ایک ایک اد ا کو پذیرائی بخشتا ہے! لوگوں نے اس حدیث کے بہت سے مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو اپنی جگہ ضرور صحیح ہونگے۔ پر یہ تو ایک ادا کے پسند آجانے کا ذکر ہے۔ مسلم کی ایک حدیث کے الفاظ ہیں:یدع شھوتہ و طعامہ من اجلی” وہ میری خاطر اپنی خواہش اور کھانے سے دست کش رہتا ہے“ من اجلی” میری خاطر“ ! اس کا سارا لطف تو بس اس لفظ میں ہے” میری خاطر“ اورجب ایسا ہے تو بھائیو پھر یہ چند گھنٹے کا عمل واقعتا بس ”اسی کی خاطر“!