جو بھی دُنیا میں کوئی نظام ہے وہ اپنا ایک باقاعدہ فلسفہ رکھتا ہے۔ انسانی زندگی کی بابت اپنا ایک تصور رکھتا ہے اور اس کو چلانے اور درست کرنے کا اپنا ایک طریقہء کار، اس کی اپنی ایک ترتیب ہوتی ہے اور معاملات کو سلجھانے میں اپنا ایک انتظام کار۔ پھر ہر نظام کی تطبیق کے وقت لازماً کچھ خاص قسم اور نوعیت کے مسائل پیش آتے ہیں جن سے ایک خاص انداز میں ہی وہ نبرد آزما ہوتا ہے۔ اس کے مقاصد اور ترجیحات جو بھی ہوں فی الواقع اس کی فطرت اور اس کے مزاج سے ہی منسلک ہوتے ہیں۔ اس کی اس خاص فطرت اور مزاج سے ہی پھر وہ ’حل‘ جنم لیتے ہیں۔ جن کو وہ معاشرے کے اندر پائے جانے والے مسائل اور مشکلات کی بابت ضروری جانتا ہے:
غرض ہر نظام ایک اکائی ہے اور اس کو آپ توڑ نہیں سکتے....
یہ کوئی منطق نہیں، اور نہ ہی یہ کوئی انصاف ہے کہ ایک نظام سے آپ ان مسائل کے حل مانگیں جو کہ خود اس نے پیدا نہیں کئے بلکہ وہ مسائل ہوں ہی کسی اور نظام کے پیدا کردہ جو کہ اپنی فطرت اور مزاج میں اس نظام سے یکسر مختلف ہو۔
عقل اور منطق یہی کہے گی کہ جب آپ کسی خاص نظام سے زندگی کے روزمرہ مسائل کے ’حل‘ کی بابت ’فتویٰ‘ مانگتے ہیں تو لازم ہے کہ اس سے پہلے آپ نے اس نظام کومعاشرے کے اندر اپنے طریقے کی تطبیق کا موقع دیا ہو۔ سب سے پہلے آپ کسی نظام کی تطبیق ہونے دیں اور پھر دیکھیں کہ وہ مسائل جن کا آپ کو اس وقت سامنا ہے سرے سے پیدا بھی ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے یا جو مسائل اس کی تطبیق سے پیدا ہوتے ہیں وہ کس نوعیت اور کیفیت کے ہیں، صرف اُسی صورت میں آپ کے لئے روا ہو سکتا ہے کہ آپ اس نظام سے یہاں پیش آمدہ مسائل کا ’حل‘ دریافت کریں۔ تب آپ اس سے ان مسائل کا حل مانگیں گے جو اس کی تطبیق کے دوران پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ پوچھنا آپ کا حق ہوگا۔
سب جانتے ہیں اسلام ایک جامع وسیع نظام ہے اور اس کے سب پہلو مربوط کڑیوں کی طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ان سب کے ملنے سے ہی یہ ایک کُل بنتا ہے۔ پھر یہ کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو اپنی فطرت اور مزاج میں، اپنے تصور حیات میں اور معاملات زندگی سے نمٹنے کیلئے اپنائے جانے والے ذرائع اور اسالیب میں دُنیا کے سب نظاموں سے یکسر مختلف ہے۔ ان سب امور میں نہ یہ مغربی نظاموں کے ساتھ کوئی میل کھاتا ہے اور نہ دُنیا کے کسی اور نظام کے ساتھ جو اس وقت کہیں پر رائج ہے۔ ان سب نظاموں سے اس کا اختلاف پھر کوئی ہلکا پھلکا اور سطحی سا بھی نہیں بلکہ ایک کلی اور اساسی اختلاف ہے۔ یہ بات قطعی ہے کہ آج معاشرے کے اندر جو ’مسائل‘ پائے جاتے ہیں ان کے پیدا کرنے میں اسلامی نظام نے کبھی کوئی حصہ نہیں لیا۔ یہ مسائل جس چیز سے پیدا ہوئے ہیں وہ ہے ان نظاموں کی جو آج آپ کے معاشرے میں رائج ہیں کی اپنی ہی فطرت اور مزاج اور کاروبار زندگی سے اسلام کا دور کر دیا جانا۔